اقول : وما احسن ھذا تاویلا اواصفاہ لو لاان یکدرہ ماسأذکرہ قریبا فارتقب ورکن الرازی الی وجہ اخر من التاویل وھوان یخص عموم ھذا الظاہر بالایات الدالۃ علی وعید الفساق ۱
میں کہتا ہوں کہ یہ تاویل کس قدر اچھی ہے اور یہ رنگ کتنا صاف تھا اگر اس کو اس بات نے مکدر نہ کیا ہوتا جو میں عنقریب ذکر کروں گا ، تو انتظار کرو ، اور رازی ایک دوسری تاویل کی طر ف مائل ہوئے ، اور وہ یہ کہ اس کے ظاہر معنی کا عموم ان آیات کے ساتھ خاص ہو جو فساق کی وعید پر دلالت کرتی ہو۔
(۱مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الایۃ ۱۵ٖ/۹۲و ۱۶ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۳/۲۰۴)
اقول : ھذا جمع بین التاویل والتخصیص وھو مستغنی عنہ اذ لوقیل بالتخصیص فکما دلت الایات علی وعید الفساق کذالک دلت علی ایعاد سائر الکفار بدلالۃ اظہر واجلی ۔ اللھم الاان یقال فیہ تکثیرالتخصیص جدا والقصر علی فردو احد اشد بعد وھذا(عہ) ولقد سلک القاضی الامام ابو بکر کما اثر عنہ الفخر الرازی فی مفاتیح الغیب مسلکا حسنا اذحاول ابقاء الاشقی علی معناہ الحقیقی اعنی من لایدانیہ احد فی الشقا ء وذکر لتصحیح الحصر وجھین یرتاح بھما اللبیب ویندحض کل شک مریب :
میں کہتا ہوں یہ تاویل وتخصیص کو یکجا کرنا ہے اور اس کی حاجت نہیں اس لئے کہ اگر تخصیص کا قول کیا گیا تو جس طر ح آیات فساق کی وعید پر دلالت کرتی ہیں یونہی تمام کافروں کی وعید پر روشن اور صاف تر د لالت فرماتی ہیں۔ الہی! تو مدد فرما، مگر یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس میں بہت زیادہ تخصیص لازم آئے گی ، اور ایک فرد پر منحصر کردینا بہت زیادہ مستبعد ہے یہ لو ، اور قاضی امام ابوبکر نے جیسا کہ امام فخر رازی نے مفاتیح الغیب میں نقل کیا ہے ایک اچھا مسلک اختیار کیا اس لئے کہ انہوں نے اشقی کو اس کے حقیقی معنی پر باقی رکھنے کی کوشش کی جن سے دانشمند چین پائے اور دھوکے میں ڈالنے والا ہر شک زائل ہوجائے :
عہ : اعلم ان العبد الضعیف لما فرغ من تحریر ھذہ المقدمات الخمس وبلغ الی ا خرما کتبنا فی جواب الشبۃ الاولی استعار تفسیر فتح العزیز المتعلق بجزء عم یتساء لون من بعض الاصدقاء فطالعت فیہ من ھذا المقام ورایت المولی الفاضل استاذ استاذی عبدالعزیز ذکر الدفع ھذاالایراد اعنی نقض الحصر فی الکفار بد خول بعض الفجار النار بوجھین اخرین جیدین الاول ان المراد بالنار نار مخصوصۃ بالکفار ، والثانی ان دخول بعض المومنین لما کان تطہیرا ، وتادیبا کان کلا دخول وانما الدخول کل الدخول دخول لیس بعدہ خروج فالحصر بھذا المعنی وھو حق صحیح بلا امتراء انتہی۔
