Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
114 - 135
المقدمۃ الخامسۃ :  لعلک یا من یفضل علیا علی الشیخین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین تفرح وتمرح ان ھؤلاء المفسرین انما عدلوا عن الاتقی الی التقی کیلا یلزم تفضیل الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ علی من عداہ وحاشاہم عن ذلک ، الاتری انہم کما فسروا الاتقی بالتقی کذلک اولوالاشقی بالشقی فاین ھذا من قصد ک الذمیم الذی ترید لاجلہ تغییر القرآن العظیم وانما الباعث لہم علی ذلک ماذکرہ ابو عبیدۃ بنفسہ۔
پانچواں مقدمہ : اے تفضیلیہ شاید تو خوش ہو اور فخر کرے یہ مفسرین اتقی سے تقی کی طرف اسی لئے پھرے کہ صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ان کے ماسوا دوسرے صحابہ پر لازم نہ آئے اور وہ اس خیال سے بری ہیں ۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ انہوں نے جس طر ح اتقی کی تفسیر تقی سے کی یو نہی اشقی کی تاویل شقی سے کی تو مفسرین کی اس روش کو تیرے اس بد ارادے سے کیا علاقہ ہے جس کے لئے تو قرآن عظیم کو بدلناچاہتا ہے ،ان کے لیے اس تفسیر پر ابو عبیدہ کا قول مذکور باعث ہوا۔

انبانا سراج العلماء عن المفتی ابن عمر عن عابد سندی عن یوسف المزجاجی عن ابیہ محمد بن ا لعلاء عن حسن العجیمی عن خیر الدین الرملی عن العلامۃ احمد بن امین الدین بن عبد العال عن ابیہ عن جدہ عن العزعبد الرحیم بن الفرات عن ضیاء الدین محمد بن محمد الصنعانی عن قوام الدین مسعود بن ابراھیم الکرمانی عن المولی حافظ الدین ابی البرکات محمود النسفی قال فی مدارک التنزیل قال ابو عبیدۃ الاشقی بمعنی الشقی وھوالکافر ، والاتقی بمعنی التقی  وھو المؤمن لانہ لایختص بالصلی اشقی الاشقیاء ولابا لنجاۃ اتقی الاتقیاء وان زعمت انہ تعالی نکر النار فاراد نارا مخصوصۃ بالاشقی ، فما تصنع لقولہ وسیجنبہا الاتقی الذی لان الاتقی یجنب تلک النار المخصوصۃ لا الاتقی منہم خاصہ ۱؂انتہی
ہمیں سراج العلماء نے خبردی مفتی ابن عمر سے انہوں نے روایت کی عابد سندی سے انہوں نے یوسف مزجاجی سے روایت کی انہوں نے اپنے باپ محمد بن علاء سے انہوں نے حسن العجیمی سے روایت کی انہوں نے خیر الدین رملی سے انہوں نے علامہ احمد بن امین الدین بن عبد العال سے انہوں نے اپنے باپ سے پھر اپنے دادا سے انہوں نے عز عبد الرحیم بن فرات سے انہوں نے ضیاء الدین محمد بن محمد صنعانی سے انہوں نے قوام الدین مسعود بن ابراہیم کرمانی سے انہوں نے مولی حافظ الدین ابو البر کات محمود نسفی سے روایت کیا کہ (علامہ نسفی نے) مدارک التنزیل میں فرمایا ابو عبیدہ نے کہا اشقی بمعنی شقی کے ہے اور وہ کافر ہے ، اوراتقی تقی کے معنی میں ہے اور اس سے مراد مومن ہے ، اس لئے کہ آگ میں جانا سب اشقیاء سے بڑھ کر  شقی کی خصوصیت نہیں ہے اور نجات پانا سب پرہیز گار وں سے افضل کے لئے مخصوص نہیں ہے اور اگر تم کہو کہ اللہ تعالی نے نار کونکرہ فرمایا (اور نکرہ جب محل اثبات میں ہو تو اس سے مراد فرد مخصوص ہوتا ہے) تو اللہ تعالی کی مراد ایک مخصوص نارہے تو تم (یعنی اس سے بہت دور رکھا جائے گا سب سے بڑا پرہیز گار ) کے ساتھ کیا کرو گے اس لئے کہ ہر متقی اس نار مخصوص سے دور رکھاجائے گا نہ کہ خاص کر سب سے بڑا متقی۔
 (۱؂مدارک التنزیل (تفسیر المدارک) تحت الایۃ۱۷ٖ/۹۲  دار الکتاب العربی بیروت ۳۲۳/۴)
