رسالہ
الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی
(سب (امتیوں ) سے بڑے پر ہیز گار کی سبقت کے دریا سے صاف ستھرامیٹھا پانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قال تعالی
وابتغوا الیہ الوسیلۃ ۱
احمدرضا نقی علی رضا علی طیب ذکی بان یفضل الشیخین والضجیعین الجلیلین والامیرین الوزیرین فی درجات علیۃ علیہ فباح بہ وافصح وبینہ واوضح ، ولوح بہ وصرح نادیا الیہ لسانہ و طیبا بہ جنانہ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے اور اللہ تعالی کی طرف وسیلہ دھونڈو ۔ پاک بر تر نبی (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم)کی رضائے احمد (سب سے زیادہ سراہی ہوئی رضا مندی) پسندیدہ بر تر پاک سھترے کے لئے ہے جو شیخین گرامی مرتبت مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پہلو میں لیٹنے والے دونوں امیروں اور وزیروں کی درجات بلند وبالا میں فضیلت مانتا ہے تو اس کو خوب واضع اور ظاہر کیا ہے اور اس کو مبین اور روشن کیا ہے اور اس کی تلویح وتصریح کی اس طرح کہ اس کی زبان اس عقیدہ کی طرف بلاتی اور اس کا دل اس پر خوش ہے ۔
(۱القرآن الکریم ۵/۳۵)
اذلم تکن بحمد اللہ من الکبر وحب الجاہ ذرۃ لدیہ اصفہ وصفا اجدبہ رشفا من بحر نعت مصطفی کانت لہ الجائل وزانت بہ الفضائل وازد انت لہ الفواضل فیہ کان بدؤھا والیہ کان فیئھا فلا تنتمی الا الیہ ولا تنتھی الا الیہ انعتہ بمحا مد تکون لی مصاعد الی ذروۃ حمد واحد لہ الحمد کلہ دقہ وجلہ وکثرہ وقلہ واولہ واخرہ باطنہ وظاھرہ یرفع من یشاء ویضع اذمیزان الفضل بیدیہ قولی ھذا اقول و فی مید ان الحمد اجول ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ قال تعالی لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ۱
اس لئے کہ بحمد اللہ تکبر و محبت جاہ سے کوئی ذرہ اس کے پاس نہیں ، میں اس کی ایسی تعریف کر وں جس سےاس مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بحر نعت کے قطرے لوں جس کے لئے بزرگیاں ہیں او رفضیلتیں اس سے مزین ہیں اور عظیم نعمتیں اس کی مطیع ، تو اسی سے ان کا آغاز اور انتہی کی طرف ان کی رجوع تواسی کی طرف منسوب ہوں اور اسی کی طرف منتہی ہوں میں اوصاف حمیدہ سے اس کی تعریف بیان کرتا ہوں جو حمد یکتا کی بلندی تک پہنچنے کے لئے میرا زینہ بنیں ۔ سب تعریفیں اسی کو سزاوار تھوڑی اور بہت اول وآخر طاہر وباطن جس کوچاہے بلند فرمائے اور جس کو چاہے پست کرے اور لئے کہ فضل کی ترازو اس کے دست قدرت میں ہے ، میں اپنی یہ بات کہہ کر میدان حمد میں جولان کروں بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ اللہ ہی کےلئے حمد ہے دنیا وآخرت میں۔
(۱ القرآن الکریم ۲۸ /۷۰)
