Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
123 - 135
اقول وباللہ التوفیق اما ماذکرمن ان ھذا یخالف اللسان العربیۃ فممنوع ومدفوع، الا تری الٰی قولہ تعالٰی
"ھو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ وھو اھون علیہ۱؂۔"
ولیس شیئ اھون علی اللہ تعالٰی من شیئ والمعنی فی نظر کم علی احد تاویلات فی عسٰی ولعل الواردین فی القران، والی قولہ تعالٰی
"اصحٰب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا واحسن مقیلا۲؂ "
ولا خیر للغیر ولاحسن لأ ھل الضیر اولاٰیۃ جاریۃ علٰی سبیل التھکم بھم کما قال المفسرون لکن الأمر أن الافعل حقیقتہ فی التفضیل ولا یسار الی الانسلاخ عنہ الا لضرورۃ دعت بقرینۃ قامت کما فی الاٰیتین اللتین تلونا وحیث لاضرورۃ ولا قرینۃ کما نحن فیہ لانقول بہ والمصیر الیہ اشبہ بالتحریف منہ بالتفسیر کما قد حققنا وھذا القدریکفی للردعلیھم ، واما ماذکر من حدیث التخصیص عرفا فجری منہ علی تسلیم ماادعی الخصم من أن اللفظ بصیغتہ یشمل الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام وان بغیت الحق المرصوص فلا شمول ولا خصوص لأن الا تقٰی ان عم عم افرادہ وھم المفضلون المرجحون دون المرجوحین المفضل علیھم ۔
میں کہتا ہوں اورتوفیق اللہ تعالٰی سے ہے ، رہی وہ بات جو شاہ صاحب نے ذکر کی کہ یہ (اتقی بمعنی تقی ہونا) ممنوع ومدفوع ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالٰی کا قول "اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائےگا اوریہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہوناچاہیے "حالانکہ اللہ تعالٰی کے لئے کوئی چیز دوسری چیز سے زیادہ آسان نہیں (یعنی اللہ تعالٰی کو ہر چیز پر یکساں قدرت حاصل ہے ) اورآیت کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ بنانا تمہاری نظر میں زیادہ آسان ہونا چاہیے اوریہ عسٰی ولعل جو قرآن میں وارد ہیں ان کی تاویلات میں سے ایک تاویل کی بنا پر ہے اورکیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالٰی کا یہ قول "جنت والوں کا اس دن (سب سے (عہ)) اچھا ٹھکانااورحساب کی دوپہر کے بعد(سب سے ) اچھی آرام کی جگہ"حالانکہ غیر کے لئے خیرنہیں اورخسارہ والوں کیلئے کوئی اچھائی نہیں، یا آیت کفار سے استہزاء کے طور پر جاری ہے ، جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسم تفضیل کامعنٰی حقیقی تفضیل ہے اورتفضیل سے مجرد ہونے کی طرف بغیر ضرورت داعیہ بہ سبب قرینہ قائمہ نہ پھرے گی جیسا کہ ان دو آیتوں میں جو ہم نے تلاوت کیں اورجہاں نہ ضرورت ہو اورنہ قرینہ ہو وہاں ہم تفضیل سے مجرد ہونے کا قول نہ کریں گے اوراس طرف پھرنا تفسیر کی بہ نسبت تحریف سے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ ہم نے تحقیق کیا اور اس قدر انکے رد کے لئے کافی ہے ، اور رہی وہ تخصیص عرفی کی بات جو شاہ صاحب نے ذکر فرمائی تو مدعی کا وہ دعوٰی کہ لفظ اپنے صیغہ کے سبب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی شامل ہے تسلیم کرنے کی تقدیر  جاری ہوئی اور اگر تم حق محکم کو چاہو تو نہ شمول ہے نہ خصوص ہے اس لئے کہ اتقی اسم تفضیل اگر عام ہے تو اپنے افراد کو عام وشامل ہے ۔ اوراس کے افراد وہ ہیں جنہیں فضیلت وترجیح دی گئی ہے نہ کہ وہ مرجوح جن پر دوسروں کوفضیلت دی گئی۔
