Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
112 - 135
احدھما ان یعبر واحد منہم عن المراد بعبارۃ غیر عبارۃ صاحبہ تدل علی معنی فی المسمی غیر المعنی الاخر من اتحاد المسمی کتفسیر ھم الصراط المستقیم '' بعض بالقرآن ای اتباعہ وبعض بالاسلام فالقو لان متفقان لان دین الاسلام ھو اتباع القرآن ولکن کل منہا نبہ علی وصف غیر الوصف  الاخر کماان لفظ الصراط یشعر بوصف ثالث ، وکذلک قول من قال ھو السنۃ والجماعۃ وقول من قال ھو طریق العبودیۃ وقول من قال ھو طا عۃ اللہ ورسولہ و امثال ذلک ، فھؤلاء کلھم اشاروا الی ذات واحدۃ ولکن وصفہا کل منہم بصفۃ من صفاتھا ۔
ان میں سے ایک صنف یہ کہ ان لوگو ں میں سے کوئی اپنی مراد کی تعبیر ایک عبارت سے کرے جو اس کے ساتھی کی عبارت سے جدا گانہ ہو اور معنی ایک ہو جیسے علماء نے الصراط المستقیم کی تفسیر کی کسی نے قرآن کہا یعنی قرآن کی پیروی اور کسی نے اسلام تو یہ دونوں قول  ایک دوسرے کے موافق ہیں اس لئے کہ دین اسلام تو قرآن کی پیر وی ہے ۔ لیکن ان دونوں نے ایک دوسرے کے وصف سے جدا ایک وصف پر متنبہ کیا جیسے کہ لفظ صراط تیسرے وصف کی خبر دیتا ہے اسی طر ح اس کی بات جس نے یہ کہا تھا کہ صراط مستقیم مسلک اہل سنت و جماعت ہے اور اس کی بات جس نے کہا کہ وہ طریق بند گی ہے اور اس کا قول جو بولا کہ وہ اللہ ورسول (جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کی اطاعت ہے او ر جیسے اس طر ح کے دوسرے اقوال اس لئے کہ ان سب نے ایک ذات کی طرف رہنمائی کی لیکن ہر ایک نے اس کی ایک صفت اس کی صفات سے بیان کردی۔
الثانی ان یذکر کل منہم من الاسم العام بعض انواعہ علی سبیل التمثیل وتنبیہ المستمع علی النوع ، لاعلی سبیل الحد المطابق للمحدود فی عمومہ و خصوصہ مثالہ مانقل فی قولہ تعالی ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا الایۃ فمعلوم ان الظالم لنفسہ یتناول المضیع للواجبات والمنتھک للحرمات والمقتصد یتناول فاعل الواجبات وتارک المحرمات ، والسابق یدخل فیہ من سبق فتقرب بالحسنات مع الواجبات فالمقتصدون اصحاب الیمین والسابقون السابقون اولئک المقربون ، ثم ان کلامنہم یذکر ھذا فی نوع من انواع الطاعات کقول القائل السابق الذی یصلی فی اول الوقت ،و المقتصد الذی یصلی فی اثنائہ والظالم لنفسہ الذی یؤخر العصر الی الاصفرا ر اویقول السابق المحسن بالصدقۃ مع الزکوۃ ، والمقتصد الذی یؤدی الزکاۃ المفر و ضۃ فقط ، والظالم مانع الزکوۃ ۱؂
دوسری صنف یہ ہے کہ ہر عالم لفظ عام کی کوئی قسم مثال کے اوپر ذکر کرے اور مخالف کو اس نوع پر متنبہ کرے اور اس نوع کو ذکر کرنا ذ ات اس کے عموم وخصوص میں ذات کی حد تام وتعریف تمام کےطور پرنہ ہووہ جو اللہ تعالی کے  قول  ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا الایۃ کی تفسیر میں منقول ہوا اس لئے کہ معلوم ہے کہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اس کو شامل ہے جو واجبات کو ضائع کرے اور حرمتو ں کو توڑے اور مقتصد واجبات کی تعمیل اور محرمات کو تر ک کرنے والے کو شامل ہے او رسابق میں وہ داخل ہے جو سبقت کرے تو واجبات کے ساتھ حسنات سے اللہ کی قربت حاصل کرے تو مقتصد لوگ دہنے ہاتھ والے ہیں اور سابق سابق ہیں وہی اللہ کے مقرب ہیں پھر ان میں سے ہر عالم اس مثال کو انواع عبادات میں سے کسی قسم میں ذکر کرتا ہے جیسے کسی نے کہا : سابق وہ ہے جو اول وقت میں نماز پڑھے اورمقتصد وہ ہے جو درمیان وقت میں پڑھے اور ظالم وہ ہے جو عصر کو سورج زرد ہونے تک موخر کر دے ، اور کوئی کہے ، سابق وہ ہے جو صدقہ نفل زکوۃ کے ساتھ دے کرنیکی کرے ، او رمقتصد وہ ہے جو صرف زکوۃ فرض دے ، اور ظالم وہ ہے جو زکوۃ دنہ دے اھ۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۴۳۸)
