Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
105 - 135
واخرج ایضا عن علی رضی اللہ تعالی عنہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : رحم اللہ تعالی ابابکر زوجنی ابنتہ وحملنی الی دار الھجرۃ و اعتق بلالا من مالہ۲؂۔
اور ترمذی نے علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی حدیث ذکر کی انہوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی : ''اللہ ابوبکر پر رحمت کرے مجھ سے اپنی بیٹی کا عقد کیا اور مجھے دار ا الہجرۃ (مدینہ) میں لائے اور اپنے مال سے بلال( رضی اللہ تعالی عنہ)کو خرید کر آزاد کیا ۔''
 (۲؂ جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب علی رضی اللہ تعالی عنہ امین کمپنی دہلی   ۲۱۳/۲)
واخرج الامام احمد و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : مانفعنی مال قط مانفعنی مال ابی بکر ، فبکی ابوبکر وقال ھل انا ومالی الا لک یا رسول اللہ ۳؂۔
اورامام احمد وابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نبی صلی اللہ تعالی تعالی علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی مجھے کبھی کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو ابوبکر کے مال نے مجھے دیا، تو ابوبکر رودیئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے ۔''
 (۳؂ سنن ابن ماجہ باب فضل ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰)

( مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت   ۲/ ۲۵۳)
واخرج الطبرانی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مااحد اعظم عندی یدا من ابی بکر واسانی بنفسہ ومالہ وانکحنی ابنتہ۱؂
اور طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے یوں حدیث روایت کی '' مجھ پر ابو بکر سے بڑھ کر کسی کا احسان نہیں ، اس نے اپنی جان ومال سے میرا ساتھ دیا اور مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ۔''
 (۱؂المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۶۱  المکتبۃ الفیضیلۃ بیروت ۱۹۱ٖٖ/۱۱)
واخر ج ابویعلی من حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا مرفوعا مثل حدیث ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ قال ابن حجر قال ابن کثیر مروی ایضا من حدیث علی اوبن عباس وجابربن عبداللہ و ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنھم واخرجہ الخطیب عن ابن ا لمسیب مرسلا وزاد وکان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یقضی فی مال ابی بکر کما یقضی فی مال نفسہ ۔ واخرج ابن عساکر من طرق عن عائشۃ وعروۃ ان ابابکر اسلم یوم اسلم لہ اربعون الف دینار وفی لفظ اربعون الف درہم فانفقہا علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۲؂
اورابو یعلی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث مرفوع حدیث ابن ماجہ براویت ابوہریرہ کے مثل (یعنی انہیں الفاظ سے) روایت کی ۔ ابن حجر نے فرمایا کہ ابن کثیر کا قول ہے کہ یہ حدیث علی وابن عباس وجابر بن عبداللہ وابو سعید خدری سے بھی مروی ہے اور خطیب نے اسے ابن المسیب سے مرسل روایت کیا ور اتنا زیادہ کیا : '' اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابوبکر کے مال سے اپنا قرض ادا فرماتے جس طرح اپنے مال سے ادا فرماتے ۔اورابن عساکر نے متعد د سندوں سے حضرات عائشہ وعروہ سے روایت کیا ہے کہ ابوبکر جس دن اسلام لائے ان کے پاس چالیس ہزار دینار تھے ،اور ایک روایت میں ہے چالیس ہزار درہم تھے ، تو ابوبکر نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اٹھا دیا اھ ۔
 (۲؂ الصواعق المحرقۃ  الباب الثانی الفصل الثانی ، دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۱۱۲)
