Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
117 - 135
اقول وھذا ھو الحصر الادعائی الذی وصفنا لک ولاشک انہ دائر سائر بین البلغاء یشہد بھذا من تتبع دواوین العرب وکلامہم فی المدح والھجاء ومعلوم ان الزمخشری لہ یدطولی وکعب علیا فی فنون الادب وصنائع الادباء فقول الرازی انہ ترک الظاھر من غیر دلیل۳؂انتہی غیر مستحسن وای شیئ اکبر دلالۃ من الاحتیاج الی تصحیح الکلام ولیس تاویل الاشقی بالشقی اقرب الی الظاھر من ھذا الحصر من شیوعہ و کثرۃ وقوعہ نظما ونثر ا وتصحیح الکلام قرینۃ کافیۃ فی امثال ھذا المقام الاتری انک اذا سمعت رجلا یقول زید ھو الکریم علمت اول وھلۃ من دون تامل ولامہلۃ ان مرادہ ان لیس کریم مثلہ لا ان لاکریم مثلہ وھذا ظاھر جدا ، ھذا مایتعلق بحکم الاشقی ، ولاشک ان الکلام ھہنامحتاج بظاھرہ الی تاویل او توجیہ لکن ابا عبیدۃ زاد فی الشطر نج بغلۃ ثم تتابع فی قوم من المتاخرین ینقلون کلامہ من دون تنقیح کما حکینا لک دیرنہم من کلام الامام العلامۃ السیوطی رحمہ اللہ تعالی حملہ علی ذلک ان ظن ان ایۃ الاتقی ایضا محتاجۃ الی التاویل حیث قال و ان زعمت انہ تعالی نکرالنار الی اخر الخ مانقلنا عنہ فلم یثبت ان اخذ الاتقی بمعنی التقی لیشمل کل مؤمن ووافقہ علی ذلک الزمخشری وغیرہ لکنہم لم یوافقہ علی التاویل کما سمعت  وھذا کلام لایقوم علی ساق اذلیس فی قولہ تعالی وسیجنبہا الاتقی مایدل علی الحصر والقصر انما یصف اللہ سبحنہ وتعالی عبدا لہ اتقی بانہ یجنب النار و یبعد عنہا لاانہ لایجنب النار الاھو و رحم اللہ الرازی حیث تفطن لھذا فذکر فی الاشقی قولا انہ بمعنی الشقی ولم یذکرہ فی الاتقی راسابل صرح بخلافہ حیث قال "ھذا لایدل علی حال غیر الاتقی الا علی سبیل المفہوم والتمسک بدلیل الخطاب ۱؂
میں کہتا ہوں یہی وہ حصرا دعائی جس کا بیان ہم نے تم سے کیا اور کوئی شک نہیں کہ یہ بلغاء میں دائر وسائر ہے اس کی گواہی عرب کے دیوانوں کو اور مدح وہجو میں ان کےکلام کو خوب مطالعہ کرنے والا دے گا ، اور یہ معلوم ہے کہ زمخشری کو فنون ادب اور ادبیوں کی صنعتوں میں بڑی دسترس ہے اور اونچا درجہ حاصل ہے تو فخر رازی کا زمخشری پر یہ اعتراض کہ اس کی یہ توجیہ ظاہر کو بے دلیل چھوڑنا ہے انتہی خوب نہیں اور کلام کی تصحیح کی حاجت سے بڑی کو ن سی دلیل ہے اور اشقی کی تاویل شقی سے اس حصر کی بہ نسبت ظاہر سے نزدیک تر نہیں باوجود اس کے یہ حصر عرف میں شائع ہے اور نظم ونثر میں بکثرت واقع ہے اور تصحیح کلام کی حاجت اس جیسے مقامات میں قرینہ کا فیہ ہے ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جب تم کسی کو یہ کہتےسنو کہ زید ہی کریم ہے تو پہلی فرصت میں تم جان جاؤ گے کہ زید جیسا کوئی کریم  نہیں نہ یہ کہ زید کے سواکوئی کریم نہیں اور یہ خوب ظاہر ہے تو یہ حکم اشقی سے متعلق تھا اور یہ کوئی شک نہیں کہ اس مقام پر کلام اپنے ظاہر سے تاویل یا توجیہ کا محتاج ہے لیکن ابوعبیدہ نے شطر نج کے مہروں میں بغلہ (خچر) بڑھا دیا پھر متاخرین میں سے کچھ لوگ پے در پے اس کا کلام بغیر تنقیح کے نقل کرتے رہے ، جیسا کہ ہم نے تم سے امام علامہ سیوطی کے کلام سے ان کی عادت کی حکایت کی ، اس کے لئے اس کا سبب یہ ہوا کہ اس نے یہ گمان کیاکہ وہ آیت بھی جس میں اتقی وارد ہوا تا ویل کی حاجتمند ہے اس لئے کہ اس نے کہا کہ اگر تم کہو کہ اللہ تعالی نے نار کو نکرہ فرمایاالخ تو کچھ دیر نہ ٹھہراکہ اتقی کو بمعنی تقی کے لیا تاکہ آیت ہر مومن کو شامل ہوجائے اور اسی بات میں زمخشری وغیرہ نے اس سے اتفاق کیا مگر اس کی تاویل میں ان لوگوں نے اس کی   موافقت نہ کی جیسا کہ تو نے سنا اور یہ کلام پائے ثبات پر قائم نہیں اس لئے اللہ تعالی کے قول وسیجنبہا الاتقی میں کوئی لفظ نہیں جو حصر پر دلالت کرتا ہو ، اللہ تعالی تو اپنے ایک بندے کا وصف بیان فرماتا ہے جو سب سے بڑا پرہیز گار ہو ، یوں کہ وہ جہنم کی آتش سے بہت دور رکھا جائے گا یہ مطلب نہیں کہ جہنم کی آگ سے وہی بچایا جائے گا ۔ اور اللہ تعالی علامہ رازی پر اپنی رحمت فرمائے کہ انہوں نے اس امر کوسمجھ لیا لہذا اشقی میں ایک قول ذکر کیا کہ وہ بمعنی شقی کے ہے اور اتقی میں اسے بالکل ذکر نہ کیا بلکہ اس کے خلاف کی تصریح کی انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ جس میں اتقی کے لئے بشارت ہے غیر اتقی کےحال پر دلالت نہیں کرتی مگر اپنے مفہوم کے اعتبار سے اور دلیل خطا ب سے تمسک کے طور پر الخ۔
 (۳؂مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الایۃ   ۹۲/ ۱۷   المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۱/ ۲۰۴)

(۱؂مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الایۃ   ۹۲/۱۷    المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۱/ ۲۰۴)
اقول بل ولا یتمشی علی مذھب القائلین بمفہوم الصفۃ ایضا فان الکلام مسوق لمدح الاتقی کما یدل علیہ سبب النزول ومقام المدح والذم مستثنی عندھم ایضا کما ھو مذکور فی کتب الاصول فیا للعجب من القاضی البیضاوی الشافعی کیف تمسک ھہنا بالمفہوم ، مع انہ لیس محلہ بالاتفاق واشدالعجب من القاضی الامام ابی بکر الشافعی اذ زل قلمہ فمال الی افادۃ الحصر مع انہ یخالف ائمتہ فی القول بالمفہوم راسا ، وھکذا یرینا اللہ ایاتہ فی الافاق و فی انفسنا کیلا یغتر مغتر بدقۃ انظارہ ولا یسخر ساخر من عاثر فی افکارہ اذ نری کل صارم ینبو وکل جواد یکبو فعلام یزھو من یزھو وسقی اللہ عہد من قالوا وما ادراک من قالوا سادۃ کرام قادۃ  الامۃ ابراھیم النخعی ومالک بن انس وغیرھما من الائمۃ اذ قالوا ولنعم ماقالوا کل احد ماخوذ من کلامہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر ۱؂صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نسال اللہ الوقایۃ فی البدایۃ والنہا یۃ ، والحمدللہ رب العالمین۔
