| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
واغرب من ھذا زعم طریقتہ بریئۃ من التکلف مع انھا تحتاج الٰی ماھو ابرد وابعد فان الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ لم یکن بالحقیقۃ أتقی لالموجودین فی حین من الاحیان لحیات سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام علی أرجح الاقوال وزعم التحاقہ بالاموات لارتفاعہ الی السمٰوٰت کلمۃ ھو قائلھا ما علیھا دلیل ولا برھان ، وان سلم فاین انت من سیدنا الخضرعلیہ السلام مع أن المعتمد المختار نبوتہ وحیاتہ۱ فان قلت انہ مختف عن الابصارمعتزل عن الامصار فالتحق بالاموات کان عذرًا أفسد من الاول فافھم علی أنا قد اثبتنا اطلاق السفۃ علٰی من سیکون کذا تجوز ولا تجوز الابقرینۃ ولا قرینۃ الاتخصیص الانبیاء شرعًافباتکائہ حمل الکلام علی الحقیقۃ اولٰی ام المصیر الی التجوز معتمداعلٰی تلک القرینۃ نفسہا ، وقدبقی بعد خبایافی زوایالانذکرھا مخافۃ للطویل فحق الجواب والحق فی الجواب ماذکر العبدالذلیل وولی التوفیق ربی الجلیل۔
اوراس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ شاہ صاحب نے اپنے پسندیدہ طریقہ کو تکلف سے بری کہا جب کہ وہ بہت دور کی اوربہت بارد تاویل کا محتاج ہے اس لئے کہ صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کسی وقت بھی تمام موجودین سے حقیقۃً زیادہ متقی نہ تھے اس لئے کہ راجح مذہب پر سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں زندہ ہیں اورآسمانوں میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے ہونےکے سبب انھیں اموات سے ملحق بتانا ایسی بات ہے جو انہوں نے کہی اوراس پر کوئی دلیل وبرہان نہیں ہے ۔ پھر اگر یہ بات تسلیم کرلیں تو تم سیدناخضرعلیہ السلام سے کہاں غافل ہو باوجودیکہ معتمد ومختاریہ ہے کہ وہ نبی ہیں اوردنیا میں زندہ ہیں تو اگر تم کہو کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ اورشہروں سے جداہیں اس بنا پر اموات سے ملحق ہیں تو یہ عذر پہلے سے زیادہ فاسد ہوگا تو تم سمجھ لو، علاوہ ازیں ہم ثابت کرچکے کہ صفت کا اطلاق ایسے شخص پر جو آئندہ صفت کا مصداق ہوگا مجاز ہے اورمجاز بغیر قرینہ کے ماننا درست نہیں اورقرینہ شرعی انبیاء کی تخصیص ہے ، تو کلام کو حقیقت پر محمول کرنا اولٰی ہے یا مجاز کی طرف اسی قرینہ پر اعتماد کی وجہ سے پھیرنا انسب ہے اورکچھ پوشیدہ باتیں گوشوں میں رہ گئی ہیں جنہیں ہم طوالت کے ڈر سے ذکر نہیں کرتے تو جواب برحق اورجواب کا حق وہی ہے جو بندہ ناتواں نے اپنے رب جلیل کی توفیق واعانت سے ذکرکیا۔
(۱شرح المقاصد المقصد السادس الفصل الرابع المبحث السابع دارالمعارف النعمانیہ حیدرآباددکن ۲/۳۱۱)
ثم اقول وھناک نکتۃ اخری أحق واحٰری بقبول النہٰی لم ارمن تنبہ لہا وھی ان افعل التفضیل لامحید لہ من مفضل علیہ فالمحلی منہ باللام اما ان یکون مفادہ التفضیل علی جمیع من عہد التفاضل فیما بینھم فی امثال ھذا المقام کالحبوب فی قولناخبزالبرھوالاحسن والاکثرفیما نحن فیہ ، او علی بعضھم دون بعض اولا ولا بل احتمالاعلی الاول حصل المقصود والثانی باطل بالبداھۃ الاتری الی قولہ تعالی
سبح اسم ربک الاعلٰی ۱
وقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ دبرالصلوۃ اسمع واستجب اللہ اکبر والاکبر علی روایۃ الرفع ، اخرجہ ابوداود، والنسائی وابن السنی وقول ابن امسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱ بین الصفاء والمروۃ "رب اغفروارحم انک انت الاعزاالاکرم، رواہ ابن ابی شبیۃ۲ بل الٰی قول کل مصل فی سجودہ سبحٰن ربی الاعلٰی "
