Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
102 - 135
قال البغوی قال ابن عباس نزلت فی ثابت بن قیس وقولہ للرجل الذی لم یفسح لہ '' ابن فلانۃ یعیرہ بامہ قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الذاکرفلانہ ''؟ فقال ثابت انا یا رسول اللہ ، فقال انظر فی وجوہ القوم ، فنظر ، فقال مارایت یا ثابت ؟قال رایت احمر وابیض واسود ، قال فانک لاتفضلہ الا فی الدین والتقوی '' فنزلت فی ثابت ھذہ الایۃ و فی الذی لم یتفسح لہ ''یایھا الذین امنو اذا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا '' وقال مقاتل لما کان یوم فتح مکۃ امر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلا لا حتی علا علی ظہرالکعبۃ واذن ، فقال عتاب بن اسید بن ابی العیص : الحمد للہ الذی قبض ابی حتی  لم یر ھذا الیوم ۔ وقال الحارث بن ھشام اما وجد محمد غیر ھذا الغراب الاسود موذنا ۔ وقال سہل بن عمرو ان یرد اللہ شیئا یغیرہ ۔ وقال ابوسفیان انی لا اقول شیئا اخاف ان یخبر بہ رب السماء فاتی جبریل فاخبر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بما قالو فدعا ھم وسالھم عما قالوا فاقروا فانزل اللہ تعالی ھذہ الابۃ وزجرھم عن التفاخر بالانساب والتکاثر بالاموال والازراء بالفقراء ۱؂
امام بغوی نے فرمایاکہ حضرت ابن عباس (رضی ا للہ تعالی عنہما) نے فرمایا یہ آیت حضرت ثابت بن قیس (رضی اللہ تعالی عنہ) کے بارے میں اور ان کے اس شخص سے جس نے ان کے لئے مجلس میں جگہ کشادہ نہ کی فلانی کا بیٹا کہنے کے باب میں اتری تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ، کو ن ہے جس نے فلانی کو یا د کیا ؟ حضرت ثابت نے عرض کیا وہ میں ہوں یا رسول اللہ ! تو حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا : لوگو ں کے چہروں میں بغور دیکھو ۔ تو انہوں نے دیکھا ۔ پھر فرمایا : اے ثابت ! تم نے کیا دیکھا ؟ عرض کی : میں نے لال ، سفید اور کالے چہرے دیکھے ۔ سرکار (علیہ السلام والتحیۃ المدرار) نے فرمایا : تو بے شک تمہیں ان پر فضیلت نہیں مگر دین اور تقوی میں ۔ تو حضرت ثابت کے لئے یہ آیت اتری اور جنہوں نے مجلس میں کشادگی نہ کی تھی ان کے حق میں ارشاد نازل ہوا: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو ۔ اور مقاتل کا قول ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ( کہ اذان دیں) تو وہ کعبہ کی چھت پر چڑھے اور انہوں نے اذان کہی ، تو عتاب بن اسید بن ابی العیص نے کہا: اللہ کے لئے حمد ہے جس نے میرے باپ  کو اٹھالیا ور انہوں نے یہ دن نہ دیکھا ۔ اور حارث بن ہشام نے کہا : کیامحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اس کا لے کوے کے سوا کوئی اذان دینے والا نہ ملا ۔ اور سہل بن عمرو نے کہا: اللہ کو اگر کوئی چیز ناپسند ہوگی وہ اسے بدل دے گا ۔ اور ابوسفیان بولے : میں کچھ نہیں کہتا مجھے خوف ہے کہ آسمان کا رب انہیں خبر دار کر دے گا ۔ تو جبریل (علی بنینا وعلیہ السلام) نازل ہوئے پھر رسول اللہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم کو ان لوگوں کی باتیں بتادیں تو حضور (علیہ الصلوہ والسلام) نے ان سے ان کے اقوال کی بابت پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا ، تو اللہ  نے یہ آیت اتاری اور انہیں نسب پر فخر اور اموال پر گھمنڈ اور فقراء کی تحقیر سے منع فرمایا۔
 (۱؂ معالم التنزیل ( تفسیر البغوی) تحت الایۃ    ۴۹/۱۳     دارالکتب العلمیہ بیروت  ۴/۱۹۵)
قال العلامۃ النسفی فی المدارک تبعا للزمخشری فی الکشاف عن یزید بن شجرۃ مررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی سوق المدینۃ فرای غلاما اسود یقول من اشترانی فعلی شرط ان لا یمنعی من الصلوات الخمس خلف رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، فاشتراہ بعضہم فمرض فعادہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ، ثم توفی فحضر دفنہ فقالوا فی ذلک شیئا فنزلت ۱؂۔
علامہ نسفی نے زمخشری کی اتباع کرتے ہوئے مدارک میں فرمایا یزید بن شجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے بازار میں گزرے تو ایک سیاہ فام غلام دیکھا جو کہتا تھا مجھے جو خرید ے تو اس شرط پر خریدے کہ مجھے رسول اللہ صلی ا للہ تعالی علیہ وسلم وآلہ وسلم کے پیچھے پنجگانہ نمازسے نہ روکے گا ۔ تو اسے کسی نے خرید لیا ۔ پھروہ بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کی عیادت کو تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی تو سرکار اس کے دفن میں رونق افروز ہوئےتو لوگو ں نے اس بار ے میں کچھ کہا تو یہ آیت اتری۔
 (۱؂مدارک التنزیل تفسیر النسفی تحت الایۃ  ۴۹ /۱۳    دار الکتاب العربی بیروت     ۴ /۱۷۳)
وبالجملۃ فمحصل الایۃ نفی التفاخر بالانساب وان الکرم عند اللہ تعالی انما ینال بالتقوی فمن لم یکن تقیا لم یکن لہ حظ من الکرامۃ وسلبہ کلیا لایصح الاعن کافر اذکل مؤمن یتقی اکبر الکبائر الکفر و الشرک ، ومن کان تقیا کان کریما ومن کان اتقی کان اکرم عند اللہ تعالٰی ، ولعلک تظن ان سردنا تلک الروایات فی شان النزول مما لا یغنینا فیما نحن بصددہ ، ولیس کذالک بل ھو ینفعنا فی نفس الاحتجاج وتکسر بہ سورۃ بعض الاوھام ان شاء اللہ تعالی ، کما ستطلع علیہ ، فانتظر ، ھذہ مقدمۃ۔
مختصر یہ کہ آیت کریمہ کا حاصل نسب پر فخر کی نفی ہے اور یہ کہ اللہ کے یہاں عزت تقوی ہی سے ملتی ہے ، تو جو متقی نہیں اس کے لئے عزت سے کچھ حصہ نہیں اور تقوی کا سلب کلی طو رپر  کافر کے سوا کسی سے نہیں ، اس لئے کہ ہر مومن اکبر الکبائر کفر و شرک سے بچتا ہے اور جو متقی ہوگا وہ باعزت ہوگا اور جو زیادہ تقوی والا ہوگا وہ زیادہ عزت دار اپنے رب کے یہاں ہوگا ۔ اور شاید تمہیں گمان ہو کہ ہمارا ان روایتوں کو ذکر کرنا اس مدعی میں جس کے ثابت کرنے کے ہم درپے ہیں ہمیں نفع بخش نہیں حالانکہ با ت ہوں نہیں بلکہ وہ ہمیں نفس استدلال میں فائدہ دے گا اور ہم اس سے کچھ وہمیوں کا زور توڑ ینگے ان شاء اللہ تعالی ، جیسا کہ تم عنقریب اس پر مطلع ہوگے ، تو انتظار کرو ، یہ ایک مقدمہ ہے۔
والمقدمۃ الاخری

