Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
107 - 135
والفرقہ الاخری تدعی تفضیل سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہما وکان ملحظہم وان لم یعط ففضہم قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  فیہ اب عم الرجل صنو ابیہ ، وھو حدیث احسن اخرجہ الترمذی۱؂وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ولاشک انہ رضی اللہ تعالی عنہ شیخ المسلمین وسیدھم ومقدمہم وقائد ھم وعزنفوسہم وتاج رؤسہم حتی الخلفاءالاربعۃ من ھذا الوجہ کما ان حضرۃ البتول الزھراء واخاھا السید الکریم ابراھیم علی ابیھما وعلیہما الصلوۃ التسلیم افضل الامۃ مطلقا من جہۃ النسب واجزائیۃ وکرامۃ الجوہر والطینۃ۔
اور دوسرافرقہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہما کو سب سے افضل کہتا ہے ، گویا انکے مد نظر اگرچہ ان کی مراد نہیں دیتا اس بارے میں حضور صلی اللہ تعالی عنہ کا عباس رضی اللہ تعالی عنہ  کے بابت قول ہے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے ۔ اور یہ حدیث حسن ہے جسے ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ اور کچھ شک نہیں کہ حضرت عباس رضی ا للہ تعالی عنہ شیخ المسلمین ہیں اور ان کے سردار ہیں اور ان کے صدر وقائد اور ان کی آبر واوران کے سر وں کا تاج ہیں ۔اس وجہ سے چاروں خلفاء پر بھی انہیں فضیلت ہے ۔ جیسے حضرت فاطمہ زہر اور ان کے بھائی سید ابراہیم ان کے ولد اور ان پر صلوۃ وسلام ہو ، روئے نسب وجزئیت وکرامت جوہر وطینت تمام امت سے افضل ہیں ۔
 (۱؂جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عم النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم العباس امین کمپنی دہلی  ۲/ ۲۱۷)
وبالجملہ فلا یتعین احد من الشقوق الاربعۃ الابابطال الثلثۃالباقیۃ جمیعا فکیف قلتم ان الایۃ لما لم تلتئم علی علی تعین ابوبکر مصد اقالہا علی ان المسائل السمعیۃ لاتنال الامن قبل السمع۔
بالجملہ ان چار شقون سے کوئی شق باقی تین وجوہ کو باطل کئے بغیر متعین نہیں ہوگی تو آپ نے کیونکر فرمایا کہ آیت کریمہ جب علی پر صادق نہ آئی تو ابوبکر اس کا مصداق متعین ہوئے علاوہ اس کے مسائل سمعیہ دلیل سمعی ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔
فالناظر المتفحص الامذھب لہ قبل ان ینظر فی دلیل فیظہر لہ سبیل فان کان تمام الدلیل موقوفا علی (التمذھب) بمذھب لزم الدور وھذ انظیر ما اجبنا بہ عن استدلال الائمۃ الشافعیۃ علی افتراض الترتیب فی الوضوء بد خول الفاء علی الوجوہ وعدم القائل بالفصل کما ھو مذکور فی الخلافیات۔
تو صاحب نظر وجستجو کا کوئی مذہب اس سے پہلے نہیں ہوتا کہ وہ دلیل میں غور کرے تو کوئی راہ اس کو روشن ہوجائے تو اگر دلیل کا تام ہونا کسی مذہب سازی پر موقوف ہوتو دور لازم آئے گا اور یہ اس جواب کی نظیر ہے جو ہم نے ائمہ شافعیہ کی اس دلیل کے جواب میں کہا جو انہوں نے وضو میں فرضیت ترتیب پر آیت کریمہ میں وجوہ پر دخول فاء اور قائل بالفصل کے معدوم ہونے سے قائم کی جیسا کہ خلافیات میں مذکور ہے ۔