ثم اقول (پھر میں کہتاہوں) اس مقام میں ایک دوسرا نکتہ ہے جو عقلوں کو قبول ہونے کا زیادہ سزاوار ہے ، میں نے نہ دیکھا کہ کسی کو اس نکتہ کی طرف توجہ ہوئی ہو اوروہ نکتہ یہ ہے کہ افعل التفضیل کے لئے مفضل علیہ ضروری ہے تو اس صیغہ پر جب لام تعریف داخل ہوگا تو یا تو ایسے مقام میں ان تمام افراد پر فضیلت ہوگا جن کے درمیان ایسے مواقع پر حرف میں تفاضل سمجھا جاتاہے جیسے ناج کی قسموں میں ہمارے جملہ "گیہوں کی روٹی ہی اچھی ہے"میں اوروہی زیادہ تر مستعمل ہے اس مقام میں جس کی بابت ہم گفتگو کر رہے ہیں ، یا اس صیغہ سے بعض پر فضیلت سمجھی جائے گی اوربعض پر فضیلت مفہوم نہ ہوگی یا نہ پہلی صورت ہوگی نہ دوسری، بلکہ دونوں کا احتمال ہوگا۔ پہلی تقدیر پر ہمارا مدعا حاصل ہے اوردوسری تقدیر پر بداہۃً باطل ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالٰی کے قول "اپنے رب اعلٰی کی پاکی بولوکی طرف اورنماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قول "اے رب! دعا سن لے اورقبول فرما، اللہ اکبر،اللہ اکبر، کی طرف۔ اکبر کے مرفوع ہونے کی روایت پر اس حدیث کو روایت کیا ابوداود، نسائی اورابن السنی نے،اورصفاومرہ کے درمیان ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول "اے رب بخش دے اورمہرفرما بیشک توہی عزت والاکرم والاہے "کو نہیں دیکھتے۔ اسے روایت کیا ابن ابی شیبہ نے ، بلکہ سجدے میں ہر نمازی کے قول"سبحان ربی الاعلٰی"کو نہیں دیکھتے
(۱القرآن الکریم ۸۷/ ۱) (۱سنن ابی داودکتاب الصلوٰۃ باب مایقول الرجل اذا سلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۱۱) (عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول فی دبر صلوٰۃ الصبح دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباددکن ص۳۲) (۲المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الحج باب ۴۶۰ حدیث ۱۵۵۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت۳/ ۴۰۴)
وعلی الثالث کانت الآیۃ مجملۃ فی حق المفضل علیھم والمجمل ان لم یبین عد من المتشابہا ت ولم یعدھا أحد منھا لکنا بحمد اللہ وجدنا البیان من صاحب البیان علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام ، اخرج الامام ابو عمر بن عبدالبر من حدیث مجالد عن شعبی قال سألت ابن عباس او سئل ای الناس اول اسلامًاقال اما سمعت قول حسان بن ثابت اذاتذکرت شجوًا من اخی ثقۃ فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا خیرالبریۃ اتقاھا واعدلہا بعدالنبی واوفاھا بما حملا والثانی التالی المحمود مشہدہ واول الناس منھم صدق الرسلا ۱انتہی انبانا عبدالرحمن عن ابن عبداللہ المکی عن عابد الزبیدی المدنی عن الفلانی عن ابن السنۃ عن الشریف عن ابن ارکما ش عن ابن حجر العسقلانی عن الکمال ابی العباس أنا ابو محمد عبداللہ بن الحسین بن محمد بن ابی التائب عن محمد بن ابی بکر البلخی عن الحافظ السلفی عن ابی عمران موسٰی بن ابی تلمید عن الامام ابی عمر یوسف بن عبدالبر،قال فی الاستیعاب یروٰی أن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال لحسان"ھل قلت فی ابو بکر شیئا؟ قال نعم ، وانشد ھذہ الابیات وفیھا بیت رابع وھی: " والثانی اثنین فی الغارالنیف وقد طاف العدوبہ اذصعد والجبلا۔ فسرالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بذٰلک فقال احسنت یاحسّان۱ وقدروی فیھا بیت خامس: وکان حب رسول اللہ قد علموا خیر البریۃ لم یعدل بہ رجلا۲ انتہٰی۔
