| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
اقول: و ھذا ابو طالب عم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم افنی عمرہ فی حفظہ وحمایتہ وبلغ الغایۃ القصوی من مجتہ وولایتہ قد کان حبہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم اخذ بمجامع قبلہ ، حتی کا ن یفضلہ علی الاطفال الصغار من بنی صلبہ ، و لما بعث اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فدعا المشرکین الی التوحید، وھجم علیہ الاعداء من کل شاء وبعید، قام ینا ضل عنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاعظم بر ہ ولازم نصرہ وقاسی ماقاسی من شدائد لاتحصی فی مہاجرۃ المشرکین من عشیرتہ الاقربین ۔ وھوالذی لما تما لات قریش علی المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ونفر و اعنہ من یرید الاسلام انشاء قصیدۃ تدل علی عظم حبہ المصطفی وشدۃ بغضہ اعدائہ اللیام کما روی ابن اسحق وغیرہ من الثقات ومنہا ھذہ الابیات
میں کہتا ہوں یہ ہیں ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے چچا جنہوں نے اپنی عمر حضور صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم کی حفاظت و حمایت میں فنا کردی اور وہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی محبت اور نصرت کی انتہائی حد کو پہنچے ، سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت نے ان کے پورے دل کو ایسا پکڑلیا تھا کہ اپنے صلبی کم سن بچو ں پر حضور علیہ السلام کو فضیلت دیتے تھے اور جب اللہ تعالی نے اپنے نبی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو سرکار نے مشرکین کو وحدانیت کی طرف بلایا اور دین کے دشمن ہرسمت دوردراز سے حملہ آور ہوئے ابو طالب ان کی حمایت کو کافرو ں سے لڑنے کو کھڑے ہوگئے تو سرکار کے ساتھ بڑی نیکی کی اور ہمیشہ ان کی مدد کی اوراپنے قریبی رشتہ دار مشرکون کی طرف سے کیسی بے شمار سختیاں جھیلیں ۔ یہ وہ ابو طالب تھے کہ جب سارے قریش مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مخالف ہوئے اور اسلام کے خواہشمندوں کو سرکار علیہ السلام سے دور کیا تو انہوں نے ایک قصیدہ کہا جو مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بڑی محبت اور ان کے کمین دشمنان سے شدید عداوت کی دلیل ہے ، جیسا ابن اسحق نے معتمد راویوں سے روایت کیا ہے ۔ اسی قصید ہ کے یہ شعر ہیں:
اعبد مناف انکم خیر قومکم فلا تشرکوافی امر کم کل واغل فقد خفت ان لم یصلح اللہ امرکم تکونوا کما کانت احادیث وائل اعوذ بر ب الناس من کل طاعن علینا بسوء اوملح بباطل ومن کاشح یسعی لنا بعبیۃ ومن ملحق فی الدین مالم یحاول وثور ومن ارسی ثبیر امکانہ وراق لبر فی حراء ونازل۔ وبالبیت حق البیت فی بطن مکۃ وباللہ ان اللہ لیس بغافل کذبتم وبیت اللہ نبزی محمدا ولما نطاعن دونہ وننا ضل ونسلمہ حتی نصر ع حولہ ونذھل عن ابناء نا والحلائل لعمری لقد کلفت وجدا باحمد واجبتہ داب المحب المواصل فمن مثلہ فی الناس ای مؤمل اذا قاسہ الحکام عند التفاضل حلیم رشید عاقل غیر طائش یوالی الاھا لیس عنہ بغافل فواللہ لولا ان اجی بسبۃ تجر علی اشیاخنا فی المحافل لکنااتبعنا ہ علی کل حالۃ من الدھر جدا غیر قول التہا زل فاصبح فینا احمد فی ارومۃ تقصرعنہا سورۃ المتطاول حدیث بنفسی دونہ وحمیتہ ودافعت عنہ بالذر او الکلا کل ۱
