Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
106 - 135
قلت ولمنا قش ان یناقش فیہ باربعۃ وجوہ ینتظمہا وجہان الاول انا لانسلم ان ابابکر لم یکن علیہ احمد نعمۃ تجزی فان من اعظم المنعمین علی الانسان والدیہ قال تعالی
''ان اشکرلی ولو الدیک ۱؂۔
ومعلوم ان لاشکر الا بمقابلۃ النعمۃ و نعم الوالدین من النعم الدنیویۃ التی تجری فیہا المجاز اہ دون الدینیۃ التی قال اللہ تعالی فیہا
قل ماسئلکم علیہ من اجر ۲؂
و''ان اجری الاعلی رب العلمین ۳؂
علی انا نعتقد ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قد تمت لہ خلافۃ اللہ العظمی ونیا بتہ الکبری فیدہ الکریمۃ علیا واید ی العلمین سفلی ۔
میں کہتا ہوں کسی کو مجال ہے کہ اس میں چار وجہ سے بحث کرے جن کو دو وجہیں گھیر ے ہیں پہلی وجہ یہ کہ ہمیں تسلیم نہیں کہ ابوبکر پر کسی کا ایسا احسان نہ تھا جس بدلہ دیا جائے اس لیئے کہ انسان پر بڑے محسنوں میں اس کے ماں باپ ہیں ۔ اللہ تعالی کا راشاد ہے : حق مان میرا او راپنے ماں باپ کا ۔ اور یہ معلوم ہے کہ شکر نعمت کے مقابل ہی ہوتا ہے اور والدین کے احسانات ان دینوی احسانات سے ہیں جن میں بدلہ دینا جاری ہے اور یہ دینی احسانات نہیں ہیں جن کی بابت اللہ کافرمان ہے ( حضو ر اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا) میں تم سے اس پر کچھ اجرت نیہں مانگتا میرا اجر تو جہانوں کے پروردگار پر ہے ، اس کے علاوہ ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالی کی خلافت عظمی اور نیابت کبری کامل ہوچکی تو ان کا دست کرم بالا اور سب جہانوں کے ہاتھ پست ،
 (۱؂ القرآن الکریم  ۳۱/ ۱۴)	(۲؂ القرآن الکریم  ۲۵  / ۵۷   و۳۸/ ۸۶)	(۳؂القرن الکریم     ۲۶ / ۱۰۹ و ۱۲۷ و۱۴۵  و ۱۶۴  و ۱۸۰)
جعل سبحنہ و تعالی خزائن رحمتہ ونعمہ وموائد جودہ وکرمہ طوع یدیہ ،و مفوضۃ الیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ینفق کیف یشاء وھو خزانۃ السر و موضع نفوذ الامر فلا تنال برکۃ الامنہ ولا ینقل خیر الاعنہ کما قال صلی اللہ تعالی عیہ وسلم انما انا قاسم واللہ المعطی ۱؂۔ فہو الذی یقسم الخیرات والبر کات وسائر النعماء والآلاء فی لارض والسماء والملک والملکوت والاول والاخروالباطن والظاھر ایقنت بھا جما ھیر الفضلاء العظام ومشاھیر الاولیاء الکرام کما حققتہ فی رسالتی الملقبۃ بسلطنۃ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، وفیہا من المباحث الفائقۃ والمدارک الشائقۃ ماتقربہ الاعین وتلذبہ الاذان وتنشرح بہ الصدور والحمد اللہ رب العلمین فاذن ماکان لابی بکر اور غیر ہ من مال وبلوغ امال الابعطاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، فلم تنحصر النعم النبویۃ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ فی النعم الدینیۃ التی لاتجزی فکما ان علیا لم یصلح وموردا للایۃ فکذالک ابوبکر سواء بسواء ۔
اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور کل نعمت کے خزانے اور اپنے فیض وکرم کے خوان  ان کے ہاتھوں کے مطیع کردئے ، اور یہ سب انہیں سونپ دیا جیسے چاہیں خرچ کریں ،اوروہ راز الہی کا خزانہ اور اس کے حکم کی جائے نفاذ ہیں تو برکت انہیں سے ملتی ہے اور خیر انہیں سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: میں تو بانٹتا ہوں اور اللہ دیتا ہے ۔تو وہی خیرات وبرکات اور ساری نعمتیں آسمان و زمین وملک وملکوت اول آخر باطن وظاہر میں بانٹتے ہیں اس پر فضلاء عظام اور مشہور اولیائے کرام کے جمہور کا یقین ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفٰی میں تحقیق کی اس میں کچھ ایسے مباحث فاضلہ اور پسندیدہ دلائل ہیں کہ ان سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور کان لطف اندوز ہوتے ہیں اور سینے کھلتے ہیں ، تو جب یہ بات ہے ( کہ ساری برکت ونعمت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے سبب ہے) تو ابوبکر کو جو کچھ مال ومنال حاصل ہو اوہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عطا سے ہی حاصل ہو الہذا نبوی احسانات علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ ان دینی احسانات میں  منحصر نہیں جن کا بدلہ نہیں دیا جاتا تو جس طر ح علی(رضی اللہ تعالی عنہ) آیت کے مصداق نہ ٹھہرے اسی طر ح ابوبکر بھی یکسا ں طور پر آیت کے مصداق نہیں ۔
 (۱؂ صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد اللہ خیر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶)

( صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول اللہ تعالی فان قدمہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۴۳۹)

(صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب قول النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۸۷)
اقول : والجواب عن اما اولا فلانہ ان صح ماذکر تم لتعطلت الایۃ راسا ولم یوجد لہا مصداق ابدا اذ لیس فی الصحابۃ من لم یلدہ ابواہ او لم ینعم علیہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی دینہ ودنیاہ ۱؂۔
میں کہتا ہوں اس اعتراض کا جواب اول تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیح ہوجو آپ نے ذکر کیا تو آیت سرے سے معطل ہوجائے گی اور کبھی اس کا کوئی مصداق نہ پایا جائے گا اس لئے کہ صحابہ میں کوئی ایسا نہیں جو اپنے ماں باپ سے پیدا نہ ہو یا اس پر نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دین ودنیا کا کوئی احسان نہ فرمایا ہو۔
 (۱؂صحیح مسلم    کتاب العتق   باب فضل عتق الوالد     قدیمی کتب خانہ   کراچی     ۱/ ۴۹۵)

( سنن ابی داؤد     کتاب السنۃ   باب فی بر الوالدین   آفتاب علم پریس لاہور     ۲/ ۳۴۳)
واما ثانیا وھو الحل فلان نعم الدنیا لیست کلہا مما تجزی اذا لمجاز اۃ ھو المکافات وحاصل نعمۃ الوالدین ان اللہ  سبحنہ وتعالی جعلہا سببا لایجادہ وخروجہ من ظلمۃ العدم الی نور التکون ، وبھما جعلہ بشرا حسینا بعد ان کان ماء  مہینا وھذا مما لایمکن ان یجازی اذا لیس فی وسع احد ان یحیی ابویہ اویکونہما بعد ان لم یکونا ولذلک قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لایجزی ولد والدہ الاان یجدہ مملوکا فیشتر یہ فیعتقہ اخر جہ مسلم وابوداؤد والترمذی۱؂ونسائی وابن ماجۃ فاشار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الی بعض المجازاۃ علی حسب مایدخل تحت الامکان فان الرق موت حکما اذبہ تتعطل الاھلیۃ ویلتحق الانسان العاقل البالغ بالبہائم فالعتق کانہ احیاء لہ و اخراج من ظلمۃ البھیمیۃ الی نور الانسانیۃ فعن ھذ عد ادا ء لبعض حقوقہما وکذالک النعم النبویۃ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ علی حسب ماقر ر نا علیک لیست مما تجزی وتجری فیہ ذاک بھذا الانہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی ذلک المقام الرفیع والمنصب البدیع انما یتصرف علی خلافۃ الملک المقتدر تبارک و تعالی و نعم الملک لاتجزی فان الاحسان لایجازی الا بالاحسان کما نطق بہ القرآن العظیم ومایجازی بہ العبد لابد وان یکون ایضا من عطا یا ہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فکان مکافات عطائہ بعطائہ وھو غیر معقول وعن ھذا نعتقد ان اداء شکر اللہ سبحنہ وتعالی بعمنی فراغ الذمۃ منہ محال عقلا اذا لشکر نعمۃ اخری فلیشکر ھا حتی یخرج عن عہدتہ ویتسلسل الی مالایتناھی ، فثبت ان الدلیل لا غبار علیہ من ھذاالوجہ ۔