عہ: آیت کا ترجمہ ہم نے "کنزالایمان "سے نقل کیا ہے اوربریکٹ میں دوجگہ لفظ"سب سے " بڑھا دیا ہے تاکہ اس امر کی طرف اشارہ ہوکہ خیرواحسن کا اسم تفضیل کے لحاظ سے اصل ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے تھا، مگر قرینہ حالیہ کے سبب صحیح وہ ہے جو اعلٰیحضرت علیہ الرحمہ نے کیا، اوراس سے ظاہر ہے کہ یہاں خیر واحسن کا حقیقی معنی تفضیل والا نہیں ۔ازہری غفرلہ
 (۱؂القرآن الکریم ۳۰/ ۲۷)(۲؂ القرآن الکریم ۲۵/ ۲۴)
وسر المقام بتوفیق الملک العلام ان الافضل لابدلہ من مفضل علیہ والمضل علیہ یذکر صریحا اذا استعمل مضافا اوبمن اما اذااستعمل باللام فلا یوردفی الکلام ولکن اللام تشیر الیہ علی سبیل العہد فی ضمن الاشارۃ الی المفضل لان ذات مالہ الفضل کما ھو مفاد لفظ افعل بلا لام لاتتعین الا وقد تتعین المفضل علیہ فعھد ھا یستلزم عھدہ واذلم یکن ھناک عھد فی اللفظ فالمصیر الی العھد الحکمی وقد عھد فی الشرع المطھر تفضیل بعض الامۃ علٰی بعض لاتفضیلھم علی الانبیاء الکرام فلا یقصدہ المتکلم ولا یفھمہ السامع فلم یدخلوا حتی یخرجوا، تأمل ، انہ دقیق ، وقد کنت أظن ھکذا من تلقاء نظری الی ان رایت علماء النحو صرحوابما ابدی فکری وللہ الحمد۔
اوراس مقام میں علم والے بادشاہ کی توفیق سے راز یہ ہے کہ افضل کے لئے ایک مفضل اوردوسرا مفضل علیہ لازم ہے اورجب اسم تفضیل اضافت کے ساتھ یا من کے ساتھ مستعمل ہوتو مفضل علیہ صراحۃً مذکورہوتاہے ،لیکن جب اسم تفضیل الف لام کے ساتھ آتاہے تو اس میں مفضل علیہ کلام میں ذکر نہیں کیاجاتالیکن لام تعریف برسبیل عہد مفضل علیہ کی طرف مفضل کی طرف اشارہ کے ضمن میں اشارہ کرتاہے اس لئے کہ کوئی ذات جس کو دوسر ے پرفضیلت ہوجیسا کہ صیغہ افعل کا مفاد ہے بغیر لام تعریف کے اسی وقت متعین ہوگی جب مفضل علیہ متعین ہوتو اس کی تعیین مفضل علیہ کی تعیین کو مستلزم اورجب کہ تعیین صراحۃً موجود نہیں تو مآل کارحکمًا تعیین مانتا ہے اورشرع مطہر میں بعض امتیوں کی تفضیل دوسرے امتیوں پر معروف ہے نہ کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر فضیلت ہوتونہ متکلم کی مراد ہوتی ہے نہ مخاطب ہی یہ معنی سمجھتا ہے ، اب انبیائے کرام عموم میں داخل ہی نہیں کہ اس سے مستثنٰی کئے جائیں ،اس کلام میں غور کرے، بیشک یہ دقیق ہے اورمیں اپنی سمجھ سے یہی گمان کرتا تھا یہاں تک کہ میں نے نحو کے عالموں کی تصریح اپنے نتیجہ فکر کے مطابق دیکھی وللہ الحمد۔
قال المولی السامی نورالملۃ والدین الجامی قدس اللہ تعالٰی سرہ وضعہ لتفضیل الشیئ علی غیرہ فلا بدفیہ من ذکر الغیر الذی ھو المفضل علیہ وذکرہ مع من والاضافۃ ظاھر ، واما مع اللام فھو فی حکم المذکور ظاھرًا لانہ یشار باللام الی معین بتعیین المفضل علیہ مذکور قبل لفظًا اوحکمًا کما اذطلب شخص افضل من زید، قلت عمر والأفضل ای الشخص الذی قلنا انہ افضل من زید، فعلی ھذا لاتکون اللام فی افعل التفضیل الا للعھد انتہٰی ۔

حضرت بلند مرتبت نورالملۃ والدین جامی قدس اللہ تعالٰی سرہٗ نے فرمایا اسم تفضیل کی وضع شَے کی غیر پر فضیلت بتانے کے لئے ہے، لہذا اس میں غیر جو مفضل علیہ کا مذکور ہونا ضروری ہے اورمن اوراضافت کے ساتھ تو مفضل علیہ کا مذکورہونا ظاہر ہے ۔ رہا لام تعریف کے ساتھ تو مفضل علیہ ظاہرًا مذکور کے حکم میں ہے اس لئے کہ لام تعریف سے ایک معین کی طر ف اشارہ ہوتاہے جو لفظ میں مذکوریا حکم میں موجود مفضل علیہ کی تعیین سے متعین ہوتاہے جیسا کہ اگر کوئی شخص زید سے افضل مطلوب ہوتو تم کہو کہ عمرو افضل ہے (لام تعریف کے ساتھ ) تو مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے ہم نےزید سے افضل کہا عمرو ہے ،تو اس بناء پر صیغہ افعل التفضیل میں لام عہد (تعیین ) ہی کے لئے ہوگاانتہی۔

