| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی) |
المقدمۃالثانیۃ : لیس کل مایذکر فی اکثر التفاسیر المتداولۃ واجب القبول وان لم یسا عدہ معقول ویؤیدہ منقول ، والوجہ فی ذلک ان التفسیر المرفوع وھو الذی لامحیص عن قبولہ ابدا نذر یسیر جدا لایبلغ المجموع منہ جزء اوجزئین۔
دوسرا مقدمہ : بہت سی متداول تفسیروں میں جو مذکورہوتا ہے وہ سب ایسا نہیں جس کا قبول کرنا ضروری ہو اگر چہ نہ کوئی دلیل عقلی اس کی معین ہو نہ کوئی دلیل شرعی اس کی موید ہو ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر مرفوع ( جو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمائی ) وہ بہت تھوڑی ہے جس کا مجموعہ دو جز بلکہ ایک جز کو بھی نہیں پہنچتا ۔
قال الامام الجوینی علم التفسیر عسیر یسیر اما عسرہ فظاھر من وجوہ اظہر ھا انہ کلام متکلم لم یصل الناس الی مرادہ بالسماع منہ ، ولا امکان للصول الیہ بخلاف الامثال والاشعار ونحوھا فان الانسان یمکن علمہ منہ اذاتکلم بان یسمع منہ اوممن سمع منہ ، واما القرآن فتفسیرہ علی وجہ القطع لایعلم الابان یسمع من الرسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وذلک متعذر الا فی ایات متعددۃ قلائل ، فالعلم بالمراد یستنبط بامارات ودلائل ،والحکمۃ فیہ ان اللہ تعالی اراد ان یتفکر عبادہ فی کتاب ، فلم یامر نبیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالتنصیص علی المراد فی جمیع آیاتہ ۱ اھ
امام جو ینی کا قول ہے علم تفسیر مشکل اور کم ہے ، اس کا مشکل ہونا تو کئی وجوہ سے ظاہر ہے ، ان میں روشن تروجہ یہ ہے کہ وہ ایسے متکلم (عزجلالہ) کا کلام ہے جس کی مراد کو لوگ اس سے سن کر نہ پہنچے اور نہ اس کی طرف رسائی کا امکان ہے بخلاف امثال واشعار اور ان جیسی اور باتون کے کہ انسان کو بولنے والے کی مراد معلوم ہوسکتی ہے جب وہ بولے بایں طور کہ وہ اس سے خود سنے یا اس سے سنے جس نے اس سے سنا ہو ۔ رہی قرآن کی قطعی طور پر تفسیر تو وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنے بغیر معلوم نہ ہوگی اور وہ (جو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا گیا )چند گنتی کی آیتوں کے ماسوا میں تعذر ہے تو مرد الہی کا علم امارات ودلائل سے مستخرج ہوتا ہے اور حکمت اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالی نے چاہا کہ اس کے بندے اس کی کتاب میں غور وفکر کریں لہذا اپنے نبی (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کو اپنی تمام آیات کی مراد واضح طور پر بتانے کا حکم نہ دیا اھ
(۱ الاتقان بحوالہ الجوینی فصل الحاجۃ الی التفسیر دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۳۰)
وقال الامام الزرکشی فی البرھان للناظر فی القرآن لطلب التفسیر ماخذ کثیرۃ امہاتھا اربعۃ الاول النقل عن رسول اللہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم وھذا ھوالطراز الاول لیکن یجب الحذر من الضعیف فیہ والموضوع فانہ کثیر ۲الخ۔
اور اما م زرکشی نے برہان میں فرمایا جو شخص قرآن میں تفسیر کے حصول کیلئے نظر کرتا ہے اس کے لئے بہت سے مراجع ہیں جن کے اصول چار ہیں ، اول وہ تفسیر جو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے منقول ہو اور یہی پہلا نمایا ں طریقہ ہے ، لیکن اس میں ضعیف وموضوع سے احتراز واجب ہے اس لئے کہ وہ ( ضعیف وموضوع ) زیادہ ہے الخ ۔
