Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
111 - 135
وقال قال العلماء یجب علی المفسران یتحری فی التفسیر مطابقۃ المفسر و ان یتحرز فی ذلک من نقص عما یحتاج الیہ فی ایضاح المعنی اوزیادۃ لاتلیق بالغرض ومن کون المفسرفیہ زیغ عن المعنی وعدول عن طریقہ وعلیہ بمراعاۃ المعنی الحقیقی والمجازی ، ومراعاۃ التالیف والغرض الذی سیق لہ الکلام۲؂ الخ۔
اورفرمایا: علماء کا قول ہے کہ مفسر پر واجب ہے کہ وہ تفسیر میں یہ تجویز کرے کہ تفسیر لفظ مفسر کے مطابق ہواور اس سے کم کرنے سے بچے جس کی حاجت تو ضیح مراد کے لئے ہو اور ایسے لفظ کو زیادہ کرنے سے احتراز کرے جو مقصد کے مناسب نہ ہو ، اور اس بات کی احتیاط رکھے کہ تفسیر میں معنی سے انحراف اور اس کی راہ سے عدول نہ ہو ، اور اس پرلازم ہے کہ معنی حقیقی ومجازی کی رعایت کرے اور ترکیب اور اس غرض کی جس کے لئے کلام ذکر کیا گیا رعایت رکھے۔
 (۲؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۶۱)
المقدمۃ الثالثۃ :کثیرا ماتری المفسرین یذکر بعضہم تحت الایۃ وجہا من التاویل والبعض الاخرون وجہا اخر وربما جمعوا وجوھا کثیرۃ وغالبہ لیس من باب الاختلاف اوالتردد المانع عن التمسک باحدھا لاسیما الاظہر الانور منہا و انماھو تفنن فی المرام ،اوبیان لبعض ماینتظمہ الکلام وذالک ان القرآن ذو وجوہ وفنون ولکل حرف منہ غصون وشجون و لہ عجائب لاتنقضی ومعان تمد ولا تنتہی فجاز الاحتجاج بہ علی کل وجوھہ و ھذا من اعظم نعم اللہ سبحنہ وتعالی علینا ومن ابلغ وجوہ اعجاز القرآن ولو کان الامر علی خلاف ذلک لعادت النعمۃ بلیۃ والاعجاز عجزا والعیاذ باللہ تعالی وقد وصف اللہ سبحنہ وتعالی القرآن بالمبین ، فلیس تنوع معاینہ کتذبذب المحتملات فی کلام مبھم مختلط لایستبین المراد منہ ، ولقد قال اللہ تبارک وتعالی قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مددا ۱؂
مقدمہ سوم : مفسرین کو تم بہت دیکھوگے کہ ان میں سے کوئی آیت کے تحت کوئی وجہ تاویل ذکر کرتا ہے اور بعض دوسرے دوسری وجہ ذکر کرتے ہیں اور کبھی بہت سی وجوہ جمع کردیتے ہیں اور بیشتر وجوہ اختلاف وتردو کےباب سے نہیں جس میں سے کسی کو اخذ کرنا دوسری سے تمسک کا مانع ہو خصوصا ان میں جو ظاہرتر اور روشن تر ہو بلکہ یہ وجوہ بیان مقصد میں تفنن عبارت ہے یاکلام جن وجوہ کو شامل ہے اس میں سے کچھ کو بیان کردینا ہے اور یہ اس لئے کہ قرآن مختلف وجوہ رکھتا ہے اور اس کے ہر لفظ کے متعدد معانی ہیں اوراس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور معانی بڑھتے ہیں اور کسی حد پر نہیں تھمتے ، لہذا اس کی تمام وجوہ کو حجت بنانا جائز ہے اور یہ ہمارے لئے اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے اور قرآن کے اعجاز کے اسباب بلیغہ سے ایک سبب ہے ، او راگر معاملہ اس کے بر خلاف ہوتا تو نعمت مصیبت ہوجاتی اور اعجاز عجز ہوجاتاوالعیاذ باللہ تعالی ، اور اللہ تعالی نے قرآن کا وصف مبین فرمایا ہے تو اس کے معانی کا قسم قسم ہونا کلام مبہم میں جس کی مراد ظاہر نہ ہو ، محتملات کے تردد کی طرح نہیں اور یقینا اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے : اے محبوب ! تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگر چہ ہم اس جیسا اور اس کی مدد کو لےآئیں ۔
(۱؂ القرآن الکریم  ۱۸/ ۱۰۹)
وقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی مااخرج ابو نعیم وغیرہ عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما القرآن ذلول ذو وجوہ فاحملوہ علی احسن وجوھہ ۱؂
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ ابو نعیم وغیرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا قرآن نرم و آسان ہے مختلف وجوہ والا ہے تو اسے اس کی   سب سے اچھی وجہ پر محمول کرو ۔
 (۱؂الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ ابی نعیم وغیرہ عن ابن عباس النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۴۷ و ۴۴۶ )
