Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
126 - 135
قلت بلٰی ان التقوٰی مقامہا القلب وعن ھذا قلنا ان الصدیق لما کان اتقی الامۃ باسرھا وجب ان یکون اعرفھاباللہ تعالٰی لکن القلب امیر الجوارح فاذ ااستولی علیہ سلطان شیئ اذعنت لہ الجوارح طرًا ولعمت علیہا آثارہ جہرًا وھذا مشاھد فی الحیاء والحزن والفرح والغضب وغیرذٰلک من صفات القلب قال المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب"اخرجہ الشیخان ۱؂ عن نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ ، وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم"اذا رایتم الرجل یعتاد المسجد فاشہدوالہ بالایمان"اخرجہ احمد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیہقی۲؂ عن ابی سعیدالخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
قلت (میں جواب میں کہتاہوں ) ہاں بے شک تقوٰی کا مقام قلب ہے اوراسی وجہ سے ہم نے کہا کہ بے شک جب صدیق تمام امت سے زیادہ پرہیزگار ہوئے تو ضروری ہوا کہ وہ سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والے ہوں لیکن قلب اعضاء کا امیر ہے ، تو جب قلب پر کسی شے کا سلطان غالب ہوتاہے تو تمام اعضاء اس کے تابع ہوجاتے ہیں اوراعضاء پراس کے آثارصاف جھلکتے ہیں اورحیاء وغم، خوشی وغضب وغیرہ صفات قلب میں اس کا مشاہدہ ہوتاہے مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : "خبردار! بیشک جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ سدھرتاہے پوراجسم سدھر جاتاہے اورجب وہ بگڑتا ہے تو پوراجسم بگڑجاتا ہے ، سنتے ہو وہ قلب ہے ۔"اس حدیث کو بخاری ومسلم نے نعمان ابن بشیررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اورحضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم آدمی کو مسجد میں آنے جانے کا عادی پاؤتواس کے مومن ہونے کی گواہی دو۔""اس حدیث کو امام احمد، ترمذی، نسائی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ، ابن حبان،حاکم وبیہقی نے ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱/ ۱۳)

(صحیح مسلم کتاب المساقات باب اخذ الحلال وترک الشہبات قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۸)

 (۲؂ جامع الترمذی کتاب التفسیرتحت الآیۃ ۹/ ۱۸  امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۳۵)

(سنن ابن ماجۃ کتاب المساجدوالجماعات باب لزوم المساجدالخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۸)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۶۸)

(المستدرک للحاکم کتاب الصلوٰۃ بشرالمشائین فی الظلم الی المساجدالخ دارالفکر بیروت ۱/۲۱۲)

(السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب فضل المساجد الخ دارصادر بیروت ۳/ ۶۶)

(مواردالظمان الی زوائدالظمان باب الجلوس فی المسجدبالخیر حدیث ۳۱۰ المطبعۃ السلفیہ ص۹۹ )
اقول ثالثاکل ماذکر فی شان النزول فانما یستقیم ویطابق التنزیل اذا کان الموضوع ھو الاتقٰی۔ اما اذا عکس فلایتاتی ولایاتی الرمی علی المرمی، اما روایۃ یزید بن شجرۃ فطریق الاستدلال فیہا انکم استحقرتم ھذا العبدلانہ عبداسود فقلتم عادذلیلاًوحضرجنازۃ ذلیل لکنہ عندناکریم جلیل اذکان متقیا والفضل عندنا بالتقوٰی فمن کان تقیا کان کریما عندنا وان کان عبدا اسود اجدع۔ وھذا الطریق ھو المفہوم من الاٰیۃ عند کل من لہ ذوق سلیم، اما علی ما زعمتم فیکون حاصل استدلال اللہ سبحٰنہ وتعالٰی انہ کان کریما وکل کریم متق فلذا اعادہ نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وحضر دفنہ، وھذاالطریق کما تری اذا کان ینبغی الاستدلال الاستدلال بامر مسلم عندھم یستلزم  مالم یسلموہ کالتقوٰی علٰی تقریرنا۔