(۲ البرہان فی علوم القرآن فصل فی امہات ماخذ التفسیر للناظر فی القرآن دار الفکر بیروت ۲/ ۱۵۶)
قال الامام السیوطی الذی صح من ذلک قلیل جدا بل اصل الوضوع منہ فی غایۃ القلۃ ،وکذلک الماثور عن الصحابۃ الکرام و التابعین لہم باحسان قلائل لہذہ الطوامیر الکبروالا قاویل الذاھبۃ شذر مذر فیہا لاخبر ولا اثر و انما حدثت بعدھم لما کثرت الاراء و تجاذبت الاھواء قام کل لغوی و نحوی وبیانی وکل من لہ مما رسۃ بشیئ من انواع علوم القرآن یفسر الکلام العزیز بما سمح بہ فکرہ وادی الیہ نظرہ ثم جاء الناس مہر عین وبجمع الاقوال مولعین فنقلوا ما وجدوا وقلیلا مانقد وا فعن ھذا جاء ت کثرہ الاقاویل ختلاط الصواب بالا باطیل ۔
امام سیوطی نے فرمایا جو ان کی طرف سے صحیح ہے وہ بہت کم ہے بلکہ اس میں اصل موضوع قلت ہی ہے ۔اور اسی طر ح وہ تفسیر جو صحابہ کرام اور ان کے تابعین نیکو کار سے منقول ہے وہ ان بڑے طوماروں اور ان اقوال کے مقابل کم ہیں جو مختلف راہوں میں چلے گئے اور ان کے لئے کوئی حدیث یا صحابی وتابعی کا قول نہیں ، یہ اقوال تو صحابہ وتابعین کے بعد ظاہر ہوئے ۔ جب خیالات بسیار ہوئے اور مذاہب میں کشاکش ہوئی تو ہر لغوی ہر نحوی اور ہر عالم بلاغت اور ہر وہ شخص جسے علوم قرآن کی قسموں سے کسی قسم کے علم کی ممارست تھی اس کلام سے کلام عزیز کی تفسیر کرنے لگا جو اس کی سمجھ تک تھا اور جس کی طرف اس کی نظر پہنچی۔ پھر لوگ رواں دواں اقوال کو جمع کرنے کے سائق ہوئے تو جوانہوں نے پایا اسے نقل کردیا اور تحقیق کم کی تو اسی سے اقوال کی کثرت اور حق کی ناحق سے آمیز ش آئی ۔
وذکر ابن تیمیۃ کما نقلہ الامام السیوطی قائلا انہ نفیس جدا لذلک وجہین، احدھما قوم اعتقدوا معانی ، ثم ارادو ا حمل الفاظ القرآن علیہا ۔ والثانی قوم فسروا القرآن بمجرد مایسوغ ان یریدہ من کان من الناطقین بلغۃ العرب من غیر نظر الی المتکلم بالقرآن والمنزل علیہ المخاطب بہ ، فالا ولون راعوا المعنی الذی رأوہ من غیر نظر الی ما یستحقہ الفاظ القرآن من الدلالۃ والبیان ۔ والاخرون راعوامجرد اللفظ و مایجوز ان یرید بہ العربی من غیر نظم الی ما یصلح للمتکلم وسیاق الکلام ۔ ثم ھوالاء کثیرا ما یغلطون فی احتمال اللفظ لذلک المعنی فی اللغۃ کما یغلط فی ذلک الذین قبلہم کما ان لاولین کثیر اما یغلطون فی صحۃ المعنی الذی فسروا بہ القرآن کما یغلط فی ذلک الاخرون وان کا ن نظر الاولین الی المعنی اسبق ونظر الاخرین الی اللفظ اسبق ، والا ولون صنفان نارۃ یسلبون لفظ القرآن مادل علیہ واریدبہ وتارۃ یحملونہ علی ما لم یدل علیہ ولم یردبہ ، وفی کلا الامرین قد یکون ماقصد وا نفیہ اواثباتہ من المعنی باطلا فیکون خطاھم فی الدلیل والمدلول وقد یکون حقا فیکون خطاھم فیہ فی الدلیل لا فی المدلول (الی ان قال) وفی الجملۃ من عدل عن مذاھب الصحابۃ والتابعین وتفسیرھم الی ما یخالف ذلک کان مخطئا فی ذلک بل مبتدعا لانہم کانوا اعلم بتفسیرہ ومعانیہ کما انہم اعلم بالحق الذی بعث اللہ بہ رسولہ ۱ اھ ملخصا۔