اور جواب دوم  اور وہی حل ہے یہ کہ دنیا کے سب احسان ایسے نہیں جن کا بدلہ دیاجاتا ہو اس لئے کہ احسان کابدلہ یہ ہے کہ احسان کے مساوی اس کی جزا دے ، اور والدین کے احسان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ سبحنہ وتعالی نے انہیں بچہ کی ایجاد اور عدم کی ظلمت سے نور ہستی میں آنے کا سبب بنایا ہے اور ان کے سبب سے اس کے بعد کہ وہ بے وقعت پانی تھا خوبصورت انسان بنایا ، اور یہ احسان کا بدلہ نہیں ہوسکتا یوں کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنے والدین کو زندہ کردے ، یا عدم کے بعد انہیں موجود کردے ، اسی لئےنبی صلی اللہ تعالی تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے ماں باپ کا بدلہ نہیں چکا سکتا مگر یہ کہ اسے غلام پائے تو اسے خرید کر آزاد کردے ۔''  یہ حدیث مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ نے اپنی سندوں سے رویت کی تو نبی صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم نے تھوڑے بدلہ کی طرف (جو موافق مقدور بشر ہو ) اشارہ فرمایا اس لئے کہ غلامی موت کے حکم میں ہے اس وجہ سے کہ اس کے سبب آدمی کی اہلبیت معطل ہوجاتی ہے اور عاقل بالغ انسان جانوروں سے مل جاتا ہے لہذا اسے آزاد کرنا گویا کہ اس کو زندہ کرنا اور بہیمیت کی تاریکی سے انسانیت کی روشنی میں لے آناہے ، اسی لئے ماں باپ کو آزاد کرنا اس کے بعض حقوق کی ادائیگی میں شمار ہوا ، اسی طر ح نبوی احسانات علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے ثابت کیا ایسے نہیں جن کا بدلہ دیاجائے اور ان میں یہ مقولہ جاری ہو کہ یہ اس احسان کا بدلہ ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو اس مقام رفیع اور اس منصب بے نظیر میں بادشاہ قادر تبارک وتعالی کی خلافت پر فائز ہو کر متصرف ہیں اور بادشاہ کی نعمتوں کا بدلہ نہیں ہوتا ، اس لئے کہ بدلہ بغیر احسان کے نہیں ہوتا ، جیسا کہ اس پر قرآن عظیم ناطق ہے ، اور بندہ احسان کا جو بدلہ دے گا  لامحالہ وہ بھی سر کار علیہ الصلوۃ والسلام کی عطا سے ہوگا تو سرکار کی عطا کی مکافات سرکاری عطا سے ہوگی ، اور یہ معقول نہیں،  یہیں سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ سبحنہ وتعالی کا شکر بہ معنی براء ت ذمہ از شکر عقلا محال ہے اس لئے کہ شکر نعمت دیگر ہے تو بندہ اس دوسری نعمت کا شکرکرے کہ عہدہ بر آہو اور یہ سلسلہ شکر کانہایت کو نہ پہنچے تو ثابت ہو ا کہ دلیل اس وجہ سے بے غبار ہے
 (۱؂ جامع الترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ماجاء فی حق الوالدین امین کمپنی دہلی۲/ ۱۳)

