Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
109 - 135
وقال السیوطی بعد ما ذکر تفاسیر القدماء '' ثم الف فی التفسیر خلایق فاختصر وا الاسانید ونقلوا الا قوال بتراً  فدخل من ھنا الدخیل والتبس الصحیح بالعلیل ، ثم صارکل من یسنح لہ قول یوردہ ، ومن یخطر بیالہ شیئ یعتمد ہ ، ثم ینقل ذلک عنہ من یجیئ بعدہ ظانا ان لہ اصلا غیر ملتفت الی تحریرما وردعن السلف الصالح ومن یرجع الیہم فی التفسیر حتی رایت من حکی فی تفسیر قولہ تعالی غیر المغضوب علیہم  ولاالضالین ''نحو عشرۃ اقوال ، وتفسیر ھا بالیہود والنصاری ھو الوارد عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وجمیع الصحابۃ والتابعین و اتباعہم حتی قال ابن ابی حاتم الااعلم فی ذلک اختلافا بین المفسرین ۱؂  (الی ان قال)فان قلت فای التفاسیر ترشد الیہ وتامر الناظر ان یعول علیہ۔
اور سیوطی علیہ الرحمہ نے قدماء کی تفسیروں کا ذکر فرمایا کہ فرمایا: پھر تفسیر میں بہت لوگو ں نے کتابیں تصنیف کیں تو انہوں نے سندوں کو مختصر کردیا اور ناتمام اقوال نقل کئے تو اس وجہ سے دخیل گھسا اور صحٰیح و غیر صحیح مخلوط ہوگئے پھر ہر شخص جس کے دل میں کوئی بات آئی اس کو ذکر کرنے لگا ۔اور جس کے فکر میں جو خطرہ گزرا وہ اس پر اعتماد کرنے لگا ۔ پھر اس کے بعد جو آتا رہا وہ اس کے یہ خیالات نقل کرتا رہا اور اس گمان میں کہ اس کی کوئی اصل ہے ،سلف صالحین اور ان لوگو ں سے جو تفسیر میں مرجع ہیں اور جو وارد ہوا اس کی تحقیق کی طرف توجہ نہ کی یہاں تک کہ میں نے ایسے شخص کو دیکھا جس نے غیر المغضوب علیہم ولاالضالین کی تفسیر میں تقریبا دس قول نقل کئے حالانکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم او رتمام صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے یہی منقول ہے کہ اس سے یہود و نصا ری مراد ہیں یہاں تک کہ ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ مجھے مفسرین کے درمیان اس میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں (یہاں تک انہوں نے کہا) اب اگر تم کہو تو کون سی تفسیر کی طرف آپ رہنمائی فرماتے ہیں اور ناظر کو کس پر اعتماد کا حکم دیتے ہیں۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن  النوع الثمانون   فی طبقات المفسرین   د ار الکتاب العربی بیروت     ۲/ ۴۷۴ و۴۷۵)
قلت تفسیر الامام ابی جعفر بن جریی الطبری الذی اجمع العلماء المعتبرون علی ان لہ یؤلف فی التفسیر مثلہ۲؂الخ۔
میں کہوں گا تفسیر امام ابو جعفر بن جریر طبری کی تفسیر معتمد علماء نے جس کے لئے بالاتفاق فرمایا کہ تفسیر میں اس کی جیسی کوئی تالیف نہیں ہوئی الخ۔
 (۲؂ الاتقان فی علوم القرآن النور الثمانون فی طبقات المفسرین دار الکتاب العربی بیروت   ۲/ ۴۷۶)
وفی المقاصد البر ھان والاتقان غیرھا عن الامام اجل احمد بن حنبل رضی ا للہ تالی عنہ قال ثلثہ لیس لہا اصل المغازی والملاحم والتفسیر ۳؂ اھ
اور مقاصد، برہان اور اتقان وغیرہ میں امام اجل احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:تین کتابوں کی کوئی اصل نہیں ، کتب سیرو غزوات وتفسر  اھ۔
 (۳؂الاتقان فی علوم القرآن     النوع الثامن  والسبعون          دار الکتاب العربی بیروت     ۲ /۴۴۰)
قلت وھذا ان لم یکن جاریا علی اطلاقۃ لما(عہ) یشہد بہ الواقع الا انہ  لم یقلہ ما لم یر  الخلط غالبا علیہا کمالا یخفی وھذا فی زمانہ فیکف بما بعدہ وفی مجمع بحار الانوار عن رسالۃ ابن تیمیۃ ''وفی التفسیر من ھذہ الموضوعات کثیرہ کما یرویہ الثعلبی والواحدی والزمخشری فی فضل السور والثعلبی فی نفسہ کان ذاخیر ودین لکن کان حاطب لیل ینقل ماوجد فی کتب التفسیر من صحیح وضعیف وموضوع والواحدی صاحبہ کان ابصر منہ بالعربیۃ لکن ھو ابعد عن اتباع السلف ، والبغوی تفسیرہ مختصر من الثعلبی لکن صان تفسیرہ عن الموضوع والبدع  ۱؂اھ،