والحمد للہ رب العلمین حمد امنیعا علی ان فضل نبینا علی العلمین جمیعا واقامہ یوم القیٰمۃ للمذنبین شفیعا ، وحبا کل من راہ ولو لحظۃ من بعید فضلا وسیعا ، ووعد من وقع فی واحد من الصحابۃ حمیما وضریعا، واختار منہم الاربعۃ الکرام عناصر الاسلام و ائمۃ الانام اختیاراً بدیعاً ، وبنی ترتیب الخلافۃ علی ترتیب الفضیلۃ وغلط من عکس غلط شنیعا ، فصلی اللہ وسلم وبارک وترحم علی حبیب القلوب وطبیب الذنوب والہ الا طہار وصحبہ الاخیار انہ کان بصیرا سیمعا ، صلوۃ اعظام یتلوھا سلام وسلام اکرام تعقبہ صلوۃ وتشیع کلا برکۃ وزکوۃ الی الابد تشییعا ، واشھد ان الا لہ سیدہ ومولا ہ ما اعظمہ واعلاہ اکبرہ واجلہ وحدہ لا شریک لہ الہًا رفیعاً ، وان محمد ا عبدہ ورسولہ ورحمتہ و رفدہ ، اجملہ واکملہ ، وبدین الحق ارسلہ لیمحوکل علۃ ویعلوالدین کلہ علوا سریعا۔
سب تعریفین اللہ کے لئے جو پروردگار ہے سب جہانوں کا اللہ کے لئے حمد بلند ہے اس پر کہ اس نے ہمارے نبی ( صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) کو سب جہانوں پر فضیلت دی ،ا ور انہیں قیامت کے دن گنہگار وں کا شفیع مقرر کیا ، اور ہر مسلمان کو جس نے انہیں ایک لخطہ دور سے بھی دیکھا وسیع فضل دیا اور ان کے صحابیوں کے بد گویوں کو جہنم کے گرم پانی اور آگ کے کانٹوں کی غذا کی وعید سنائی اور ان صحابہ سے چار بزرگوں کہ اسلام کے عناصر اور مخلوق کے امام ہیں بے مثال انتخاب کیا اور خلافت کی ترتیب فضیلت کی ترتیب پر رکھی اور جس نے ترتیب الٹی اس نے بری غلطی کی ، تو اللہ صلوۃ وسلام بھیجے اور رحمت وبرکت اتارے دلوں کے پیارے اور گناہوں کے چارہ ساز اور ان کی آل پاک اور نیک صحابہ پر ، بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے عظمت کا درود جس کے پیچھے سلام چلے اور تکریم کا سلام جس کے پیچھے درود آئے ، اور دونوں کو برکت وافزائش ہمیشہ کے لئے قوت دے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک ان کاخدا ان کا آقا ومولٰی کس قدر بلند وبر ترا اور بالا و اعلی ہے ، یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، عظمت الا معبود ہے ، اور بے شک محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور اللہ کے رسول ہیں اور اس کی رحمت اور اس کی عطا ہیں ۔ اللہ نے انہیں سچے دین کے ساتھ بیجا تا کہ وہ ہر خرابی مٹائیں اور سب دینوں پرجلد غالب آئیں۔
وبعد فہذا ان شاء اللہ منحۃ عالیۃ وسلعۃ غالیۃ و رحمہ ربانیۃ لانزغۃ شیطانیۃ ، واوراق ان رأیت قلیلۃ وان وعیت جلیلۃ ، اذا قرات ھانت ، واذا فھمت لانت ، وان انصفت زانت ، وان تعسفت بانت ،
بعد حمد وصلوۃ ان شاء اللہ پر گراں قدرعطا او ربیش بہا متاع اور ربان رحمت ہے نہ کہ شیطانی وسوسہ ، اور یہ اوراق دیکھوتوتھوڑےہیں اورانہیں یادکرلو تو گر انقدر ہیں اور پڑھو تو آسان اور سمجھو تو سہل ، اور انصاف کرو تو سنوارین اور تعصب بر تو تو جدار ہیں ، اور یہ جنات عالیہ ہیں جن کے خوشے جھکے ہوئے ہیں ، ان میں اونچے تخت ہیں اور چنے ہوئے کوزے اور قالین بچھے ہوئے اور چاند نیاں ہیں پھیلی ہوئی ،
(۱ القرآن الکریم ۶۹ /۲۲و۲۳) (۲ القرآن الکریم ۸۸ /۱۳تا۱۶)
قبولہا القبول من قبل الفحول ، وزینتہا الرد من اھل الحسد فیما من کل الثمرات ، وجنا الجنات ، عنب التحقیق ورطب التدقیق ، وجوز الحقائق و لوز الدقائق تؤتی الفریقین اکلہا مرتین مرۃ عسلا لارباب السنن ، واخری ثما لا (عہ) لا صحب الفتن فیہا عیون حکمۃ تسمی سلسبیلا ، فان شئت ریا فقم سل سبیلا ، ماء ھا صاف وشاف وکاف ھُلَاھِلُ(عہ۱) مرولمن یستقیہ وھلھل(عہ۲) مرولمن یتقیہ۔