قال اللہ سبحنہ و تعالی:
وسیجنبہا الاتقی ،الذی یؤتی مالہ یتزکی ، وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی ولسوف یرضی ۱؂
اجمع المفسرون من اھل السنۃ والجماعۃ علی ان الایۃ نزلت فی الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ وانہ ھو المراد بالاتقی ۔
اور دوسرا مقدمہ یہ ہے

اللہ تعالی نے فرمایا: اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گار جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہوا ور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کابدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے  بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا اہل سنت وجماعت کے مفسرین کا اجمال ہے اس پر کہ یہ آیت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں اتری اور الاتقی سے وہی مراد ہے ۔
 (۱؂ القرآن الکریم ۹۲/ ۱۷تا ۲۱)
اخرج ابن ابی حاتم والطبرانی ان ابا بکر اعتق سبعۃ کلھم یعذب فی اللہ فانزل اللہ تعالی قولہ وسیجنبہا الاتقی الی اخرالسورۃ۲؂،
ابن ابی حاتم وطبرانی  نے حدیث روایت کی کہ ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے ان سات کو آزاد کیا جو سب کے سب اللہ کی راہ میں ستائے جاتے تھے تو اللہ نے اپنا فرمان (وسیجنبہا الاتقی تا آخر سورۃ) نازل فرمایا۔
 (۲؂الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن حاتم والطبرانی الباب الثالث الفصل الثانی دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۹۸)

(الدر المنثور بحوالہ ابن حاتم والطبرانی تحت الایۃ    ۹۲ /۱۷تا۲۱     دار احیاء التراث العربی   ۸ /۴۹۳)

( الحاوی اللفتاوی الفتاوی القرآنیۃ سورۃ اللیل الفصل الاول   دارالکتب العلمیہ بیروت   ۱ /۳۲۷)
Flag Counter