Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
122 - 135
وبالجملۃ فھبت نسائم التحقیق علی ان الوجہ ابقاء اللفظین علی ظاھر ھما، وانما تحتاج الی امرین لایعد شیئ منہما تکلفاًولاتغیرًا۔
خلاصہ یہ کہ اب تحقیق کی ہوائیں چلیں اس پرکہ وجہ تو یہی ہے کہ  دونوں لفظوں کو انکے ظاہر پر رکھا جائے اورتمھیں حاجت صرف دو امر کی ہوگی اوران میں سے کوئی نہ تکلف کے شما ر میں ہے نہ تغیر کی گنتی میں۔
الاول ان تنکیرنارًاللتعظیم وھو کما تری شائع فی الکلام الفصیح قرانا وقدیما وحدیثا واخذ التلظی بمعنی اشد مایکون حملا للمطلق علی فردہ الکامل وھو ایضا منتشر مستطیر۔
پہلی بات یہ کہ یہاں "ناراً"نکرہ تعظیم کے لیے ہے اوریہ اسلوب جیسا کہ تم جانتے ہوقرآن وحدیث اورقدیم وجدید کلام فصیح میں شائع ہے اورتلظی (آگ کی بھڑک)مطلق کو فرد کامل پر محمول کرتے ہوئے سخت ترین بھڑکنے کے معنی میں لیاجائے اوریہ بھی خوب شائع ہے ۔
والثانی الاستخدام وھو کما سمعت اعلٰی اومن اعلی انواع البدیع او ارجاع الضمیر الی نفس الموصوف مجردا عن ۰الصفۃ وھذا لیس من التاویل فی شیئ علی ان غرضنا یتعلق باٰیۃ الا تقی ولا مساغ فیہ للتاویل بتا وقطعًاھکذاینبغی التحقیق واللہ ولی التوفیق والحمدللہ رب العالمین۔
اوردوسری بات استخدام، اوروہ جیسا کہ تم نےسنا اقسام بدیع میں سب سے اعلٰی ہے یا منجملہ اعلٰی اقسام کے ہے یا ضمیر کو نفس موصوف کی طرف بلا لحاظ صفت لوٹائیں اوریہ تاویل سے کوئی لگاؤنہیں رکھتا۔ علاوہ بریں ہماری غرض تو آیت اتقی سے ہے ، اوراس میں قطعًاتاویل کی گنجائش نہیں ۔ اسی طرح تحقیق چاہیےاوراللہ تعالٰی توفیق کا مالک ہے اورساری خوبیاں اللہ کےلئے جو مالک ہے سب جہانوں کا۔
اذا وعیت ھذا ودریت مافیہ وألقیت السمع وانت نبیہ ھان علیک الجواب عن ھٰذہ الشبھۃ الاولٰی بوجوہ۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی اورتم نے اس کے مضمون کو سمجھ لیا اورتم نے کان دھر ا اورتم ذہین ہو تو تمہیں اس پہلے شبہہ کا جواب چند وجوہ سے آسان ہے :
الاول ظاھر اللفظ واجب الحفظ الا بضرورۃ واین الضرورۃ ۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ لفظ کے ظاہری معنی کی حفاظت واجب ہے یعنی لفظ کو ظاہر سے پھیرنا جائز نہیں مگر بہ ضرورت، اورضرورت کہاں۔
الثانی ما مالوا الیہ لم یزدد الا قدحًافوجب ان نضرب عنہ صفحًا ، وابوعبیدۃ فیما عانٰی لا أصاب ولا أغنٰی فکیف نترک ظاھر قول اللہ سبحٰنہ وتعالٰی بقول رجل لم یکن معصوماً ولا صحابیاً ولا تابعیًا ولا سنّیا ولا مصیبًافی ماطلب ولا مجدیا فی ماالیہ ھرب۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جس تاویل کی طرف لوگ مائل ہوئے اس سے توقباحت ہی زیادہ ہوئی تو ضرور ہوا کہ ہم اس سے منہ پھیریں ، اورابوعبیدہ نے جو پاپڑبیلے اس کاوش میں وہ نہ صواب کو پہنچا اورنہ کوئی مفید بات کہی تو ہم اللہ تعالٰی کے قول کے ظاہری معنٰی کو ایسے شخص کے کہنے سے کیسے چھوڑدیں جو نہ معصوم تھا، نہ صحابی تھا، نہ تابعی ، نہ سنی ، نہ اپنے مطلب میں صواب کو پانے والا، نہ اپنے مَفَر میں نفع بخش۔