اے عبد مناف کے بیٹو ! تم ا پنی قوم میں سے بہتر ہو ، تو تم اپنے معاملہ میں ہر خسیس کو شریک نہ کرو ، بے شک مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اللہ نے تمہارا حال ٹھیک نہ کیا تو تم وائل کے افسانوں کی طرح افسانہ ہوجاؤگے میں لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں ہر برائی کا طعنہ دینے والے اور باطل پر اصرار کرنے والے سےاور کینہ پرور سے جو ہم پر گھمنڈ کی کوشش کرے اور اس سے جودین میں ایسی بات شامل کرے جو دین میں کبھی نہ پائی گئی ہو۔ اور کوہ ثور سے اور اس سے جس نے کو ہ ثبیر کو اپنی جگہ جمایا اور کوہ حرامیں عبادت کے لئے چڑھنے اوراترنے والے سے ۔اور اللہ تعالی کے سچے گھر کی قسم اور اللہ کی قسم ، بیشک اللہ تعالی بخبر نہیں۔ اللہ کے گھر قسم ! اے کافرو ! تم جھوٹے ہوا س گمان میں کہ ہم محمد (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کو چھوڑ دیں گے ۔ حالانکہ ابھی ہم نے حضور علیہ السلام کے گر دنیز و ں اور تیروں سے جنگ نہ کی اور کیا ہم محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تمہارے سپرد کریں گے جب تک کہ اپنے بیٹوں او ر بیویوں سے غافل نہ ہوجائیں ۔ مجھے اپنی جان کی قسم ! مجھے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے شدید محبت ہے اور میں انہیں ایسا چاہتا ہوں جس طر ح پیہم چاہنے والے کی عادت ہوتی ہے۔ جب فیصلہ کرنے والے مقابلے کے وقت کسی کو ان پر قیاس کریں تو ان جیسا لوگو ں میں کون ہے جس کے لئے یہ امید ہو کہ وہ ان کاہم پلہ ہوگا۔ حلم والے رشد والے ، عقل والے ، طیش والے نہیں وہ بیوقوف وبے قدر سے محبت رکھتے ہیں جوان سے غافل نہیں۔ تو خدا کی قسم اگر اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں ایسا کام کرو ں جو ہمارے بزرگو ں پر محافل میں ملامت کا سبب بنے ۔ تو ہم نے زمانہ کی ہر حالت میں ان کی پیروی کی ہوتی تو یہ با ت سنجیدگی سے بے مذاق کے کہتا ہوں ۔تو احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے اندر ایسے عالی نسب ہیں جس کو فخرکرنے والے کی محبت پانے سے عاجز ہے۔ میں نے اپنی جان کو ان کے سپر د کردیا او ر ان کی حمایت کی اور سرداروں اور گر وہوں کے ذریعہ (یا سروں او رسینوں کے ذریعہ ) دشمنوں سے حضور کا بچا ؤ کیا ۔
(۱ السیرۃ النبویۃ سید احمد زینی دحلان باب وفاۃ عبدالمطلب المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/۸۳) (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام شعرابی طالب فی استعطاف قریش دار ابن کثیر بیروت الجزء الاول والثانی ص۲۸۰ تا ۲۷۲)
ولقد کان یتبرک بالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ویتوسل بہ الی اللہ تعالی فی الدعاء کما ید ل علیہ ماروی العلماء من سنۃ قریش وحدیث الاستسقا۲ وقد حث الناس علی اتباعہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم واخبر عن امور لم تقع فصدق سبحنہ وتعالی ظنہ ووقع کمثل اخبار ہ فوقع ولقد لہ موقع عظیم فی قلب النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم حتی انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لما جاء ہ اعرابی فقال یا رسول اللہ اتیناک وما لنا صبی یفط ولا بعیر یئط وانشد ابیاتا فقام صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یجر رداء ہ حتی صعد المنبر ورفع یدیہ الی السماء فواللہ ماردیدیہ بکریمتین حتی التقت السماء بابر اقہا وجاءوا یضجون الغر ق ، فضحک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وتذکر قول ابی طالب فی مدحہ حیث یقول اوبیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل۱
ولقد کان یتبرک بالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ویتوسل بہ الی اللہ تعالی فی الدعاء کما ید ل علیہ ماروی العلماء من سنۃ قریش وحدیث الاستسقا۲ وقد حث الناس علی اتباعہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم واخبر عن امور لم تقع فصدق سبحنہ وتعالی ظنہ ووقع کمثل اخبار ہ فوقع ولقد لہ موقع عظیم فی قلب النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم حتی انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لما جاء ہ اعرابی فقال یا رسول اللہ اتیناک وما لنا صبی یفط ولا بعیر یئط وانشد ابیاتا فقام صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یجر