Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
121 - 135
ثم ان المولٰی جل وعلا بغٓایۃ عدلہ وضع الجزاء مشاکلاً للعمل ولذایدیم تنغیم المومن وتعذیب الکافر اذقد علم من نیتھما ومکنونات طویتہما أنھما عازمان علٰی ادامۃ ماھما من الکفر والایمان حتی لو دامو افی الدنیا لداموا علیہ الا تری الی قولہ تعالٰی"ولو ردوالعادوالما نھو اعنہ"۱؂
اسی لئے جنت میں مومنین کی آسائش اورجہنم میں کافر کا عذاب ہمیشہ ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالٰی کو انکی نیت اورمخفی ارادے کا علم ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی حالت کفروایمان پر قائم ودائم رہنے کا عزم کئے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اگر دنیا میں ہمیشہ رہتے اپنے حال پر ہمیشہ رہتے کیا تم اللہ کے فرمان کو نہیں دیکھتے "اوراگرواپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کئے گئے تھے"
 (۱؂ القرآن الکریم  ۶/ ۲۸)
ولذٰلک لما انسلخ ابوطالب عن الکفاربشراشرہ واثبت قدمیہ علٰی تلک الملۃ الخیبثۃ نجا الدیان سبحٰنہ وتعالٰی سائربدنہ من النار وسلط العذاب علٰی قدمیہ کما فی حدیث الشیخین۲؂  وغیرھما فقضیۃ المشاکلۃ أن من تساوت حسناتہ وسیأتہ یساوی لبثہ فی العذاب بلبثہ فی دار الثواب ومن اذنب ذنبا واحدا اذیق اثامہ ومن الم بسیئۃ ثم انقلع عنہا فجزاء ہ المشاکل ان یدنی الی النار ثم یبعدعنہا لیذوق من الفزع والغم قدر ماذاق من اللذۃ فی اللمم ھذا حکم العدل وحکم العدل ھو الاصل لکن المولی الجواد الکریم الذی "کتب علی نفسہ الرحمۃ"۱؂ وجعل لھا السبقۃ علی الغضب منۃ ونعمۃ تشفع الیہ شفیعان رفیعان وجیہان  حبیبان لایردان ولا یخیبان رحمتہ الکاملۃ العامۃ الشاملۃ وھذا النبی الکریم المبعوث من الحرم بفیض الجود والکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وبارک وسلم فوعد بالطاف جمیلۃ ورحمات جلیلۃ فضلامن لدیہ من دون وجوب علیہ، وحاشاہ أن یجب علیہ شیئ"وھو یجیر ولا یجارعلیہ"۲؂  وبشر ان الحسنات یذھبن السیئات"۳؂ "وان اللمم معفوعنا ان شاء اللہ تعالٰی"ان ربک واسع المغفرۃ"۴؂ وان اللہ تجاوزلنا عما ھمت بہ انفسنا مالم نعمل اونتکلم وأن من تعادلت کفتاہ لم یدخل النار وان لا یھلک علی اللہ الماردمتمرد وھذا کلہ تفضل وتکرم من المولی الحی جلت اٰلاہ وتوالت نعماؤہ ولہ الحمد کما یحب ویرضی ۔
اورجب ابوطالب کفار سے تمام وکمال جدا ہوئے اوراپنے قدم اس خبیث ملت پر جمائے رکھے جزادینے والے رب سبحٰنہ وتعالٰی نے ان کے سارے بدن کو نار سے نجات دی اورعذاب کو ان کے قدموں پر مسلط فرمادیا جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے تو عمل وجزا میں مشاکلت کامقتضٰی یہ ہے کہ جس کی نیکیاں اوربرائیاں برابرہوں اس کا عذاب میں رہنا ثواب کے گھر میں رہنے کے برابرہوا، جو ایک گناہ کرے وہ اس کا عذاب چکھے اور جو برائی کے قریب جائے پھر اس سے جدارہے تو اس کی جزامشابہ عمل یہ ہے کہ وہ نار کے قریب کیاجائے پھر اس سے دور رکھاجائے تاکہ غم اورگھبراہٹ کا مزہ ارادۂ گناہ میں لذت کے بمقدارچکھے،یہ حکم عدل ہے اورحکم عدل ہی اصل ہے ، لیکن جُودوکرم والے  مولٰی نے اپنے اوپر رحمت کولازم فرمایا اور اس کے لئے غضب پر سبقت رکھی اپنے کرم واحسان سے اس سے سفارش کی جورفعت وجاہت والے وپیارے شفیعوں نے جو نہ پھیرے جائیں نہ محروم ہوں ایک اللہ تعالٰی کی رحمتِ تمام وعام اوردوسرے یہ نبی کریم جو حرم سے فیض جودوکرم کے ساتھ مبعوث ہوئے تو اللہ تعالٰی نے جمیل مہربانیوں اورجلیل رحمتوں کا وعدہ فرمایا محض اپنے فضل سے نہ اس سببسے کہ اس پرکچھ واجب ہے اوروہ اس