Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
125 - 135
قلت ویروی بدلہ     ع

من الخلائق لم یعدل بہ بدلا۳؂
قلت (میں کہتاہوں ) مصرعہ ثانی کے بجائے یوں بھی مروی: 

(ترجمہ"مخلوق سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے برابر نہ رکھا۔")
وحدیث ابن عباس رواہ الطبرانی ایضاً فی المعجم الکبیر۱؂ وعبداللہ بن احمد فی زاوئد الزھد ،
 (۳؂المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۳/ ۶۴)

 (۱؂المعجم الکبیرحدیث۱۲۵۶۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۸۹)
واما الحدیث المرفوع اعنی بہ استماع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اشعارہ وتحسینہ علیہا فاصلہ مروی ایضا عند الحاکم من حدیث غالب بن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ حبیب بن۲؂  ابی حبیب وعند ابی سعد فی الطبقات وعند الطبرانی عن الزھری ورواہ الحاکم ایضا من حدیث مجالد عن الشعبی من قولہ کمثل حدیث ۳؂ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما والاصولی یعرف ان الموقوف فی مثل ھذا کالمرفوع اذ المجمل لایبین بالرأی ولہذا ان لم یبین وانقطع(عہ) نزول القراٰن عاد متشابھا،ثم ان البیان یلتحق بالمبین اذ لا یفید الارفع التشکیک وتعیین احد المحتملات فکان حکمہ کحکم القرینۃ والمفاد انما ینسب الی الکلام کما اوضحتہ الاصول فثبت بالاٰیۃ تفضیلہ رضی اللہ تعالٰی عنہ علی کل من عداہ فی التقوٰی والحمدللہ علٰی مااولٰی۔
اورحدیث ابن عباس کو طبرانی نے بھی روایت کیا معجم کبیر میں، اورعبداللہ بن احمد نے زوائد زہد میں ۔ رہی حدیث مرفوع یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حضرت حسان کے اشعار کو سن کرانہیں سراہنا تو اس کی اصل بھی مستدرک حاکم میں غالب بن عبداللہ کی  حدیث میں بطریق غالب بن عبداللہ عن ابیہ عن جدہٖ حبیب بن ابی حیبب مروی ہے (یعنی یہ حضرت غالب بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے سنی انہوں نے اپنے باپ غالب کے داداحبیب بن ابی حبیب سے سنی )اورطبقات ابن سعد میں اورطبرانی میں زہری سے مروی ہے ،اور نیز حاکم نے مجالد کی حدیث میں بروایت  شعبی انکا قول حدیث ابن عباس رضی اللہ کے بلفظہٖ مشابہ روایت کیا،اوراصولی جانتاہے کہ ایسی جگہ پر موقوف (صحابی کا قول ) مرفوع (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  کے قول )کی طرح ہے ، اس لئے کہ مجمل کا بیان رائے سے نہیں ہوتا لہذا اگر شارع نے بیان نہ کیااور قرآن کا نزول بند ہوگیاتو مجمل متشابہ ہوجائے گا ، پھر بیان مبین (مجمل) سے ملحق ہوگا اس لئے کہ بیان کا یہی فائد ہ ہے کہ شک دور کرے اورمحتمل معانی میں سے کوئی ایک معین کردے تو بیان کا حکم وہی ہے جو قرینہ کا ہے اورکلام کا مفاد کلام ہی کی طرف منسوب ہوتاہے جیسا کہ اصول فقہ نے واضح کیا تو اس آیت سے صدیق اکبر کی فضیلت تقوٰی میں ہر امتی پر ثابت ہوگئی اوراللہ تعالٰی کیلئے اس کی نعمتوں پر حمد ہے۔

عہ:  یہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات سے کنایہ ہے ۱۲منہ
(۲؂المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۳/ ۶۴و۸۷)

(کنزالعمال حدیث۳۵۶۷۳و۳۵۶۸۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت۵۲۳و۵۱۳)

(الدرالمنثوربحوالہ ابن عدی وابن عساکرمکتبۃ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۳/ ۲۴۱)