رداء ہ حتی صعد المنبر ورفع یدیہ الی السماء فواللہ ماردیدیہ بکریمتین حتی التقت السماء بابر اقہا وجاءوا یضجون الغر ق ، فضحک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وتذکر قول ابی طالب فی مدحہ حیث یقول اوبیض یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامی عصمۃ للارامل۱ فقال للہ در ابی طالب لوکان حیالقرت عیناہ من ینشد نا قولہ ، فقال علی کرم اللہ تعالی وجہہ یا رسول کانک ترید قولہ وابیض یستسقی ، و ذکر ابیاتا فقال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اجل کما اخر جہ البیہقی فی دلائل النبوۃ ۱ عن سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فانظر الی قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم " للہ در ابی طالب" وقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم "لوکان حیا لقرت عینا ہ" وقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من ینشد نا قولہ" ولم ینقل عنہ مرۃ انہ رد علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وکذبہ فیہ بل ھو القائل فی تلک القصیدۃ مخاطبا لقریش لقد علموا ان ابننا لامکذب لدینا ولایعنی بقول الاباطل ۲
اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے برکت طلب کرتے اور دعا میں آنجناب علیہ الصلوۃ والسلام کو وسیلہ بناتے چنانچہ اس پر قریش کی قحط سالی اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلہ سے بارش طلب کرنے کا واقعہ جسے علماء نے روایت فرمایا ہے دلالت کرتا ہے اور بے شک ابو طالب نے لوگو ں کو سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع پر ابھارا اور ان باتوں کی خبر دی جو واقع نہ ہوئی تھیں تو ایسا ہی ہوا جیسا انہوں نے خبر دی اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں ان کے لئے مقام عظیم تھا یہاں تک کہ جب سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک اعرابی نے آکرعرض کی کہ ہم سرکار کے پاس آئے ہیں اور حال یہ ہے کہ ضعف سے ہمارے بچوں کی آواز نہیں نکلتی اور ہمارے اونٹ لاغری سے کراہتے نہیں اور اس اعرابی نے سرکار کی مدح میں کچھ اشعار پڑھے تو سرکار علیہ الصلاۃ والسلام چادر اقدس کو گھیسٹتے ہوئے اٹھے اور منبر پر صعود فرمایا اور آسمان کی جانب اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو خدا کی قسم ابھی سرکار علیہ الصلوۃوالسلام نے اپنے ہاتھ نیچے نہ کئے تھے کہ آسمان بجلیوں سے بھر گیا اور اس قدر بارش ہوئی کہ لوگ پکارتے ہوئے آئے کہ ہم ڈوبے ، تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے تبسم فرمایا یہاں تک کہ دندان اقدس چمکے اور آپ کو اپنی تعریف میں ابوطالب کا قول یاد آیاجب انہوں نے عرض کیا تھا کہ سرکار گورے ہیں جن کے چہرے سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کی ٹیک اور بیواؤں کا سہارا ہیں۔ پھرسرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : اللہ کے لئے ابو طالب کی خوبی ہے اگر وہ زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں کون ہمیں ان کے شعر سنائے گا ۔ تو حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ نے عرض کیا گویا سرکار کی مراد ان کا وہ قصیدہ ہے جسمیں انہوں نے عرض کی '' وہ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے ذریعہ بارش طلب کی جاتی ہے۔ اور سید نا علی کرم اللہ تعالی وجہہ نے چند شعر پڑھے تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ہاں میں یہی چاہتا تھا ۔جیسا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا تو سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کے قول ''للہ در ابی طالب ''(اللہ کےلئے ابوطالب کی خوبی ہے) کو دیکھو او رحضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کو دیکھو کہ اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں، اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر نظر کر و کہ ہمیں کون ابوطالب کے شعر سنائے گا ۔ اور ایک بار بھی منقول نہ ہوا کہ ابو طالب نے سرکار کی کسی بات کو رد کیا ہو یا سر کار کو جھٹلایاہو، بلکہ خود اسی قصید ہ میں قریش سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا فرزند ہمارے نزدیک ایسا نہیں کہ جھٹلایا جائے اور نہ اسے جھوٹی باتوں سے کام ہے ۔