اس کی ضیا فضلا کو مقبول ومنظور اور اس کی زینت یہ ہے کہ اہل حسد اسے قبول نہ کریں ۔ اس میں سب باغوں کے ہر قسم کے پھل ہیں ۔تحقیق کےانگور اور تدقیق کی تروتازہ کھجور اور حقائق کے ناریل اور دقائق کے بادام ، یہ اپنےپھل دو بار دیتی ہے ایک بار سنیوں کے لئے ایسا پھل جو شہد کی طرح میٹھا ہو ، اور دوسری بارگمراہوں کے لئے ایسا پھل جو ان کے لئے مہلک زہر ہو ۔اس میں حکمت کے چشمے ہیں جن کا سلسبیل نام ،۔۔۔۔۔۔ اگر تو سیرانی چاہتا ہے تو اٹھ راستہ تلاش کر ، اس کا پانی صاف اور شانی اور کافی ہے پینے والے کےلئے بہت کثیر اور ستھرا جس سے وہ سیراب ہوجاءیں اور جو اس سے بچے اس کیلئے زہر قاتل ہے کہ اس کو ہلاک کر دے ،
فیالہا من جنۃ فی ظلہا جنۃ للانس والجنۃ من شمس الافتتان وحریق المراء اصلھا ثابت وفرعہا فی السماء ۱تولی سقی اشجارھا وفتق ازھار ھا واجتناء ثمارھا عبدہ الکل علیہ والمتفاق فی کل امر الیہ عبد المصطفی الشہیر باحمد رضا المحمدی دینا والسنی یقینا والحنفی مذھبا والقادری منتسبا والبرکاتی مشربا والبریلوی مسکنا والمدنی البقیعی ان شاء اللہ مدفنا ، فالعدنی الفردوسی برحمۃ اللہ موطنا ، کان اللہ لہ وحقق املہ واصلح عملہ و جعل اخراہ خیر امن اولاہ ابن الامام الھمام ، والفاضل الطمطام والبحر الطام والبد رالتام ، حامی السنن وماحی الفتن ، ذی تصانیف رایقۃ وتوالیف فایقۃ شریفۃ منیفۃ لطیفۃ نظیفۃ بقیۃ السلف ، حجۃ الخلف ، ناصح الامۃ ، کاشف الغمۃ ، حامی حمی الرسالۃ عن کید اھل الضلالۃ ،
تو یہ کیسی جنت ہے جس کے سایہ میں انسانوں اور جنوں کیلئے گمراہی کی دھوپ اور آئش جدل (ہٹ دھرمی سے امان ہے ، اس کی جڑجمی ہوئی اور اس کی شاخیں آسمان میں اس کے درختوں کی آبیاری اور اس کے پھول کھلانے اور پھل چننے کا کام اللہ کے محتاج بندے سرانجام دیتے ہیں اور ہر کام میں اس کے فقیر بندے عبدا لمصطفی عرف احمد رضا ، جودین کے اعتبار سے محمد ی ہے اور عقیدہ کے اعتبار سے سنی اور مذہبا حنفی ہے اور قادری انتساب ہے اور ارادۃ برکاتی او رمسکنا بریلوی اور مدفن کے لحاظ سے ان شاء اللہ مدینہ والا بقیع پاک والا اور اللہ کی رحمت سے مقام ابدی کے لحاظ سے بہشتی فردوسی نے خود انجام دیا۔ اللہ اس کا ہوا اور اس کی امید بر لائے اور اس کے عمل نیک کرے اور اس کی عاقبت اس کی دنیا سے بہتر فرمائے (احمد رضا) ابن امام ہمام فاضل عظیم ، دریائے موجزن وماہ تمام ، حامی سنت ، ماحی بد عت ، صاحب تصانیف پسند یدہ وتو الیف فاضلہ وبلند رتبہ ولطیفہ صافیہ ، بقیۃ السلف ،حجۃ الخلف ، ناصح امت ، دافع کربت ، نگہبانی حدود رسالت از مکر اہل ضلالت ،
(۱القرآن الکریم ۱۴ /۲۴)
ومما قلت فی بابہ معتذرا الی جنابہع
فواللہ لم یبلغ ثنائی کمالہ ولکن عجزی خیر مدحی لمالہ
فذالبحر لو لا ان للبحر ساحلا وذالبدر لولا للبد ر یخشی مالہ۔
اور میں نے ان کے باب میں ان کی جناب میں معذرت کے طور پر عرض کیا ہے ۔ع