 (۳؂ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۳/ ۶۴)
اقول واخذ الافعل بمعنی کثیر الفعل فطام لہ عما یحتاج الیہ فی اصل وضعہ اعنی المفضل علیہ فیکون صرفا عن المعنی الحقیقی المتبادر فلا بدمنہ قرینۃ واین القرینۃ ولتکن حاجۃ وماذاالحاجۃ،نعم ھذا مفاد صیغۃ المبالغۃ وشتان مھما فلیتنبہ لھذا واللہ تعالٰی الموفق۔
میں کہتاہوں اورافعل کو بمعنی کثیر الفعل لینا اس کو اس شَے سے الگ رکھنا ہے جس وہ اصل وضع کے لحاظ سے محتاج ہے یعنی مفضل علیہ تو یہ معنی حقیقی متبادرسے پھیرنا ہوگا اب تو قرینہ ضروری ہے اورقرینہ کہاں، اوراس کے لئے حاجت بھی چاہیے اورحاجت کیاہے،ہاں یہ مبالغہ کے صیغہ کا مفاد ہے اوراسم تفضیل اورمبالغہ میں فرق ہے۔
الشبہۃ الثالثۃ: وھی تتعلق بالکبری من قیاس اھل السنۃ والجماعۃ ان المحمول فی قولہ تعالٰی "ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم"۱؂ ھو الاتقٰی فکان حاصل المقدمتین ان الصدیق اتقی وکل اکرم اتقی وھذا لیس من الشکل الاول فی شیئ ولا ثانیًاایضًالعدم الاختلاف فی الکیف وان عکستم الکبرٰی جاء ت جزئیۃ لاتصلح لکبرویۃ الشکل الاول فمفاد الاٰیتین لایضرنا ولاینفعکم ومن الشبھۃ ھی اللتی بلغنی عن بعض المفضلۃ عرضہاعلٰی بعض المتکلمین منا۔
الشبہۃ الثالثۃ: وھی تتعلق بالکبری من قیاس اھل السنۃ والجماعۃ ان المحمول فی قولہ تعالٰی
"ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم"۱؂
ھو الاتقٰی فکان حاصل المقدمتین ان الصدیق اتقی وکل اکرم اتقی وھذا لیس من الشکل الاول فی شیئ ولا ثانیًاایضًالعدم الاختلاف فی الکیف وان عکستم الکبرٰی جاء ت جزئیۃ لاتصلح لکبرویۃ الشکل الاول فمفاد الاٰیتین لایضرنا ولاینفعکم ومن الشبھۃ ھی اللتی بلغنی عن بعض المفضلۃ عرضہاعلٰی بعض المتکلمین منا۔
تیسراشبہہ: اس کا تعلق اہلسنت وجماعت کے قیاس کے کبرٰی کے ساتھ ہے کہ اللہ تعالٰی کے قول"ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم"میں محمول الاتقی ہے ۔تو دونوں مقدموں کا حاصل یہ ہے ہوا کہ صدیق اتقٰی ہیں اور ہر اکرم اتقی ہے، اور یہ کسی طرح شکل اول کے قبیل سے نہیں اورشکل ثانی بھی نہیں اس لئے کہ کیف میں اختلاف نہیں ہے ، اوراگر کبرٰی کا عکس کردیا جائے اس صورت میں موجبہ جزئیہ ہوگا جو شکل اول کے کبرٰی بننےکے لائق نہیں،تو دونوں آیتوں کا مفاد ہمیں مضرنہیں اورتمہیں مفید نہیں،اوریہ وہی شُبہ ہے جس کے بارے میں مجھے خبر پہنچی کہ کسی تفضیلی نے ہمارے کسی عالم سے عرض کیا۔
 (۱؂القرآن الکریم   ۴۹/ ۱۳)
وانا اقول وباللہ التوفیق ما استخفہ تشکیکا واضعفہ دخلاًرکیکاًغلط ساقط باطل عاطل لایستحق الجواب ولکن اذا قیل وسئل فلا بدمن ابانۃ الصواب فاعلم ان اللطیف الخفی وفقنی لازھاق ھذا التلبیس الفلسفی باثنی عشر وجھا امھاتھا ثلثۃ وجوہ کل منھا یکفی ویشفی۔
اورمیں کہتاہوں اورتوفیق اللہ ہی سے ہے ، یہ کتنی سخیف تشکیک ہے اورکس قدر ضعیف اعتراض رکیک ہے جو غلط ہے ساقط ہے باطل و عاطل ہے جواب کا مستحق نہیں ، لیکن یہ جب کہا گیا اورپوچھا گیا تو صواب کو ظاہر کرنا ضروری ہے،اب تم جانو کہ اللہ لطیف خفی نے اس قید فلسفی کے قلع قمع کے لئے مجھے بارہ وجوہ سے توفیق بخشی ان بارہ کی اصل تین وجہیں ہیں ان میں سے ہر ایک کافی وشافی ہے ۔
الاول لو کان لہذا القائل علم بمحاورات القراٰن اوالحدیث اوبماروی  العلماء فی شان النزول او التفسیر المرفوع الی جناب الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوکلمات العلماء والائمۃ الفحول او رزق حظامن فھم الخطاب ودرک المفادوتنزیل الکلام علی الغرض المراد لعلم ان حمل الاکرم ھو المعتبروصدرالکلام بتصدیر الخبر وذٰلک لوجوہ اوقفنی اللہ تعالٰی علیہا بمنہ وعمیم کرمہ۔
پہلی یہ کہ اگر اس معترض کو قرآن وحدیث کے محاورات یا شان نزول میں علماء کی روایات جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منسوب ومرفوع تفسیر یا علماء اورجلیل القدر ائمہ کے کلمات کا علم ہوتا یا نظم قرآن کی سمجھ اور مفاد ومعنی کی فہم اورکلام کوغرض مقصود پر رکھنے سے کچھ حصہ روزی ہوا ہوتاتو وہ جان لیتا کہ اکرم کو محمول بناناہی معتبر ہے تو کلام اس طرح صادر ہوا کہ اس میں تقدیم خبر ہے اوریہ دعوٰی چند دلیلوں سے ثابت ہے اس پر اللہ تبارک وتعالٰی نے مجھے اپنے احسان اورلطف عام سے مطلع کیا۔