ایھا الناس انی سائلکم عن شیئ فہل انتم مخبرون أرأیتم لو ان الآیۃ وردت بلفظ التقی وفسرہ بالاتقی ابوعبیدۃ اللغوی فتعلقناہ بقولہ وندبناکم الی قبولہ ماذاکنتم فاعلین لکن الانصاف شیئ عزیز ولایؤتی الا ذاحظ عظیم۔
اے لوگو! میں تم سے ایک بات پوچھوں تو کیا جواب دوگے، مجھے بتاؤاگر آیت لفظ تقی کے ساتھ وارد ہوتی اورابو عبیدہ لغوی اسے اتقی سے تفسیر کرتا تو ہم اس کے قول سے چمٹ جاتے اورتمہیں اسے قبول کرنے کی دعوت دیتے اب تم کیا کرتے ، لیکن انصاف کمیاب شیئ ہے اوربڑے نصیب والے ہی کو ملتاہے ۔
الثالث سلمنا کونہ فی الاٰیۃ وجہًاوجیھًالکن ھو الوجہ فیہا بل وجھنا ھو الأوضح والأجلی ولا تنافی بین نجاۃ التقی ونجاۃ الا تقی والقرآن محتج بہ علی کل تاویل واحد الوجہین یوجب التفضیل والوجہ الاٰخر لاینافیہ فوجب القبول والقول بما فیہ۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے آیت میں اس کا وجہ وجیہ ہونا مان لیا ، مگر آیت میں کیا یہی وجہ ہے ، بلکہ ہماری وجہ واضح تر اورزیادہ روشن ہے تقٰی اوراتقی کی نجات میں کوئی منافات نہیں ہے اورقرآن ہر تاویل پر حجت ہے ، اوردو وجہوں میں سے ایک تفضیل کی مقتضی ہے اوردوسری اس کی منافی نہیں تو قبول کرنا اوراس وجہ کے مضمون کا قائل ضروری ہے ۔
ولذٰلک تری علمائنا رحمھم اللہ تعالٰی لم یزالوا محتجین بالاٰیۃ الکریمۃ علی تفضیل العتیق الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وھم ادری منا ومنکم بما قالہ أبو عبیدۃ وغیرہ ثم ھذالم یقعدھم عن سلوک تلک المسالک ولم ینکر علیھم احد ذٰلک فثبت ان مقصودنا بحمداللہ حاصل ومزعومکم بحول اللہ باطل، والحمدللہ رب العٰلمین ایاہ نرجو وبہ نستعین۔
اسی لئے ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی کو دیکھتے ہوکہ وہ اس آیت سے سیدنا عتیق صدیق کی فضیلت پر دلیل لاتے ہیں حالانکہ وہ ابوعبیدہ وغیرہ کے کلام کو ہم سے اورتم سے زیادہ جانتے ہیں ،پھر بھی علماء کو اس بات نے اس مسالک پر چلنے سے نہ روکا، نہ کسی نے اس مسلک کو ناپسند کیا اب ثابت ہوگیاکہ ہمارا مقصد بحمداللہ حاصل ہے اورتمہارا زعم اللہ کی قدرت سے باطل ہے اورسب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو مالک ہے سب جہانوں کا،ہم اسی سے امید رکھیں اور اسی سے مدد چاہیں۔
الشبہۃ الثانیۃ: مانقلہ المولی الفاضل استاذ استاذی عبدالعزیز بن ولی اللہ الدھلوی سامحنا اللہ وایھما بلطفہ الخفی وفضلہ الوفی فی تفسیر فتح العزیز بعد ما ذکر استدلال اھل السنۃ والجماعۃ بالاٰیۃ الکریمۃ علی الطریق المشہور بین علماء الدھور، قال وقالت اھل التفضیل ان الاتقی محمول علی التقی منسلخ عن معنی التفضیل اذلولاہ لشمل باطلاقہ النبی صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم فیلزم ان یکون الصدیق اتقی منہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وھو باطل قطعًا بالاجماع فقال واجاب اھل السنۃ والجماعۃ ان حمل الاتقی علی التقی یخالف اللسان العربی والقراٰن انما نزل بھا فحملہ علی مالیس منہا غیر سدید، وما ذکروا من الضرورۃ مندفع بان الکلام فی سائر الناس دون الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام لما علم من الشریعۃ ان الانبیاء اعلی کرامۃ واشرف مکانۃ عنداللہ تبارک وتعالٰی فلایقاسون بسائر الناس ولا یقاس سائرالناس بھم فعرف الشرع حین جریان الکلام فی مقام التفاضل وتفاوت الدرجۃ یخص امثال ھذا اللفظ بالامۃ والتخصیص العرفی اقوی من التخصیص الذکری کقول القائل خبز القمح احسن خبز لن یفہم منہ تفضیلہ علٰی خبزاللوزلأن استعمالہ غیر متعارف وھو خارج عن المبحث اذ الکلام انما انتظم الحبوب دون الفواکہ ۱؂ ھذا کلامہ فی التفسیر الفارسی اوردناہ نقلاً بالمعنٰی۔
دوسرا شبہہ: وہ ہے جو میرے استاذ الاستاذ ومولا فاضل عبدالعزیز بن ولی اللہ الدہلوی (اللہ تعالٰی ہمیں اور انہیں اپنے لطف خفی اورفضل کامل سے معاف فرمائے) نے تفیسر فتح العزیز میں اس آیت کریمہ سے اہل سنت وجماعت کے استدلال کو علمائے زمانہ کے درمیان مشہور طریقہ پر ذکر کرنے کے بعد نقل فرمایا، انہوں نے فرمایا کہ تفضیلیہ نے کہا کہ اتقی بمعنی تقی ہے ، اوروہ (اسم تفضیل) معنی تفضیل سے مجرد ہے اس لئے کہ اگر یہ معنی نہ ہو تو اسم تفضیل کے اطلاق کے سبب صدیق کی فضیلت نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو شامل ہوگی تو لازم آئیگا کہ صدیق نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اتقی ہوں  اوریہ قطعًا اجتماعی طور رپرباطل ہے ، شاہ عبدالعزیز نے فرمایا کہ اہل السنت والجماعت نے جواب دیا کہ اتقی کو تقی کے معنی میں لینا عربی زبان کے خلاف ہے اورقرآن تو اسی میں اترا ، تو ایسے طریقہ پر محمول کرنا جو زبان عربی کے دستور میں نہ ہوصحیح نہیں ہے اور جو ضرورت تفضیلیہ نے ذکر کی وہ مندفع ہے ، اس لئے کہ کلام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں ہے کیونکہ شریعت سے یہ معلوم ہے کہ انبیاء کی عظمت سب سے زیادہ ہے اور انکامرتبہ سب پر بلند ہے تو انہیں باقی لوگوں پر قیاس نہ کیاجائے گا ، نہ باقی لوگ ان پر قیاس کئے جائینگے ، تو شریعت کا عرف مقام فضیلت اورتفاوت مراتب کی جاری گفتگو میں ایسے الفاظ کو امت کے ساتھ خاص کردیتا ہے اورتخصیص عرفی تخصیص ذکری سے زیادہ قوی ہے جیسے کوئی کہے کہ گیہوں کی روٹی سب سے اچھی روٹی ہے ، اس سے گیہوں کی روٹی کی  فضیلت بادام کی روٹی پر نہ سمجھی جائیگی اس لئے کہ اس کا استعمال متعارف نہیں ہے اوروہ بحث سے خارج ہے اس لیے کہ کلام اناج کو شامل ہے  نہ کہ میووں کو۔ یہ شاہ عبدالعزیز کا تفسیر فارسی میں کلام تھا جس کے مفہوم کو ہم نے نقل کیا۔
 (۱؂ فتح العزیز (تفسیرعزیزی) تحت الآیۃ ۹۲/ ۱۷ مسلم بکڈپولال کنواں دہلی پ عم ص۳۰۴)
Flag Counter