Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
110 - 135
قلت وھذہ معالم التنزلیل للامام البغوی مع سلامۃ حالہابالنسبۃ الی کثیر من التفاسیر المتداولۃ ودنوھا الی المشرع الحدیثی یحتوی علی قناطیرمقنطر ۃ من الضعاف والشواذ والواھیات المنکرۃ وکثیرا ماتدو ر اسانیدھا علی ھولاء المذکور ین بالضعف والجرح کالثعلبی والواحدی والکلبی والسدی ومقاتل وغیرھم ممن قصصنا علیک اولم نقصص فماظنک بالذین لااعتناء لہم بعلم الحدیث ولااقتدار علی نقد الطیب من الخبیث کالقاضی البیضاوی وغیرہ ممن یحذو حذوہ ، فلا تسئل عما عندھم من ابا طیل لازمام لہا ولاخطام دع عنک ھذا یالیتہم اقتصرو ا علی ذلک لکن بعضہم تعدوا ماھنا لک وسلکوا مسالک تجر الی مہالک فادلجوا فی تفسیر القرآن ماتقف لہ الشعر وتنکرہ القلوب وتمجہ الاذن اذقرر واقصص الانبیاء الکرام والملئکۃ العظام علیہم الصلوۃ والسلام بما ینقض عصمتہم وینقص اویزیل عن قلوب الجہال عظمتہم کما یظہر علی ذلک من راجع قصۃ ادم وحواء وداؤد و اوریا وسلیمان والجسد الملقی  والالقاء فی الامنیۃ والغرانقۃ العلی وھاروت و ماروت وما ببابل جری فباللہ التعوذ والیہ المشتکی فاصابھہم فی ذلک ما اصاب اھل السیر والملاحم فی نقل مشاجرات الصحابۃ ، اذجاء کثیر منہا مناقضا للدین وموھنا للیقین وازدارد خنا علی وخن وھنات علی ھنات ان اطلع علی کلامہم بعض من لیس عندہ آثار ۃ من علم ولامتانۃ من حلم فضل و اضل اما اغترارابکلما تہم جھلا منہ بما فیہ من الوبال البعید والنکال الشدید واما ظلما وعلوا لاجتراء ہ بذلک علی ابانۃ مافی قلبہ المرض من تنقیص الانبیاء وتفسیق الاولیاء فمضی علیہ الکبیر و نشاء علیہ الصغیر فاختل دین کثیر من الناقصین وصاروا شرا من العوام العامین اذلم یقدرو ا علی مطالعتہا فنجوا عن فتنتہا وقد بذل علماء نا النصح للثقلین فشد دو االنکیر علی کلا الفریقین اعنی التفاسیر والوھیۃ والسیر الداھیۃ فاعلنو اانکار ھا و بینوا عوارھا کالقاضی فی الشفاء والقاری فی الشرح والخفاجی فی النسیم والقسطلانی فی المواھب والزرقانی فی الشرح والشیخ فی المدارج وغیرھم فی غیرھا رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ، والحمدللہ رب العالمین ، ولقد الان القول ابوحیان اذقال کما نقل الامام السیوطی ان المفسرین ذکرو ا مالا یصح من اسباب نزول واحادیث فی الفضائل و حکایات لاتناسب وتواریخ اسرائیلیۃ ولا ینبغی ذکر ھذا فی علم التفسیر۱؂انتہی ،
میں کہوں گا اور یہ معالم التنزیل ہے جو امام بغوی کی تصنیف ہے ، باوصف یہ کہ بہت سی رائج تفسیروں کے مقابل غلطیوں سے محفوظ ہے اور طرفہ حدیث سے قریب ہے بہت ضعیف و شاذاور واہی منکر روایتوں پر مشتمل ہے اور ایسا بہت ہوتا ہے اس کی روایت کی سندیں ان پر دو رہ کرتی ہیں جن کانام ضعف وجرح کے ساتھ لیا جاتا ہے جیسے ثعلبی ، واحدی ، کلبی ، سدی اور مقاتل وغیرہم جن کا ہم نے تم سے بیان کیا اور جن کا بیان نہ کیا تو تمہارا گمان انکے ساتھ کیساہے جنہیں علم حدیث کا اہتمام نہیں اور ستھرے کو میلے سے الگ کرنے کی