| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
المقدمۃ الرابعۃ: ھذا التاویل الذی فتحنا ابواب الکلام علی ایہا نہ اعنی تفسیر الاتقی بالتقی انما ھو مروی عن ابی عبیدۃ کما صرح بہ العلامۃ النسفی رحمہ اللہ تعالی فی مدارک التنزیل ۱وحقائق التاویل وابوعبیدۃ ھذا رجل نحوی لغوی من الطبقۃ السابعۃ اسمہ معمر بن المثنی کان یری رأی الخوارج وکان سلیط اللسان وقاعا فی العلماء وتلمیذہ ابو عبیدالقاسم بن سلام احسن منہ حالا وابصر منہ بالحدیث انبأنا مفتی مکۃ سیدی عبدالرحمن عن جمال بن عمر عن الشیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی عن ابن السنۃ عن المولی الشرف عن محمد ابن ارکماش الحنفی عن حافظ ابن حجر العسقلانی قال فی التقریب معمر بن المثنی ابو عبیدۃ التیمی مولاھم البصری النحوی اللغوی صدوق اخباری و قدرمی برای الخوارج من السابعۃ مات سنۃ ثمان ومائتین وقیل بعد ذلک وقد قارب المائۃ ۲انتہی۔
چوتھا مقدمہ : یہ تاویل جس کے ضعف بتانے کے لئے ہم نے کلام کے دروازے کھولے (یعنی اتقی کی تفسیر تقی سے کرنا) یہ صرف ابو عبیدہ سے منقول ہے ۔ چنانچہ اس کی تصریح علامہ نسفی نے مدارک التنزیل میں کی ہے ، اور یہ ابوعبیدہ ایک آدمی ہے نحو ولغت کا عالم ، جوساتویں طبقہ پر ایک فرد ہے ، اس کانام معمر بن المثنی ہے ، خارجیوں کا عقیدہ رکھتا تھا ، اور یہ بدزبان علماء کا بدگو تھا ، اور اس کے شاگرد ابو عبید قاسم بن سلام کا حال اس سے اچھا تھا اور انہیں حدیث میں اس سے زیادہ بصیرت تھی ۔ مجھے مفتی مکہ سیدی عبدالرحمن نے جمال بن عمر سے خبردی انہوں نے شیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی سے روایت کی انہوں نے ابن السنۃ سے انہوں نے مولی شریف سے انہوں نے محمد بن ارکما ش حنفی سے انہوں نے حافظ ابن حجر عسقلانی سے روایت کی کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں فرمایا معمر بن مثنی ابو عبیدہ تیمی بنوتیم کا آزاد کردہ ، بصری نحوی ، لغوی سچا ہے تا ریخ کا راوی ہے ، اورخوارج کے مذہب سے متہم کیا گیا ، طبقہ ہفتم کے علماء سے ہے ۲۰۸ھ میں انتقال ہوا ، اور بعض کا قول ہے کہ اس کے بعد وفات ہوئی اور عمر تقریبا سوسال ہوئی انتہی ۔
(۱مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)تحت الایۃ ۹۲/ ۱۷ دار الکتاب العربی بیروت۴/ ۳۶۳) (۲ تقریب التہذیب ترجمہ ۶۸۳۶معمر بن المثنی دار الکتب العلمیہ بیروت۲/ ۲۰۳)
وقد قال ابن خلکان کما نقل الفاضل عبد الحی فی مقدمۃ(عہ) الہدایۃ ابو عبید بغیرتاء مذکور فی باب الجنایات من کتاب الحج اسمہ القاسم بن سلام ذاباع طویل فی فنون الادب والفقہ ، قال القاضی احمد بن کامل کان ابوعبید فاضلا فی دینہ متفننا فی اصناف العلوم من القراء ات والفقہ العربیۃ والاخبار حسن الروایۃ صحیح النقل روی عن ابی زید والاصمعی وابی عبیدہ وابن الاعرابی والکسائی والفراء وغیرہم وروی الناس من کتبہ المصنفۃ بضعۃ وعشرین فی الحدیث والقراء ات و الامثال ومعانی الشعر وغریب الحدیث وغیر ذلک ویقال انہ اول من صنف فی غریب الحدیث ،
