انبانا شیخ العلماء مولانا السید زین دحلان المکی الشافعی عن العلامۃ عثمان بن حسن الدمیاطی الشافعی الازھری عن الامیر الکبیر العلامۃ محمد المالکی الازھری والشیخ عبداللہ الشرفاء الشافعی وسید ی محمد الشنوانی الشافعی واخرین باسانیدھم الی الامام مسلم بن الحجاج النیسابوری بسندہ الی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قال فیہ قالوا اینالا یظلم نفسہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس ھو کما تظنون انما ھو کما قال لقمان لابنہ '' یابنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم۱ وھکذا اخرجہ الامام احمد والترمذی وقد اختار الرازی بنفسہ عین ھذا التوجیہ فی قولہ تعالی''ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی"۲ قال التنکیر فی عبد یدل علی کونہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاملا فی العبودیۃ کانہ تعالی انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عبدلایفی العالم بشرح بیانیہ وصفۃ اخلاصہ فی عبودیتہ ۱انتھٰی
ہمیں شیخ العلماء مولانا سید احمد دحلان مکی شافعی نے خبر دی انہوں نے علامہ عثمان بن حسن دمیاطی شافعی ازہری سے انہوں نے امیر کبیرعلامہ محمد مالکی ازہری اور الشیخ عبداللہ شرفائی الشافعی اور سیدی محمد الشنوانی الشافعی اور دیگر علماء سے ان کی سندوں کے ساتھ جو امام مسلم بن حجاج نیشاپوری تک پہنچتی ہیں انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ تک اپنی سند سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی ا للہ تالی عنہ نے فرمایا صحابہ نے عرض کی ہم میں کس نے ظلم نہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ ظلم نہیں جو گمان کرتے ہو یہ تو اس طرح ہے جیسے لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹے ! اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے ، اور مسلم کی حدیث کے مثل امام احمد وترمذی نے بھی روایت کیا اور خود رازی نے توجیہ اللہ تعالی کے قول ارایت الذی ینھی عبد ا اذا صلی'' (بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے ۔ ت) میں اختیار کی انہوں نے فرمایا کہ عبدا کانکرہ ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ تمام جہان حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی حقیقت کے بیان اور عبودیت میں ان کے اخلاص کی توصیف کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔
(۱صحیح مسلم کتاب الایمان باب صدق الایمان واخلاصہ قدیمی کتب خانہ کراچی۷۷ٖ/۱)
(جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الانعام امین کمپنی دہلی۲/ ۱۳۲)
( مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ۴۲۴/۱)
(۲مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الایۃ ۹۶/ ۹ و۱۰ المطبعۃ البیہۃ المصر یۃ مصر ۳۲/ ۲۰)
(۱مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر )تحت آیۃ ۹ٖ/۹۶ و۱۰ المطبعۃ البہیتہ المصر یۃ مصر ۳۲/ ۲۰)
والثانیۃ ان توصیفہ بالتلظی ینافی ھذا التخصیص لانہ وصف مطلق النار لا نارمخصوص ۔ اقول ولیس بشیئ اذ لا یمتنع توصیف فرد عظیم من جنس بوصف عام نشترک فیہ الافراد جمیعا و انما الممتنع عکسہ ، اعنی توصیف جمیع الافراد بما یختص بہ فرد خاص ، الاتری الی قولہ تعالی
ما محمد الارسول۲
مع انہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اعظم الرسل واکرمہم بالاطلاق ، والرسالۃ وصف عام یشترک فیہ المرسلون جمیعا ، ولیس فی الایۃ مایدل علی القصر ینا فی العموم علی ان التلظی مقول بالتشکیک فیجوزان یراد ھنا تلظ خاص لیس کمثلہ تلظ کما قال اللہ سبحنہ وتعالی
''یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم لایضر کم من ضل اذا اھتدیتم ۳
اطلق الضلال و اراد ا الضلال البعید وھو الکفر۔
دوسری یہ کہ آگ کو تلظی (بھڑکنے) سے موصوف فرمانا اس تخصیص کے منافی ہے اس لئے کہ بھڑکنا مطلقا ہر آگ کی صفت ہے نہ کہ کسی خاص آگ کی ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کوئی چیز نہیں اس لئے کہ کسی جنس کے عظیم فرد کو ایسے عام وصف سے جس میں سارے افراد شریک موصوف کرنا ممتنع نہیں ، ممتنع تو اس کا عکس ہے یعنی تمام افراد کو ایسی صفت سے موصوف کیا جائے جو کسی خاص فرد کی صفت ہوگیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالی کے اس قول کی طرف''اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو ایک رسول ہیں''حالانکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سب رسولوں سے مطلقاافضل و اعلی ہیں اور رسالت ایک وصف عام ہے جس میں سب رسول شریک ہیں ، اور آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو حصر پر دلالت کرتا ہو کہ عموم کے منافی ہو ، مزید بر آں تلظی (بھڑکنا) کلی مشکک ہے لہذا جائز ہے کہ اس جگہ خاص تلظی (بھڑکنا) مراد ہو جس کے مثل کوئی تلظی نہ ہو ، جیسے اللہ تعالی سبحنہ وتعالی نے فرمایا : ''اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو'' ضلال بولا اور ضلال بعید مراد لیا اور وہ کفر ہے ۔
(۲القرآن الکریم۳/ ۱۴۴ )
(۳القرآن الکریم ۵/ ۱۰۵)
اخرج الامام احمد و الطبرانی وغیرھما عن ابی عامر الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ قال سالت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عن ھذہ الایۃ فقال لایضرکم من ضل من الکفار اذا اھتدیتم ۱
امام احمد و طبرانی وغیر ہمانے ابو عامر اشعری رضی ا للہ تعالی عنہ سے روایت کی انہوں نے فرمایا میں نےرسول ا للہ صلی اللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا اس آیت کے بارے میں تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا(یعنی کافر لوگ)جبکہ تم راہ پر ہو۔
(۱مسند احمد بن حنبل حدیث ابی عامر الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۱۲۹ ۔۲۰۱)
(مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب التفسیر سورۃ المائدۃ دار الکتاب بیروت۷/ ۱۹
والعجب ان الرازی جنح بنفسہ الی نحومن ھذا فی قولہ تعالی '' نار حامیۃ''قال والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیہا کانہا لیست حامیۃ وھذ القدر کاف فی التنبیہ علی قوۃ سخونتہا نعوذ باللہ منہما۲الخ، فما للشعیر یوکل ویذم۔
اور تعجب تو یہ ہے کہ فخررازی خود اس کے قریب توجیہ کی طرف مائل ہوئے اللہ تعالی کے قول نار حامیۃ کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ ہر آگ جہنم کی آگ کے مقابل گویا گرم ہی نہیں اور اتنی بات آتش جہنم کی سخت گرمی پر متنبہ فرمانے کو کافی ہے ہم اللہ کی اس سے پناہ مانگتے ہیں جو کھایا جائے او ربرا بھی کہا جائے ۔
(۲مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الایۃ ۱۱ٖ/۱۰۱ المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۲/ ۷۴)
اقول : لک ان تقول ان لظی من المجرد وتلظی من المزید و زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنی ،کما قالوا فی الرحمن والرحیم وغیر ذلک مع فیہ من التشدیدلفظ المنبئی عن الشدۃ معنی کما فی قتل وقتل وقاتل وقتال مع ان باب الادعاء واسع وقصر ا لوصف علی اعظم من یوصف شائع قال تعالی فی المہاجرین