تمہیں معلوم ہو کہ بندہ ناتواں جب ان پانچ مقدمات کی تحریر سے فارغ ہوا اور پہلےشبہہ کے جواب میں جو ہم نے لکھا اس کے آخرتک پہنچا تو ایک دوست سے تفسیر فتح ا لعزیز جو جز عم یتساء لون سے متعلق ہے عاریت لی تو میں نے اس میں اس مقام کا مطالعہ کیاا ور میں نے دیکھا کہ مولی فاضل استاذ استاذی عبدالعزیز نے اس اعتراض کے دفع کے لئے یعنی اس حصر کا کفارمیں بعض فجار کے آتش جہنم میں داخل ہونے سے منقوض ہونا دو اور بہتر وجہیں ذکر کیں ، پہلی یہ کہ نار سے مراد وہ نارہے جو کافروں کے لئے مخصوص ہے ۔ دوسری یہ کہ بعض مسلمانوں کا آگ میں جانا جبکہ ان کی تطہیر و تہذیب کے لئے ٹھہرا، تو یہ آگ میں جانا نہ جانے کے مثل ہے اور آگ میں بالکل جانا وہ جانا ہے جس کے بعد آگ سے نکلنا نہ ہوگا تو آیت کا حصر کفار میں اس معنی پر ہے اور بے شک حق و صواب ہے ۔
بالحاصل اقول ما انعمہما من وجہین وادفعہما لکل شین لکنک یا عریف انت خبیر بانہما یجریان ایضا بعد شیئ من تغیر العبارۃ فیما اذا حملنا الاشقی علی معناہ الحقیقی کما ستسمع منا ان شاء اللہ تعالی فیا لیت المولی الفاضل لما تنبہ علی ھذین کما تنبہنا تجنب التاویل کما اجتبینا اذ البد ایۃ بتاویل الاشقی بالشقی ثم التحصن بھذین الحصنین الما نعین عن اصل التاویل مما یفضی الی العجب فکان کمن تمنی غرضا ورمی غرضا فاخطا بعد کاد ان یصیب ، وما تو فیقی الا باللہ علیہ تو کلت و الیہ انیب ۱۲منہ عفا اللہ تعالی عنہ امین۔
الحاصل میں کہتا ہوں یہ دونوں وجہیں کس قدر اچھی ہیں اور ہر خرابی کی کیسی دافع ہیں ، لیکن اے جاننے والے ! تم خبردار کہ یہ دونوں وجہیں عبارت کی قدرے تفسیر کے بعد اس صورت میں بھی جاری رہتی ہیں جب ہم اشقی کو اس کے معنی حقیقی پر رکھیں جیسا کہ تم ہم سے سنوگے ان شاء اللہ تو کاش مولائے فاضل جب ہماری طرف ان دونوں وجہوں پر متنبہ ہوئے اسی طرح تاویل سے بچتے جیسے ہم بچے ، اس لئے کہ پہلے اشقی کی تاویل شقی سے کرنا پھر ان دو محکم وجہوں جو اصل تاویل سے مانع ہیں سے تمسک ایسی چیز ہے جو تعجب کا سبب ہے تو یہ ایسا ہوا جیسے کوئی ایک نشان چاہے اور دوسرے کو مارے تو نشانے پر تیر پہنچنے کے قریب ہو کر چوک جائے اور میری توفیق اللہ ہی سے ہے اس پر میں بھروسا کرتا ہوں اور اسی کی طرف جھکتا ہوں۔
الاول ان یکون المراد بقولہ تعالی'' نارا تلظی'' نارا مخصوصۃ من النیران لانہا درکات بقولہ تعالی ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار '' فالایۃ تدل علی ان تلک النار المخصوصۃ لایصلہا سوی ھذا الاشقی ، ولاتدل علی ان الفاسق وغیر من ھذا صفتہ من الکفار لایدخل سائر النیران ۱انتہی
پہلی وجہ یہ کہ قول خدا تعالی نارا تلظی سے دوزخ کی آتشوں سے ایک مخصوص آتش مراد ہو اس لئے کہ آگ کے مختلف طبقے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ''بے شک منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں ، ''اب آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مخصوص آگ میں یہی اشقی جائے گا اور اس کا یہ معنی نہیں کہ اس بڑے بدنصیب کے سوا دوسرے کافر اور فاسق آگ کے باقی طبقوں میں نہ جائیں انتہی۔