رضی اللہ تعالی عنہما کما اخرج ابن ابی حاتم عنہ ان القرآن ذوشجون وفنون وظہور وبطون لاتنقضی عجائبہ ولاتبلغ غایتہ  ۲؂ الحدیث۔
اور سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا جیسا کہ ابن ابی حاتم نے  ان سے روایت کی قرآن مختلف معانی ومطالب اور ظاہر ی وباطنی پہلو رکھتا ہے ، اس کے عجائب بے انتہا ہیں اس کی بلندی تک رسائی نہیں (الحدیث)
 (۲؂الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت  ۲ /۴۶۰)
قال السیوطی قال ابن سبع فی شفاء الصدور  ورد عن ابی الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ انہ قال لایفقہ الرجل کل الفقہ حتی یجعل للقرآن وجوھا ، وقد قال بعض العلماء لکل ایۃ ستون الف فہم۳؂انتہی ملخصا ۔
سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ابن سبع نے شفاء الصدور میں فرمایا کہ ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ آدمی اس وقت تک کامل فقیہ نہیں ہوتا جب تک کہ قرآن کے مختلف وجوہ نہ جان لے ، اور بعض علماء کا قول ہے کہ ہر آیت کے ساٹھ ہزار مفہوم ہیں۔
 (۳؂الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ ابی نعیم وغیرہ عن ابن عباس النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت  ۲ /۴۶۰)
وللہ در الامام البوصیری حیث یقول۔

لہا معان کموج البحر فی مدد 		وفوق جوھرہ فی الحسن والقیم

فلا تعد و لا تحصی عجائبہا 		ولا تسام علی الاکثار بالسام۴؂
اور امام بوصیر ی کی خوبی اللہ ہی کے لئے ہے کہ وہ فرماتے ہیں قرآنی آیات کے وہ معانی کثیر ہیں جیسے سمندر کی موج افزائش میں ، اور وہ حسن وقیمت میں  سمندر کے گہرسے بڑھ کر ہیں تو ان آیتوں کے عجائب کی نہ گنتی ہوسکے نہ شمار  میں آئیں ، اوراس کثرت کے باوجود ان سے اکتا نے کا معاملہ نہیں کیا جاتا ۔
 (۴؂الکوکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ مرکز اہل سنت برکات رضا گجرات ، ہند، ص۴۰)
فثبت بحمد اللہ ان بعض معانیہ لاینافی بعضا ولا یوجب وجہ لوجہ رفضا من جراء ھذا تری العلماء لم یزالو محتجین علی احدالتاویلات ، ولم یمنعہم عن ذلک علمہم بان ھناک وجوھا اخر لاتعلق لہا بالمقام ، وعلام کان یصدھم وقد علموا ان القرآن حجۃ بوجوھہ جمیعا ولیس ھذا لاتفننا وتنویعا ھذا ھوالاصل العظیم الذی یجب المحافظۃ علیہ،
اب بحمد اللہ ثابت ہوا کہ اس قرآن کا کوئی معنی دوسرے کے متنافی نہیں اور کوئی وجہ دوسری وجہ کو چھوڑدینا واجب نہیں کرتی اسی وجہ سے تم دیکھوگے کہ علماء ایک تاویل پر بنائے دلیل رکھتے ہیں اور اس بات سے باز نہیں رکھتا انہیں ان کا یہ علم کہ اس جگہ دوسری وجوہ بھی جن کو ان کے مقصد سے تعلق نہیں ، اور کا ہے کو بازر کھے حالانکہ انہیں خبر ہے کہ قرآن اپنی تمام وجوہ پر حجت ہے اور یہ اختلاف وجوہ تو محض تفنن کلام وتلون عبارت ہے ،
انبانا المولی السراج عن المفتی الجمال عن السنۃ السندی عن الشیخ صالح عن محمد بن السنۃ وسلیمان الدرعی عن الشریف محمد بن عبداللہ عن السراج بن الالجائی عن البدر الکرخی والشمس العلقمی کلھم عن الامام جلال الملۃ و الدین السیوطی قال فی الاتقان ناقلا عن ابن تیمیۃ الخلاف بین السلف فی التفسیر قلیلل وغالب مایصح عنہم من الخلاف یرجع الی اختلاف تنوع الاختلاف تضاد ۔ وذلک صنفان :
ہمیں خبر دی مولی سراج نے مفتی جمال سے انہوں نے سندسندی سے انھوں نے شیخ صالح سے انھوں نے محمد بن السنۃ اور سلیمان درعی سے انہوں نے شریف محمد بن عبداللہ سے انہوں نے سراج بن الالجائی سے انہوں نے بدر کرخی وشمس علقمی سے ، ان سب نے جلال الملۃ والدین سیوطی سے روایت کی کہ انہوں نے اتقان میں ابن تیمیہ سے نقل فرمایا کہ تفسیر میں سلف کے درمیان اختلاف کم ہے اور اکثر اختلاف جو سلف سے ثابت ہے اختلاف طرز  تعبیر کی طرف لوٹتا ہے متضادباتوں کا اختلاف نہیں اور یہ (تعبیروں کا اختلاف ) دو صنف ہے :
Flag Counter