اقول : والجواب عنہان مستند نا الاول الذی علیہ المعول فی ھذ الباب اجماع الصحابۃ والتابعین لہم بالحسان رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کما نقلہ الامام الشافعی ثم البیہقی ثم اخرون ودلت علیہ احادیث عند البخاری وغیرہ کما فصلتہ فی الکتاب واقمت الدلیل الجلیل علی ان الاجماع تام کامل لم یثبت شذ وذمنہ ولاندور ، وان الخلاف الذی ذکرہ ابو عمر بن عبدالبر فلیس مما یعرج علیہ اویلتفت الیہ الا روایۃوالادرایۃ وان سلمنافالسواد االعظم مبتوع واتباع الشاذ ممنوع ، وھذا القدر یکفینا للتمذھب فانتفی الدور نعم حدیث الفرقتین قوی صحیح لیکن لا یخل بالمقصود فان عمر و عباسا رضی اللہ تعالی عنہما لم یکونا سلما حین نزول الایۃ کما یظہر بالرجوع الی التاریخ ، فلم یقصدا بالایۃ قطعا وبہ بطل الشقان الباقیان واٰل الدلیل الی الاحصان والارصان والحمد للہ ولی الاحسان غایۃ الامر ان الفاضل المستدل لم یطلع ھذین القولین اولم یعتد بہما لتنا ھیہما فی السقوط والشذوذعلی أنا بحمد اللہ بعد ما ثبت الاجماع علی ان الصدیق ھو المراد فی غنی عن ھذہ التجشمات کما لا یخفی اذا ثبت ھذا فنقول وصف اللہ سبحنہ وتعالی الصدیق بانہ اتقی و صف الاتقی بانہ الکرم انتجت المقدمتان ان الصدیق اکرم عند اللہ تعالی والافضل والاکرم والارفع درجۃ والاعلی مکانۃ کلہا الفاظ معتورۃ علی معنی واحد ، فثبت الفضل المطلق الکلی للصدیق واللہ تعالی ولی التوفیق ، ھذا تقریر الدلیل بحیث یشفی العلیل ویروی الغلیل والحمد للمولی الجلیل واعلم ان ھذا الاحتجاج اطبقت علیہ کلمات العلماء سلفا وخلفا وار تضوہ وتلقوہ بالقبول تلیدا و طارفا ولا شک انہ لجدیر بذلک لکن المفضلۃ لہم کلام فیہ بثلثۃ وجوہ نذکر ھا نرد ھا بحیث لایبقی ولا یذر بتوفیق اللہ العلی الاکبر ۔
میں کہتا ہوں اور اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس بات میں ہماری اولین سند جس پر ہمارا اعتماد ہے جملہ صحابہ اور اچھے طریقے پر ان کے تمام پیر وان کا تابعین کا اجماع ہے جیسا کہ امام شافعی پھر بیہقی پھر دیگرائمہ نے اسے نقل کیا اور اس پر بخاری وغیرہ کی احادیث دلالت کرتی ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب میں مفصل بیان کیا ہے اور اس امر  پر میں نے دلیل جمیل قائم کی کہ اجتماع تام کا مل ہے اور اس سے کسی کا خلاف ثابت نہیں اور یہ کہ جو خلاف علامہ ابوعمر بن عبدا لبر نے ذکر کیا نہ روایت کے لحاظ سے نہ درایت کے لحاظ سے وہ اس قابل ہے کہ نظراس پر گزرے یا اس کی طرف مڑکے دیکھا جائے ۔ اور اگر ہم مان لیں تو سواد اعظم ہی کی اتباع ہوگی اور شاذ ونادر کی اتباع ممنوع ہوگی اور اتنی بات ہمیں مذہب قرار دینے کو کافی ہے تو دور نہ رہا ، ہا ں ان دوفرقوں کی (جو حضرت عمر وعباس کی فضلیت پاتے ہیں) حدیث قوی وصحیح ہے ، لیکن مقصود میں خلل انداز نہیں اس لئے کہ عمر و عباس آیت کے نزول کے وقت مسلمان نہ تھے ، جیساکہ مطالعہ تاریخ سے ظاہر ہے ، تو یہ دونوں قطعی آیت کے مقصود ہی نہ ہوئے ، اور اسی وجہ سے باقی دو شقیں باطل ہوگئیں اور آخر کار  دلیل مضبوط ومستحکم رہی، اس معاملہ کی نہایت کا ریہ کہ فاضل مستد ل کو تو ان دونوں مذہبوں کا علم نہ ہوا یا اس وجہ سے کہ سقوط وندرت میں حد کو پہنچے ہونےکی وجہ سے انہیں شمار ہی نہیں فرمایا ، مزید برآں  بحمد اللہ اس پر اجماع کہ صدیق ہی مراد آیت ہیں کہ ثابت ہونے کے بعد ہم ان تکلفات سے بے نیاز ہیں ، جیسا کہ ظاہر جب یہ بات ثابت ہوچکی تو ہم کہتے ہیں اللہ تعالی نے صدیق کا وصف بیان فرمایا کہ وہ اتقی ہیں اور اتقی کا وصف بتایا کہ وہ اکرم ہے ان دو مقدموں نے نتیجہ دیا کہ صدیق اللہ تعالی کے نزدیک اکرم (سب سے افضل )ہیں اور افضل اکرم اور ارفع درجۃ اور اعلی منزلۃ یہ سب الفاظ ایک ہی معنی پر صادق آتے ہیں ، لہذا فضل مطلق کلی صدیق کیلئے ثابت ہے اور اللہ تعالی ہی تو فیق کا مالک ہے اور تم جان لو کہ اس استدلال پر جملہ علماء سلف وخلف کا اتفاق ہے اور سب نے اسے پسند کیا اور قبول کے ہاتھوں لیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ یہ اس کے قابل ہے ،لیکن تفضیلیہ کو اس میں تین وجوہ سے کلام ہے ہم ان وجہوں کو خدائے بزرگ و بر تر کی توفیق کے سہارے ذکر کرتے ہیں اور ان کا ایسا رد کرتے جو کوئی شبہ باقی نہ چھوڑے اور کوئی شک نہ رہے ۔
فنقول الشبہۃ الاولی ان من المفسر ین من فسر الاتقی بالتقی کمافی المعالم والبیضاوی وغیرھما من التفا سیر فسقط الاحتجاج عن اصلہ اقول ولا علینا ان نمھد اولا مقدمات تعینک ان شاء اللہ تعالی فی الجواب عن ھذا الاتیاب ثم نرفع الحجاب عن وجہ الصواب بتوفیق العلیم الوھاب فاستمع لما یلقی علیہ ۔
ہم کہتے ہیں کہ پہلا شبہہ یہ ہے کہ بعض مفسرین نے اتقی کی تفسیر تقی (صفت مشبہ جس میں فضیلت دوسرے پر ملحوظ نہٰیں کہ صرف تقوی سے اتصاف ہے ) سے کی جیسا کہ معالم وبیضا وی وغیرہما تفاسیر میں ہے تو استدلال جس کی بنیا د اتقی کے اسم تفضیل ہونے پر تھی ) جڑ سے اکھڑا پڑا ، میں کہتا ہوں ہمارا کوئی حرج نہیں اس میں کہ ہم پہلے کچھ ایسے مقدمات کی تمہید اٹھائیں جو جواب میں ان شاء اللہ تعالی تمہاری مدد کریں پھر ہم خدائے دانا وبخشندہ کی تو فیق کے سہارے چہرہ صواب سے حجاب اٹھائیں تو سنو جو تم سے کہا جائے۔
المقدمۃ الاولی ماتظافرت لادلۃ من العقل والنقل و ناھیک بھما اما مین علی ان الالفاظ لاتصرف عن ظواھر ھا مالم تمس حاجۃ شدیدۃ لاتندفع الابہ والا لم یکن ھذا تاویلا بل تغییرا  وتبدیلا ولو فتح باب التصرفات من دون ضرورۃ تلجئ لارتفع الامان عن النصوص کما لایخفی وھذ بغایۃ ظہور ہ اغنانا عن تجشم اقامۃ الدلیل علیہ حتی ان بعض العلماء ادرجوہ فی متون العقائد وانہ لَحَقِیق بہ  فان قصاری ھمم المبتد عین عن اخر ھم انما ھو صرف النصوص عن الظواھر وارتکاب تاویلا ت فاسدۃ واحتمالات کاسدۃ واعذار باردۃ فو جب علینا حسم مادتھا بایجاب حمل النصوص علی مایعطیہ ظاھرھا الابضرورۃ ابدا وھذ اظاہر جد ا ۔
پہلا مقدمہ عقل ونقل کی بکثرت دلیلیں (اور یہ دونوں امام تمہیں کافی ہیں) اس پر متفق ہیں کہ الفاظ کو اپنے ظاہر معنی سے پھیرنا منع ہے جب تک کہ سخت حاجت نہ ہو جو لفظ کو ظاہر معنی سے پھیرےبغیر دفع نہ ہو ورنہ یہ بے ضرورت پھیرنا تاویل نہ ہوگا بلکہ تغیر وتبدیل ٹھہرے گا اور اگر بے ضرورت پھیرنے کا دروازہ کھل جائے تو نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے جیسا کہ پوشیدہ نہیں اور یہ مسئلہ چونکہ نہایت ظاہر ہے اس لئے اس نے ہمیں دلیل قائم کرنے کی زحمت سے بے نیاز کردیا ۔ بعض علماء نے اس عقائد کے متون میں رکھا ، اور یہ مسئلہ اس کا سز وار ہے اس لئے کہ سب بدمذہبوں کی ساری کوشش یہی ہے ، کہ عبارات شرعیہ ان کے ظاہر ی معنی سے پھیر دیں او رفاسدتاویلوں اور کھوتے احتمالوں اور نہ چلنے والے  بہانوں کے مرتکب ہوں تو ہم پر واجب ہے کہ نصوص شرعیہ کو مقام ضرورت کے سوا ہمیشہ ان کے ظاہری معنی پر رکھنا واجب بتا کر ان تا ویلات کا مادہ کاٹ دیں ، اور یہ بات خوب ظاہر ہے۔
Flag Counter