(۲صحیح البخاری ابواب الاستسقاء باب سوال الناس الامام الاستسقاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۷) (۱ صحیح البخاری ، ابواب استسقاء باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطواقدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۷) (دلائل النبوۃ للبیہقی باب الاستسقاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم دار الکتب العلمیہ بیروت ۶/ ۱۴۱) (۱دلائل النبوۃ للبیہقی باب استسقاء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۴۱) (۲ السیرۃ النبویۃ لسید احمد زینی دحلان باب وفاۃ عبد المطلب المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۱/۸۳)
ولذا کان اھون اھل النار عذابا کما فی الصحاح و نفعتہ شفاعۃ الشفیع المرتجی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حتی اخرج الی ضحضاح۱ علی خلاف من سائر الکافرین الذین لاتنفعہم شفاعۃ الشافعین ، ویالیتہ لواسلم لکان من افضل اصحاب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ولکن قضاء اللہ لایرد وحکمہ الایعقب وللہ الحجۃ السامیۃ ولاحول ولاحوۃ الا باللہ العزیز الحکیم وقد فصلنا المسئلۃ فی بعض فتاونا واظہر نا بطلان قول من قال باسلامہ واذا کان ذلک ظہر ان الحصر فی الشقی المکذب ایضا غیر مستقیم الی ھذا اشار القاضی الامام حیث قال لایمکن اجراء ھذہ الایۃ علی ظاہر ھا ، ویدل علی ذلک ثلثۃ اوجہ ۔
اور اسی وجہ سے ابوطالب پر تمام دوزخیوں سے ہلکا عذاب ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہوا اور شفیع مرتجی (امید گاہ عاصیاں)صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت نے انہیں نے نفع دیا تو ان پر تخفیف کے لئے انہیں جہنم کے بالائی سرے پر رکھ دیا گیا اور یہ معاملہ ان کے ساتھ سارے کافرو ں کے بر خلاف ہے جنہیں شفیعوں کی شفاعت کام نہ دے گی اور کاش وہ ایمان لاتے تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے افضل صحابہ سے ہوتے ۔ لیکن اللہ کا لکھا نہیں ٹلتا او ر اس کاحکم نہیں بدلتا اور اللہ ہی کے لئے حجت بلند اور معصیت سے پھرنے کی قوت اورطاعت کی طاقت اللہ عزوجل حکیم کے دئےبغیر نہیں ، اور ہم نے اس مسئلہ کو اپنے بعض فتاوی میں تفصیل سے بیان کیا اور ابوطالب کے اسلام کے قائل کی رائے کا بطلان ظاہر کیا ہے اور جب یہ با ت یوں ہے تو ظاہر ہوا کہ حصر شقی مکذب (جھٹلانے والے) میں بھی درست نہیں اسی طرف امام ابوبکر نے اشارہ کیا چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس کے ظاہری معنی پر جاری کرنا ممکن نہیں اور اس پر تین و جوہ دلالت کرتی ہیں۔
(۱ صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴۸)
احدھا انہ یقتضی ان لایدخل النار ''الا الاشقی الذی کذب وتولی''فوجب فی الکافر الذی لم یکذب و لم یتول ان لایدخل النار ۱ الخ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حصر اس کا مقتضی ہے کہ جہنم میں وہی کافر جائے گا جو سب سے بڑا بد بخت ہو جس نے نبی علیہ السلام والسلام کی تکذیب کی ہو اور ان کی سچائی کے دلائل میں نظر سے اعراض کرتا ہو، تولازم آیا کہ وہ کافر جس سے تکذیب واعراض سر زد نہ ہو (جیسے ابو طالب )جہنم میں نہ جائے۔
(۱ مفاتیح الغیب التفسیر الکبیرتحت الایۃ ۹۲/۱۵۔۱۶المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۱/ ۲۰۳)