اس کے کمال تک نہ پہنچا مرابیاں پر بہترین مدحت ہے عجز کی زباں
ساحل اگر نہ ہو تو وہ بحر بیکراں کھٹھکا نہ ہو غروب کا تو بد ر ہرماں
سیدی ومولائی وسندی ماوای العالم العلم علامۃ العالم مولانا المولوی محمد نقی علی خان القادری البرکاتی الاحمدی الرسولی رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ بالنضرۃ والسرور لقاہ ابن العارف العریف ،السید الغطر یف شمس التقی ، بد ر النقی ، نجم الھدی ، علامۃ الوری ذی البرکات المتکاثرہ والکرامات المتواترہ ، والترقیات الرفیعۃ والتنزلات البدیعۃ، و قلت فی شانہ راجیا لاحسانہ ع
اذا لم یکن فضل فماالنفع بالنسب وھل یصطفی خبث وان کان من ذھب
والکننی ارجوالرضا منک یا رضا وانت علی فازولی والی الرتب
حصنی وحرزی وذخری وکنزی ذی القدر السنی والفخر السمی مولانا المولوی محمد رضا علی خان النقشبندی قدس اللہ سرہ وافاض علینا برہ امین یا رب العلمین ،
سیدی ومولائی وسندی ،ملجائی کوہ علم ، علامہ عالم ، مولانا مولوی محمد نقی علی خاں قادری برکاتی احمدی رسولی ، اللہ ان سے راضی ہو اور انہیں راضی کرے اور انہیں تازگی وفرحت دے ۔ ابن عارف مدبر سید وسردار کریم شمس تقوی ماہ تمام تقدس نجم ہدایت علامہ خلقت صاحب بر کات کثیر وکرامات مستمرہ ودرجات عالیہ ومنازل بدیعہ میں نے ان کی شان میں ان کے انعام کا امید وار ہو کر کہا ع
معدوم ہوکرم و کس کام کا نسب زر کا بھی میل ہو تو مقبول ہو وہ کب
لیکن امید وار رضا تجھ سے ہوں رضا ا ورتو علی ہے مجھ کو دے عالی قدر رتب
میرے حرزجان اور میری امان اور میرے کنز وذخیرہ صاحب قدر علی وفخر گرامی مولانا مولوی محمد رضا علی خاں نقشبندی اللہ ان کا باطن منزہ فرمائے اور ہم پر ان کا فیض جاری فرمائے ، آمین یارب العلمین !
حملنی علی تصنیفہا واحسان تالیفہا باحصان تر صیفہا مارا یت ان قد زاغت اقدام وزلت اقوام وضلت افہام عما رفعت لہ الرایات الی رفع الغایات ، واشمغ النہایات من تو افر الایات و تظافر الاخبار وتواتر الاثار من العترۃ الاطہار والصحابۃ الکبار والاولیاء الاخیار والعلماء لا بر ار من تفضیل الشیخین علی ابن الحسنین رضی اللہ تعالی عنہم ، وجعلنا لہم ومنہم حتی بلغنی ان بعض من قادۃ الخمین والظن غیر امین الی اقتداء العمین فی ازدراء الثمین واجتبا المھین تعلق بشکوک سخیفۃ لا لطیفۃ والا نظیفۃ وانما ھی کطعام من ضریع لایسمن ولا یغنی من جو ع ۱فیما توافق علیہ سادۃ النقی وقادۃ التقی من الاجتجاج بکریمۃ ''
وسیجنبہا الا تقی۱
وقام بعرضہا کلہا اوبعضہا احد المتدخلین فی عداد الاذکیا ء علی بعض العصریین من النبلاء ، و لم اعلم الام دارت رحی التقریر ، وعلی ای شق برک البعیر ، فاشتد ذلک علی وعظم امرہ لدی فاستخرت اللہ تعالی فی عمل کتاب یبین الجواب عن کل اریتاب ویکشف النقاب عن وجہ الصواب ، مع اطلاعی علی قصور باعی وقصر ذاعی ، عدم الظفر من اسفار التفاسیر الابشیئ نزل یسیر ولو لا الا ما اقاسیہ من ھجوم ھموم و عموم غموم وتباعد اغراض وتوارد اعراض ، وما لا محیض عنہ لمسلم من ایذاء موذ و ایلام مولم کما اخبر النبی الاکرم صلی