قدرت نہیں جیسے قاضی بیضاوی اور ان کے علاوہ جو بیضاوی کے طریقہ  پر چلتے ہیں ، تو ان کے پاس ان باطل اقوال کا حال نہ پوچھو جن کے لئے نہ لگام ہے نہ بندش کی رسی ، اس خیال کو اپنے سے دور رہنے دو ، کاش یہ لوگ اسی پر بس کرتے ، مگر ان میں سے کچھ لوگ اس سے آگے بڑھے اور ایسے رستے چلے جو ہلاکتوں کی طرف کھینچ کرلے جائیں تو انہوں نے قرآن کی تفسیر میں ایسی باتیں داخل کردیں جن سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل انہیں ناپسندکرتے اور کان انہیں پھینکتے ہیں اس لئے انبیاء کرام وملائکہ عظام کے قصوں میں ایسی باتوں کو مقرر رکھا جن سے اس کی عصمت نہیں رہتی او رجاہلوں کے دل مین ان کی عظمت کم ہوجاتی ہے یا زائل ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ یہ بات آدم و حوا وداؤد و اور یا اور سلیمان اور انکی کرسی پرپڑے ہوئے جسم اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تلاوت کے دوران  شیطان کے القاء اور غرانیق عُلی کے واقعات اور ہارو ت ومارو ت اور بابل کا ماجر ا کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے تو اللہ ہی کی پناہ اور اسی سے ان کی شکایت ہے تو ان کو ان باتوں سے وہ مرض لگا جو مصنفین واقعات سیرت ومغازی کو صحابہ کے اختلافات کو نقل کرنے سے لگا اس لئے کہ بہت باتیں دین کے مخالف اور ایمان کو کمزو کرنے والی ان لوگو ں سے ظاہر ہوئیں اور فساد پر فساد اور خطاؤں پر خطائیں یوں بڑھ گئیں کہ ان لوگو ں کے کلام کی اطلاع کچھ ان لوگوں کو ہوگئی جن کے پاس نہ کچھ بچا کھچا علم تھا نہ عقل کی پختگی ، تو وہ خود گمراہ ہوئے اور اوروں کو گمراہ کیا یا تو ان کےکلمات سے دھوکا کر اس کے وبال شدید وسخت عذاب سے بے خبری میں یاظلم وسر کشی کی وجہ اسے اس لئے کہ ان باتوں سے انہیں اس کے اظہار کی جرات ہوئی جو انبیاء کی تنقیص اور اولیاء کی تفسیق ان کے دل میں تھی تو اس پر بڑے گزرے اور چھوٹے پر وان چڑھے اور یہ عامی لوگوں سے بدتر ہوگئےکہ عامیوں کو ان کتابوں کے معالعہ کی قدرت نہ تھی تو وہ ان کے فتنہ سے بچے رہے اور بے شک ہمارے علماء نے دونوں فریقوں کو بھر پور نصیحت کی چنانچہ انہوں نے دونوں فریق کی سخت مذمت کی یعنی واہی تفاسیر اور سیرت کی ناپسندیدہ کتابوں کی تو انہوں نے ان کتا بوں کا ناپسندیدہ ہونا ظاہر کیا اور ان کا عیب کھولا جیسے علامہ قاضی عیاض نے شفا میں اور علامہ خفا جی نے نسیم الریاض میں اور علامہ قسطلانی نے مواہب میں اور علامہ زرقانی نے اس کی شرح میں اور علامہ قاری نے شرح شفا میں اور شیخ (محقق عبد ا لحق محدث دہلوی) نے مدارج میں اور دو سروں نے دوسری تصانیف میں رحمۃ اللہ علیہم اجمعین والحمد للہ رب العلمین ، اور یقینا ابوحیان نے بات کو سہل ونرم کیا کہ انہوں نے کہا جیسا کہ امام سیوطی نے نقل کیا کہ مفسرین نے ایسے اسباب نزول اور فضائل میں وہ حدیثیں ثابت نہں اور نامناسب حکایات اور تواریخ اسرائیل کو ذکر کیا ہے حالانکہ اس کا ذکر تفسیر میں مناسب نہیں ،
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت  ۲/ ۴۶۳)
