Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
104 - 135
قلت  وقد اخرج ابن ابی حاتم ابن مسعود ( رضی ا للہ تعالی عنہ ان ابابکر اشتری بلالا من امیۃ بن خلف ببردۃ وعشرۃ اواق فاعتقہ للہ تعالی  ، فانزل اللہ تعالی ھذہ الآیۃ : ای ان سعی ابی بکر و امیہ و ابی لمفترق فرقانا عظیما فشتان مابینہما۱؂

وقد قال السید ابن السدید عما ربن یاسر رضی اللہ تعالی عنہما فی اشتراء الصدیق بلا لا واعتاقہ شعراً ع 

جزی اللہ خیر اعن بلال وصحبہ                 عتیقا واخزی فاکہا وابا جہل

عشیۃ ھما فی بلال بسوء ۃ	          ولم یحذر امام یحذر المرء ذو العقل

بتوحید رب الانام وقولہ		 شہدت بان اللہ رب علی مھل

فان تقتلونی فاقتلونی فلم اکن		 لاشرک بالرحمن من خیفۃ القتل

فیا رب ابراھیم والعبد یونس 		وموسی وعیسی نجنی ثم تملی

لمن ظل یھوی الغی من ال غالب 	   علی غیر برکان منہ ولا عدل۲؂

ھذا وقد قال البغوی فی الاتقی یعنی ابابکر الصدیق فی قول الجمیع۱؂
میں کہتا ہوں اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند خود روایت کی کہ امیہ بن خلف اورابی بن خلف سے حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو ایک چادر اور دس اوقیہ سونے کے عوض خریدا پھر انہیں خاص اللہ کے لئے آزاد کر دیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری جس کا مطلب یہ ہے '' بے شک تمہاری کوشش مختلف ہے '' یعنی ابوبکر ( رضی اللہ تعالی عنہ) اور امیہ اور ابی بن خلف کی کوششوں میں عظیم فرق ہےتو ان میں بون بعید ہے اور سردار بن سردار عمار بن یاسر رضی ا للہ عنہما نے ابوبکر صدیق کے بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو خرید کر آزاد کرنے کے بارے میں یہ اشعار کہے جن کا ترجمہ درج ذیل ہے ؂ع

اللہ جزائے خیر دے بلال اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے عتیق ( ابوبکر کو اور امیہ اور ابوجہل کو رسوا کر ے ، وہ شام یاد کرو  جب ان دونوں نے بلال کا برا چاہا اور اس سے نہ ڈرے جس سے ذی عقل آدمی ڈرتا ہے ، انہوں نے بلال کا برا اس لئے چاہا کہ بلال نے خلق کے خدا کو ایک جانا اور نے اس نے یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ، میں اس پر مطمئن ہوں تو اگر تم مجھے قتل کرو تو اس حال میں قتل کروگے کہ میں رحمان کا شریک نہیں ٹھہراتا قتل کے ڈرے سے تو اے ابراہیم اور اپنے بندے یونس اور موسی وعیسی کے رب ! مجھے نجات دے ، پھر اسے مہلت نہ دے جو ناحق ظالمانہ  آل غالب کی گمراہی کی آرزو کئے جاتا ہے )۔اسے یاد رکھو اور امام بغوی نے الاتقی کی تفسیر میں کہا اس لفظ سے خدا کی مراد سب مفسرین کے قول کے بموجب ابوبکر صدیق ہیں۔
 (۱؂ الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن ابی حاتم الباب الثالث الفصل الثانی دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۹۹)

(۲؂لباب التاویل فی معافی التنزیل (تفسیر خازن) تحت الایۃ۱۷ /۹۲ درا الکتب العلمیہ بیروت۴/ ۴۳۶ ) 