اللہ علیہ وسلم بید ان الفقیر العانی عاین عین اعیان المعانی تفیض علیّ فیضا مدرارا واتثج الی ثجا کبار ، افقوی ظنی ان صاحب التوفیق سیقوی الضعیف علی بایطیق فاختلست الفرصۃ خمسۃ ایام من آخر الشھر المبارک ذی الحجۃ الحرام ، حتی جاءت بحمد اللہ کما تری تروق الناظروتجلو البصائرکاشفۃ عن وجوہ غوانی من حسان معانی لم تقرع الاذان ،ونفائس تحقیق وعرائس تدقیق لم یطمثھن قبلی انس ولاجان فان صدق ظنی فکل مافیہ غیر ماانمیہ مما سمع بہ فکری الفاتر ، وادی الیہ نظری القاصر والانسان کما تعلم مساوق الخطاء والنسیان ، فما کان صوابا فمن اللہ الرحمان ،وانا ارجو اللہ سبحنہ فیہ ، وماکان خطا فمنی ومن الشیطان وانا ابری الی اللہ عن مساویہ ، ویابی اللہ العصمۃ فی کل معنی وکلمۃ الا لکتابہ الاعظم وکلام رسولہ الاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، ولما کان فض ختامہا وطلوع بدر تمامہا للیلۃ بقیت من المائۃ الثالثۃ عشر من سنی ھجرۃ سیدالبشر علیہ من الصلوات انما ھا ومن التحیات ازکاھا ناسب ان اسمیہا ''الزلال الانقی من بحر سبقہ الاتقی ''لیکون العلم علما علی العام واللہ تعالی ولی الانعام ، وھو الخامس عشر من تصانیفی فی علوم الدین نفعنی اللہ تعالی بھا و سائر المسلمین وجعلہا نورابین یدی و حجۃ لی لاعلی ، انہ علی مایشاء قدیر و بالاجابۃ جدیر و حسبنا اللہ ونعم الوکیل ، ولاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔
مجھے اس کتاب کی تصنیف اور اس کی تالیف خوب اور اس کی ترتیب کو محکم کرنے پر اس امر نے اکسایا جو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ منحرف ہوئے اور کچھ قسم پھسلے او رکچھ ذہن اس سے گمراہ ہوئے جس کےلئے نہایت بلندی تک علم بلند کئے گئے آیات ، اخبار اور آثار کی کثرت سے اور اس پر صحابہ کبار ، اہل بیت اطہار ، پیشوایان اخیار او ر علماء ابرار کا اجماع ہوچکا یعنی شیخین ابوبکر وعمر کی فضیلت ابو الحسنین علی پر اللہ ہمیں ان کے لئے کرے اور انہیں میں ہمیں رکھے یہاں تک کہ مجھے خبر پہنچی کہ جن لوگو ں کو ظن نے کھینچا اور ظن امین نہیں اندھوں کی اقتداء اور قیمتی چیز (عہ۱) کی تحقیراورذلیل(عہ۲) چیز کے انتخاب کی طرف وہی شبہات کہ نہ لطیف ہیں نہ نظیف ستھرے ، بلکہ آگ کے کانٹوں کی غذا کی طرح ہے کہ " نہ فربہ کریں نہ بھوک سے بےنیاز کریں" کا سہارا اس میں لیتا ہے جس پر سردار ان تقدس وتقوی کا اتفاق ہے یعنی کریمہ "وسیجنبہا الاتقی" سے فضیلت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر حجت قائم کرنا اور ان شبہات کو ایک شخص نے جواذکیا ء کے شمار میں دخیل ہونا چاہتا ہے ، فضلاء میں سے ایک ہمعصر پر پیش کیا اور مجھے معلوم نہ ہوا کہ تقریر مدعی کی ہوچکی کب تک چلی اور اونٹ کس کروٹ بیٹھا تو یہ مجھے دشوار گزار اور اس کا معاملہ میرے نزدیک بڑا ہوگیا تو میں نے اللہ سے استخارہ کیا ایک کتاب کی تصنیف میں جوہر شبہ کا روشن جواب دے اور صواب کے چہرے سے نقاب اٹھادے باوجود یہ کہ میں اپنے قصور طاقت اور بساط کی قلت اور کتب تفاسیرسے بہت تھوڑا میسر ہونے