اور ابن تمییہ نے جیسا کہ امام سیوطی نے اس کا کلام یہ کہہ کر نقل کیا کہ وہ بہت نفیس ہے اس کی دو وجہیں ذکر کیں : پہلی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ معانی کو عقیدہ ٹھہرالیا ، پھر انہوں نے قرآن کے الفاظ کو ان پر رکھنا چاہا ۔ اور دوسری وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کی تفسیر محض ان الفاظ سے کی جو کسی عربی زبان بولنے والے کی مراد ہوسکتے ہیں انہوں نے قرآن کے متکلم (باری تعالی) اور جس پر اترا اور جو اس کا مخاطب ہے کی طرف نظر نہ کی تو پہلی جماعت نے تو اس معنی کی رعایت کی جو ان کا عقیدہ تھا ، انہوں نے قرآن کے الفاط کے دلالت اور بیان جس کے وہ الفاظ سز اوار ہیں کہ نطر انداز کردیا ۔ اور دوسروں نے صرف لفظ او رجو عربی کی مراد ہوسکتا ہے اس کا لحاظ کیا قطع نطر اس سے کہ متکلم کے شایان کیا ہے اور سیاق کلام کیا ہے ۔ پھر یہ لوگ بسا اوقات لغت کے اعتبار سے لفظ کے اس معنی کو (جو انہوں نے مراد لئے ) محتمل ہونے میں خطا کرتے ہیں جیسا کہ ان کے پہلے والے بھی یہی غلطی کرتے ہیں جس طر ح یہ اگلے اسی معنی کی صحت میں غلطی کرتے ہیں جس سے انہوں نے قرآن کی تفسیر کی جیسا کہ دوسرے لوگ یہی خطا کرتے ہیں اگر چہ پہلے والوں کی نظر معنی کی طرف پہلے پہنچتی ہے اور دوسروں کی نظر لفظ کی طرف سبقت کرتی ہے اور پہلی جماعت دوصنف ہے کبھی تو لفظ قرآن سے اس کا مدلول ومراد چھین لیتے ہیں اور کبھی لفظ کو اس پر رکھتے ہیں جو اس کا معنی و مطلب نہیں اور دونوں باتوں میں کبھی وہ معنی جس کی نفی اثبات ان کا مقصود ہوتی ہے باطل ہوتا تو ان کی خطا لفظ و معنی دونوں میں ہوتی ہے اور کبھی حق ہوتا ہے تو ان کی خطا لفظ میں ہوتی ہے نہ کہ معنی میں ۔ ( ابن تمیہ نے یہاں تک کہا) مختصر یہ کہ جو صحابہ وتابعین اور ان کی تفسیر سے پھر کر ان کا خلاف اختیار کرے گا وہ اس میں بر سر خطا ہوگا بلکہ بد مذھب ہوگا اس لئے کہ صحابہ وتابعین کو قرآن کی تفسیر اس کے مطالب کا علم سب سے زیادہ تھا ، جس طر ح انہیں اس حق کی جس کے ساتھ اللہ نے اپنے رسول کو بھیجا خبر سب سے زیادہ تھی اھ ملخصا ۔
(۱ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲/ ۴۴۱ و ۴۴۲)
ولذا قال الامام ابو طالب طبری فی اوائل تفسیرہ فی القول فی آداب المفسر ، ویجب ان یکون اعتمادہ علی النقل عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وعن اصحابہہ ومن عاصرھم ویتجنب المحدثات ۱ الخ۔ قال ابن تمیۃ ایضا کان النزاع بین الصحابۃ فی تفسیر القرآن قلیلا جد اوھو (و) ان کان بین التابعین اکثر منہ بین الصحابۃ فہو قلیل بالنسبۃ الی مابعد ھم۲الخ۔
اور اسی لئے امام ابو طالب طبری نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں آداب مفسر کے بیان میں فرمایا کہ ضروری ہے کہ مفسر کا اعتماد اس پر ہو جو نبی سلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین سے منقول ہے اور نئی باتوں سے بچے ۔ نیز ابن تمیہ کا قول ہےصحابہ کے درمیان قرآن کی تفسیر میں بہت کم اختلاف تھا اور تابعین میں اگر چہ اختلاف صحابہ سے زیادہ ہو امگر ان کے بعد والوں کی بہ نسبت تھوڑا تھا ،
(۱ الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۴۳۵) (۲الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ ابن تمییہ النوع الثامن والسبعون دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۴۳۷)