قلت وتنقیح المرام بتحقیق المقام یستدعی بسطا نحن فی غنی عنہ (لطیفتان) بمثل ماصرّح المولی الجامی۱؂ صرح الرضی الاسترآبادی الذی لم تکن فی مصرہ عمارۃ عصرہ الابنحوہ لکنا لم ناثر عنہ لان علٰی قلبہ آفۃ لاحدلھا فھم من فھم ھذا ثم ان المولی الفاضل نقل فی التفسیر جوابًا آخر عن بعض الاجلۃ الاکابر ولعلہ یریدبہ اباہ وھو أن الاتقی ھٰھناعلٰی معناہ اعنی من فضل فی التقوی علٰی کل من عداہ نبیا کان او غیرہ الا انہ یختص بالاحیاء الموجودین فالصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ یوصف بہ فی اٰخر عمرہ حین خلافتہ بعدارتحال المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وسیدنا عیسٰی علٰی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام لما کان مرفوعا الی السماء لم یبق فی حکم الاحیاء، ولا یجب للتقی ان یکون اتقی فی جمیع الاوقات وبالنسبۃ الٰی کل احد من الاحیاء والاموات والا لم یوجد لہ فی العٰلمین مصداق اذلایتصورالتقوی فی زمن الصبا وکل منصب محمود شرعًافالعبرۃ فیہ باخرالعمر کالعدل والصلاح والغوثیۃ والقطبیۃ والولایۃ والنبوۃ ولہذا یدعی بھٰذہ الاوصاف من تشرف بھا فی اواخر عمرہ وان لم یکن لہ ذٰلک من بدو امرہ ، فالاتقی من فضل بالتقوی من سائرالموجودین فی آخر عمرہ الذی ھو وقت اعتبارالاعمال وبہ یثبت المدعی بلا تکلف ولا تاویل۱؂ اھ بالتعریف وقد ارتضاہ المولی الفاضل جانحا الیہ وساکتاعلیہ۔
قلت (میں نے کہا) مقصود کی تنقیح اس بحث کی تحقیق کے ذریعہ تفصیل کو چاہتی ہے جس سے ہم بے نیاز ہیں (دو لطیفے) جس طرح اسم تفضیل کے بارے میں فاضل جامی نے تصریح کی، ایسی ہی تصریح رضی استرآبادی نے بھی کی جس کے شہر میں اس کے زمانے میں اسی کی نہج ونحو پر عمارت قائم ہوئی، مگر ہم نے اس کا کلام نقل نہ کیا اس لئے کہ اس کے دل پر ایسی آفت ہے جس کی حد نہیں ہے،اس کو سمجھا جو سمجھا ، پھر فاضل مولانا نے بعض گرامی قدر اکابر سے ایک اورجواب نقل کیا اورشاید ان کی مراد ان کے والد ہیں اوروہ یہ کہ اتقی اس جگہ اپنے معنی پر ہے یعنی جو تقوٰی میں اپنے ماسواسے افضل ہوخواہ نبی ہو یا غیر نبی ،  مگر یہ کہ اس صورت میں یہ ان کے ساتھ خاص ہوگاجو زندہ موجود ہیں۔ پھر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اتقی کے مصداق اپنی عمر کے آخری حصہ میں اپنی خلافت کے دور میں مصطفٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد ہوئے اورسیدناعیسٰی علیہ الصلوٰۃ جب آسمان پر اٹھالئے گئے تو وہ زندوں کے حکم میں نہ رہے اوراتقی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ تمام اوقات میں اتقی ہو اورتمام احیاء واموات سے افضل ہو، ورنہ عالم میں کوئی اس کا مصداق نہ ہوگاکیونکہ بچپن کے زمانہ میں تقوٰی متصور نہیں،اورہر منصب جو شرعًامحمود ہواس میں اعتبار آخرعمر کا ہے جیسے عدل وصلاح غوثیت وقطبیت ولایت ونبوت اسی لئے جو ان اوصاف سے مشرف ہوتاہے اسے اس کے آخری ایام میں ان اوصاف کے ساتھ موسوم کرتے ہیں اگرچہ یہ اوصاف ان لوگوں کو ابتداء سے حاصل نہیں ہوتے تو اتقی وہ ہے جو تمام موجودین کے بیچ تقوٰی میں سب سے افضل ہو، اپنی اواخر عمر میں جس وقت اعمال کا اعتبارہوتاہے اوراس تقریر سے صدیق کی افضلیت کا دعوٰی بے تکلف وتاویل ثابت ہوجاتاہے ، عربی عبات کا ترجمہ ختم ہوا اور اس تقریر کو فاضل مولانا نے اس کی طرف میلان اوراس پر سکوت کرتے ہوئے پسند کیا۔
