Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
119 - 135
قلت وبما قررنا المقال بان لک انخساف ماقال الرازی متعقبا للامام القاضی ان کل کافر لابد و ان یکون مکذبا للنبی فی دعواہ ویکون متولیا عن النظر فی دلالۃ صدق ذلک النبی ۲؂ الخ وظہر ایضا ان ھذ التاویل الذی ارتضاہ کثیر من المتاخرین ولایسد خلۃ ولا یشقی غلۃ وعلیک بتلطیف القریحۃ۔
میں کہتا ہوں  جس  طور پر اپنے مقالہ کی تکذیب کی اس سے امام رازی کے اس قول کا ضعف ظاہر ہوگیا جو انہوں نے امام قاضی پر بطور اعتراض کیا ہے کہ ہر کافر کا نبی کو اس کے دعوی میں جھٹلانا ضروری ہے اور اس نبی کے دلائل صدق میں نظر سے روگردانی اسے لازم ہے ، اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہ تاویل جسے بہت سے متاخرین نے پسند کیا کوئی حاجت پوری نہیں کرتی نہ تشنگی کو اکساتی بھجاتی ہے اور تم لطافت طبع کو لازم پکڑو۔
 (۲؂ مفاتیح الغیب التفسیر الکبیرتحت الایۃ ۹۲/ ۱۵۔۱۶ المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر  ۳۱/ ۲۰۴)
وزعم ثانیا ان ایۃ الاتقی ایضا تفتقرالی التاویل لقرینتہا فارتکب ماکان فی مندوحۃ عنہ کما حققنا ۔
اور ثانیااسے گمان کیا کہ وہ آیت جو اتقی کے بارے میں ہے وہ بھی اپنے ساتھ والی آیت کی طرح محتاج تاویل ہے ، تو اس کا ارتکاب کیا جس سے وہ بے نیاز تھے جیسا کہ ہم نے تحقیق کی۔
وزعم ثالثا ان تاویل الاتقی بالتقی مما یفیدہ ویغنی زعما منہ ان غیر التقی المذکورفی الایۃ لایجنب النار۔
اور ثالثاگمان کیا کہ اس کا اتقی کو تقی کی طرف مؤول  کرنااسے فائد ہ دے گا اور غنابخشے گا اس گمان کی بنا پر کہ اس کے نز د یک آیت میں مذکور تقی کے سواکوئی آتش دوزخ سے نہ بچایاجائے گا ۔
اقول ولا یرد علیہ ماسیظن ان این رحمۃ اللہ تعالی علیہ العصاۃ وقد اذنت نصوص قواطع ان کثیر ا من الفجار والمثقلین بالاوزار  و الہالکین علی الاصرار لا یسمعون حسیس النار بمحض رحمۃ العزیز الغفار وفیض شفاعۃ الشفیع المختار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، اذا التقوی درجات وفنون اولہا اتقاء الکفر وھذا یستوی فیہ المؤمنون وقد افصح ابوعبیدۃ عن مرادہ اذقال الاتقی بمعنی التقی وھوالمؤمن۱؂انتہی۔
میں کہتاہوں اور اس پروہ سوال وارد نہیں ہوتا جس کا عنقریب وہ گمان کریگا کہ پھر اللہ تعالی کی رحمت گنہگاروں پر کہاں گئی حالانکہ قطعی دلیلیں بتاچکیں کہ بہت  سے بد عمل اور گناہوں سے بوجھل اور مرتے دم تک گناہوں کے عادی محض رحمت عزیز غفار اور شفیع مختار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کے سبب آتش دوزخ کی بھنک تک نہ سنیں گے اس لئے کہ تقوی کے درجات و اقسام میں ان کا پہلا درجہ کفر سے بچنا ہے جس مومن برابر ہیں اور ابو عبیدہ نے اپنی مراد ظاہر کردی کہ اس نے کہا اتقی بمعنی تقی کے ہے اور تقی مومن ہے اھ۔
