| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
اقول والمخلص الاستخدام وھو شائع فی فصیح الکلام بل عدوہ والتوریۃ اشرف انواع البدیع ، بل منہم من قدمہ فی الشرف علی الجمیع کماذکر الامام العلامۃ السیوطی۱ ومنہ فی القران العظیم قولہ تعالی ولقد خلقنا الانسان من سلا لۃ من طین ثم جعلناہ نطفۃ فی قرار مکین ۲
میں کہتا ہوں اور اس سے نجات دہندہ وہ استخدام ہے اور وہ کلام فصیح میں شائع ہے ، بلکہ علماء نے استخدام وتوریہ (ف )کو بدیع کی سب سے عمدہ قسم شمار کیا ہے بلکہ بعض علماء نے استخدام کو شرف میں تمام اقسام بدیح پر مقدم رکھا ہے جیسا کہ علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے ذکر کیا ہے ، او راس قبیل سے قرآن عظیم میں اللہ تعالی کا قول ہے "اور بے شک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤمیں"
ف: توریہ ابہام کو کہتے ہیں ، اور اس کی تعریف یہ ہے کہ ایک لفظ کو لیں جس کے دو معنی ہوں ایک قریب دوسرا بعید ، اور معنی قریب سے بعید معنی کا توریہ کریں ، او ر بعید معنی مراد ہو تو معنی قریب کو موری بہ اور معنی بعید کو موری علیہ کہتے ہیں
(۱الاتقان فی علوم القرآن النور الثامن والخمسون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۱۵۳) (۲ القرآن الکریم۲۳/ ۱۲و ۱۳)
المراد بالانسان ابو نا ادم علیہ السلام وبضمیر ولدہ ، ومنہ قولہ تعالی
اتی امر اللہ فلا تستعجلو ہ۱
آیت میں انسان سے مراد ہم انسانوں کے باپ آدم علیہ السلام ہیں او رضمیر سے مراد ان کی اولاد ہے او راسی قبیل سے اللہ تعالی کاقول ہے کہ " اللہ تعالی کا حکم آیا تو اس کی جلدی نہ مچاؤ۔
(۱ القرآن الکریم ۱۶/ ۱)
المراد بامر اللہ بعثۃ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی احد الوجوہ فی تاویلہ اخر ج ابن مردویۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فی قولہ تعالی اتی امر اللہ قال محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، والمراد بالضمیر قیام الساعۃ قالہ العلامۃ السیوطی۲ نفعنا اللہ تعالی بعلومہ ، امین۔
اس آیت میں ایک وجہ پر امر اللہ سے مراد محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ ہے ۔ ابن مردویہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالی کے قول "اتی امر اللہ"میں امر اللہ سے مراد محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں۔ او ر ضمیر سے مرادقیامت کا قائم ہے ، یہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالی علیہ نے ذکر کیا ہے اللہ تعالی ہمیں ان کے علوم سے نفع بخشے آمین ۔
(۲الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والخمسون دار الکتاب العربی بیروت۲ /۱۵۴)