وتلخیص المقام : ان قولہ سبحنہ وتعالی ''فانذرتکم نارا تلظی لایصلہا الاالاشقی الذی کذب وتولی''۲؂لایمکن اجراء ہ علی ظاھرہ لانہ یقتضی قصر دخول النار علی اشقی الاشقیاء من الکفار فیلزم ان لایدخلہا احد غیرہ کالفجار والکافرین القاصرین عنہ فی الشقاء والاستکبار وھذا باطل قطعا فاختار الواحدی و الرازی والقاضی المحلی وابوالسعود واخرون ماملحظہ ان لیس المراد بالاشقی رجل مخصوص یکون اشقی الاشقیاء بل المعنی من کان بالغا(عہ) فی الشقاء متناھیا فیہ وھم الکفار عن اخرھم لانسلاخہم عن السعادۃ بالمرۃ ،
مقام تلخیص : یہ ہے کہ اللہ سبحنہ وتعالی کے قول
فانذرتکم نارا تلظی لایصلہا الاالاشقی الذی کذب و تولی
 (تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا ) کو اس کے ظاہر معنی پر جاری رکھنا ممکن نہیں اس لئے کہ اس کا تقاضایہ ہے کہ دوزخ میں وہی جائے جو کافرو ں میں سب بد نصیبو ں سے بڑا بد نصیب ہو تو لازم آئے گا کہ وہ فجار و کفار جو بد نصیبی اور گھمنڈمیں اس سے کم رتبے کے بد نصیب ہوں دو زخ میں نہ جائیں ، اور یہ قطعا باطل ہے ،لہذا واحدی و رازی وقاضی ومحلی وابو السعود اور دیگر مفسرین نے یہ اختیار کیا جن میں یہ لحاظ ہے کہ اشقی سے مراد کوئی خاص نہیں جو سب سے بڑا شقی ہو بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شقاوت میں حد کو پہنچا ہواہو اور اس مفہوم کے مصداق سارے کافر ہیں اور وہ سعادت سے بالکل محروم ہیں ۔
(۲؂القرآن الکریم۹۲/۱۴ تا ۱۶)
عہ: قولہ بالغا فی الشقاء الخ'' انت خبیر بانا قر رنا کلامہم بحیث یندفع عنہ یراد قوی کان یتخالج فی صدری تقریر الایراد ان المؤمن الفاجر لہ قسط من الشقاوۃ کما ان لہ قسطا عظیما من السعادۃ ، ولیس ان الشقاء یختص بالکفرۃ ، الاتری ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سمی الخبیث الشقی عبدالرحمن بن ملجم الذی قتل السید الکریم المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ وخضب الحیۃ الکریمۃ بدم راسہ الاقدس اشقی الاخرین کما ورد بطریق عدیدۃ عن سید نا علی کرم اللہ تعالی وجہہ وانما کان ھذاک الخبیث رجلا من الخوارج واذا کان الامر ھکذا فما لھولاء اولو الاشقی بالشقی ثم خصوہ بالکافرحتی عاد الاعتراض بخروج  الفجار مع ان بعضہم یدخل النار قطعا ، فلوانہم اجروہ علی العموم یسلموا من ذاک وتقریر الجواب انہم لما فطموا الافعل عن معناہ الحقیقی اعنی الزائد فی الاتصاف بالمبدء علی کل من عداہ کرھوا ان یذھبو ا بہ مذھبا ابعد من حقیقۃ کل البعد ، فاردوا بہ البالغ فی الشقاء المتناھی فیہ ابقاء لمعنی الزیادۃ المدلول علیہا بصیغۃ التفضیل ، والوجہ فی ذلک ان ھناک ثلثۃ امور ، الاول الا تصاف بالمبدء وھو مفاد اسم الفاعل ، والثانی الکثرۃ فیہ و ھو مدلول صیغۃ المبالغۃ، و الثالث الزیادۃ فیہ عن غیرہ و ھوالموضوع لہ اسم التفضیل فالثانی و کالوسط بین الاول والثالث و العدول عن طرف الی طرف ابعد من المیل عن طرف الی الوسط فہذا الذی حملہم علی ذلک فیما اظن واللہ تعالی اعلم منہ عفااللہ تعالی عنہ امین۔