فاقول اولاً کانت الجاھلیۃ تتفاخر بالانساب وتظن ان الانسب ھو الا فضل فجاء ت کلمۃ الاسلام بردکلمۃ الجاھلیۃ
"ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم"۱؂
فالنزاع انما وقع فی موصوف الافضل لافی صفتہ وھذا کما اذا سأل سائل عن الذ الاطعمۃ فقال قائل الحامض الذ فنقول رداعلیہ الابل الذھا احلاھا فانما ترید ان الاحلی ھو الالذ والوجہ ان الاتقی فی الاٰیۃ کالاحلی فی قولک ھذہ مراٰۃ لملاحظۃ الذات والاکرم حکم علیہ کالالذوانما الخبرماحکم بہ لاماحکم علیہ ولقد دری من لہ قلیل ممارسۃ بکلام العرب ان الذھن اول ماتلقٰی الیہ امثال ھذا الکلا م لایسبق الا الی ان المراد مدح الاتقیاء والترغیب فی التقوی والوعد الجمیل بان من یتقی یکن کریمًا علینا عظیما لدینا وھٰکذا فھم المفسرون فہذا الزمخشری النکتۃ فی الادب الشامۃ فی معرفۃ کلام العرب یقول فی تفسیرہ "المعنی ان الحکمۃ التی من اجلھا رتبکم علٰی شعوب وقبائل ھی ان یعرف بعضکم نسب بعض فلایعتزی الٰی غیراٰبائہ ،لاان تتفاخروابالاٰباء والاجداد وتدعواالتفاوت و التفاضل فی الانساب، ثم بین الخصلۃ التی بھا یفضل الانسان غیرہ ویکتسب الشرف والکرم عنداللہ تعالٰی فقال ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم"وقرئ ان بالفتح کانہ قیل لایتفاخر بالانساب فقیل لان اکرمکم عنداللہ اتقاکم لاانسبکم ۱؂الخ وبمثلہ قال الامام النسفی فی المدارک۱؂۔
فاقول (میں کہتاہوں )اوًلا اہل جاہلیت نسبت پر فخر کرتے تھے اوروہ گمان کرتے تھے کہ جس کا نسب بہتر ہے وہی افضل ہے تو اسلام کا کلمہ جاہلیت کے بول کو رد کرتاہوا آیا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم(بے شک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جو سب سے بڑا پرہیزگارہے) تونزاع تو اس میں ہے کہ وصف اول کا موصوف کون ہے نہ کہ صفت افضل میں اوریہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی پوچھنے والاپوچھےکہ کھانوں میں سب سے مزیدارکھانا کون سا ہے ؟ تو کوئی کہے کہ الذھا اخلاھا(کٹھا سب سے زیادہ مزیدارہے) تو اس کا رد کرنے کےکوتم یوں کہو: نہیں  بلکہ الذھااحلاھا(سب سے زیادہ مزیدار میٹھی چیزہے ) تو ہماری مراد یہی ہے کہ سب سے زیادہ میٹھا سب سے زیادہ مزیدار ہے ، اور وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں اتقٰی تمارے اس قول "ذات کے ملاحظہ کیلئے یہ آئینہ ہے"میں احلی کی مثل ہے اوراکرم محکوم علیہ ہے جیسے الذ ۔ اورخبر تومحکوم بہ ہوتی ہے نہ کہ محکوم علیہ۔ اوربیشک وہ سمجھتاہے جسے کلام عرب سے تھوڑا ساسابقہ ہوکہ جیسے ہی ایسا کلام ذہن میں آتا ہے اس کی سبقت اسی طرف ہوتی ہے کہ مراد پرہیز گاروں کی تعریف اورتقوٰی کی رغبت دلاتاہے اوریہ وعدہ جمیل کہ جو تقوٰی اختیار کرے گا ہمارے یہاں عزت وکرامت والا ہوگا۔ اوراسی طرح مفسرین نے سمجھا تو یہ زمخشری جو ادب میں نکتہ کی مانند اورکلام عرب میں تِل کی مثال سے ہے اپنی تفسیر میں قائل ہیں بیشک وہ حکمت جس کی وجہ سے تمھاری ترتیب کنبوں اورقبیلوں پر رکھی وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کا نسب جان لے۔ تو اپنے آباءواجداد کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے نہ یہ کہ  تم آباء واجداد پر فخر کرو اورنسب میں فضیلت اوربرتری کا دعوٰی کر وپھر اللہ نے وہ خصلت بیان کی جس سے انسان دوسرے سے برتر ہوتاہے اوراللہ کے یہاں عزت وبزرگی کا اکتساب کرتاہے تو اللہ نے فرمایا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔ اورایک قراء ت ان فتح ہمزہ کے ساتھ ہے گویا کہ کہا گیا ہے کہ نسبت پر فخر کیوں نہ کیا جائے ، تو بتایا گیا کہ اس وجہ سے کہ تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ جو سب سے زیادہ پرہیزگارہے نہ وہ جو سب سے بڑے نسب والا ہوالخ اوراسی طرح امام نسفی نے مدارک میں فرمایا ۔
 (۱؂القرآن الکریم۴۹ /۱۳)