 (۱؂ مدارک التنزیل التفسیر النسفی بحوالہ ابی عبیدہ تحت الایۃ ۹۲/ ۱۷ دار الکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۶۳)
اقول وبہ اندفع مایترای من النقض بالصبیان والمجانین فان المراد بالتقی المؤمن والصبی ان عقل فاسلامہ معقول مقبول و الجنون ان طرء فیستصحب الایمان السالف والا فینسحب علیہما حکم الفطر ۃ الاسلامیۃ ۔
میں کہتا ہوں اس تقریر سے وہ اعتراض دفع ہوگیا جو بچو ں اور پاگلوں سے نقض کے ذریعہ اٹھتا معلوم ہوتا تھا اس لئے کہ تقی سے مراد مومن ہے اور بچہ اگر سمجھ والا ہے تو اس کا اسلام معقول اور مقبول ہے اور مجنون پر جنون اگر طاری ہے تو شرعا اس کاایمان سابق اس کے ساتھ مانا جائے گا ورنہ ان دونوں پر حکم فطرت اسلامیہ جاری (یعنی انہیں بہ حکم مسلمان جانیں گے )
لکنی اقول اولا فح ماذا تصنع بالام الداخلۃ علی الاتقی اذقد تقرر فی الاصول انہا ان لم تکن للعہد فللا ستغر اق۱؂ ومعلوم ان من المؤمنین من یعذب ولا یجنب ، ولاینفع ارادۃ اللزوم بالصلی اذا الکنایۃ للنار دون الصلی ولقد اغرب من تفطن لبعض من ھذا کالقاضی البیضاوی فحمل الکلام علی من یتقی الکفر و المعاصی اقول نعم الان یصح الاستغراق ولکن من للحصر المزعوم الذی یرتکب لاجلہ تاویل الاتقی ، اذمن الفجار من یجنب ولا یعذب کما ذکرنا وعلی ھذا یرد النقض ایضا بالصبی والمجنون ۔
لیکن میں کہتا ہوں کہ اولا جب اتقی بعنی تقی کے ٹھہرا تو اس صورت میں اس لام کے ساتھ کیا معاملہ کروگے جو اتقی پر داخل ہے اس لئے کہ اصول میں مقرر ہوچکاہے کہ لام اگر عہد کے لئے نہ ہوگا تو استغراق کے لئے ہوگا ۔ اور یہ معلوم ہے کہ مومنون میں وہ ہیں جنہیں عذاب ہوگا اور وہ آتش دوزخ سے نہ بچائے گے او ریہ مفید نہیں کہ یصلی سے بجائے آگ میں جانے کے آگ کا لازم ہونا مراد لیا جائے اس لئے کہ یجنبہا (اس دوزخ سے دور کیا جائیگا میں ضمیر جہنم کی آگ کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ صلی مصد ر کی طرف (جس کامعنی آگ میں جانا ہے) اور جس کاذہن ان باتوں مین سے بعض کی طرف پہنچا اس نے عجیب وغریب کام کیا جیسے قاضی بیضاوی ، تو انہوں نے کلام کو اس پر محمول کیا جو کفر اور گناہوں سے بچے لیکن اس حصر مزعوم کا مدد گار کون جس کی وجہ سے اتقی کی تاویل کا ارتکاب کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ فاجروں میں وہ بھی ہے جو دوزخ کی آگ سے دور رہے گا اور اسے عذاب نہ ہوگا )
 (۱؂التو ضیح والتلویح نورانی کتب خانہ پشاور ص۱۳۶)
واقول ثانیا اغمضنا ھذا کلہ وترکناکم وشانکم فاذھبوا بالکلام الی ما تشتہیہ انفسکم الا انکم اغفلتم الصفۃ ھہنا ایضا غفولکم عنہافی
"الاشقی الذی کذب وتولی۱؂
فان اللہ سبحنہ وتعالی لم یرسل الاتقی ارسالا بل خصہ بالذی
یؤتی مالہ یتزکی۲؂