وفیہ عن جامع البیان لمعین بن صیفی قد یذکرمحی السنۃ البغوی فی تفسیرہ من المعانی والحایات ما اتفقت کلمۃ المتاخرین علی ضعفہ بل علی وضعہ۲؂ اھ

وفیہ عن الامام احمد رحمۃ اللہ تعالی انہ قال فی تفسیر الکلبی من اولہ الی اخرہ کذب لایحل المنظر فیہا ۱؂اھ
عہ : لعلہ کما۔ الازہری غفرلہ
میں کہتا ہوں اگر چہ یہ بات اپنے اطلاق پر جاری نہیں جیسا کہ کہ واقعہ اس کاگواہ ہے مگر یہ بات یقینی ہے کہ امام احمد نے یہ بات نہ کہی جب تک ان کتابوں میں صحیح وسقیم کے خلط کا غلبہ نہ دیکھ لیا جیسا کہ ظاہر ہے اور یہ تو ان کے زمانہ میں تھا تو ان کے بعد کیسی حالت ہوئی ہوگی ۔ اور مجمع بحار الانوار میں رسالہ ابن تیمییہ سے منقول ہے اور تفسیر میں ان موضوعات سے بہت ہے جیسے وہ حدیثیں جو ثعلبی اور واحدی اور زمخشری سورتوں کی فضیلت میں روایت کرتے ہیں اور ثعلبی اپنی صفات میں صاحب خیر و دیانت تھے ، لیکن رات کے لکڑہارے کی طرح تھے کہ تفسیر کی کتابوں میں صحیح ، ضعیف، موضوع جو کچھ پاتے نقل کردیتے تھے ، اور ان کے ساتھی واحدی کو عربیت میں ان سے زیادہ بصیرت تھی لیکن وہ سلف کی پیرو ی سے بہت دور تھا،اور بغوی کی تفسیر ثعلبی کی تلخیص ہے ،لیکن انہون نے اپنی تفسیر کو موضاعات اور بد عتوں سے بچایاہے اور اسی میں جامع البیان مصنفہ معین بن صیفی سے ہے '' کبھی محی السنۃ بغوی اپنی تفسیر میں وہ مطالب و حکایات ذکر کرتے ہیں جسے متاخرین نے یک زبان ضعیف بلکہ موضوع کہا ہے ، اور اسی میں امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا : تفسیر کلبی میں شروع ہے آخرتک جھوٹ ہے اس کا مطالعہ حلال نہیں اھ۔
 (۱؂ مجمع بحار الانوار     نوع فی تعیین بعض الوضاع وکتبہم         مکتبہ دار الایمان مدینۃ المنورۃ   ۵ /۲۳۱)

(۲؂مجمع بحار الانوار نوع فی تعیین بعض الوضاع وکتبہم مکتبہ دار الایمان مدینۃ المنورۃ      ۵ /۲۳۱)

(۱؂مجمع بحار الانوار نوع فی تعیین بعض الوضاع وکتبہم مکتبہ دار الایمان مدینۃ المنورۃ      ۵ /۲۳۰)
وقد عد الخلیل فی الارشاد اجزاء قائل من التفسر صحت اسانید ھا وغالبھا بل کلہا لا توجد الان اللھم الانقول عنہا فی اسفارالمتاخرین ''قال وھذہ التفاسیر  الطوال التی اسندوھا الی ابن عباس غیر مرضیۃ ورواتھا مجاھیل کتفسیر جو یبر عن  الضحاک عن ابن عباس ۲؂الخ۔ وقال فاما ابن جریج فانہ لم یقصد الصحۃ وانما روی ماذکر فی کل ایۃ من الصحیح والسقیم ، وتفسیر مقاتل بن سلیمان فمقاتل فی نفسہ ضعفو ہ وقد ادرک الکبار من التابعین والشافعی اشار الی ان تفسیرہ صالح ۳؂۔
اور بے شک خلیلی نے ارشاد میں تھوڑے تفسیر کے جزا یسے شمار کئے جن کی سندیں صحیح ہیں اور ان کا اکثر بلکہ چند نقول ان کی متاخرین کی کتابوں مین ہیں ، ابن تمییہ نے کہا اور یہ لمبی تفسیر یں جن کی نسبت لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کی ہے ناپسندیدہ ہیں اور اس کے راوی مجہول ہیں جیسے تفسیر جویبر بر وایت ضحاک عن ابن عباس الخ۔ اور کہا  رہے ابن  جریح تو انہوں نے صحیح روایتوں کا قصد نہ کیاانہوں نے ہر آیت کی تفسیر میں جو کچھ صحیح وسقیم مذکورہو ا روایت کردیا ۔ اور مقاتل بن سلیمان کا علماء نے فی نفسہ ضعیف بتایا حالانکہ انہوں نے اکابر تابعین سے اور امام شافعی سے ملاقات کی یہ اشارہ ہے کہ ان کی تفسیر لائق قبول ہے اھ۔
 (۲؂ الاتقان فی علم القرآن      بحوالہ الخلیلی      النوع الثمانون         دار الکتاب العربی بیروت  ۲/ ۴۷۰)