اقول ثالثا جو کچھ آیت کریم کے شان نزول میں مسطور ہوا وہ تو اسی وقت راس آتا ہے اورتنزیل کے مطابق ہوتا ہے جب آیت کریمہ میں اتقی ہی موضوع ہو ۔ رہی وہ صورت جب اس کا عکس کردیں تو بات نہیں بنتی،ہر تیر نشانے پر نہیں بیٹھتا۔ رہی یزید ابن شجرہ کی روایت تو اس میں استدلال کا طریقہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم نے غلام کو حقیر جانا اس لئے کہ سیاہ فام غلام ہے تو تم نے اعتراض کیا کہ ذلیل کی عیادت کی ذلیل کے جنازہ میں حاضر ہوئے، لیکن وہ غلام ہمارے نزدیک باعزت جلیل القدر ہے اس لئے کہ وہ متقی تھا اورہمارے یہاں بزرگی تقوٰی سے ہے تو جو متقی ہوگا ہماری بارگاہ میں عزت والا ہوگا اگرچہ کالانکٹاغلام ہو۔ اورآیت سے ہر ذوق سلیم والے سے یہی طریق استدلال مفہوم ہوتا ہے ،اور تمہارے زعم پر اللہ تبارک وتعالٰی کے استدلال کا حاصل یوں ہوگا کہ وہ بے شک عزت والا تھااورہر عزت والا متقی ہے اسی لئے تو ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کی عیادت کی اوراس کے دفن میں شریک ہوئے۔ اوریہ طریق استدلال جیسا ہے تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ دلیل لانا ایسے امر سے چاہئے تھا جو کفار کو مسلم ہوا اورجو اس کو مستلزم ہو جس کو وہ تسلیم نہیں کرتے جیسے تقوٰی ہماری تقریرپر۔
واما الکرامۃ فلم تکن ثابتۃ عندھم والالما قالو ماقالوا،علی ان المقدمۃ المذکورۃ فی الاٰیۃ تبقی ح عبثًاوالعیاذباللہ تعالٰی فان الرد علیھم تم بالمطویۃ القائلۃ انہ رجل کریم عنداللہ تعالی وبعد ذٰلک ای حاجۃ الی ان یقال کل کریم متق،اذلم یکن نزاعھم فی التقوٰی بل فی الکرم ۔ وبالجملۃ یلزم اخذالمدعی صغری واستنتاج مالیس بمدعی وھٰکذا یجری الکلام فی روایۃ مقاتل واستحقارقریش سیدنا عتیق العتیق اعتقنا اللہ بھما من عذاب الحریق، اٰمین۔
رہی عزت (اس سیاہ فام غلام کی )  کافروں کے نزدیک ثابت ہی نہ تھی ورنہ یہ کافر وہ کچھ نہ کہتے جو انہوں نے کیا۔ علاوہ ازیں وہ مقدمہ جو اس آیت میں ذکر ہوا اس تقدیر پر عبث ٹھہرے گا والعیاذباللہ ، اس لئے کہ کفار پررَد تواس قضیۂ مطوعیہ(پوشیدہ)سے تام ہولیا جس میں یہ دعوٰی ہے کہ وہ غلام ، اللہ کے نزدیک باعزت ہے ۔ اس کے بعد کون سی حاجت ہے کہ کہاجائے کہ ہر کریم ، متقی ہے ا س لئے کہ کافروں کا نزاع تقوٰی میں نہ تھا بلکہ کرامت میں تھا۔ بالجملہ اس تقدیرپرلازم آتاہے کہ مدعا صغری ہو اورنتیجہ وہ نکلے جو مدعا نہیں اوریونہی کلام روایت مقاتل میں اورقریش کی جانب سے سیدنا عتیق العتیق(حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ)کی تحقیرمیں جاری ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالٰی ہمیں ان دونوں کے صدقے میں جہنم کے عذاب سے آزاد فرمائے امین۔
ولنقرربعبارۃ اخری قال "کل جدید لذیذ"کان طریق استدلالھم علٰی حقارتہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بانہ عبد ولاشیئ من العبدکریمًافہو لیس بکریم والاٰیۃ نزل فی الردعلیھم فلابدمن نقض احدی المقدمتین من قیاسہم لکن الصغرٰی لامردلہا،فتعین ان الاٰیۃ انما تبطل الکبرٰی باثبات نقیضہا، وھو ان بعض العبیدکریم ولا یمکن اثباتہ الا علی طریقتنا بان نقول بعض العبید یتقی اللہ تعالٰی ومن یتقی اللہ تعالٰی فھو کریم ، اما علٰی طریقتکم فی اصل المقدمتین ان بعض العبید متق وکل کریم متق وھذا ھو القیاس الذی انتم دفعتموہ وھکذا یتمشی التقریرفی روایۃ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بکلا الوجہین۔