سے واقف ہوں اور اگر سوائے اندوہ وغم کے ہجوم اور اغراض کی دوری اور امراض کے وورد پیہم کے اور موذی کی ایذا جس سے کسی مسلم کو چھٹکارا نہیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی ، کچھ نہ ہو تو اس کا م سے یہی مانع ہوتا مگر اس فقیر ذلیل نے دیکھا کہ معانی نفیسہ کا چشمہ اس کے قلب پر سراٹے سے ابل رہا ہے اور وہ بڑی مقدار میں اس کی طرف بہہ کر آرہے ہیں تو میرا گمان غالب ہو اکہ مالک توفیق (خدا) اس ضعیف کو اس کی قوت دے گا جس کی اسے قدرت نہیں تو میں نے ماہ مبارک ذوالحجۃ الحرام سے آخری پانچ دن کی فرصت لی یہاں تک کہ یہ کتاب بحمد اللہ ایسی ظاہر ہوئی جیسی کہ تم دیکھتے ہو جو دیکنے والے کو خوش کرتی ، بصیر تو ں کو جلا بخشتی ہے ، اور ایسے خوشتر معانی (جوکانوں سے نہ ٹکرائے) سے پردے ہٹاتی ہے جو خوبان بے نیاز آرائش کے چہرے ہیں اور تحقیق کی نفیس صورتیں اور تدقیق کی دلہنیں ہیں جنہیں مجھ سے پہلے کسی آدم نے چھوانے کسی جن نے ، تو اگر میرا گمان سچا ہو تو سوائے اس کے جس کی میں کسی کی طرف نسبت کرو ں اس میں جو کچھ ہے وہ میر ی فکر قاصر کی دین ہے اور اس تک میری کو تا ہ نظر پہنچی ہے اور انسان جیساکہ تم جانتے ہو خطا ء ونسیان کے ساتھ چلتاہے ، تو جو درست ہو وہ خدائے رحمان کی طرف سے ہے ، اور میں اس کے سبب اللہ سے امید وار ثواب ہوں ، اور جو خطا ہو تو وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے اور میں اللہ کی طرف اس کی بدیوں سے براءت کرتا ہوں ، اور اللہ ہر معنی اور ہر کلمہ میں عصمت ( خطا سے محفوظ ہونا ) اپنی کتاب معظم اور اننے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کلام کے سوا کسی کے لئے نہیں چاہتا اور جب اس رسالہ کی مہر اختتام کی شکست اور اس کے تمام کاماہ تمام اس ایک رات میں طلوع ہوا جو سید البشر کی ہجرت کے سالوں میں سے تیرھویں صدی میں باقی تھی اور پر درود وں میں سب درودو ں سے بڑھتا درود اور تحیات میں سب سے فزوں تحیت ہو مناسب ہے کہ اس کا نام "الزوال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی" رکھو ں تا کہ نام سال تصنیف کی نشانی ہوجائے اور اللہ تعالی ہی ولی نعمت ہے اور یہ میری نصانیف سے پندرہویں تصنیف ہے علوم دین میں ،اللہ تعالی مجھے اور باقی مسلمانوں کو اس سے نفع بخشے ،اور اللہ تعالی اسے میرے مابعد کیلئے نور بنائے اور میرے حق میں حجت نہ میرے خلاف وہ جو چاہے کرسکتا ہے ، اور قبول دعا اسی کو سزا وار ہے اور اللہ ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے او ربدی سے پھرنا اور نیکی کی طاقت اللہ علو وعظمت والے ہی سے ہے ۔
(۱ القرآن الکریم ۸۸/۶و۷) (۱ القرآن الکریم ۹۶/ ۱۷)
(عہ ۱: یعنی عقیدہ صحیحہ موافق اہلسنت وجاعت)
(عہ ۲ : یعنی گمراہی )
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط
قال ربنا تبارک وتعالی
''یایھاالناس انا خلقنکم من ذکر وانثی وجلعنکم شعوبا وقبائل التعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقکم ان اللہ علیم خبیر۱