واعلم ان ھناک اقواما یعتر یہم نزغۃ فلسفیۃ لما افنوا عمر ھم فیہا وظنوھا شیئا شھیا فیولعون بابداء احتمالات بعید ۃ ولولم یکن فیہا حلاوۃ ولا علیہا طلاوۃ حتی ذکر بعضہم فی قولہ تعالی ''وانشق القمر"۱؂ ماتعلقت بہ جہلۃ النصاری واخرون ممن یتلجلجون فی الایمان فیلہجون بکلمۃ الاسلام وفی قلوبہم من بغض النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وانکار معجزاتہ جبال عظام فانا للہ وانا الیہ راجعون ھذ االذی اعیی السیوطی حتی تبرا عنہا کلہا واقتصر علی الارشاد الی تفسیر ابن جریر کما مرنقلہ کما تضجرا الذھبی عن خلاعۃ اکثر السیر و التواریخ فعافھا عن اخر ھا واطمان الی دلائل البیہقی قائلا انہ النور کلہ وقد دبت ھذہ الفتنۃ الصماء والبلیۃ العمیاء الی کثیر من متاخری المتکلمین الذین اشتد عنایتھہم بالتفلسف الخبیث ولم یحصلو ابصیرۃ فی صناعۃ الحدیث حتی انہم یذکرون فی بعض المسائل فضلاعن الدلائل مالیس من السنۃ فی شی وامامابینہم من قیل وقال وکثرۃ السوال و الشبہ والجدال ، فکن حذورا و لاتسئل عن الخیر اوہ علی اللہ الشکوی۔
اور تم جان لو کہ اس جگہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں فلسفی وسوسےآتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے اپنی عمر اس میں فناکی اور اسے مرغوب شے گمان کیا تو ان کو دور ازکاراحتمالوں کو ظاہر کرنے کی لت ہے اگر چہ ان میں شیر ینی ہو نہ ان پر رونق ہو ، یہاں تک کہ کسی نے قول باری تعالی وانشق القمر(اور چاند شق ہوگیا) کی تفسیر میں وہ بات ذکر کی جس سے جاہل نصرانی اور دوسرے وہ لوگ  جوایمان میں ثابت نہیں اس لئے زبان سے کلمہ اسلام پڑھتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عداوت اور ان کے معجزات کے انکار کے بڑے پہاڑ ہیں انا اللہ وانا الیہ راجعون (ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف پھرنا ہے) یہی سبب تھا کہ سیوطی اس درجہ عاجز ہوئے کہ تمام تفسیروں سے بیزاری فرمائی اور صرف تفسیر ابن جریر کی طرف رہنمائی پر بس کیا جیسا کہ اس کی حکایت گزری جس طرح ذہبی سیرت اور تاریخ کی اکثر کتا بوں کی بے شرمی سے پریشان ہوئے تو انہوں نے اول سے آخر تک سب کو چھوڑا اور دلائل بیہقی پر مطمئن ہوئے اور فرمایا وہ سراسر نورہے ، اور یہ شدید فتنہ اور ہمہ گیر بلا بہت سے متاخر متکلمین کی طرف سرایت کر گئی( جن کی زیادہ توجہ خبیث فلسفہ پرتھی) او رانہوں نے فن حدیث میں بصیرت حاصل نہ کی یہاں تک کہ یہ لوگ کچھ مسائل میں چہ جائیکہ دلائل میں وہ باتیں ذکر کرتے ہیں جو باتیں سنت سے نہیں ۔ رہ گیا کو کچھ ان کے درمیان قیل وقال اور کثرت سوال و شبہات وجدال ہیں۔

ان سے بہت ڈرتے رہو اور ان کی حالت نہ پوچھو آہ اللہ ہی سےفریاد ہے۔
 (۱؂القرآن الکریم  ۵۴/۱)