(۱؂ معالم التنزیل ( تفسیر البغوی) تحت الایۃ ۱۷/۹۲  دار الکتب العلمیہ بیروت   ۴ /۴۶۳)
وقال الرازی فی مفاتیح الغیب '' اجمع المفسرون منا علی ان المراد منہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ''۲؂۔
امام رازی نے مفاتیح الغیب میں فرمایا ہم سنیوں کے مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اتقی سے مراد ابوبکر رضی ا للہ تعالی عنہ ہیں''
 (۲؂مفاتیح الغیب الغیب (التفسیر الکبیر) تحت الایۃ  ۹۲/ ۱۷  المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر ۳۱ / ۲۰۵)
ونقل ابن حجر فی الصواعق عن العلامۃ ابن الجوزی اجمعوا انہا نزلت فی ابی بکر ۳؂۔حتی بلغنی ان الطبرسی مع رفضہ لم یسغ لہ انکارہ فی تفسیر ہ مجمع البیان ، والفضل ماشہدت بہ الاعدء ، الحمد للہ رب العلمین ۔
صواعق میں ابن حجر نے علامہ ابن الجوزی سے نقل کیا علماء اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت ابوبکر کے حق میں نازل ہوئی۔ یہاں تک کہ مجھے خبر پہنچی کہ طبرسی کو باوجود رفض اپنی تفسیرمجمع البیان میں اس کا انکار نہ بن پڑا اور فضل وہی ہے جس کی شہادت دشمن دیں ، والحمد للہ رب العلمین۔
 (۳؂الصواعق المحرقہ الباب الثالث الفصل الثانی ، دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۹۸)
ثم ان الا مام الفاضل فخر الدین الرازی حاول فی تفسیرہ اثباث ان الایۃ لا تصلح الا للصدیق بطریق النظر والاستد لال علی ماھو دابہ رحمہ اللہ تعالی فقال ''اعلم ان الشیعۃ باسر ھم ینکرون ھذہ الروایۃ ویقولون انہا نزلت فی حق علی ابن ابی طالب علیہ السلام والدلیل علیہ قولہ تعالی''ویؤتون الزکوۃ وھم راکعون ، فقولہ ''الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی '' اشارۃ الی مافی تلک الایۃ من قولہ ''یؤتون الزکوۃ وھم راکعون '' ولما ذکر ذلک بعضہم فی محضری قلت اقیم الدلالۃ العقلیۃ علی ان المراد من ھذہ الایۃ ابوبکر ، وتقریر ھا ان المراد من ھذا  الاتقی ھو افضل الخلق ، فاذا کان کذالک وجب ان یکون المراد ابوبکر، فہاتان المقد متان متی صحتاصح المقصود ، انما قلنا ان المراد من ھذا الاتقی افضل الخلق لقولہ تعالی'' ان اکرمکم عند اللہ اتقا کم'' والا کرم ھو الافضل فدل علی ان کل من کان اتقی وجب ان یکون الافضل ، فثبت ان الاتقی المذکور ھہنا الابد وان یکون افضل الخلق عند اللہ تعالی ، فنقول لابد و ان یکون المراد بہ ابا بکر لان الامۃ مجمعۃ علی ان افضل الخلق بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تعالی علیہ وسلم اما ابو بکر اوعلی ، ولایکمن حمل ھذہ الایۃ علی علی بن ابی طالب فتعین حملہا علی ابی بکر ، وانما قلنا انہ لایمکن حملہا علٰی علی بن ابی طالب لانہ تعالی قال فی صفۃ ھذا الاتقی ''وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی '' وھذا الوصف لایصدق علی علی ابن ابی طالب لانہ کان فی تر بیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لانہ اخذہ من ابیہ وکان یطعمہ ویسقیہ و یکسوہ ویر بیہ ، وکان الرسول صلی اللہ علیہ وسلم منعما علیہ نعمۃ یجب جزاء ھا اما ابوبکر فلم یکن للنبی علیہ الصلوۃ والسلام نعمۃ دنیویۃ بل ابوبکر کان ینفق علی الرسول الصلوۃ والسلام بلی کان للرسول علیہ الصلوۃ والسلام علیہ نعمۃالھدایۃ والارشاد الی الدین ، الا ان ھذا  لایجزی لقولہ تعالی'' مااسئلکم علیہ من اجر '' والمذکور ھہنا لیس مطلق النعمۃ بل نعمۃ تجزی ، فعلمنا ان ھذہ الایۃ لاتصلح لعلی بن ابی طالب ، واذا ثبت ان المراد بھذہ الایۃ من کان افضل الخلق ، وثبت ان ذالک الافضل من الامۃ اما ابوبکر اوعلی ، وثبت ان الآیۃ غیر صالحۃ لعلی تعین حملہا علی ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ ، وثبت دلالۃ  الایۃ ایضا علی ان ابا بکر افضل الامۃ۱؂ اھ ملخصاً۔