اقول : فکان کقولہ تعالی'' ویتجنبہا الاشقی الذی یصلی النار الکبری۲
ای اعظم النیران جمیعا علی احد وجوہ التاویلات وردہ الرازی بان قولہ تعالی ''نارا تلظی'' یحتمل ان یکون ذلک صفۃ لکل النیران وان یکون صفۃ لنار مخصوصۃ لکنہ تعالی وصف کل نار جہنم بھذا الوصف فی ایۃ اخری فقال ''انہا لظی نزاعۃ للشوی"۱
میں کہتا ہوں اللہ تعالی کے فرمان
''ویتجنبہا الاشقی الذی یصلی النار الکبری
(دور رہے گا اس سے وہ بڑا بد نصیب جو بڑی آگ میں دھنسے گا) یعنی ایک تاویل پر سب سے بڑی آگ دلیل ہوگئی اور رازی نے اس قول کو یوں رد کیا کہ اللہ تعالی کے قول نارا تلظی میں احتمال ہے کہ وہ سب آتشوں کی صفت ہو اور ممکن ہے کہ مخصوص آتش کی صفت ہو۔ لیکن اللہ تعالی نے جہنم کی سب آتشوں کایہی وصف دوسری آیت میں فرمایا ، اس کا ارشاد گرامی ہے :
میں کہتا ہوں اس عبارت سے اعتراض کی دو جہتیں نطر آتی ہیں ۔
الاولی ان الموردکانہ ظن ان القاضی الامام یدعی تخصیص النار بصفۃ التلظی کما یتخصص الغلام فی قولنا جاء نی غلام عاقل بصفۃ العقل ، ومن ھذا الطریق یقول ان المراد نار مخصوصۃ اعظم النیران فلا یراد ح ظاھر الورود اذ الاوصاف انما تخصص اذاکانت خصائص توجد فی فرد دون اخر والتلظی لایختص بناردون نار ۔
پہلی تو یہ ہے کہ گویا معترض نے یہ گمان کیا کہ قاضی امام ابوبکر آتش جہنم کے لپٹ مارنے کی صفت سے مخصوص ہونے کے مدعی ہیں اس طور پر جیسے غلام ہمارےقول جاءنی زید عاقل میں صفت عقل سے مخصوص ہے اور اس طریقے سے وہ فرماتے ہیں کہ مراد خاص آگ ہے جو سب سے بڑی آگ ہے ، تو اعتراض کا ورود اس صورت میں ظاہر ہے اس لئے کہ اوصاف ذات کے ساتھ اسی وقت خاص ہوتے ہیں جبکہ وہ اس فرد کا خاصہ ہو ں کہ دوسرے میں نہ پائے جائیں اور لپٹ مارنا ایسا نہیں کہ ایک آگ کی خاص صفت ہو دوسری کی نہ ہو ،
الاتری ان اللہ سبحنہ وتعالی وصف النار مطلقا "بانہا لظی نزاعۃ للشوی"۲ ولکن لم یکن القاضی الامام لیرید ھذا وانما ملحظہ الی ان التنکیر للتعظیم فقولہ تعالی نارا ای نارا عظیما لیس کمثلہ نارکانہ اشیر بالتنکیر الی انہا بشہرۃ امرھا وشیوع فزعہا واخذ اھوالہا بمجامع القلوب صارت بمثابۃ لاتسبق الاذھان الا الیہا ، فاغنت شہر تھا و انتشار ذکرھا عن تعریف اسمہا کما یفید ذلک تنکیر الملیک فی قولہ تعالی فی مقعد صدق عند ملیک مقتد ر ۱وتنکیر الظلم فی قولہ تعالی الذین امنوا ولم یلبسواایما نہم بظلم ۲ای ظلم لاظلم کمثلہ و ھو الشرک۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ سبحنہ وتعالی مطلقا آتش جہنم کا وصف بیان فرماتا ہے : انہا نزاعۃ للشوی(یعنی وہ توبھڑکتی آگ ہے کھال اتا رلینے والی) لیکن حضرت قاضی امام یہ معنی مراد لینے والے نہیں ان کا اشارہ تو اس طر ف ہے کہ نکرہ تعظیم کیلئے ہے تو اللہ تعالی کے فرمان نارا کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑی آگ ہے اس جیسی کوئی آگ نہیں ، گویا وہ اپنی حالت کی شہرت اور اس کی ہیبت کے عام چرچے اور اس کی ہولناکیوں کی پورے دلوں پر پکڑکے سبب اس مقام پر ہے کہ ذہن اسی کی طرف سبقت کرتے ہیں ، تو اس کی شہرت اور اس کے عام ذکر نے اس سے بے نیاز کردیا کہ اس کا نام لے کر اسے معین کیا جائے ، جس طرح یہی فائدہ لفظ ملیک اللہ تعالی کے قول
''فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر''
(یعنی سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور) کا نکرہ ہونا دیتا ہے اور لفط ظلم اللہ تعالی کے قول
الذین امنوا ولم یلبسواایمانھم بظلم
میں یہ فائدہ دیتا ہے یعنی ایسا ظلم کہ کوئی ظلم اس جیسا نہیں اور وہ ظلم شرک ہے ۔
انبانا مولانا السید حسین جمل اللیل امام الشافعیۃ بمکۃ المحمیۃ عن خاتمۃ المحدثین محمد عابد السندی عن صالح الفلانی عن محمد بن سنۃ عن احمد العجلی عن قطب الدین النہر والی عن ابی الفتوح عن یوسف الھروی عن محمد بن شاہ بخت عن ابی النعمان الختلانی عن الفربری عن محمد بن اسمعیل البخاری ثنا ابوعدی ثنا شعبۃ عن سلیمان عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبدا للہ لما نزلت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وھم مھتدون ۱قال اصحاب رسول اللہ تعالی علیہ وسلم اینا لم یظلم فنزل اللہ ان الشرک لظلم عظیم۔
ہمیں خبردی مولانا سیدنا حسین جمال اللیل نے جو مکہ میں امام شافعیہ ہیں وہ روایت کرتے ہیں خاتمۃ المحدثین محمد عابد سندی سے انہوں نے روایت کیا صالح فلانی سے انہوں نے روایت کی محمد بن سنہ سے انہوں نے احمد عجلی سے انہوں نے قطب الدین نہر والی سے انہو ں نے ابو الفتوح سے انہوں نے یوسف ہروی سے انہوں نے محمد بن شاہ بخت سے انہوں نے ابونعمان ختلانی سے انھوں نے فربری سے انھوں نے محمد بن اسمعیل بخاری سے ، بخاری نے فرمایا ہم سے ابو عدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے سلیمان سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی کہ جب یہ آیت کریمہ
(یعنی وہ جو ایمان لائے اور اپنے امان میں کسی ناحق کی آمیز ش نہ کی انہیں کے لئے ایمان ہے اور وہی راہ پر ہیں) نازل ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اصحاب بولے ہم میں کون ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ، اللہ تعالی نے آیہ کریمہ
'' ان الشرک لظلم عظیم''
(بےشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ ت ) نازل فرمائی۔
(۱صحیح البخاری کتا ب التفسیر سورۃ الانعام ، باب قول تعالی ولم یلبسو ا ایمانھم بظلم قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۶۶۶)
(انوارالتنزیل واسرار التاویل (تفسیر البیضاوی) ۸۲/۶ دار الفکر بیروت ۲/ ۴۲۶ و ۴۲۶)