اقول فان قلت اذا اردتم بالنار اعظم النیران المخصوص باشقی الاشقیاء فما انذار سائر الناس عنہ قلت المعنی ان شاء اللہ تعالی ان الاشقی انمابلغ ما بلغ من کمال الشقاء وسوء الجزاء وجہد البلاء بما ثا بر علیہ من اللداد و العناد والاصرار والاستکبار فاحذروا انتم یا ایہا الناس ان لم تنیبو االی الحق ودمتم کدوامہ ان تعادلوہ فی الشقاء فتلقوا اثاما کمثل اثامہ فکانت الایۃ علی حد قولہ تعالی
فان اعرضوا فقل انذرتکم صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد و ثمود ۱
فانہم انما اصابہم ما اصابہم لمثل ھذا الاعراض فماذا یؤمنکم ان مضیتم علی دابہم ان تعذبوا بعذابہم وحصل الانذار بانہ تعالی اخبر ان ھناک عدوا اشقی من یوجد ولہ جزاء اسوء مایکون والناس غیر دارین انہ من ھو ، ولم یذکر اللہ تعالی من صفاتہ الاالتکذیب و التولی ، فحق ان تنقطع قلب کل مکذب وینفلق کبد کل متول خوفا وفرقا ان یکون ھو ھو فمن ھذا الوجہ جاء الانذار لسائر الناس فاتقنہ فانہ من احسن السوانح بتو فیق الملک العلیم الفاتح جل جلالہ وھذا الکلام یجری بعضہ فی الوجہ الثانی ایضا لکن ھنا دقیقۃ غامضۃ وھی ان امثال ھذا الحصر الادعا ئی انما تناسب المقام اذا کان سوق الکلام لذم ھذاالاشقی الملام ، فکانہ قیل انہ بلغ من الشقاء مبلغا تضمحل دونہ سائرالشقاوات فکانہ لایلج النار الاھو،اما اذا سیق مساق الانذارلجمیع الکفارأوقصد ذٰلک ایضًامع قصد الذم فلعلہ لایستحسن حینئذ حصرالعقاب فی رجل واحد،
میں کہتا ہوں اب اگر تم کہو جبکہ آپ نے آیت میں مذکور نار سے دوزخ کی سب سے بڑی آگ مراد لی جو تمام اشقیاء سے بد تر شقی کےلئے مخصوص ہے تو سب لوگو ں کو اسے ڈرانے کا کیا مقصد ہے ، تو میں کہوں گا کہ مقصد ان شاء اللہ تعالی یہ ہے کہ ہ وہ سب سے بڑا شقی کمال شقاوت اور بری جزا اور سخت بلا کے جس درجہ پر پہنچا اس کا سبب وہی کفر وعناد ہے اور ہر ناہت اور گھمنڈ ہے جس پر وہ قائم رہا تو اے لوگو ! تم ڈرو کہ اگر تم حق کو نہ مانو اور ناحق پر جمے رہو جیسا کہ وہ بڑ بدبخت جما رہا کہیں تم بد بختی میں اس کے برابر نہ جاؤ تو اس کے عذاب جیسا عذاب پاؤتویہ آیت اللہ تعالی کے قول" پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمیہں ڈراتا ہوں ایک کڑک سے جیسی کڑک عاد اور ثمود پر آئی تھی ، کے طو رپر ہے اس لئے کہ عاد وثمود پر جو مصیبت اتری وہ اسی طو ر کے اعراض (روگردانی)کے سبب اتری تو تمہیں کون سی چیز بے خوف کرتی ہے ، اگر تم ان اگلوں کی عادت پر جمے رہو ان جیسا عذاب پانے سے یا سب کے لئے تنبیہ ہوگئ کہ اللہ تعالی نے بتایا کہ آخرت میں اللہ تعالی کا ایک دشمن نہایت بد بخت ہوگا اور اس کےلئے نہایت بد ترین سزا ہے اور لوگ نہیں جانتے کہ وہ کون ہے ، اور اللہ تعالی نے اس کی صفات میں سے جھٹلانے اور ،منہہ موڑنے کے سوا کچھ ذکر نہیں کیا تو بجا ہے کہ ہر جھٹلانے والے کا دل کٹ جائے اور ہر منہ موڑنے والے کا کلیجہ پھٹ جائے اس ڈر سے