( سنن ابن ماجۃ ابواب الادب باب بر الوالدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۸) 

( مشکوۃ المصابیح کتاب العتق باب اعتاق العبد المشترک الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۹۴)
الثانی :  ان المقدمۃ القائلۃ ان الامہ مجمعۃ علی ان افضل الخلق بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلماما ابوبکر اوعلی رضی اللہ تعالی عنہما۔

مدخول فیہا اذھناک فرقتان اخریان تدعی احدھما تفضیل سیدنا الفاروق رضی اللہ تعالی عنہ علی جمیع الامۃ ، ومستند ھا مایروی عن النبی صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم ، انہ قال ماطلعت الشمس علی رجل خیر من عمر۱؂ وعنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لوکان بعدی نبی لکان عمر بن خطاب ۲؂
دوسری وجہ : یہ ہے کہ یہ مقدمہ جس کا مضمون ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد افضل یا ابوبکر ہیں یا علی رضی اللہ تعالی عنہما ۔ اس پر اجماع امت ہے ۔

اس پر اعتراض کو مجال ہے اس لئے کہ یہاں دو فرقے اور ہیں ، ان میں کا ایک دعوی کرتا ہے کہ سیدنا فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ساری امت سے افضل ہیں ، اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ '' حضرت عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا ۔ اور آپ سے مروی ہے ، کہ : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر نبی ہوتے ۔
 (۱؂ کنز العمال حدیث ۳۲۷۳۹موسستہ الرسالہ بیروت   ۱۱/ ۵۷۷)

( ۲؂جامع الترمذی البواب المناقب باب مناقب عمر رضی اللہ تعالی عنہ امین کمپنی دہلی   ۲ /۲۰۹)
وعنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان اللہ تعالی باھی باھل عرفۃ عامۃ وباھی لعمر خاصۃ۳؂ وان کان الاستدلال بہا و بامثالہا لایقوم علی ساق اما روایۃ اودرایۃ اومعا کاستمساک المفضلۃ بحدیث علی خیر البشر وحدیث الطیر و حدیث الاستخلاف فی غزوۃ تبوک وماضا ھاھا فمنہا کذب مختلق ومنہا منکر واہٍ ومنہا ما یایفید ہم شیئا وکذلک مضت سنۃ اللہ فی کل مبتدع یحتج ولا حجۃ ویجنح حیث لامحجۃ۔
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ'' اللہ تعالی نے عرفات میں جمع ہونے والوں پر عام طور سے فخر فرمایا اور عمر سے خاص طور سے مباہات فرمائی ۔ اگر چہ اس روایت سے اور اس کے مشابہ روایتوں سے دلیل پائے ثبات پر قائم نہیں ہوتی یا بلحاظ روایت یا بلحاظ درایت یا دونوں کے لحاظ سے ، جیسے تفضیلیہ کا حدیث علی خیر البشر علی سب انسانوں سے افضل ہیں اور حدیث طیر اور غزوہ تبوک کے  زمانہ میں سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کا علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کو اپنا خلیفہ مقرر رفمانے کی روایت سے تمسک کا حال ہے کہ ان میں کچھ تو نری تراشیدہ جھوٹ ہیں اور کچھ منکر واہی ( راویان ثقہ کے مقابل روایان غیر ثقہ کی روایات ضعیف ہیں) اور کچھ انہیں بالکل فائدہ مند نہیں اور یو نہی اللہ تعالی کی سنت ہر بد مذہب کے حق میں ہوئی کہ وہ استدلال کرے حالانکہ دلیل نہیں اور وہاں کا قصد کرے جہاں راستہ نہیں ۔
 ( ۳؂ کنزالعمال حدیث ۳۲۷۲۵مؤسستہ الرسالہ بیروت   ۱۱/ ۵۷۵) 

( کنزالعمال حدیث ۳۵۸۵۸مؤسستہ الرسالہ بیروت    ۱۲/ ۵۹۶)
Flag Counter