پھر امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی عادت کے مطابق اپنی تفسیرمیں عقلی استدلال و نظر کی راہ سے یہ بات ثابت کرنےکی کوشش فرمائی کہ آیت کامفہوم صدیق اکبر کے سوا کسی کے لئے نہیں بنتا ، تو انہوں نے فرمایا تمہیں معلوم ہوکہ تمام شیعہ اس روایت کے منکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ آ یت علی بن ابی طالب کے حق میں اتری ہے اور اس کی دلیل اللہ کا فرمان ہے ویؤتون الزکوہ وھم راکعون یعنی وہ رکوع کی حالت میں زکوہ دیتے ہیں تو اللہ تعالی کا قول الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی یعنی وہ سب سے بڑا پرہیز گار جو ستھرا ہونے کو اپنا مال دیتا ہے ، اسی وصف کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں مذکورہو ا یعنی اللہ کا یہ فرمانا '' ویؤتون الزکوہ '' الایۃ اور جب ایک رافضی نے یہ بات میری مجلس میں کہی میں نے کہا میں اس پر دلیل عقلی قائم کروں گا کہ اس آیت سے مراد صرف ابوبکر ہیں ، اور تقریر دلیل یوں ہے کہ مراد اس بڑے پرہیز گار سے وہی ہے جو سب سے افضل ہے ، تو جب معاملہ ایسا ہے تو ضروری ہے کہ اس سے مراد بس ابوبکر ہوں ، تو جب یہ دونوں مقدمے صحیح ہونگے دعوی درست ہوگا ۔  اور ہم نے یہ اسی لئے کہاکہ اس بڑے پرہیز گار سے مراد سب سے  افضل ہے کہ اللہ تعالی کا قول ہے ''اللہ کے یہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ۔''اور اکرم ہی افضل ہے ۔ تو آیت نے بتایا کہ ہر وہ شخص جو سب سے زیادہ پرہیزگا ر ہوگا ضروری ہے کہ وہ سب سے زیادہ مرتبے والا ہو ، تو ثابت ہوگیا کہ سب  سے بڑا پرہیزگار جس کا یہاں (آیت میں) ذکر ہو ا ضروری ہے کہ اللہ کے یہاں سب سے افضل ہو۔ اب ہم کہتے ہیں کہ ساری امت اس پر متفق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلق سے افضل ابوبکر ہیں یا علی۔اور یہ ممکن نہیں کہ یہ آیت علی پر محمول کی جائے تو ابوبکر کے لئے اس کا مصداق ہونا متعین ہوگیا، اور ہم نے یہ اسی لئے کہا کہ آیت کو علی پر محمول کرنا ممکن نہیں کہ اللہ تعالی نے اس سب سے بڑے پرہیز گار کی صفت میں فرمایا ہے ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی یعنی اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے ، اور یہ وصف علی بن ابی طالب پر صادق نہیں آتا اس لئے کہ وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے بایں سبب کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے علی کو ان کے باپ سے لے لیا تھا او رحضور انہیں کھلاتے بلاتے ، پہناتے اور پالتے تھے اور حضور (رسول )صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی کے ایسے محسن ہیں کہ ان کے احسان کابدلہ واجب ہو ا۔ رہے ابوبکر ، تو حضور ( نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) کا ان پر دنیوی احسان نہیں بلکہ ابوبکر رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا خرچ اٹھاتے تھے ، ہاں کیوں نہیں ابوبکر پر رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا دین کی طرف ہدایت و ارشاد کا احسان ہے ۔ مگر یہ ایسا نہیں جس کا بدلہ دیا جائے اس لئے کہ اللہ تعالی نے فرمایا (حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی حکایت کرتے ہوئے ) میں تبلیغ پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا ۔ اور یہاں مطلق احسان کا ذکر نہیں بلکہ بات اس احسان کی ہے جس کا بدلہ دیا جائے تو ہم نے جان لیا کہ آیت کا یہ معنی علی بن ابی طالب کے لئے نہیں بتنا ، اور جب یہ ثابت ہے کہ مراد اس آیت کی وہی ہے جو افضل خلق ہے ، اور یہ ثابت ہے امت میں سب سے افضل یا ابوبکر ہیں یا علی ، اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مفہوم آیت علی کے شایاں نہیں اس کا مصداق ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے متعین ہوگیا اور آیت کی دلالت اس پر بھی ثابت ہوگئی کہ ابوبکر ساری امت سے افضل ہیں اھ ملخصا۔
 (۱؂ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)    ۹۲/ ۱۷  المطبعۃ البہیۃ المصر یۃ مصر   ۳۱ / ۲۰۵و ۲۰۶)
قلت اماما ذکر الفاضل الامام ان علیا رضی اللہ تعالی عنہ کا فی تربیۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وانہ اخذہ من ابیہ فقد ذکرہ محمد بن اسحق وابن ھشام وھذا الفظ ابن اسحق ''حدثنی عبداللہ بن ابی نجیح عن مجاھد بن جبیر ابی الحجاج قال کان من نعمۃ اللہ تعالی علی علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ مما صنع اللہ تعالی لہ وارادہ بہ من الخیر ان قریشا اصابتہم ازمۃ شدید ۃ وکان ابوطالب ذاعیال کثیر فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للعباس عمہ وکان من ایسر بنی ہاشم یا عباس ان اخاک ابا طالب کثیر العیال ، وقد اصاب الناس ماتری من ھذہ الازمۃ فانطلق بنا الیہ،  فلنخفف عنہ من عیالہ آخذ من بنیہ رجلا وتاخذ انت رجلا ، فنکلہما عنہ قال العباس نعم فانطلقا حتی اتیا الی ابی طالب ، فقالا لہ انا نرید ان نخفف عنک من عیالک حتی ینکشف عن الناس ماھم فیہ ، فقال لھما ابو طالب اذا ترکتما لی عقیلا فاصنعا ما شئتما ، فاخذ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علیاً  فضمہ الیہ واخذ العباس جعفرا فضمہ الیہ فلم یزل علی رضی اللہ تعالٰی عنہ مع رسول اللہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم حتی بعثہ اللہ تبارک وتعالی نبیا فاتبعہ علی وآمن بہ علی وصدقہ ولم یزل جعفر عند العباس حتی اسلم و استغنی عنہ ۱؂انتھٰی۔
میں کہتاہوں کہ رہی یہ بات جو فاضل امام (فخر الدین رازی علیہ الرحمہ) نے فرمائی کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد سے لے لیا تھا تو اس کا ذکر محمد ابن اسحق وابن ہشام نے کیا ہے اور محمد بن اسحق کے الفاظ یوں ہیں : مجھ سے عبداللہ بن ابی نجیح نے حدیث بیان کی انہوں نے روایت کی مجامد بن جبیر ابی الحجاج سے انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ پر اللہ تعالی کے احسان کے قبیل سے وہ ہے ، جو اللہ تعالی نے ان کے ساتھ کیا اور ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا وہ یہ کہ قریش پر سخت تنگی پڑی اور ابو طالب کی اولاد بہت تھی اس لئے رسول اللہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے فرمایا اور وہ بنی ہاشم کے بڑے مالداروں میں سے تھے ، اے عباس !آپ کے بھائی ابو طالب کی اولاد بہت ہے اور لوگو ں پر جو یہ سختی پڑی ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ ابو طالب کے یہاں چلئے کہ ہم ان کی اولاد کا بوجھ کم کریں ان کے بیٹوں سے ایک آدمی میں لے لوں اور ایک آدمی آپ لے لیں تو ہم دونوں ان کی کفالت کریں ۔ حضرت  عباس نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو دونوں حضرات چل کر ابو طالب کے پاس تشریف لائے تو ان سے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ جب تک لوگو ں کی مصیبت ( جس میں وہ مبتلا ہیں) دور ہو آپ سے آپ کی اولاد کا بوجھ کم کردیں ۔ تو ابو طالب ان سے بولے: اگر تم میرے لئے عقیل کو چھوڑ دو تو تم جو چاہو کر و۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے علی کو لے کر اپنے سینے سے لگایا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جعفر کولیا اور چمٹالیا ۔ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے سرکا ر کو نبی مبعوث فرمایا تو حضرت علی ان پر ایمان لائےاور ان کو سچا مانا اور جعفر عباس کے پاس رہے یہاں تک کہ اسلام لاکر ان سے بے نیاز ہوگئے اھ ۔
 (۱؂السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر ان علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ دار ابن کثیر بیروت الجز ء اول والثانی ص۲۴۶)
قلت  وتمام النعمۃ الکبری بتزویج البتول الزھراء صلوات اللہ علی ابیہا الکریم وعلیہا واماما ذکر من ان ابابکر کان ینفق علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  فہذا اوضح و اظہر عند من لہ خبرۃ بالاحادیث والسیر۔ اخر ج الامام احمد و البخاری عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال : انہ لیس من الناس احد امن علی فی نفسہ ومالہ من ابی بکر بن ابی قحافۃ ولوکنت متخذا من الناس خلیلا لا اتخذت ابابکر خلیلا ولکن خلۃ الاسلام افضل سدوا عنی کل خوخۃ فی ھذاالمسجد غیر خوخۃ ابی بکر۱؂
میں کہتا ہوں اور نعمت کبری کی تکمیل بتو ل زہرا (فاطمہ) صلوات اللہ علی ابیہا الکریم و علیہا سے شادی ہوکر ہوئی ۔ اور یہ جو ذکر کیا کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا خرچ اٹھاتے تھے ۔ تو یہ اس کے نزدیک جس کو احادیث وکتب سیرت سے واقفیت ہے بہت واضح اور خوب ظاہر ہے ۔ امام احمد و بخاری نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور نے فرمایا: لوگو ں میں سے کوئی شخص نہیں جس  کا اپنے جان ومال میں مجھ پر زیادہ احسان ہو سوا ابوبکر بن قحافہ کے ، اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، لیکن اسلامی خلت اور محبت افضل ہے ، اس مسجد میں ابوبکر کے دروازہ کے سوا سب دروازے بند کرو۔
 (۱؂صحیح البخاری کتاب الصلوۃ باب الخوخۃ والممر فی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی    ۶۷/۱)

(مسند احمد حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت       ۱/۲۷۰)
واخرج الترمذی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مالاحد عندنا ید الاوقد کا فیناہ ماخلا ابابکر فان لہ عندنا یدا یکافیہ اللہ بہا یوم القیٰمۃ واما نفعنی مال احد قط مانفعنی مال ابی بکر ولوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابا بکر خلیلا الا وان صاحبکم (ای محمد اصلی اللہ تعالی علیہ وسلم) خلیل اللہ۱؂
اور ترمذی نے (اپنی سند سے) ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ )سے حدیث ذکر کی وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں ( کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا) ہر شخص کے احسان کا بدلہ ہم نے اسے دے دیا سوائے ابوبکر کے کہ ان کا ہم پر وہ احسان ہے جس کابدلہ انہیں اللہ تعالی قیامت کے دن دے گا ، اور مجھے کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو فائدہ مجھے ابوبکر کے مال نے دیا ، اور اگرمیں کسی کو دو ست بناتا تو ضرور ابوبکر کو دو ست بناتا ، اور خبر دار تمہارے صاحب (محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) اللہ تعالی کے دوست ہیں ۔''
 (۱؂جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ امین کمپنی دہلی    ۲۰۷/۲)
Flag Counter