ومعلوم ان التقی الفقیر لا مال لہ وانہ مجنب عن النار لاشک ، فان کان الکلام علی الحصر کما زعمتم فالحصر لم یستقیم بعد والا فما ذا یلجئکم الی التاویل والعدول عن ظاہر التنزیل ، عن ھذا نقول ان الوجہ ترک التکلف وصون اللفظین لاسیما الاتقی عن التغییر و التصرف لانعدام الحاجۃ فی احدی الآیتین و اندفاعہا بطریق اسلم فی الاخری کما یفیدہ الوجہان اللذان ذکرھما القاضی الامام مع ماشاھد نا ان التاویل یراد ولا مفاد ویقاد ولا ینقاد بید انی مایدر ینی لعل الجدال یوری نارا موقدۃ تطلع  علی الافئد ۃ فیقوم قائل ان وجہی القاضی ایضا یعکرعلیہا بشی فلامناص من تشدید الارکان وتجدید الارصان علی حسب الامکان۔
اور ثانیا میں کہتاہوں کہ ہم نے ان تمام باتوں سے آنکھ میچی اور آپ کو آپ کے حال پر چھوڑا تو کلام کو جدھر چاہئے لے جائے مگر آپ لوگ یہاں بھی صفت سے غافل رہے جس طر ح اشقی(جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا )کےمعاملہ میں آپ نے صفت سے غفلت کی اس لئے کہ اللہ تعالی نے اتقی کو مطلع نہ رکھا بلکہ اسے اس کے ساتھ خاص کیا جو اپنا مال ستھراہونے کو راہ خدا میں دے اور یہ معلوم ہے کہ تقی فقیر کے پاس مال نہیں ہے حالانکہ وہ آتش دوزخ سے بے شک دور رہے گا ۔ تو اگر کلام بر سبیل حصر ہے جیسا کہ آپ لوگو ں کا زعم ہے تو حصر تواب بھی درست نہیں ہوااور اگر حصر پر بناء نہیں تو آپ کو تاویل اور ظاہر تنزیل سے عدول کی طرف کون سی چیز مضطرکرتی ہے اسی سبب سے ہم کہتے ہیں کہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ تکلف چھوڑا جائے اور دونوں لفظوں خصوصا اتقی کو تصرف وتغیر سے محفوظ رکھیں اس لئے کہ ایک آیت میں تاویل کی حاجت نہیں اور  دوسری میں مسلک اسلم سے حاجت مند فع ہوجاتی ہے جیسا کہ ان دو وجہوں نے افادہ کیا جو قاضی امام نے ذکر فرمائیں باوجودیکہ ہم نے مشاہد ہ کیا ہے کہ تاویل مراد ہوتی ہے حالانکہ کوئی مفاد نہیں ہوتا اور وہ کھینچی جاتی ہے جبکہ وہ نہیں کھنچتی ۔ لیکن میں کیا جانوں شاید بحث روشن آگ کو بھڑ کائے  جو دلوں  پر چمکیں  تو کوئی قائل کھڑا ہوجائے اور کہے کہ قاضی کی مذکورہ دووجہوں  پر بھی کچھ غبار ہے لہذا ارکان کو مضبوط کرنا اور اشیاء کی تجدید بقد ر امکان ضروری ہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم  ۹۲/ ۱۶)(۲؂ القرآن الکریم ۹۲/ ۱۸)
فاقول  وربی ولی الاحسان یستبعد علی الوجہ الاول وصف الاتقی بانہ یجنب تلک النار الکبری فان مدح اکرم القوم بانہ لیس ارذل القوم مما لا یستملح ۔
تومیں کہتا ہوں او رمیرا رب ولی نعمت ہے ، پہلی وجہ پر اتقی کا یہ وصف بیان کرنا کہ وہ بڑی آگ سے دور رکھاجائے گا مستبعد ہے اس لئے کہ قوم کے بزرگ ترین کے لئے یہ کہنا کہ وہ رذیل ترین نہیں ہے اس میں کوئی ملاحت نہیں ہے۔
Flag Counter