Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
103 - 135
قال البغوی قال ابن الزبیر وکان ابو بکر یبتاع الضعفۃ فیعتقہم ،فقال ابوہ : ای بنی لوکنت نبتاع من یمنع ظہر ک ؟ قال منع ظہری ارید ، فنزل ''وسیجنبہا الاتقی ''الی اخر السورۃ ، وذکر محمد بن اسحق قال کان بلال لبعض بنی جمع وھو بلال بن رباح واسم امہ حمامۃ وکان صادق الاسلام وطاہر القلب وکان امیۃ بن خلف یخرجہ اذا حمیت الظہیرۃ فیطرحہ علی ظہرہ ببطحاء مکۃ ، ثم یامر بالصخرۃ العظیمۃ فتوضع علی صدرہ ، ثم یقول لہ لاتزال ھکذا حتی تموت او تکفر بمحمد (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) ویقول وھو فی ذلک البلاء احد احد ،وقال محمد بن اسحاق عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ قال مربہ ابوبکر یوما وھویضنعون بہ ذلک و کانت دار ابی بکرفی بنی جمع فقال لامیۃ لاتتقی فی ھذا المسکین ؟ قال : انت افسد تہ فانقدہ مما تری ، قال ابوبکر افعل عندی غلام اسود واجلدمنہ واقوی علی دینک اعطیکہ ؟ قال قدفعلت فاعطا ہ ابوبکر غلامہ واخذہ فاعتقہ ، ثم اعتق معہ علی الاسلام قبل ان یہاجر  ست رقاب بلال سابعہم ، عامر بن فہیرۃ (رضی اللہ تعالی عنہ) شہد بد را و اُحُدا  وقتل یوم بئر معونۃ شہید ا ، وام عمیس و زھرۃ فاصیب بصرھا و اعتقہا فقال قریش ما اذھب بصرھا الا اللات والعزی فقالت : کذبوا وبیت اللہ ما تضر اللات و العزی وما تنفعا ن ، فرد اللہ تعالی الیہا بصرھا و اعتق النہدیۃ وابنتہا وکانتا لامراۃ من بنی عبد الدار فمر بھما وقد بعثتہما سید تھما تطحنان لہا وھی تقول  واللہ لا اعتقکما ابدا فقال ابوبکر کلا یا ام فلان ، فقالت کلا انت افسد تھما فاعتقھما ، قال فبکم ؟ بکذا وکذا قال قد اخذتھما وھما حرتان ، ومر بجاریۃ بنی المؤمل وھی تعذب فابتا عہا فاعتقہا ۔
بغوی نے فرمایا کہ ابن الزبیر کا قول ہےکہ ابو بکررضی اللہ تعالی عنہ کمزور وں کو خرید تے پھر انہیں آزاد کردیتے ۔ تو ان سے ان کے والدین نے کہا : اے بیٹے ! ایسے غلاموں کو خرید تے ہوتے جو تمہاری حفاظت کرتے ۔ ابوبکر نے فرمایا میں اپنی حفاظت ہی چاہتا ہوں ۔ تو یہ آیت تا آخر سورت نازل ہوئی ۔ اور محمد بن اسحق نے ذکر کیا بلال (رضی اللہ تعالی عنہ) قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے اور ان کانام بلال بن ربا ح ہے اور ان کی ماں کانام حمامہ ہےاور بلال (رضی اللہ تعالی عنہ) اسلام میں سچے تھے اور پاک دل تھے ، اور امیہ بن خلف انہیں باہر لا تا جب گرم دوپہر ہوتی تو انہیں پیٹھ کے بل مکہ کے ریتلے میدان میں ڈال دیتا پھر بڑی چٹان لانے کا حکم دیتاتو ان کے سینہ پر رکھدی جاتی پھر کہتا ، تم ایسے ہی پڑے رہوگے یہاں تک کہ مرجاؤ یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کافر ہو ۔ اور حضرت بلال احد احد فرماتےحالانکہ وہ اس بلا میں ہوتے ۔ اور محمد بن اسحق نے ہشام بن عروہ سے روایت کی انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے فرمایا ابو بکر(رضی اللہ تعالی عنہ) کاگز رایک دن بلال (رضی اللہ عنہ) کے پاس سے ہوا اور وہ لوگ بلال(رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ یہی بر تا ؤ کررہے تھے اور ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) کا گھر بنو جمح میں تھا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو (امیہ بن خلف) اس بیچارے کے معاملہ میں اللہ سے نہیں ڈرتا، تو امیہ نے کہا آپ نے اسے بگاڑا ہے تو آپ اس گت سے اسے بچالیں جو آپ دیکھ رہے ہیں ۔ ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا: میں بچائے لیتا ہوں میرے پاس ایک غلام ہے سیاہ فام جو بلال (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے زیادہ اور طاقتو ر ہے اور تیرے دین پر ہے وہ تجھے دے دوں ۔ امیہ بولا : مجھے منظور ہے تو ابوبکر ( رضی اللہ تعالی عنہ) کولے لیا تو انہیں آزاد کر دیا پھر ان کے ساتھ اسلام کی شرط پر ہجرت سے پہلے چھ غلامون کوآزاد کیا ، انکے ساتویں بلال ہیں ، عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو جنگ بد واحد میں شریک ہوئے اور بئر معونہ کی جنگ میں قتل ہوکر شہید ہوئے ، اور ام عمیس وزھرہ کی آنکھ جاتی رہی ، جب انہیں ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے آزاد فرمایا ، تو قریش بولے کہ انہیں لات وعزی نے اندھا کیا ہے ، تو آپ بولیں : قریش ،کعبہ کی قسم جھوٹے ہیں لات وعزی نہ ضرر دے سکیں نہ فائدہ پہنچا سکیں ۔ تو اللہ نے انہیں ان کی بینائی پھیر دی ۔ اور نہدیہ اور اس کی بیٹی کو آزاد کیا اور یہ دونوں بنی عبدالدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں ، تو صدیق اکبر (رضی ال لہ تعالی عنہ) ان کے پاس سے گزرے اور ان کی آقا عورت نے انہیں بھیجا تھا کہ اس کا آٹا پیسیں اور وہ عورت کہتی تھی کہ خدا کی قسم ! تمہیں کبھی آزاد  نہ کرو ں گی۔تو ابو بکر(رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا : اے ام فلان ! ہر گز نہیں ۔ وہ بولی : ہرگز نہیں ، آپ نے ان دونوں کو بگاڑا ہے تو آپ آزاد کریں ۔ صدیق نے فرمایا: تو کتنے دام  پر بیچتی ہے ؟ وہ بولی : اتنے اور رائے دام پر ۔ ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا: میں انے ان دونوں کو لیا اور یہ دونوں آزاد ہیں ، اور آپ کا گزر بنو مؤمل کی ایک لونڈی کے پاس سے ہواجب اس پر ظلم ہو رہا تھا تو اسے خرید کر اسے آزاد کردیا ،
وقال سعید بن المسیب بلغنی ان امیۃ بن خلف قال لابی بکر فی بلال حین قال اتبیعہ ؟ قال نعم ابیعہ بنسطاس وکان نسطاس  عبد الابی بکر صاحب عشرہ الاف دینار ، غلمان وجوار و مواش وکان مشر کا حملہ ابوبکر علی الاسلام ان یکون مالہ لہ ، فابی فابغضہ ابو بکر ، فلما قال لہ امیۃ ابیعہ بغلامک نسطاس ، اغتنمہ ابوبکر وباعہ منہ فقال المشرکون ما فعل ذلک ابوبکر الا لید ، کانت لبلال عندہ فانزل اللہ تعالی وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ۱؂۔
اور سعید بن المسیب (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی کہ امیہ بن خلف نے ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ) سے بلال کے معاملہ میں اس وقت جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا بلال کو فروخت کرے گا ؟ کہا  : ہاں میں اسے نسطاس سید نا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا غلام جو دس ہزار دینار اور بہت سے لونڈی اور غلام اور چوپایوں کا مالک تھا کے بدلے بیچتا ہوں اور ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے چاہا تھا کہ نسطاس اسلام لے آئے اوراس کا مال اسی کا ر ہے ، تو وہ نہ مانا تو حضرت ابوبکر نے اس کو مبغوض جانا ، پھر جب امیہ نے کہا: بلال کو میں آپ کے غلام کے بدلے دیتا ہوں ۔ ابوبکر نے اس بات کو غنیمت جانا اور  نسطاس کو امیہ کے ہاتھ بیچ دیا ، تو مشرکین بولے ،ابوبکر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) نے ایسا صرف اس لئے کیا ہے کہ بلال (رضی اللہ تعالی عنہ)کا ان پر کوئی احسان ہے ، تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری "ومالا حد عندہ "الخ یعنی اور اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔
 (۱؂ معالم التنزیل (تفسیر البغوی) تحت الایۃ ۹۲ /۱۷ تا  ۲۱ دار الکتب العلمیہ ۴ /۶۴۔۴۶۳)
وذکر العلامۃ ابو السعود فی تفسیرہ قدروی عطاء والضحاک عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما وذکر قصۃ  شراء بلال واعتقاقہ قال فقال المشرکون مااعتقہ ابوبکر الالید کانت عندہ فنزلت ۲؂اھ ملخصا
اور علامہ ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا کہ عطا اور ضحاک نے ابن عباس رضی ا للہ تعالی عنہما سے روایت کیا ( اس روایت میں خریداری بلال اور ان کے آزاد ہونے کا قصہ ذکر کیا پھر کہا) تو مشرکین بولے : ابوبکر نے بلال کو ان کے کسی احسان ہی کی وجہ سے آزاد کیا ہے تو یہ آیت (مندرجہ بالا)اتری اھ ملخصا۔
 (۲؂ارشاد العقل السلیم تحت الایۃ ۹۲ /۱۹  داراحیاء التراث العربی   ۹ /۱۶۸)
وفی الازالۃ عن عروۃ ان ابابکر الصدیق اعتق سبعۃ کلہم یعذب فی اللہ بلا لا وعامر بن فہیرۃ النھدیۃ وابنتہا وزنیرۃ وام عیسی وامۃ بنی المؤمل ، وفیہ نزلت وسیجنبہاالا تقی ۳؂ الی اآخر السورۃ۔
اور ازالہ میں عروہ سے ہے کہ ابوبکر صدیق ( رضی اللہ تعالی عنہ) نے سات کو آزاد کیا ، ان سب پر اللہ کی راہ میں ظلم توڑا جاتا تھا وہ بلال و عامر بن فہیرہ اور نہدیہ اور اس کی بیٹی اور زنیرہ اور ام عیسی اوربنی مؤمل کی کنیز ہیں اور انہیں کیلئے آیت اتری وسیجنبہا الاتقی اور اس سے (دوزخ) بہت دور رکھاجائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گار ہے ۔ تا آخر سورت۔
 (۳؂ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء فصل ہشتم  مقصد اول مسلک اول  سہیل اکیڈمی لاہور  ۱ /۳۰۱)
وعن عامر بن عبداللہ بن الزبیر عن ابیہ قال قال ابو قحافۃ لابی بکر اراک تعتق رقابا ضعافا فلوانک اذا فعلت مافعلت اعتقت رجالا جلدًا یمنعونک ویقومون دونک فقال یا ابت انما ارید وجہ اللہ فنزلت ھذہ الایۃ "فاما من اعطی واتقی الی قولہ وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی ولسوف یرضی"۱؂۔
اور عامر بن عبداللہ بن الزبیر سے روایت ہے وہ اپنی باپ سے روای ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحانہ نے ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) سے فرمایا : میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور غلامون کو آزاد کرتے ہوتو کاش ! تم تندرست و توانا غلام آزاد کرتے جو تمہاری حفاظت کرتے اور جنگ میں تمہاری سپر ہوتے ۔ تو ابوبکر ( رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا ؛ اے میر ے باپ !میں تو صر ف اللہ کی رضا چاہتا ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی
فامامن اعطی واتقی
یعنی جس نے دیا اور پرہیز گار ی کی  ۔۔ اللہ تعالی کےقول وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی تک یعنی اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دی اجائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے ، اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔
 (۱؂ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء فصل ہشتم مقصد اول مسلک اول سہیل اکیڈمی لاہور   ۱/ ۳۰۱ )
وعن سعید بن المسیب قال نزلت  ''ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی''فی ابی بکر عتق ناسا لم یلتمس منہم جزاء ولاشکورا ستۃ او سبعۃ منہم بلال وعامر بن فہیرۃ ۲؂
اور حضرت سعید ابن المسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ آیۃ کریمہ  سے ''ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی''ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں اتری کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو آزاد کیا  اُن سے نہ بدلہ چاہا نہ شکرگزاری، وہ آزاد شدہ چھ یا سات تھے ، انہیں میں بلال وعامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالی عنہما تھے۔
 (۲؂ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء فصل ہشتم مقصد اول مسلک اول سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/ ۳۰۱ )
وعن ابن عباس فی قولہ تعالٰی  '' وسیجنبہا الاتقی'' قال ھو ابوبکر الصدیق ۳؂۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے '' وسیجنبہا الاتقی'' کی تفسیر میں ہے فرمایا وہ ابوبکرصدیق ہیں( آیت میں جن کا ذکر ہے ) ۔
 (۳؂ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء فصل ہشتم مقصد اول مسلک اول سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/ ۳۰۱ )
Flag Counter