(۳؂ الاتقان فی علم القرآن بحوالہ الخلیلی النوع الثمانون دار الکتاب العربی بیروت      ۲ /۴۷۱)
قال المولی السیوطی قدس اللہ سرہ واوھی طرقہ ( یعنی تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ) طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس فان انضم الی ذلک روایۃ محمد بن مروان السدی الصغیر فھی سلسلۃ الکذب وکثیر ا مایخرج منہا الثعلبی والواحدی ،  ولکن قال ابن عدی فی الکامل للکلبی احادیث صالحۃ وخاصۃ عن ابی صالح وھو معروف بالتفسیر ولیس لاحد نفسیر اطول منہ ولا اشبع ، وبعدہ مقاتل بن سلیمان الا ان الکلبی یفضل علیہ لما فی مقاتل من المذاھب الردیئۃ وطریق الضحاک بن مزاحم عن ابن عباس منقطعۃ فان الضحاک لم یلقہ فان انضم الی ذلک روایۃ بشربن عمارۃ عن ابی روق عنہ فضعیفۃ لضعف بشر ، وقد اخرج من ھذہ النسخۃ کثیرا ابن جریر وابن ابی حاتم ، وان کان من روایۃ جویبر عن الضحاک فاشد ضعفا لان جویبرا شدید الضعف متروک ۱؂ الخ ۔ قال ورایت عن فضائل الامام الشافعی لابی عبد اللہ محمد بن احمد بن شاکر القطان انہ اخرج بسند ہ من طریق بن عبد الحکم قال سمعت الشافعی یقول لم یثبت عن ابن عباس فی التفسیر الاشبیہ بمائۃ حدیث ۱؂
امام سیوطی قدس سرہ نے فرمایا اورتفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی سب سے کمزور سند کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس سے پھراگر اس کے ساتھ محمد بن مروان  سدی صغیر کی روایت مل جائےتو یہ جھوٹ کا سلسلہ ہے ،  او رایسا بہت ہوتا ہے کہ ثعالبی اور واحدی اس سلسلہ سےروایت کرتے ہیں ۔ لیکن ابن عدی نے کامل میں فرمایا کلبی کی احادیث قابل قبول ہیں اور خصوصا ابو صالح کی روایت سے اور وہ تفسیرکے سبب معروف ہیں اور کسی کی تفسیر ان سے زیادہ طویل اور بھر پور نہیں ، اور ان کے بعد مقاتل بن سلیمان ہیں ، مگر کلبی کو ان پر اس لئےفضیلت ہے کہ مقاتل کے یہاں ردی خیالات ہیں ، اور سند ضحاک بن مزاحم عن ابن عباس منقطع ہے اس لئے کہ ضحاک نے ابن عباس سے ملاقات نہ کی ، پھر اگر اس کے ساتھ روایت بشر بن عمارہ عن ابی روق مل جائے تو بوجہ ضعف بشر ضعیف ہے ، اس نسخہ سے بہت حدیثیں ابن جریر اور ابن حاتم نے تخریج کیں اور اگر جوبیر کی کوئی روایت ضحاک  سے ہو تو سخت ضعیف ہے اس لئے کہ جوبیر شدید الضعف متروک ہے ، انہوں نے کہا اور میں نے فضائل امام شافعی مصنفہ ابو عبداللہ محمد بن احمد بن شاکر قطان میں دیکھا کہ انہوں نے اپنی سند بطریق ابن عبدالحکم روایت کیا کہ ابن عبد الحکم نے فرمایا میں نے امام شافعی کو فرماتے سنا کہ ابن عباس ( رضی اللہ تعالی عنہ )کی تفسیر میں تقریبا سو حدیثیں ثابت ہیں۔
 (۱؂ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثمانون دار الکتاب العربی بیروت    ۲/ ۴۷۱ و ۴۷۲)

(۱؂ الاتقال فی علوم القرآن النوع الثمانون دار الکتاب العربی بیروت   ۲/ ۴۷۲)
Flag Counter