قلت ومروی اٰیضا من حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کما اخرجہ الامام ابن عدی فی الکامل انبأنا المولی الثقۃ الحجۃ مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیۃ امام الفقہاء و المحدیثن سیدی واستاذی مولانا عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن السراج عن جمال العلماء السلف الخیر فی منصب الافتاء مولانا جمال بن عبداللہ بن عمر المکی عن خاتمۃ الحفاظ والمحدثین مولانا محمد عابد بن الشیخ احمد علی السندی ثم الزبیدی ثم المدنی عن المولی محمد صالح الفلانی العمر ی عن  الشیخ محمد بن السنۃ الفلانی الفاروقی عن مولای السید الشریف محمد بن عبداللہ عن الفاضل المحدث سیدی علی الاجہوری عن الامام شمس الدین الرملی عن شیخ الاسلام زید الدین زکریا الانصاری عن علامۃ الوری جبل الحفظ شہاب الدین ابی الفضل احمد حجر العسقلانی عن ابی علی محمد بن احمد المہدوی عن یونس بن ابی اسحق عن ابی الحسن علی بن  المقیر انا ابوالکریم الشھر زوری انا اسمعیل بن مسعد ۃ الجرجانی انا ابو القاسم حمزۃ بن یوسف السھمی الجر جانی وابوعمر و عبد الرحمن بن محمد الفارسی انا ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی نا الحسین بن عبدالغفار الازدی نا سعید ابن کثیر بن غفیر نا الفضل بن مختار عن ابان عن انس قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لابی بکرما اطیب مالک منہ بلال موذنی وناقتی التی ھاجرت علیہا وزجنتی ابنتک و واسیتنی بنفسک ومالک کانی  انظر الیک علی باب الجنۃ تشفع لامتی ۱؂۔
میں کہتا ہوں یہ حدیث سیدنا انس بن مالک سے بھی مروی ہے جیسا کہ امام عدی نے کامل میں اپنی سند سے روایت کیا ہے (سند حدیث مذکور)ہمیں خبر دی مولی ثقہ حجۃ مفتی حنفیہ بمکہ محمیہ پیشوائے فقہاء ومحدثین سیدی واستاذی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن سراج نے انہوں نے جمال علماء سلف خیر فی منصب الافتاء (یعنی منصب افتاء میں مفتیوں کے لئے اچھے پیشرو) مولانا جمال بن عبداللہ بن عمر مکی سے روایت کی انہوں نے خاتمۃ الحفاظ والمحدثین مولانا محمد عابد بن شیخ احمد علی سندی ثم زبیدی ثم مدنی سے روایت کی انہوں نے مولی محمد صالح فلانی عمر ی سے انہوں نے شیخ محمد بن السنۃ فلانی فاروقی سے انہوں نےمولائی سید شریف محمد بن عبداللہ سےا نہوں نے فاضل محدث سیدی علی اجہوری سےانہوں نے امام شمس الدین رملی سے  انہوں نے  شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری سے انہوں نے علامہ عالم کو ہ حفظ شہاب الدین ابوالفضل احمد بن حجر عسقلانی سےا نہوں نے ابوعلی محمد بن احمد مہدوی سے انہوں نے یونس بن اسحاق سے انہوں نے ابوالحسن علی بن مقیر سے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوکریم شہر زوری سے ہمیں خبر دی اسمعیل بن مسعدہ بن جرجانی نے  ہمیں خبر دی ابوالقاسم حمزہ بن یوسف سہمی جرجانی اور ابوعمر وعبدالرحمن بن محمد الفارسی نے ہمیں خبردی اور ابواحمد عبداللہ بن عدی جرجانی نے ہم سے حدیث بیان کی حسین بن عبدالغفار ازدی نے ہم سے حدیث بیان کی سعید بن کثیر بن غفیر نے ہم سے حدیث بیان کی فضل بن مختار نے ابان سے انہوں نے روایت کی انس  سے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا : تمہارا مال کتنا ستھرا ہے اسی سے میرا موذن بلال ہے اور میری اونٹنی ہے جس پر میں نے ہجرت کی اور تم نے اپنی دختر میرے نکاح میں دیا اور اپنی جان ومال سے میری مدد کی گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں جنت کے دروازہ پر کھڑے ہو میری امت کیلئے شفاعت کررہے ہو۔
 (۱؂ الکامل لابن عدی ترجہہ ابان بن ابی عیاش دار الفکر بیروت     ۳۷۵/۱)

(الکام لابن عدی ترجمہ الفضل بن مختار بصری دار الفکر بیروت    ۶/ ۲۰۴۱)
ھذا وقد ا سقصینا الکلام عی ھذین الفصلین الذین اشار الیہما النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی تلک الاحادیث اعنی مواساۃ الصدیق النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بنفسہ ومالہ فصلین من الباب الثانی من کتا بنا الکبیر فی التفضیل علی غایۃ التحقیق والتفصیل فارجع الیہ ان احببت ھذا تقریر ماذکر الفاضل الرازی وقد اور دہ الامام ابن حجر ایضا فی الصواعق وارتضاہ۔
یہ تو ہوا  اور ہم نے ان دونوں فصل پر ( یعنی صدیق کا نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مدد جان ومال سے کرنا) جن کی  طرف نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان احادیث میں اشارہ فرمایا ۔ کامل گفتگو اپنی کتاب کبیر ، جو باب تفضیل میں ہے کے باب دوم کی دوفصلوں میں نہایت تحقیق و تفصیل کے ساتھ کی ہے اس کا مطالعہ کرلو اگر چاہو ، یہ کلام اس کلام کی تائید ہے جو فاضل رازی نے ذکر کیا ، اور امام رازی کا یہ کلام امام ابن حجر میں صواعق محرقہ بھی لائے اور اسے پسند فرمایا۔
Flag Counter