اورہم بلفظ دیگر تقریر کریں اس لئے کہ "کل جدید لذیذ"، کفار کا طریق استدلال حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حقارت پر بایں طور تھاکہ وہ غلام ہیں اورکوئی غلام عزت والا نہیں ہوتا،تو عزت والے نہیں،اوریہ آیت کفارکے رد میں اُتری لہذا ان کے قیاس میں دومقدموں میں سے ایک کا نقض ضروری ہے لیکن صغرٰی کا رد نہیں ہوسکتا۔ اب متعین ہوا کہ آیت کبرٰی کا ہی ابطال کرتی ہے اس کی نقیض کے اثبات کے ذریعہ اورکفار کے کبرٰی کی نقیض یہ ہے کہ بعض غلام باعزت ہیں اور اس کا ثابت کرنا ممکن نہیں مگر ہمارے طریقے پر بایں طور کہ ہم کہیں بعض غلام، اللہ تبارک وتعالٰی سے ڈرتے ہیں اورجو اللہ سے ڈرتاہے وہی عزت والاہے ۔رہا اصل مقدمتین میں تمہارے طریقے پر یہ قیاس کہ بعض غلام متقی ہیں اورہر عزت والا متقی ہے تو یہ وہی قیاس ہے جس کو تم دفع کرچکے ۔ اور یونہی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت میں دونوں وجوہ کے ساتھ یہ تقریر چلے گی۔
ولنقررہ بعبارۃ ثالثۃ استحقر ثابت بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ بعض اھل المجلس بقولہ یاابن فلانۃ ای یادنی النسب فرداللہ سبحٰنہ وتعالٰی علیہ بانک ان زعمت ان بعض الادانی فی النسب لایکون کریمًا فقولک ھذا صادق لکن علام استحقرت ھذا بخصوصہ اذیجوز ان لایکون ھذا من ذٰلک البعض وان ارد ت السلب الکلی فباطل قطعاً، اذلوصدق لصدق ان بعض المتقین لیس کریمًا لان بعضہم دنی النسب فلم یکن کریماًعندک لکن التالی باطل لصدق نقیضہ وھو ان کل متق کریم فالمقدم مثلہ، ھذا علٰی طریقتنا اما علی طریقتکم فالمقدمۃ الا ستثنائیۃ ان کل کریم متق وھو لایرفع اللازم فلا یرفع الملزوم اتقن ھذا فان الفیض مدرار۔والحمدللہ ۔
اورہم تقریرمدعا تیسری عبارت سے کریں حضرت ثابت ابن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بعض اہل مجلس کی تحقیرانہیں ، "یا ابن فلانہ"(اے فلانی کے بیٹے)کہہ کر کی یعنی اے نسب میں کمتر،تو اللہ تبارک وتعالٰی نے ان کا رد یوں فرمایاکہ تمہارا گمان یہ ہے کہ کچھ کمتر نسب والے شریف نہیں ہوتے تو تمہاری یہ بات سچی ہے لیکن تم نے خاص اس شخص کو کس بنیاد پر حقیر جانا؟ اس لئے کہ ممکن ہے کہ یہ ان بعض میں سے نہ ہو اوراگرتمہاری مراد سلب کلی ہے تو یہ قطعًاباطل ہے اس لئے کہ اگر یہ صادق ہو تو یقینًایہ صادق ہوگا کہ بعض متقی شریف نہیں اس لئے کہ ان میں کے بعض نسب میں کمتر ہیں تو تمہارے نزدیک شریف نہ ہوں گے لیکن تالی باطل ہے اس لئے کہ اس کی نقیض صادق ہے اوروہ یہ کہ ہر متقی کریم ہے تو مقدم بھی اس کی طرح باطل ہے یہ ہمارے طریقے پر ہے لیکن تمہارے طریقے پر تو مقدمہ استثنائیہ(عہ) یہ ہے کہ ہر شریف متقی ہے اور یہ لازم کو مرتفع نہیں کرتا تو ملزوم کو بھی مرتفع نہ کرے گا۔ اس تقریر کو خوف ضبط کرلو اس لئے کہ فیض (کادریا) زوروں پر ہے ، اورتمام خوبیاں اللہ ہی کی ہیں ۔
عہ: مقدمہ استثنائیہ کو قیاس استثنائی بھی کہا  جاتاہے ، اورقیاس استثنائی وہ ہے جس میں نتیجہ یا اس کی نقیض بالفعل مذکورہو جیسے ہمارا یہ کہنا کہ "یہ اگر جسم ہے تو متحیز ہے"لیکن وہ جسم ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ متحیز ہے اوریہی بعینہ قیاس یعنی مقدمہ میں مذکورہے اورنقیض کی مثال یہ کہ وہ متحیز نہیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ جسم نہیں اوراس کی نقیض کہ وہ جسم ہے مقدمہ میں مذکور ہے۔ (تعریفات جرجانی ص۱۵۹)