(۱؂الکشاف تحت الآیۃ ۴۹/۱۳ دارالکتب العربی بیروت  ۴/ ۳۷۵)

 (۱؂مدارک التنزیل (تفسیر النسفی) تحت الآیۃ ۴۹/۱۳ دارالکتاب العربی بیروت۴/۱۷۳)
واقول ثانیاً القراٰن انما نزل لبیان الاحکام التی لایطلع علیہا الا اطلاع اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کالنجاۃ والھلاک والکرامۃ والھوان والردوالقبول والغضب والرضوان لالبیان الامورالحسیۃ وکون الرجل تقیا اوفاجرا مما یدرک بالحس ففی جعل الاکرم موضوعاًکقلب الموضوع ولقد کان ھذا الوجہ من اول ماسبق الیہ فکری حین استماع الشبہۃ ثم فی اثناء تحریر الرسالۃ لما راجعت مفاتیح الغیب رأیت الفاضل المدقق تنبہ للشبہۃ ودندن فی الجواب حول ما اومانا الیہ حیث یقول"فان قیل الاٰیۃ دلت علٰی ان کل من کان اکرم کان اتقی"وذٰلک لایقتضی ان کل من کان اتقی کان اکرم،قلنا وصف کون الانسان اتقی معلوم مشاھد ووصف کونہ افضل غیر معلوم ولامشاھد والاخبار عن المعلوم بغیر المعلوم ھوالطریق الحسن،اما عکسہ فغیر مفید،فتقدیر الاٰیۃ کانہ وقعت الشبھۃ فی ان الاکرم عنداللہ من ھو؟ فقیل ھو الاتقٰی ،واذاکان کذٰلک کان التقدیراتقٰکم اکرمکم عنداللہ ۱؂انتہی۔
اقول ثانیًا قرآن تو ان احکام کے بیان کے لئے نازل ہوا ہے جن کا علم اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کے اطلاع کئے بغیر نہیں ہوسکتا جیسے کہ نجات وہلاکت ، عزت وذلت اورمردودومقبول ہونا اور غضب ورضائے الہٰی ، یہ محسوسات کے بیان کے لئے نہیں اترااورآدمی کا پرہیزگاریامددگار ہونا ان باتوں سے ہے جن کاعلم احساس سے ہوتاہے تو اکرم کوموضوع بنانا قلب موضوع ہے اوربیشک یہ وجہ ان باتوں سے ہے جن کی طر ف میری فکر نے شبہ کو سن کر سبقت کی ، پھر اس رسالہ کی تصنیف کے دوران جب میں نے تفسیر"مفاتیح الغیب "دیکھی تو میں نے فاضل مدقق کو دیکھا کہ وہ اس شبہ کی طرف متنبہ ہوئے اورجواب میں جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا اس کے گرد مبہم کلام فرمایا اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں پھر اگر کہا جائے کہ یہ آیت تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو اکرم(بڑاعزت والا) ہوگا، اتقٰی(بڑا پرہیزگار) ہوگا،اوریہ اس بات کا مقتضی نہیں کہ ہر وہ شخص جو اتقی (بڑا پرہیزگار) ہو وہ اکرم(بڑاعزت دار) ہو ۔ ہم کہیں گے کہ انسان کا اتقی ہونا وصف معلوم ومحسوس ہے اورانسان کا افضل ہونا نہ وصف معلوم ہے اورنہ محسوس ۔ اورمعلوم کے بارے میں وصف غیر معلوم کے ذریعہ خبردینا،یہی بہتر طریقہ ہے ۔ رہا اس کا عکس ، تووہ مفید نہیں ۔ تو آیت میں  عبارت مقدر ہے ، گویا کہ اس بارے میں شبہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک اکرم کون ہے؟تو فرمایا گیا کہ اکرم اتقی ہے ، اورجب بات یوں ہے تو آیت کی تقدیر یوں ہوگی اتقٰکم اکرمکم عنداللہ (تم میں سب سے زیادہ پرہیزگاراللہ کے نزدیک تم سب میں عزت والا ہے )