فلقد بلغ الامر الی ان الناظر فی تلک الکتب لایکاد یعرف ان ھذا مما جاء بہ ارسطو و افلاطون اوماجاء بہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد ثقل صنیعہم ھذا علی العلماء المحتمین للدین ان الامام العامل بعلمہ سیدی الشیخ المحقق لما رای ذلک منہم فی مسئلۃ المعراج لم یتمالک نفسہ ان اغلظ القول فیہم الی سماھم ان سماھم ضالین مضلین ولم یکن بدعا فی ذلک بل سبقہ فی اقامۃ الطامۃ الکبری علیہم ائمۃ تشار الیہم بالبنان وتقوم بہم ارکان الایمان کما فصلہ الملاعلی القاری فی شرح الفقہ الاکبر ان شئت فطالعہ فانک اذا رایت ثم رایت عجبا کبیرا ومن ھذا القبیل ما ذکرہ بعضہم فی مشاجرات الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم اذنسب القول بتفسیق کثیر منہم حتی بعض العشرۃ المبشرۃ ایضا الی کثیر من اھل السنۃ والجماعۃ وھم واللہ ماقالوا ولا اذنوا فالحق ان الدین لایقوم الا بالحدیث والحدیث مضلۃ الا للفقیہ والفقہ لایحصل باتباع الشبہ وتحکیم العقل السفیہ نجانا اللہ والمسلمین عن شر الجھل و شر العلم فان شر العلم ادھی وامر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم وانما اطبنا الکلام فی ھذاالمقام حوطا علی السنن وکراھۃ للفتن ان تروج علی المؤمنین او تر عرع الی الدین فیفسد الیقین الا فعض علیہ بالنواجذ فالنصیح غیر مفتون و ایاک ان تخالفہ و ان افتاک المفتون۔
اس لئے کہ نوبت یہا ں پہنچی ان کتابوں کو دیکھنے والا یہ جانتا ہوا نہیں لگتا ہے کہ یہ بات ارسطو اور افلاطون لائے یا یہ وہ ہے جسےمحمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لائے اور ان کا یہ معاملہ دین کےلئے حمیت والے علماء پر شاق گزار یہاں تک کہ امام عالم باعمل سیدی شیخ محقق (عبد الحق محدث دہلوی ) نے مسئلہ معراج میں جب ان کی یہ روش دیکھی تو انہیں اپنے اوپر قابو نہ رہاانہوں نے ان لوگو ں کے بابت سخت کلام فرمایا یہا ں تک کہ انہیں گمراہ و گمراہ گر کانام دیا اور اس میں وہ نت نئے نہیں بلکہ ان سے پہلے ان پر قیامت کبری ان پیشواؤں نے قائم کی جن کی طرف انگلیاں اٹھتی ہیں اور جن سے ایمان کے ستون قائم ہیں جیسا کہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبرمیں میں اس کو مفصل بیان فرمایا ہے تم چاہو تو اس کا مطالعہ کرو اس لئے کہ جب تم اس مقام کو دیکھو گے توبڑی عجیب بات دیکھو گے ، اور اسی قبیل سے وہ ہے جو بعض لوگوں نے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے اختلافات میں ذکر کیا ہے ، کہ انہوں نے ہبت صحابہ کے یہاں تک کہ دس صحابہ مژدہ یافتگان جنت میں سے کچھ کے فسق کا قول بہت سنی علماء کی طرف منسوب کردیا حالانکہ انہوں نے قطعا خدا کی قسم یہ بات نہ کہی نہ کسی کے لئے روارکھی تو حق یہ ہے کہ دین کا نظام تو حدیث سے ہے اور حدیث سے فقیہ کے سوا سب کو گمراہی کا اندشیہ ہے اور فقہ اثبات شبہات اور نادان عقل کو حاکم بنا کر حاصل نہیں ہوتا اللہ تعالی ہمیں اور سب مسلمانوں کو جہل کی شر اور علم کی شر سے بچائے اس لئے کہ علم کی شر بہت سخت اور بہت تلخ ہے اور برائی سے پھرنا اور نیکی کی قدرت اللہ ہی سے ہے جو غلبے والا حکمت والاہے اور ہم نے اس مقام میں کلام طویل سنت کی حفاظت کےلئے اور اس بات کی کراہیت کے سبب کیا کہ فتنے مسلمانوں میں راوج پائیں یا دین کی طرف چلے آئیں تو ایمان بگڑجائے ، سنتا ہے تو اس کو مضبوطی   سے پکڑلو کہ نصیحت پکڑنے والا گمراہ نہیں ہوتا ، اور خبردار اس کی مخالفت نہ کرنا اگر چہ فتوی دینے والے فتوی دیں۔