اقول رابعًا الاحادیث التی جات تفسیرا الاٰیۃ اوترد موردمشرعہا اوتلحظ ملحظ منزعہا انما تعطی ماذکرنا من المفاد وتابی عما بغیتم من الافساد ومنھا ماانبانا المولی السراج عن الجمال عن عبداللہ السراج ح وعالیًابدرجۃ عن ابیہ عبداللہ السراج عن محمد بن ھاشم ح ومساویاللعالی عن الجمال عن السندی ح وشافعھنی عالیا بدرجتین سیدی جمل اللیل عن السندی کلاھما عن صالح العمری باسانیدہ الامامین الجلیلین بسندھما الٰی سیدنا ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ قال سئل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ای الناس اکرم، فقال اکرمھم عند اللہ اتقٰیھم۱؂۔
اقول رابعًا وہ احادیث جو اس آیت کی تفسیر کرتی ہے یا اس کے گھاٹ کے راستے پر چلیں یا اس جگہ اشارہ کرتی ہیں جہاں سے اس کا تیر کھینچا وہ تو وہی مفاد دیتی ہیں جو ہم نے ذکر کیا اوراس فساد انگیزی سے انکار کرتی ہیں جو تم نے چاہا منجملہ ان حدیثوں کے یہ ہے کہ جس کی خبر ہمیں مولٰی سراج نے دی وہ روایت کرتے ہیں جمال سے وہ روایت کرتے ہیں عبداللہ سراج سے (ح ) نیز ہم نے سراج سے یہ حدیث ایک درجہ عالی سند سے روایت کی وہ روایت کرتے ہیں اپنے باپ عبداللہ سراج سے وہ روایت کرتے ہیں محمد بن ہاشم سے (تحویل) نیز اس سند سے اس روایت کی جو سند عالی کے  مساوی ہے انہوں نے روایت کی جمالی سے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے اور میرے اوپر دو درجہ عالی سند سے اس حدیث کو مجھ سے روایت کیا سید ی جمل اللیل نے وہ روایت کرتے ہیں سندی سے دونوں نے روایت کی صالح عمری سے ان امامین جلیلین (بخاری ومسلم)کی اسانید کے ساتھ ان دونوں اماموں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سوال ہوا : لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب لوگوں سے بڑھ کر عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ یوسف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۹)

(صحیح مسلم   کتاب الفضائل باب من فضائل یوسف علیہ السلام  قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۸)
اقول انظرالٰی اٰثاررحمۃ اللہ کیف یوضح المحجۃ ولا یدع لاحد حجۃ انما سئل المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بان ای الناس اکرم ای من الموصوف بہ لا ان الاکرم ماھو بای نعت یزھو فاجاب الاٰیۃ الکریمۃ فلو لا ان الاتقی ھو الموضوع لما طابق الجواب السوال وعلیک بتزکیۃ الخیال ومن تمام نعمۃ اللہ  تعالٰی ان فسرالشراح الحدیث بما یعین المراد ویقطع کل وھم یراد۔
اقول (میں کہتاہوں) اللہ تبارک وتعالٰی کی رحمت کے آثاردیکھو راستہ کو کس طرح واضح کرتاہے یہ کسی کے لئے حجت نہیں چھوڑتامصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تویوں سوال ہوا تھا کہ کون سا شخص سب سے زیادہ عزت والا ہے یعنی اس وصف سے کون موصوف ہے یہ سوال نہ ہوا تھا کہ "اکرم کی ماہیت کیاہے۔"اکرم"(سب سے زیادہ عزت والا ) اورکون سے وصف پر ناز کرتاہے ، تو سرکارنے آیۃ کریمہ سے جوا ب دیا تو اگر بات یہ نہ ہوتی کہ اتقی(سب سے بڑا پرہیزگار) ہی موضوع ہے تو جواب سوال کے مطابق نہ ہوتا اس پر خیال کا تزکیہ ہے ، اوراللہ تبارک وتعالٰی کی نعمت کی تمامی سے یہ ہے کہ حدیث کے شارحین نے اس کی تفسیراس جملہ سے کردی جو مرادکو متعین کردیتا ہے اوروہم کا قاطع ہے ۔
قال العلامۃ المناوی"اکرم الناس اتقہم لان اصل الکرم کثرۃ الخیر"فلما کان المتقی کثیر الخیر فی الدنیا ولہ الدرجات العلٰی فی الاٰخرۃ کان اعم الناس کرما فھو اتقٰھم ۱؂، انتہی۔