سے منزہ ہے کہ اس پرکچھ واجب ہوحالانکہ وہی پناہ دیتاہے اوراس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اوراس نے خوشخبری دی کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں  اوریہ کہ لمم (ارادہ گناہ) پر ہمیں معافی دے دی گئی بے شک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے اوربیشک اللہ تعالٰی ان باتوں سے درگزر فرماتاہے جن کا ارادہ ہماے نفوس کرتے ہیں جب تک انکو انجام نہ دیں یا انہیں نہ بولیں اورجس کے دونوں پلے برابرہوں گے وہ نار میں نہ جائے گا ۔ اوریہ کہ اللہ تعالٰی کے یہاں صرف نہایت سرکش نرانافرمان ہی ہلاک ہوگا (یعنی کافر)اویہ سب مولائے غنی کریم کا فضل وکرم ہے۔اس کی نعمتیں جلیل ہیں اوراس کے احسان پیہم ہیں ، اور اسی کے لیے حمد ہے ۔ جیسی وہ چاہے اورپسند فرمائے ،
 (۲؂صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴۸)

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۱۵)

(۱؂ القرآن الکریم ۶/ ۱۲)(۲؂القرآن الکریم ۲۳/ ۸۸)(۳؂ القرآن الکریم  ۱۱/ ۱۱۵) (۴؂ القرآن الکریم ۵۱/ ۳۲)
فکل من اذنب او الم ثم جنبہ المولی النار فانما جنبہ  علی استحقاق منہ لجزاء ماعملہ کما قال تبارک وتعالٰی "ان ربک لذومغفرۃ للناس علی ظلمھم،"۱؂ بل لامعنی للمغفرۃ الا تجاوزصاحب الحق عن استیفاء حقہ کلاً اوبعضًا فھذا تجنیب بعد تقریب وأنجاء بعد الجاء مع مافیہ ایضامن تفاوت الرتب کمالایخفی، اما الذی بلغ من التقوٰی غایتہ القصوی حتی تنزہ عن کل مایکرہ وفنی عن الخلق وبقی بالحق وارتفع شانہ عن اتیان عصیان ونظر بالرضی الٰی مایبغض الرحمٰن ، فہذا محال ان یکون من النارفی شیئ أو النارمنہ فی شئی لاسیما اتقی الاتقیاء وأصفی الاصفیاء الذی لم یزل من الحق بعین الرضا فی جمیع احوالہ، ولم یسوء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فعلۃ من افعالہ ، فذاک العبدذاک العبد کلت الالسن عن شرح کمالہ وتاھت العقول فی تیہ جلالہ جالت وعالت، فبقیت تکبو ثم رجعت فسئلت فقالت ھو ھو،
تو ہر وہ شخص جس نے گناہ کیا یا گناہ کے پاس جاکر رُک گیا پھر اللہ تعالٰی نے اسے نار سے دوررکھا تو اسے اس کے استحقاق کی جہت سے اس کے عمل کی جزا دینے کو دور رکھا چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ "بے شک اللہ تعالٰی لوگوں کو بخشنے والا ہے انکے ظلم کے باوجود"بلکہ مغفرت کا معنی یہی ہے کہ صاحب حق اپنے حق کو لینےسے کلی یا جزوی طور پر درگزر کرے تو یہ نار سے قریب کر کے اس سے دوررکھنا ہے اورنار کی طرف لیجا کر اس سے بچاناہے اس کے باوجود اس میں رتبوں کا تفاوت ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں مگر جو تقوٰی کی سب سے آخری حد تک پہنچ گیا، یہاں تک کہ کہ ہر ناپسندیدہ بات سے دور رہا اورخلق سے فانی اورحق پر باقی ہوگیا اوراس کی شان معصیت کے ارتکاب سے اوررحمٰن کے مبغوض کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھنےسے بلند ہوگئی تو محال ہے کہ ایسے شخص کو نار سے علاقہ ہویا نارکو اس سے کوئی تعلق ہو خصوصاًوہ متقیوں کا متقی اورسارے اصفیاء سے زیادہ صاف باطن جس کے تما م احوال پرحق کی چشم رضا رہی، اورنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو جس کا کوئی کام بُرا نہ لگا تو یہی وہ خدا کا بندہ ہے یہی وہ خاص بندہ ہے زبانیں جس کے کمال کو بیان کرنے سے عاجز ہیں جس کی عظمت کے صحرا میں عقلیں گم ہیں اس میں عقلیں دوڑیں اورگھومتی پھریں،پھر گرتی پڑتی رہیں پھر لوٹیں تو ان سے پوچھاتو بولیں وہی وہ ہے ،
(۱؂ القرآن الکریم ۱۳/ ۶)