ایقاظ مہم : اعیذک باللہ ان یستفزک الوھم عن الذی القینا علیک فتفتری علینا غیرہ اویوسوسک قلۃ الفہم انا لا نکترث للتفسیر ولا نلقی لہ بالا ولا نسلم لہ خیرہ وانما المعنی ان غالب الزبر المتد اولۃ لاتسلم من الدخیل وتجمع من الاقوال کل صحیح وعلیل فمجرد حکایتہا لایوجب التسلیم ولایصدالناقد عن نقد السقیم فماھی عندنا اسوء حالامن اکثر کتب الاحادیث اذنعاملہا مرۃ بالترک ومرۃ بالاحتجاج لما نعلم انہا ترد کل مورد فتحمل تارۃ عذبا فراتا وتاتی مرۃ بملح اجاج ، وبالجملۃ فالامر یدور علی نظافۃ الحدیث سندا ومتنا فاینما وجدنا الرطب اجتنینا وان کان فی منابت الحنظل وحیثما راینا الحنظل اجتنبنا وان نبت فی مسیل العسل ۔
ضروری تنبیہ : میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتاہوں اس بات سے کہ تمہیں وہم  اس بات سے ڈگمگادے جو ہم نے تم پر القاء کیا ، توتم ہم پر اس سے جدا بات کا بہتان باندھو یا فہم کی کمی یہ وسوسہ ڈالے کہ ہم تفسیر کی پرواہ نہیں کرتے اور اس کا ہمیں کوئی خیال نہیں اور ہم اس کی اچھی بات بھی نہیں مانتے ، مقصد صرف اتنا ہے کہ اکثر کتب متداولہ دخیل سے محفوظ نہیں اور وہ ہر صحیح وسقیم قول کو اکٹھا کرتی ہین تو ان کتابون میں کسی قول کی مجرد حکایت اس کا مان لینا واجب نہیں کرتی اور پر کھنے والوں کو کھوٹے کی پر کھ سے نہیں روکتی تو یہ ان کتابوں کاحال ہمارے نزدیک حدیث کی اکثر کتابوں سے زیادہ برا نہیں اس لئے کہ ہم ان کے ساتھ کبھی کسی قول کو چھوڑنے اور کبھی کسی کو حجت بنانے کا معاملہ کرتے ہیں یوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ہر گھاٹ پر اترتی ہیں تو کبھی میٹھا پانی اٹھالیتی ہیں او رکبھی سخت کھاری پانی جس سے منہ جل جائے لاتی ہیں ، بالجملہ مدار کا ر حدیث کی نظافت (پاکیزگی) سند و متن کے لحاظ سے ہے تو جہاں کہیں ہم میٹھا پھل پائیں گے اسے چن لیں گے اگرچہ وہ کسی خراب جگہ اگاہواور جہاں کہیں کڑو اپھل دیکھیں گے تو اس کو چھوڈدیں گے اگر چہ وہ شہد کی نہر میں اگاہو۔
ولقد علمت ان اکثر ھذاالداء العضال انمادخل التفاسیر من باب الاعضال وفی امثال تلک المحال اذا لم یعرف السند یؤل الامر الی نقد المقال فما کان منہا یناضل النصوص ویرد المنصوص اوفیہ ازر اء بالرسل والانبیاء اوغیر ذلک ممالا یحتمل علمنا انہ قول مغسول وان کان بریئا من الافات نقیا من العاھات قبلناہ علی تفاوت عظیم بین قبول وقبول ولیس ھذا من باب مانہینا عنہ من الاجتراء علی التفسیر بالاراء ومعاذ اللہ ان نجتری علیہ فان علم التفسیر اشد عسیر ویحتاج فیہ الی ما لیس بحاصل ولا میسر کما قد فصل بعضہ العلامۃ السیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ وکذلک اذا اتانا منہا مافیہ العدول عن ظاہر المدلول وصح ذلک عمن لا یسعنا خلافہ اوکانت ھناک خلۃ لا تنسد الابہ تعین القبول والا فدلالۃ کلام اللہ تبارک وتعالی احق بالتعویل من قال وقیل ھذاالذی قصد فلا تنقص ولا تزد ۔