کہ کہیں وہ ہی نہ سب سے بڑا بد بخت ہو جس کی یہ سزا سنائی گئی تو اس وجہ سے یہ تخویف سے لوگو ں کےلئے آئی ، اس نکتہ کو یادر کھو کہ یہ بادشاہ علیم فاتح (علم والے عقدہ کھولنے والے جل جلالہ)کی تو فیق سے ایک اچھا خیال ہے اوریہ تقریرکچھ وجہ ثانی میں بھی جاری ہے ، لیکن یہاں ایک نہایت خفی نکتہ ہے اوہ یہ کہ ایسے حصرادعائی موقع کے مناسب اسی وقت ہوں گے جبکہ سیاقِ کلام اس بڑے بدبخت وقابل ملامت کی مذمت کے لئے ہو،تو گویا یوں فرمایاگیا کہ یہ شخص شقاوت کے اس درجہ تک پہنچا جس کے آگے سب شقاوتیں ہیچ ہیں تو گویا دوزخ میں اس کے سوا کوئی نہ جائے گا ، مگر جبکہ یہ کلام تمام کافروں کی تخویف کے لئے ہویا ،مذمت کے ساتھ یہ قصد بھی ہوتو شاید عذاب کو ایک شخص میں منحصربتانامستحسن نہیں
(۱ القرآن الکریم ۴۱ /۱۳)
تأمل فانہ موضعہ والعبدالضعیف لہذایجدنفسہ ارکن الی الوجہ الاول دون الثانی،وفیہ الغنیۃ وحصول المنیۃ،والحمدللہ معطی الامانی، ثم لما بلغت ھذا المقام رجعت العزیزی بعد ما استعرتہ من بعض الاعزۃ فرأیت المولٰی عبدالعزیز تجاوز اللہ تعالٰی عنا وعنہ تنبہ لہٰذاالاستبعاد الذی ذکرتہ فی الوجہ الاول وجھی القاضی وحق لہ ان یتنبہ لانہ العلم فی الذکاء والفطانۃ،ثم اجاب عنہ بجوابین: الاول یقارب ما دنا التوفیق الیہ من القول بالاستخدام۔ والثانی ان التجنیب من تلک النارالمخصوصۃ بالکفارایضالہا عرض عریض وغآیۃ القصوی مختصۃ بالاتقی وسائرالمومنین وان کانوامجنبین لکن لاکمثلہ۱ ا نتہی معرّبًا۔
غورکروکہ یہ مقام غور ہے اوریہ بندۂ ناتواں اسی لئے خود کودوسری وجہ کے بجائے پہلی وجہ کی طرف زیادہ مائل پاتا ہے اور اسی میں بے نیازی اور مطلب کا حصو ل ہے اور اللہ تعالی کے لئے حمد ہے جو مرادیں عطافرماتاہے ، پھر میں جب اس مقام تک پہنچامیں نے تفسیر عزیزی اپنے بعض اعزہ سے عاریۃً لے کر دیکھی تو میں نے حضرت مولانا عبدالعزیزکو (اللہ تعالٰی ہمیں اورانہیں معاف فرمائے)دیکھا کہ وہ اس اعتراض کی طرف متنبہ ہوئے جو وجہ اول پر اعلٰی حضرت نے فرمایا اورانہیں متنبہ ہونا ہی چاہئے اس لئے کہ وہ ذکاوت وفطانت کا پہاڑہیں ، پھر اس کے دوجواب دیے: پہلاتو وہی جو علماء نے اختیار فرمایا یعنی استخدام کا طریقہ۔ دوسرا یہ کہ اس نار سے دوررکھاجاناجو کافروں کے ساتھ خاص ہے اس میں بڑی وسعت ہے اور اس کی آخری حد اتقی کے لئے خاص ہے اورباقی مسلمان اگرچہ وہ بھی اس آگے سے دوررہیں گے لیکن اس کی طرح نہیں اھ۔
(۱ فتح العزیز (تفسیرعزیزی)تحت الآیۃ ۹۲/ ۱۷ مسلم بکڈپولال کنواں دہلی ص۳۰۴)