 (۱؂شرح الجامی   الاسماء والوافقہا بحث اسم التفضیل   مطبع مصطفائی لکھنؤ       ص ۲۷۷)

(۱؂فتح العزیز(تفسیرعزیزی) تحت الآیۃ۱۷/ ۹۲ مسلم بک ڈپولال کنواں دہلی،پارہ عم ص۵۔۳۰۴)
اقول وان جعل اللہ الفطانۃ بمرأی العین من قلب وکیع اتقن وأیقن ان ھذا لایزید علی تلمیع ھب ان حدیث"العبرۃ بالخواتیم"۱؂ حق واجب التسلیم لکن الیس العقل السلیم شہیدًابانہ اذا ذکر أحد من الاحیاء الموجودین بنعت من النعوت لایفہم منہ الا اتصافہ فی الحال لاانہ یصیر ھکذا بالماٰل والتبادر دلیل الحقیقۃ والافتیاق الٰی قرینۃ تصرف الافہام ، و تظھرالمرام و امارۃ المجاز فماذا یحوجنا الیہ مع استقامۃ الحقیقۃ من دون تکلف ولا تاویل،اما علٰی  طریقتنا فالامر أبین واجلی،
اقول (میں کہتاہوں) اوراگر اللہ تعالٰی ذہانت کو قلب کےسامنے رکھے تو وہ محکم یقین کرلے گا کہ یہ ملمع سے زیادہ نہیں، مان لو کہ حدیث کا ارشاد ہے "خاتمہ کا اعتبار ہے "حق واجب التسلیم ہے لیکن کیا عقل سلیم شاہد نہیں کہ جب دنیا میں زندہ موجود لوگوں میں سے کوئی کسی وصف کے ساتھ مذکور ہو تو اس سے اس کافی الحال متصف ہونا ہی مفہوم ہوتاہے نہ یہ کہ وہ ایسا آئندہ ہوجائے گا ، اورتبادر(معنی کی طرف سبقت فہم) معنی حقیقی کی دلیل ہے اورقرینہ کی حاجت جو ذہن کو دوسرے معنٰی کی طرف پھیرے اورمقصد ظاہر کرے مجازی معنی کی علامت ہے تو ہمیں مجاز کی ضرورت کس لئے پڑی باوجودیکہ حقیقت بغیر تکلف وبغیر تاویل درست ہے ہمارے طریقے پر، تو معاملہ خوب ظاہر وباہر ہے،
 (۱؂صحیح البخاری کتاب القدرباب العمل بالخواتیم قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۹۷۸)

(کنزالعمال   حدیث۵۹۰   موسسۃ الرسالہ بیروت      ۱/۱۲۵)
واما علٰی طریقۃ الشیخ العزیز عبدالعزیزفلان امثال تلک التخصیصات تکون مرتکزۃ فی الاذھان من دون حاجۃ الی البیان، ولیس دلالۃ ھذا التلویح أدون من ارشاد التصریح ولہذا لا ینزل العام عن درجۃ القطعیۃ کما فی الکتب الاصولیۃ واعجب من ھذا عدہ تکلفا وتاویلا مع شیوعہ فی النصوص حدیثا وتنزیلافلو کان من باب التکلف فما اکثر التکلف فی افصح الکلام وکلام من ھو افصح الانام علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل السلام ،
اورشیخ عبدالعزیز کے طریقہ پر حقیقی معنی کی درستگی اس لئے ایسی تخصیصات عرفی اذہان میں مرتکز ہوتی ہیں جن کے بیان کی حاجت نہیں ہوتی اور عرف عام کے اس اشارہ کی دلالت صراحت کی دلالت سے کم رتبہ نہیں، اوراسی لئے عام درجہ قطیعت (تیقن) سے نہیں گرتا،جیساکہ اصول فقہ کی کتب میں مصرح ہے ، اوراس سے عجیب تریہ ہے کہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ نے اس (تخصیص)عرفی کو تکلف وتاویل میں شمار کیا باجودیکہ یہ قرآن وحدیث کی نصوص میں شائع ہے تو اگر یہ تکلف کے باب سےہو تو افصح الکلام (قرآن ) اورسب سے زیادہ فصیح حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام  میں کس قدر تکلف ہوگا ۔
Flag Counter