اولئک ھم الصادقون۱
ویمکن ان تجعل من ھذا القبیل امثال قولہ تعالی انہ ھو السمیع العلیم۔
میں کہتا ہوں اور تمہیں پہنچتاہے کہ تم کہو کہ لظی مجرد کے قبیل سے ہے او رتلظی مزید کے قبیل سے ہے اورلفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے ، جیسا کہ رحمن ورحیم وغیر ہ میں علماء نے فرمایا اس کے ساتھ تلظی میں لفظی شدت ہے جو معنوی شدت کی خبر دیتی ہے جیسے لفظ قتل اور قتل اور قاتل وقتال میں ، اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ادعاء کا باب واسع ہے اور صفت کو سب موصوفین سے بڑے موصوف پر مقصود رکھنا عرف شائع ہے ۔ اللہ تعالی کا مہاجرین کے بارے میں ارشاد ہے اولئک ھم الصادقون (یہی لوگ سچے ہیں)اور ممکن کہ تم اللہ تعالی کے قول (بے شک وہی ہے سنتا جانتا ہے) کہ اس قبیل سے قرار دو ۔
(۱القرآن الکریم ۵۹ /۸ ) (۲القرآن الکریم ۴۱/ ۳۶)
وقد حققنا المسالۃ فی خاتمۃ رسالتنا سلطنۃ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بما لا مزید علیہ ھذا وکان قلب ابی عبیدۃ رکن الی ھذا الوجہ الذی ذکر القاضی الامام شیئا قلیلا ثم بدا لہ مابدا فانحجم کما حکینا لک کلامہ ستسمع منا جوابہ ان شاء اللہ تعالی۔
اورہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خاتمہ میں ایسے کلام سے جس میں زیادتی نہیں ہوسکتی کی ہے اور اس توجیہ کی طرف جو قاضی امام نے بیان فرمائی ابو عبیدہ کا دل کچھ مائل ہوا تھا پھر اس کو سوجھی جو سوجھی تو وہ اس سے منحرف ہوگیا جیسا کہ ہم تم سے اس کا کلام ذکر کر چکےاور عنقریب تم ہم سے اس کا جواب سنو گے ان شاء اللہ تعالی ۔
الثانی من وجھی القاضی ''ان المراد بقولہ تعالی نارا تلظی النیران اجمع ، ویکون المراد بقولہ تعالی لایصلہا الا الاشقی ای ھذا الاشقی بہ احق ، وثبوت ھذا الزیادۃ فی الاستحقاق غیر حاصل الا لہذا الاشقی ۱انتہی والی نحو من ھذا یمیل ماجزم بہ الزمخشری فی الکشاف مقتصرا علیہ ونقلہ الامام النسفی رامزا الیہ من ان الایۃ واردۃ فی الموازنۃ بین حالتی عظیم من المشرکین وعظیم من المؤمنین فارید ان یبالغ فی صفتیہما المتناقضتین ، فقیل الاشقی وجعل مختصا بالصلی کان النار لم تخلق الالہ ، وقیل الاتقی وجعل مختصا بالنجاۃ کان الجنۃ لم تخلق الا لہ ۲ انتہی ۔
قاضی کی ارشاد فرمودہ دو وجہوں میں سے دوسری یہ ہے کہ اللہ تعالی کے قول نارا تلظی سے مراد تمام آتشیں ہیں اور اللہ تعالی کے قول لایصلہا الا الاشقی (اس میں نہ جائے گا مگر وہ سب سے بڑا بدبخت ) سے مراد یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا بد بخت ان تمام آزمائشوں کےسب سے زیادہ سزا وار ہے اور استحقاق کی زیادتی اسی سب سے بڑے بدبخت کو حاصل ہے انتہی ، اور اس سے قریب توجیہ کی طرف وہ توجیہ مائل ہے جس پر زمخشری نے جزم کیا کشاف میں اس پر اکتفا کرتے ہوئے اور زمخشری کی وہ تو جیہ امام نسفی نے اسکی طرف اشارہ فرماتے ہوئے نقل فرمائی وہ توجیہ یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے ایک عظیم او رمومنین کے ایک عظیم کے دو متناقض صفتوں میں مبالغہ فرمایا جائے تو اشقی فرمایا گیا اور اسے آتش جہنم میں جانے کیلئے مخصوص ٹھہرایا گیا گویا جہنم کی آگ اسی کے لئے پیدا ہوئی ہے اور اتقی فرمایا گیا اور نجات کے لئے مخصوص فرمایا گیا گویا جنت اسی کےلئے بنی ہے انتہی
(۱مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)تحت الایۃ ۹۲/ ۱۵۔۱۶ المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۱/ ۲۰۴)
(۲مدارک التنزیل التفسیر الکبیر تحت الایۃ ۹۲/ ۱۷ دار الکتاب العربی بیروت ۴/ ۳۶۳)