وعن الزرکشی ''ربما یحکی عنہم عبارات مختلفۃ الالفاظ فیظن من لافہم عندہ ان ذلک اختلاف محقق فیحکیہ اقوالا و لیس کذلک بل یکون کل واحد منہم ذکر معنی من الایۃ لکونہ اظہر عندہ ا و الیق بحال السائل وقد یکون بعضہم یخبر عن الشیئ بلازمہ ونظیرہ والاخر بمقصودہ وثمر تہ والکل یؤل الی معنی واحد غالبا۱؂الخ
اور سیوطی نے زرکشی سے نقل کیا بسا اوقات علماء سے مختلف عبارتیں منقول ہوتی ہیں تو جو فہم نہیں رکھتا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ اختلاف حقیقی ہے  تو وہ اس کو کئی قول بنا کر حکایت کرتا ہے ، حالانکہ بات یوں نہیں ،بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ہر عالم آیت کا ایک معنی ذکر کرتا ہے اس لئے کہ وہ اس کے نزدیک ظاہر تر یا حال سائل کے زیادہ شایاں ہوتا ہے او رکبھی کوئی عالم شے کا لازم یا اس کی نظیر بتاتا ہے اور دو سرا اس کا مقصود وثمرہ بتاتا ہے اور اکثر سب کا بیان ایک ہی معنی کی طرف لوٹتا ہے الخ۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۴۴۴)
وعن البغوی والکواشی وغیر ھما التاویل صرف الایۃ الی معنی موافق لما قبلہا وبعد ھا تحتملہ الایۃ غیر مخالف للکتاب والسنۃ من طریق الاستنباط غیر محظور علی العلماء بالتفسیر کقولہ تعالی ''انفروا خفافا وثقالا'' قیل شبابا وشیوخا ، وقیل اغنیاء وفقراء ، قیل عزابا ومتاھلین ، وقیل نشاطا وغیرنشاط وقیل اصحاء ومرضی وکل ذلک سائغ والایۃ تحتملہ۲؂الخ، وھذا فصل عمیق بعید لوفصلنا فیہ الکلام خرج بناء عما نحن بصددہ من المراد ، فیما اوردناہ کفایۃ الاولی الاحلام لاسیما من لہ اجالۃ نظر فی کلمات المفسرین وتمسکات العلماء بالقرآن المبین۔
اور سیوطی علیہ الرحمۃ نے بغوی وکواشی وغیر ہما سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تاویل براہ استنباط آیت کو ایسے معنی کی طرف پھیرنا ہے جو اس کی اگلی آمد پچھلی آیت کے موافق ہو ، اور آیت اس کا احتمال رکھتی ہو اور وہ معنی کتاب و سنت کے مخالف نہ ہو ، ایسی تاویل ان لوگوں کو منع نہیں جنہیں تفسیر کا علم ہے ، جیسے اللہ تعالی کے قول '' انفروا خفافا وثقالا (یعنی کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے) میں کسی نے کہا: بوڑھے اور جوان ۔ او ر کسی نے کہا غنی وفقیر ۔ اور کسی کا قول ہے ۔ شادی شدہ اور مجرد ۔ او رکسی کا قول ہے : چست وسست ۔ او رکسی نے کہا: صحت مند و بیمار (یعنی یہ سب کوچ کریں ) اور یہ تمام وجوہ بنتی ہیں اور آیت سب کی محتمل ہے اور یہ فصل وسیع وعریض ہے اگر ہم اس میں مفصل کلام کریں تو وہ کلام ہمیں ہمارے اس مقصود سے باہر کردے گا جس کے ہم درپے ہیں ، اور جو ہم نے ذکر کیا اس میں سمجھ والوں اور ان کے لئے جن کی نظر کلمات مفسرین اور علماء کے قرآن سے تمسکات میں رواں ہے ، کفایت ہے ۔
 (۲؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۴۴۸)
Flag Counter