اور یقینا تمہیں معلوم ہے کہ اس لاعلاج مرض کا بیشتر حصہ تفاسیر میں جہالت سند کے دروازہ سے گھسا اور ایسے مقامات میں جب سند معروف نہ ہو مآل کاربات کو پرکھنا ہے تو جوبات نصوص سے ٹکراتی اور منصوص کورد کرتی ہو یا اس میں رسل وانبیاء کی تنقیص ہو یا اور کوئی بات جو قابل قبول نہ ہو ہم جان لیں گے کہ یہ قول دھو دینے کے قابل ہے اور اگر خرابیوں سے بری ، علتوں سے پاک ہو ہم اسے قبول کرلیں گے باوجودیکہ اسے قبول کرنے میں اور دوسرے قول کو قبول کرنے میں عظیم تفاوت ہے اور تفسیر بالرائے کے باب سے نہیں ہے جس سے ہمیں روکا گیا، اور اللہ کی پناہ اس سے کہ ہم اس پر جرات کریں اس لئے کہ علم تفسیر سخت دشوار ہے اور اس میں اس کی حاجت ہے جو ہمیں حاصل نہیں اور نہ اس کا حاصل ہوناآسان ہے جیسا کہ ان علوم ضروریہ میں سے بعض کی تفصیل علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمائی ہے اور یونہی جب ہمیں ان میں کوئی قول ایسا پہنچے جس میں ظاہر معنی سے عدول ہو اور وہ اس سے ثابت ہو جس کا خلاف ہمیں نہیں پہنچتا یا کوئی حاجت ہو جو ظاہر سے عدول کے بغیر پوری نہ ہو تو اسے قبول کرنا متعین ہے ورنہ کلام الہی کی دلالت قیل وقال سے اعتماد کی زیادہ حقدار ہے یہی ہمارا مقصود ہے تو اس سے نہ کم کرو نہ زیادہ ۔
قال الامام السیوطی قال بعضہم فی جواز تفسیر القرآن بمقتضی اللغۃ روایتان عن احمد وقیل الکراھۃ تحمل علی صرف الایۃ عن ظاہر ھا الی معان خارجۃ محتملۃ یدل علیہا القلیل من کلام العرب ولا یوجد غالبا الافی الشعر و نحوہ ویکون المتبادر خلافہا۱؂ اھ''
امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا : بعض علماء نے فرمایا کہ مقتضائے لغت کے مطابق قرآن کی تفسیر کے جواز میں امام احمد سے دو روایتں ہیں اور کچھ کا قول یہ ہے کہ کراہت اس پر محمول ہے کہ آیت کو اس  کے ظاہری معنی سے پھیر کر ایسے معانی خارجہ محتملہ پر محمول کرے جن پر قلیل کلام عرب دلالت کرتا ہو اور وہ غالبا اور اس کے مثل کلام کے سوا عام بول چال میں نہ پائے جائیں اور ذہن کا تبادر اس کے خلاف ہو  اھ۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۴۴)
وقال عن برھان الزر کشی''کل لفظ احتمل معنیین فصا عدافہوالذی لایجوز لغیر العلماء الاجتہاد فیہ ، وعلیہم اعتماد الشواھد والدلائل دون مجرد الرأی ، فان کان احد المعنیین اظہر وجب الحمل علیہ الاان یقوم دلیل علی ان المراد ھو الخفی ۱؂اھ
اور سیوطی نے برہان سے حکایت کیا : ہر وہ لفظ جو دو یا دو سے زائد معنی کا احتمال رکھے اس میں تو غیر علماء کو اجتہاد جائز نہیں اور علماء کو لازم ہے کہ وہ شواہد ودلائل پر بھروسہ کریں نہ کہ محض رائے پر ، تو اگر دو معنی میں سے ایک ظاہر تر ہے تو اسی پر محمول کرنا واجب ہے مگر یہ کہ دلیل قائم ہو کہ مراد خفی ہی ہے اھ۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۵۳)
Flag Counter