اورتیسری تقدیر پر ہر آیت مفضل علیہم کے حق میں مجمل ہوگی اورمجمل آیت کا بیان اگر نہ ہوا تو وہ متشابہ آیتوں میں شمار ہوگی حالانکہ اس آیت کو کسی نے متشابہات میں شمار نہ کیا، لیکن ہم نے بحمداللہ اس آیت کا بیان صاحب بیان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا۔امام ابو عمر ابن عبداللہ نے روایت کی حدیث مجالد سے انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے پوچھا یا ابن عبا س سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے پہلے کو ن اسلام لایا۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہ سنے: (ترجمہ اشعار)"جب تجھے سچے دوست کا غم یاد آئے ، تو اپنے بھائی ابو بکر کو انکے کارناموں سے یادکر جونبی(صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم)کے بعد ساری مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ تقوٰی اورعدل والے ، اورسب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والے ، جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ غار میں رہے ،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچے سفر ہجرت میں چلے،جن کا منظر محمود ہے اورلوگوں میں سب سے پہلے جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی"(صلی اللہ تعالٰی علی سیدنا محمد وسلم) ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے انھوں نے روایت کی ابن عبداللہ مکی سے انہوں نے روایت کی عابد زبیدی مدنی سے انہوں نے روایت کی فلانی سے وہ روایت کرتے ہیں ابن السنۃ سے وہ روایت کرتے ہیں شریف سے وہ روایت کرتے ہیں ابن ارکماش سے وہ روایت کرتے ہیں ابن حجر عسقلانی سے وہ راوی ہیں کمال ابو العباس سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن حسین بن محمد بن ابی التائب نے محمد بن ابی بکر بلخی سے وہ راوی ہیں حافظ سلفی سے وہ راوی ہیں ابو عمران موسٰی بن ابی تلمیدسے وہ روایت کرتے ہیں امام ابو عمر یوسف بن عبدالبر سے ، ابن عبدالبر نے استیعاب میں فرمایا کہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حسان سے فرمایا کیا تم نے ابو بکر کے بارے میں کچھ کہا ہے ؟انہوں نے عرض کی : جی ۔ اور حضرت حسان نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ شعر سنائے اوران میں چوتھا شعر ہے وہ یہ ہے : (ترجمہ)"غار شریف میں وہ دوسری جان درانحالیکہ دشمن اس کے گرد چکر لگاتے تھے جبکہ وہ دشمن (صدیق اکبر کی نظروں کے سامنے)پہاڑپر چڑھے تھے۔ "تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان اشعار کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا : اے حسان!تم نے اچھا کیا۔ اوران میں پانچواں شعر بھی مروی ہوا: (ترجمہ )"(شہرت، چمک یا حرارت محبت میں) رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے محبوب لوگوں نے انہیں جانا ، تمام مخلوق سے بہتر،جس کے برابر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کسی کو نہ رکھا۔"
(۱الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب حرف العین ترجمہ ۱۶۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۹۳) (۱الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ترجمہ ۱۶۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت۳/ ۹۳) (۲الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ترجمہ ۱۶۵۱دارالکتب العلمیۃ بیروت۳/ ۹۳)