فغایۃ القول فیہ أنہ أولی العباد وأول المراد بقول الجواد"ان الذین سبقت لھم منا الحسنٰی اولٰئک عنہا مبعدون لایسمعون حسیسہا وھم فی ما اشتھت انفسھم خالدون لایحزنھم الفزع الاکبر وتتلقٰھم الملٰئکۃ ھذا یوم کم الذی کنتم توعدون" ۱؂ ھذا معنی العرض العریض للتجنبی من مطلق النار علٰی حسب مایطیقہ البیان، ولا یتاتی مثلہ فی النار المخصوصۃ بالکفاراذ انما ھی جزاء الکفر والمؤمنون کلھم متساوون فی التباعد عنہ اذ الکفر والایمان لایزید ان ولا ینقصان والمسئلۃ اجماعیۃ والنزاع لفظی فوجب ان یتساووافی البُعد عن جزاء الکفر ایضاً ،
تو اس خاص بندہ کے بارے میں آخری بات یہ ہے کہ وہ سارے بندوں سے اولٰی اورخدائے جواد کے قول"بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں وہ اس کی بھنک نہ سنیں گے اوروہ اپنی من مانی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اورفرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تماہرا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا"کی پہلی مرا دہے ، مطلق نار سے دوررکھنے میں جو بڑی وسعت ہے اس کا مقدوربیان کے مطابق یہ معنی ہے اورایسی بات اس نار کے بارے میں نہیں بنتی جو کفار کے ساتھ مخصوص ہے وہ تو کفر کی سزا ہے اورتمام مسلمان اس نار سے دور رہنے میں برابر ہیں اس لئے کہ کفر وایمان یہ دونوں وصف گھٹتے بڑھتے نہیں ہیں اور یہ مسئلہ(کفروایمان کا کم زیادہ نہ ہونا)اجتماعی ہے اوراختلاف لفظی ہے تو ضرری ہے کہ مسلمان کفر کی سزا سے دور رہنے میں بھی برابرہوں۔
(۱؂القرآن الکریم  ۲۱/ ۱۰۱تا۱۰۳)
واما قولہ تبارک وتعالٰی "ھم للکفر یومئذٍ اقرب منھم للایمان"۱؂فھٰذابالنظر الی الظاھر اذ الاٰیۃ فی المنافقین لقولہ تعالٰی "یقولون بافواھھم مالیس فی قلوبھم واللہ اعلم بما یکتمون"۲؂ یعنی أنھم کانوا یتظاھرون بالایمان فیظن الجاھل بما فی السرائرا نھم مؤمنون ،لما کانوا یتباعدون بالسنھم عن الکفر ثم لما انخزلواعن عسکر المؤمنین وقالوا"لو نعلم قتالالاتبعناکم"۳؂ تخرق الحجاب وغلب علی الظنون انھم لیسوابمؤمنین مع تجویز ان یکون ھذا القول منھم تکاسلاً واخلادًا الٰی ارض الدعۃ،فھذامعنی القرب والبعد اوالمراد بالکفر والایمان اھلوھمااذتقلیلھم سوادالمومنین بالانعزال عنہم تقویۃ للمشرکین کذا قال المفسرون ھذا ماعندی، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
رہا اللہ تعالٰی کا قول"اس دن وہ ظاہری ایمان کی بہ نسبت کہیں کفر سے زیادہ قریب ہیں"تو یہ باعتبارظاہر کے ہے اسلئے کہ آیت منافقین کے بارے میں ہے اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ان کے بارےمیں فرمایا: "اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپا رہے ہیں۔"مطلب یہ ہے کہ منافقین ظاہری طور پر ایمان والے بنتے تھے تو ان کے دلوں میں چھپی بات سے بے خبر یہ گمان کرتا تھا کہ وہ مسلما ن چونکہ منافقین کفر سے دور ی ظاہر کرتے تھے پھر جب وہ مسلمانوں کے لشکر سے جداہوگئے اور بولے کہ"اگرہم لڑائی ہوتی جانتے توضرورتمہاراساتھ دیتے۔"ان کا پردہ فاش ہوگیا اورگمانوں پر غالب ہوگیا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں اس احتمال کے ساتھ کہ منافقوں کی یہ بات سُستی اورآسائش کی زمین پکڑنے کی وجہ سے ہوتوقُرب اوربُعد کا یہ معنٰی ہے یا کفر وایمان سے مراد صاحبان کفر وایمان ہیں اس لئے کہ منافقوں کا مسلمان کے گروہ کو کم کرنا مسلمانوں کے لشکر سے جداہوکر مشرکوں کو تقویت دیناہے ایسا ہے مفسرین نے فرمایا ہے ، یہ ہے وہ جو میری رائے ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؂ القرآن الکریم ۳/ ۱۶۷)(۲؂القرآن الکریم ۳/ ۱۶۷)(۳؂ القرآن الکریم۳/ ۱۶۷)
Flag Counter