 (۱؂ مفاتیح الغیب (التفسیرالکبیر)تحت الآیۃ ۹۲/ ۱۷ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ  ۳۱/ ۲۰۵)
قلت ولعلک لایخفی علیک مابین التقدیرین من الفرق ومابین ھذا الوجہ ووجوھنا الباقیۃ من التفاوت العظیم
"ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء"۲؂
والحمدللہ رب العٰلمین۔
قلت(میں کہتاہوں )اورشاید تم پرپوشیدہ نہ ہو وہ فرق جو دونوں تقدیروں میں ہے اوروہ عظیم تفاوت جو اس وجہ میں اورہماری باقی وجوہ میں ہے یہ اللہ کے فضل میں ہے جسے چاہتاہے دے دیتاہے ۔ اورسب تعریفیں اللہ کے لئے جو رب ہے جہان والوں کا۔
 (۲؂ القرآن الکریم  ۵/ ۵۴)
ثم اقول عسٰی ان یزعجک الوھم الصؤل فیلجئک ان تقوم تقول الیس التقوٰی من افعال القلوب،قال اللہ سبحٰنہ وتعالٰی
"اولٰئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوٰی"۱؂
وقال تعالٰی
"ومن یعظم شعائراللہ فانھا من تقوی القلوب"۲؂
وقال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم"التقوٰی ھٰھنا ، التقوٰی ھٰھنا، التقوٰی ھٰھنا،یشیرالٰی صدرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔"اخرجہ مسلم۳؂ وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "لکل شیئ معدن ومعدن التقوٰی قلوب العارفین"اخرجہ الطبرانی ۴؂ عن ابن عمروالبیہقی عن الفاروق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہما ، فکیف قلتم انھا من المحسوسات۔
ثم اقول (پھر میں کہتاہوں )قریب ہے کہ تمہیں وہم بے چین کرے پھر تمہیں مجبور کرے کہ تم کھڑے ہوکر یہ کہو کہ کیاتقوٰی افعال القلوب سے نہیں، اللہ سبحانہٗ وتعالٰی کا ارشاد ہے : "یہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے۔"اوراللہ تعالٰی فرماتاہے : "اورجو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔"اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تقوٰی یہاں ہے، تقوٰی یہاں ہے، تقوٰی یہاں ہے ۔ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرماتے تھے۔"اس حدیث کو مسلم وغیرہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، اورحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے :"ہر شے کے لئے کان ہے اورتقوٰی کی کان اولیاء کے دل ہیں۔"اس حدیث کو طبرانی نے ابن عمر سے اوربیہقی نے فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا، توآپ نے کیسے کہہ دیا کہ تقوٰی محسوسات سے ہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۴۹/ ۳)(۲؂القرآن الکریم۲۲/ ۳۲)

(۳؂صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۳۱۷)

(۴؂المعجم الکبیر حدیث ۱۳۱۸۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱۲/۳۰۳)
Flag Counter