اقول الوجہ الوجہ الاول وعلیہ عندی المعول واما ماذکر من الوجہ الثانی فلیس بشیئ عندی وانکان ھو المرضی لدیہ حتی اورد الاول بصیغۃ التمریض وذٰلک لان کون التجنیب مقولا بالتشکیل مسلم فی مطلق النارالتی یمکن ان یدخلہابعض المومنین ومعنی العرض العریض فیہ کما یسبق الیہ ذھنی القاصرأن الذنوب مقتضاھا الأصلی الذی لوخلیت ھی وطبایعہا ماأقتضت الا ایاہ انما ھو اصابۃ الجزاء الذی اوعدبہ علیہاوھذاظاھر جدًّا،فکل من اذنب ذنباولو مرۃ استحق بذنبہ ھذا أن یؤاخذہ الملک جل جلالہ، ولا تقبض حسناتہ المکتاثرۃ علی العزیز االمقتدراذ نفع الحسنات انما یعودالیہ، فکیف یمن علی اللہ تعالٰی بما عملہ لنفع نفسہ، فکیف یجعلہ ذریعۃ الی ابطال منشورالجزاء عن رأسہ وقد قیل لہ بأفصح بیان ان کما تدین تدان۱ غایۃ الامران یقسم لبثہ فی الدارین علٰی مقدارلبثہ فی العملین کمًا وکیفاً، فیجوز ان تسمہ الناربما یعدل ھذا المقدار، وقد اعتقدنانحن معشر اھل السنۃ والجماعۃ رزقنا اللہ سبحٰنہ وتعالٰی حظ الرحمۃ والشفاعۃ أنہ تبارک وتعالٰی لہ ان یؤاخذعبدہ کل جریرۃ ولو صغیرۃ کما ان لہ ان یتجاوزعن کل کبیرۃ،فضل وذٰلک عدل وما اللہ بظلامٍ للعبید۔
میں کہتاہوں وجہ تو پہلی ہے اورمیرے نزدیک وہی معتمد ہے ، اورجو دوسری وجہ ذکر کی وہ میرے نزدیک کوئی چیز نہیں اگرچہ شاہ عبدالعزیزعلیہ الرحمہ کو دوسری پسند ہے کہ پہلی کو ایسے صیغہ سے ذکر کیا جس سے اس کے ضعف،کی طرف اشارہ ہوتاہے اس لئے کہ نار سے دوررہنااس کا کلی مشکک ہونا مطلق نار میں مسلم ہے جس میں بعض مومن داخل ہوسکتے ہں اورتجنیب(ناردوزخ سے دوررہنا)میں بڑی وسعت کا معنٰی جیسا کہ میرا ذہن قاصراس کی طرف سبقت کرتاہے کہ گناہوں کا وہ مقتضائے اصلی کہ اگر گناہ اپنی طبیعت کے ساتھ چھوڑ دئے جائیں تو اسی کا تقاضا کریں تو یہ ہے کہ بندہ کو وہ سزا ملے جس کی اسے گناہوں پر وعید سنائی گئی،اوریہ بہت ظاہر ہے ، تو ہر وہ شخص جس نے ایک بار بھی گناہ کیا اللہ تعالٰی کی پکڑکا مستحق ہے اوربندہ کی بکثرت نیکیاں خدائے غالب وقدیر کو مانع نہیں ہوسکتیں اس لئے کہ نیکیوں کا نفع تو بندہ ہی کو پہنچتاہے تو کیسے اللہ تعالٰی کو اپنے بھلے کے لئے کیے ہوئے کام کا احسان جتائے گا اورکیونکر اسے سزاکے دستور کوسرے سے باطل کرنے کا ذریعہ بنائے گا، حالانکہ بندہ کو خوب واضح بیان سے کہہ دیا گیا ہے کہ جیساتُو کرے گاویسا تجھے بدلہ دیا جائے گا،غایت امر یہ ہے کہ دنیا وآخرت میں بندہ کی مدت اقامت کو نیک وبد ہر دوعمل میں ٹھہرنے کی مقدار پر باعتبارقدروکیفیت تقسیم کریں توممکن ہے کہ اسے آگ اتنی مدت تک چھوئے جو اس کے مقدار عمل کے برابرہواورہم اہلسنت وجماعت (اللہ ہمیں رحمت وشفاعت سے نصیب عطا فرمائے)کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالٰی کو حق ہے کہ وہ بندے سے ہر جرم پرمواخذہ کرے اگرچہ صغیرہ ہو جس طرح کہ اس کو سزا وار ہے کہ ہرگناہ سے درگزرفرمائے اگرچہ کبیرہ ہو اوریہ اس کا فضل ہے اوروہ اس کا عدل اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
(۱ کنزالعمال حدیث۴۳۰۳۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۷۷۲)