اور ابن خلکان نے کہا جیسا کہ فاضل عبد الحی نے مقدمہ ہدایہ میں کہا : ابو عبید بغیرتا ء کتاب الحج کے باب الجنایات میں مذکور ہواان کا نام قاسم بن سلام ہے ادب کے فنون وفقہ میں بڑی دستر س رکھتے تھے ۔ قاضی احمد بن کامل نے فرمایا: ابو عبیداپنے دین میں فاضل مختلف علوم قراء ت وفقہ و عربیت وتاریخ کے ماہر تھے ان کی روایت حسن ہے اور نقل صحیح ہے انہوں نے ابو زید واصمعی وابو عبیدہ وابن الاعرابی وکسائی و فراء وغیرہم سے روایت کی اور لوگو ں نے ان کی تصنیفات سے حدیث وقراء ت وامثال ومعنی شعر و احادیث غریبہ وغیرہا میں تئیس سے انتیس تک کتابوں کو روایت کیا ، اور کہتے ہیں قاسم بن سلام نےسب سے پہلےغریب الحدیث میں تالیف فرمائی۔
عہ: فی الاصل بیاض وعبارۃ المقدمۃ منقولۃ من المترجم۱۲ النعمانی۔
وقال الہلال مَنَّ اللہُ تعالٰی علی ھذہ الامۃ باربعۃ فی زمانہم الشافعی فی فقہ الحدیث وباحمد بن حنبل فی المحنۃ ولولاہ لکفر الناس وبیحیی بن معین فی ذب الکذب عن الاحادیث وبابی عبید القاسم بن سلام فی غریب الحدیث و کانت وفاتہ بمکۃ وقیل بالمدینۃ سنۃ اثنتین اوثلث وعشرین ومائتین وقال البخاری سنۃ اربع وعشرین ۔ ویوجد فی بعض نسخ الھدایۃ فی الموضع المذکور ابو عبیدۃ بالتا ء واسمہ معمربن المثنی وقد ذکرنا ترجمتہ فی الاصل وقال العینی فی شرحہ ابو عبید اسمہ معمر بن المثنی التیمی ، وفی بعض النسخ ابو عبیدۃ بالتاء واسمہ القاسم بن سلام البغدادی ، والاول اصح انتھی ، وھذا مخالف لما فی تاریخ ابن خلکان وغیرہ من التواریخ المعتمد ۃ من ان ابا عبید بغیر التاء کنیۃ القاسم وبالتاء کنیۃ معمر۱۔
اور ہلال نے فرمایا اللہ تعالی نے اس امت پراپنے اپنے زمانہ میں چار شخصوں سے منت رکھی ، شافعی سے فقہ حدیث میں اور احمد بن حنبل سے ان کی آزمائش کے سبب(یعنی وہ آزمائش جس میں حضرت امام احمد بن حنبل زمانہ مامون میں مخالفت عقیدہ خلق قرآن کے سبب مبتلا ہوئے) اور اگر امام احمد نہ ہوتے تو لوگ کافر ہوجاتے ، اور یحیی بن معین سے یوں منت رکھی کہ انہوں نے احادیث سے دروغ کو الگ کردیا اورابوعبیدبن قاسم بن سلام سے غریب احادیث کو جمع کرنے میں ، ان کی وفات مکہ میں ہوئی ، اور ایک قول پر مدینہ میں ۲۲۳ھ یا ۲۲۲ھ میں ہوئی اور بخاری نے سن وفات ۲۲۴ھ میں فرمایا ، اور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یوں ہے موضع مذکور میں ابو عبیدۃ بالتاء اور ان کا نام معمر بن مثنی ہے اور ہم نے اس کے حالات اصل میں ذکر کئے اور عینی نے شرح ہدایہ میں فرمایا ابو عبید معمر بن مثنی بن تیمی ہے ۔اور بعض نسخوں میں ابوعبیدۃ بالتاء ہے اور ان کانام قاسم بن سلام بغدادی ہے ، اور پہلا قول اصح ہے ۔ اور یہ بات اس کے مخالف ہے جو تاریخ ابن خلکان وغیرہ تواریخ معتمدہ میں ہے کہ عبیدبغیر تاء قاسم کی کنیت ہے اور تا ء کے ساتھ معمر کی کنیت ہے ۔
(۱مذیلۃ الدرایۃ لمقدمۃ الہداٰیۃ لعبد الحی مع الہدایۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ص۴)
واما قدماء العلماء ککنیف ملئ علما حامل تاج المسلمین نعال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سیدنا عبداللہ مسعود وحبر الامۃ سلطان المفسرین عبداللہ بن عباس وعروۃ بن زبیر وشقیقہ عبداللہ وافضل التابعین سعید بن المسیب رضی اللہ تعالی عہنم اجمعین فقد روینا لک ماقالوا فی الایۃ۔
رہے علمائے متقدمین جیسے علم سے بھرے ہوئے ظرف حامل تاج مسلمانان نقش پائے رسول ا للہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن مسعود اور عالم امت سلطان المفسرین عبداللہ بن عباس اور عروہ بن زبیر اور ان کے سگے بھائی عبداللہ اور افضل التابعین سعید بن المسیب رضی اللہ عنہم تو ہم آیت کریمہ کی تفسیر میں ان کے اقوال تمہارے لئے روایت کرچکے ۔