 (قولہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہو الخ) تم خبردار ہو کہ ہم نے ان علماء کے کلام کی تقریر اس طور پر کی جس سے وہ قوی اعتراض جو میرے سینے میں متردد تھا دفع ہوجائے ۔ اس اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ مومن فاجر کے لئے بدبختی سے ایک حصہ ہے جیسا کہ اس کےلئے سعادت سے عظیم بہرہ ہے اورایسا نہیں کہ بد بختی کافروں کیلئے خاص ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس خبیث شقی عبدالرحمن بن ملجم کو جس نے سید کریم مرتضی علی رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا اور ان کی ریش مبارک کو ان کے سر اقدس کے خون سے رنگین کیا پچھلوں کا سب سے بڑا بدبخت فرمایا ، جیسا کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے متعدد سندوں سے روایت ہے اور یہ خبیث تو خارجیوں میں کا ایک شخص تھا(یعنی کافر نہ تھا بلکہ گمراہ تھا) اور جب بات ایسی ہے تو ان لوگو ں کو کیا ہوا جنہوں نے اشقی کی  تاویل شقی سے کی پھر اسے کافر کےلئے مخصوص کیا تو اعتراض لوٹاکہ فاجر مسلمان اس حکم سے نکل گئے حالانکہ بعض فاجر مسلمان یقینا جہنم میں جائیں گئے تو اگر انہوں نے حکم عام رکھا ہوتا تو اس  اعتراض سے بچ جاتے ، اور جواب کی تقریر یہ ہے کہ جب انہوں نے افعل ،(اسم تفضیل)کو اس کے حقیقی معنی سے مجرد کیا یعنی جو مصدر سے متصف ہونے میں اپنے ہر ماسوا سے زائد ہو تو انہیں یہ پسند نہ ہوا کہ اسم تفضیل کو ایسے مذہب پرلے جائیں جو اس کے حقیقی معنی سے بالکل دور ہو لہذا انہوں نے اشقی سے مراد لیا کہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہو تا کہ زیادتی کا مفہوم جس پر صیغہ افعل تفضیل دلالت کرتا ہو باقی رکھیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ تین امور ہیں ، پہلا مصدر سے موصوف ہونا اور یہ اسم فاعل کا مفاد ہے اور دوسرا امر اس وصف میں کثرت اور یہ مبالغہ کے صیغہ کا مفہوم ہے ، اور تیسرا امر اس وصف میں دوسرے سے بڑھ جانا اور یہ وہ مفہوم ہے جس کے لئے اس تفضیل کی وضع ہے تو دوسرا جیسے اول وسوئم کے درمیان ہے اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف پھرنا ایک کنارے سے درمیان کی طرف مائل ہونے سے زیادہ دور ہے تو میرے گمان میں یہی ان کو اس پر باعث ہوا ، واللہ تعالی اعلم منہ عفا اللہ تعالی عنہ ۔آمین!
اما المؤمن الفاجر فان کان لہ وجہ الی الشقاء الزائل فوجہہ الاخر الی السعادۃ الابدیۃ وھی الایمان ،وھؤلاء القائلون لمارأوا مادۃ الایراد لم تنحسم اذدخول بعض الفجار ایضا مقطوع فزعوا الی تاویل الصلی باللزوم ، وزعم الواحدی انہ معناہ الحقیقی فقال کما نقل الرازی معنی''لایصلاھا"  لایلزمہا فی حقیقۃ اللغۃ یقال صلی الکافر النار اذا لزمہامقایسا شدتھا وحرھا ، وعندنا ان ھذہ الملازمۃ لاتثبت الاالکافر اما الفاسق فاما ان لاید خلہا اوان دخلہا تخلص منہا ۱؂ انتہی
رہا مومن فاجر تو اس کا ایک پہلو شقاوت فانیہ کی طرف ہے تو دوسرا ابدی سعادت کی طرف ہے اور وہ سعادت ابدی ایمان ہے ۔ اور ان لوگو ں نے جب یہ دیکھا کہ اعتراض کا مادہ بالکل ختم نہ ہوا اس لئے کہ بعض بد عمل مسلمانوں کا دوزخ میں جانا ہی قطعی امر ہے ۔ لہذ یہ لوگ صلی کی تاویل لزوم سے کرنے کی طرف راغب ہوئے ۔ واحدی نےکہا کہ لزوم اس کا حقیقی معنی ہے جیسا کہ امام رازی نے نقل کیا ہے کہ ''لایصلاھا ''کا معنی حقیقت لغت میں''لایلزمھا ''ہے کہتے ہیں کہ صلی الکافر النار جب وہ اس حال میں آگ کو لازم پکڑے درانحالیکہ اس کی شدت وحرارت کوبرداشت کرے ، اور ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ملازمۃ فقط کافر کیلئے ثابت ہے ، رہا فاسق تو وہ یا تو اس میں داخل ہی نہ ہوگا یا داخل تو ہوگا مگر اس سے چھٹکارا پالے گا ۔ انتہی
 (۱؂مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الایۃٖ   ۹۲/ ۱۵ تا ۱۶    المطبعۃ البہیۃ المصریۃ   ۳۱/۲۰۴)
Flag Counter