ہمارا رب تبارک وتعالی فرماتاہے: '' اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مر د اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو ، بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے ۔ بے شک اللہ جاننے والا خبر دار ہے ''
(۱ القرآن الکریم ۴۹/۱۳)
اراد اللہ سبحنہ وتعالی ردما کانت علیہ الجاھلیۃ من التفاخر بالاباء والطعن فی الانساب وتعلی النسب علی غیرہ من الناس حتی کا نہ عبدلہ اواذل ، وکان بدء ھذہ النزعۃ اللئیمۃ من الذلیل الخسیس عد و اللہ ابلیس اذ قال
'' انا خیر منہ خلقتنی نار وخلقتہ من طین''۱
فرد اللہ سبحنہ وتعالی علیہم بان اباکم واحد وامکم واحدۃ فانہ تعالی '' خلقکم من نفس واحدۃ و وخلق منہا زوجہا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء۲ فما منکم من احد الا وھو یدلی بمثل مایدلی بہ الاخر سواء بسواء ، فلا مساغ للتفاضل فی النسب والتفاخر بالام والاب ، واما ما رتبنا کم علی اجیال تحتھا شعوب تحتہا قبائل فانما ذالک لتعارفو ا فتصلو اارحامکم ولا ینتمی احد الی غیر ابیہ ، لا لان تتفاخر وا ویزدری بعضکم بعضا نعم ان اردتم التفاضل فالفضل عند نا بالتقوی فکلما زاد الانسان تقوی زاد کرامۃ عند ربہ تبارک وتعالی ، فاکرمکم عند نامن کان اتقی لامن کان انسب ۔ ان اللہ علیم بکرم النفوس وتقواھا خبیر بھم النفوس فی ھواھا۔
( ترجمہ رضویہ)اللہ تعالی کی مراد اس طور کا رد ہے جس پر اہل جاہلیت چلتے تھے کہ باپ دادا پر فخر کرتے اور دو سروں کے نسب پر طعنہ زن ہوتے اور نسب کی وجہ سے آدمی دوسرے آدمی پر ایسی تعلی کرتا گویا کہ وہ اس کا غلام بلکہ اس سے بھی زیادہ خوار ہے ، اور اس ذلیل طریقہ کی ابتداء ذلیل خسیس ابلیس سے ہوئی جس نے کہا تھا کہ اے رب ! میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور آدم (علی نبینا وعلیہ السلام)کو مٹی سے بنایا ، تو اللہ نے ان کایوں رد فرمایا کہ تمہارا باپ ایک ہے ارو تمہاری ایک ہے اس لئے کہ اللہ تعالی نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی کو بنایا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادئے تو تم میں ہر ایک اپنی اصل سے وہی اتصال رکھتا ہے جو دوسرا رکھتا ہے تو نسب میں ایک کو دوسرے پر فضیلت کی راہ نہیں اور ماں باپ سے ایک دوسرے پر فخر کی مجال نہیں رہا یہ کہ ہم نے تمہیں اصول پر مرتب کیا جن کے نیچے ان کی شاخیں ہیں اور ان کے نیچے قبیلے ہیں تو یہ محض اس لئے کہ آپس میں پہچان رکھو تو اپنے قریبی عزیزوں سے ملو اور کوئی باپ کے سوا اور کی طرف منسوب نہ ہونہ اس لئے کہ تم نسب پر گھمنڈ کر و ، اور ایک دوسرے کو حقیر جانے ، ہاں اگر فضلیت چاہو تو فضیلت ہمارے یہاں تقوی (پر ہیزگاری سے ہے تو جب انسان پرہیز گاری میں بڑھے اپنے رب کے یہاں عزت میں بڑھے ۔ تو ہمارے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے نہ کہ وہ جوبڑے نسب والا ہے بے شک اللہ تعالی نفوس کی عزت اور ان کی پر ہیز گاری کو جانتا ہے اور نفوس کی اپنی خواہش میں کوشش سے خبر دار ہے۔
(۱ القرآن الکریم ۷ /۱۲ و ۳۸ /۶۶) (۲القرآن الکریم ۴ /۱)