اس میں علامہ مناوی کا ارشاد ہے :
اکرم الناس اتقاھم
(سب لوگوں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے) اس لئے کہ کرم اصل میں کثرت خیرہے،توجب متقی دنیا میں خیر کثیر والا ہے اورآخرت میں اس کے درجے بلند ہوں گے ، توسب سے زیادہ کرم والا وہی ہے جوسب سے زیادہ تقوٰی والا ، انتہی ۔
 (۱؂التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اکرم الناس اتقاھم مکتبۃ الاما م الشافعی ۱/۲۰۳)
انظر این ذھبت شبھتک الواھیۃ فہل تری لہا من باقیۃ، ومنہا ماانبانا المولٰی عبدالرحمن عن الشریف محمد بن عبداللہ کما مضی عن علی بن یحٰیی الزیادی عن الشہاب احمد بن محمدالرملی عن الامام ابی الخیر السخاوی عن العزعبدالرحیم بن فرات عن الصلاح بن ابی عمر عن الفخربن البخاری عن فضل اللہ ابی سعید التوقانی عن الامام محی السنۃ البغوی انا ابوبکر بن ابی الہیثم انا عبداللہ بن احمد بن حمویۃ انا ابراھیم بن خزیم ثناعبداللہ بن حمید انا الضحاک بن مخلد عن موسٰی بن عبیدۃ عن عبداللہ بن دینارعن ابن اعمر  ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم طاف یوم الفتح علی راحلتہ یستلم الا رکان بمحجتہ فلما خرج لم یجد مناخاً فنزل علی ایدی الرجال ثم قام فخطبھم فحمداللہ واثنی علیہ، وقال الحمدللہ الذی اذھب عنکم غبیۃ الجاھلیۃ وتکبرھابآبائھاانما الناس رجلان بر تقی کریم علی اللہ وفاجر شقی ھیّن علی اللہ ثم تلا "یا ایھا الناس انا خلقنٰکم من ذکر وانثٰی "ثم قال اقول قولی ھذا واستغفراللہ لی ولکم۱؂۔
دیکھوتمہارا واہی شبہہ کہاں گیا، اب اس کا کچھ نشان دیکھتے ہو۔ اوراز انجملہ وہ حدیث ہے جس کی ہمیں خبر دی مولٰی عبدالرحمن نے، انہوں نے روایت کی سید محمد بن عبداللہ سے ، جیسا کہ گزرا ، اوروہ روایت کرتے ہیں علی بن یحیٰی زیادی سے، وہ روایت کرتے ہیں شہاب احمد بن محمد رملی سے ، وہ روایت کرتے ہں امام ابوالخیر سخاوی سے، وہ روایت کرتے ہیں ، عز عبدالرحیم بن فرات سے، وہ روایت کرتے ہیں صلاح بن ابی عمر سے، وہ روایت کرتے ہیں فخر ابن بخاری سے ، وہ روایت کرتے ہیں فضل اللہ ابو سعید توقانی سے، وہ روایت کرتے ہیں امام ابی السنۃ بغوی سے ، وہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر ابن ابی ہیثم نے عبداللہ ابن احمد ابن حمویہ سے، وہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ابراہیم ابن خزیم نے ، ہم سے حدیث بیان کی عبداللہ ابن حمید نے، ہمیں خبر دی ضحاک ابن مخلدنے  ، وہ روایت کرتے ہیں اس کو موسٰی ابن عبیدہ سے ، وہ روایت کرتے ہیں عبداللہ بن دینار سے، وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ ولسم نے فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر طواف کیا، ارکان کعبہ کا بوسہ اپنے عصائے مبارک سے لیتے تھے، تو جب باہر تشریف لائے تو سواری کو ٹھہرانے کی جگہ نہ پائی تو لوگوں میں سواری سے اتر گئے پھرکھڑے ہوکر خطبہ دیا اور اللہ تبارک وتعالٰی کی حمد وثناء کی اورفرمایا: اللہ کے لئے حمد جس نے تم سے جاہلیت کا گھمنڈ اورآباو اجدادکا غرور دورکیا۔ لوگوں میں دو قسم کے مرد ہیں،ایک نیک متقی اللہ کے یہاں عزت والا،دوسرا بدکار ، بدبخت، اللہ کی بارگاہ میں ذلیل ،پھر یہ آیت پڑھی: "اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیا"، پھر فرمایا : "میں یہ بات کہتاہوں اوراللہ سے اپنے لئے اورتمہارے لئے مغفرت چاہتاہوں۔"
 (۱؂ معالم التنزیل (تفسیر البغوی )تحت الآیۃ ۱۳/۴۹دارالکتب العلمیۃ بیروت۴/ ۱۹۶)
Flag Counter