میں کہتا ہوں بلکہ یہ بات ان کے مذہب پربھی  نہیں چلتی جو مفہوم صفت کے قائل ہیں اس لئے کہ کلام مدحت اتقی کے لئے لایا گیا ہے جیسا کہ اس پر سبب نزول دلالت کرتا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک مقام مدح وذم بھی مستثنی ہے جیسا کہ کتب اصول فقہ میں مذکور ہے تو قاضی بیضاوی  شافعی پر تعجب ہے انہوں نے کیونکر مفہوم سے استدلال کیا حالانکہ بالاتفاق یہ اس کا محل نہیں ، اور سخت تعجب تو قاضی امام ابوبکر شافعی پر ہے کہ ان کے قلم نے لغزش کی تو وہ اس طر ف مائل ہوئے کہ آیت حصر کا فائدہ دیتی ہے حالانکہ وہ قول بالمفہوم میں اپنے ائمہ کے بالکل مخالف ہیں اور یو نہی اللہ ہمیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور ہمارے نفوس میں دکھاتا ہے تا کہ کوئی اپنی باریک بینی پر مغرور نہ ہو اور کوئی ہنسنے والا اپنے افکار میں لغزش کرنے والے سے نہ ہنسے ، اس لئے کہ ہر تلوار اچٹتی ہے اور ہر گھوڑا گر تا ہے تو گھمنڈکرنیوالا کا ہے کو گھمنڈکرے اور اللہ تعالی ان کے زمانے کو سیراب کرے جنہوں نے فرمایا  اور تمہیں کیا خبر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے فرمایا سرداران بزرگ امت کے مقتدا ابراہیم ۔۔۔ ومالک بن انس وغیرہ ائمہ کہ انہوں نے فرمایا اور کیا خوب فرمایا کہ ہر شخص کی کو ئی بات مقبول ہوتی ہے اور کوئی نامقبول مگر اس  قبر شریف کے ساکن یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہ ان کی ہر بات   قبول ہے ہم اللہ تعالی سے حفاظت مانگتے ہیں ابتداء وانتہاء میں ، والحمد للہ رب العالمین۔
 (۱؂الیواقیت والجواہر المبحث التا سع والاربعون دار احیاء الثرات العربی بیروت ۲/ ۴۷۸ )
والان اٰن ان نستکمل الرد علی ابی عبیدۃ فیما فرعنہ وفیما اطمان علیہ فاقول وباللہ التوفیق زعم الرجل اولا ان تاویل الاشقی بالشقی ینجیہ عما فیہ اذ اٰل الکلام الی ان لایصلی النار الاکافر وھذا حق لاغبار  علیہ۔
اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم ابوعبیدہ کارد اس میں جس سے اس  نے فرار اختیار کیا اور جس پروہ مطمئن ہوا تمام کریں ، تو میں کہتا ہوں اور اللہ سے ہی توفیق ہے اس شخص نے پہلے خیال یہ کیا کہ اشقی کی تاویل شقی سے اسے اس آفت سے نجات دے دے گی جس میں وہ مبتلاہے اس لئے کہ کلام کا مآل یہ ہوا کہ دوزخ کی آگ میں کافر ہی جائے گا۔اور یہ بات حق ہے  جس پر کوئی غبار نہیں۔
قلنا نظر ت الموصوف وترکت الصفۃ یقول اللہ سبحنہ وتعالی لایصلہا الا الاشقی الذی کذب وتولی۱؂ومعلوم ان من الکفار من لم یکذب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدۃ عمرہ لابجنانہ ولا بلسانہ وانما اکفر ہ ان سبق الکتاب و خذل التوفیق والعیاذ بوجہ المولی الکریم۔
ہم کہیں گے کہ تم نے موصوف کو دیکھا اور صفت کو چھوڑ دیا اللہ سبحنہ وتعالی فرماتا ہے
لایصلہا الاالاشقی الذی کذب وتولی
 ( اس میں نہ جائے گا مگر وہ سب سے بڑابدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا) اور یہ معلوم ہے کہ کافروں میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی تمام عمر نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نہ جھٹلایا نہ اپنے دل سے نہ اپنی زبان سے ، اس کا کفر تو یوں ہو اکہ اللہ کا لکھا غالب آیات اور توفیق الہی نے اس کا ساتھ نہ دیا اور مولائے کریم کی   ذات کی پناہ ہے ۔
 (۱؂القرآن الکریم   ۹۲/  ۱۵ ٖ۔۱۶)
Flag Counter