Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۸ (کتاب الشتّٰی)
100 - 135
حضرت میر قدس سرہ المنیر نے اس کتاب مقبول ومبارک میں مسئلہ تفضیل بکمال تفصیل وتاکید جمیل وتہدید جلیل ارشاد فرمایا لفظ مبارک سے چند حروف کی نقل سے شرف حاصل کروں اولیائے کرام محدثین وفقہاء جملہ اہل حق کےا جماعی عقائد میں بیان فرماتے ہیں :
وواجماع دارند کہ افضل از جملہ بشر بعد انبیاءابو بکر صدیق ست وبعد از وے عمر فاروق ست وبعد از وے عثمان ذی النورین ست وبعد ازوے علی مرتضٰے ست رضی ال لہ تعالی عنہم اجمعین ۱؂۔
اور اس پر اجماع ہے کہ انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل ابوکبر صدیق ، ان کے بعد عمر فاروق ، ان کے بعد عثمان ذوالنورین ، اور ان کے بعد حضرت علی المرتضی ہیں۔ اللہ تعالی ان سب پر اضی ہو۔(ت)
 (۱؂سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۷)
پھر فرمایا:
فضل ختنین از فضل شیخین کمتر ست بے نقصان وقصور ۲؂
ختنین (عثمان غنی وعلی مرتضی)کی فضیلت شیخین (صدیق وفاروق) سے کم ہے مگر اس میں کوئی نقص اور خامی نہیں (ت)
 (۲؂سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۱۰)
پھر فرمایا:
  اجماع اصحاب وتابعین وتبع تابعین وسائر علمائے امت ہمبر ین عقیدہ واقع شدہ است ۳؂
صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور تمام علمائے امت کا اجماع اسی عقیدہ پر واقع ہوا ہے۔(ت)
 (۳؂سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص ۱۰)
پھر فرمایا :
مخدوم قاضی شہاب الدین در تییرا لحکام بنوشت کہ ہیچ ولی بدرجہ ہیچ پیغمبر ے نرسد زیرا کہ امیر المومنین ابوبکر بحکم حدیث بعد پیغمبر اں ازہمہ اولیا بر ترست واوبدرجہ ہیچ پیغمبر ے نر سید وبعد او امیر المؤمنین عمر بن خطاب ست وبعد اوامیر المومنین عثمان بن عفان ست وبعد اوامیر المومنین علی بن ابی طالب ست رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کسیکہ امیر المومنین علی را خلیفہ ندانداو از خوارج ست وکسیکہ اور ابر ا میر المومنین ابو بکر وعمر تفضیل کند او از روافض ست  ۱؂
مخدوم قاضی شہاب الدین نے تیسیر الحکام میں لکھا کوئی ولی کسی نبی کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ حدیث کی رو سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ انبیاء کے بعد تمام اولیاء سے افضل ہیں اور وہ کسی نبی کے مقام تک نہیں پہنچے ۔ ابوبکر صدیق کے بعد امیر المومنین عمر بن خطاب ، ان کے بعد امیر المومنین عثمان بن عفان اور ان کے بعد امیر المومنین علی بن ابی طالب کا مقام ہے اللہ تعالی ان سب پر راضی ہو۔ جوشخص امیر المومنین علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ نہ مانے وہ خارجیوں سے ہے اور جو آپ کو ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما سے افضل جانے وہ رافضیوں میں سے ہے ۔(ت)
 (۱؂ سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۰)
پھر فرمایا:
ازینجا باید دانست کہ درجہاں نہ ہمچو مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پرے پیداشد ونہ ہمچو ابوبکر مریدے ہوید ا گشت ، اے عزیز ! اگرچہ کمالیت فضائل شخیین بر ختنین مفرط وفائق اعتقاد با ید کرد امانہ بر وجہی کہ درکمالیت فضائل ختنین قصورے ونقصانے بخاطر تو رسد بلکہ فضائل ایشاں وفضائل جملہ اصحاب از عقول بشر یہ افکار انسانیہ بسے بالا تر ست ۲؂
یہاں سے جاننا چاہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پیراور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جیسا مرید کا ئنات میں کوئی پیدا نہیں ہوا ۔ اے عزیز! اگر شیخین کی فضیلت کا ملہ ختنین پربہت زیادہ سمجھنی چاہے مگر اس طور پر نہیں کہ تیرے دل میں ختنین کی فضیلت کا ملہ کے قاصر وناقص ہونے کا خیال گزرے ، بلکہ ان کے اور تمام صحابہ کے فضائل عقول بشریہ اور افکار انسانیہ سے بہت بلند ہیں ۔
 (۲؂سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۰)
پھر فرمایا:
پس چوں اجماع صحابہ کہ انبیاء صفت اند بر تفضیل شیخین واقع شد و مرتضی نیز دریں اجماع متفق وشریک بود مفضلہ در اعتقاد خود غلط کردہ است اسے خان ومان مافدائے نام مرتضے بادکدام بدبخت ازل کہ محبت مرتضے در د لش نباشد وکدام راندہ درگاہ مولے کہ اہانت اور وا دارد ، مفضلہ گمان بردہ است کہ نتیجہ محبت مامرتضے تفصیل اوست بر شیخین ، ونمیدانند کہ ثمر ہ محبت موافقت ست  با اونہ مخالفت کہ چوں مرتضے موافقت ست با اونہ مخالفت کہ چوں مرتضے  فضل شیخین وذی النورین را بر خود روا داشت واقتداء بایشاں کرد و حکہاے عہد خلافت ایشاں را امتثال فرمود شرط محبت بااوآں باشد کہ در راہ و روش باموافق باشد نہ مخالف ۱؂
جب انبیاء جیسی صفات کے حامل صحابہ کرام کا اجماع واقع ہوگیا کہ شیخین کریمین افضل ہیں ۔ اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس اجماع میں شامل اور متفق تھے ۔ تو فرقہ تفضیلہ نے خود اپنے اعتقاد میں غلطی کھائی ہے ۔ میرا گھر بار حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر فدا اور میرا جان ودل آپ کے قدموں پر قربان ہوں کون ازلی بدبخت ہے جس کے دل میں محبت مرتضےنہیں ہے اورکون ہے بارگاہ خداوندی کادھتکارا ہوا جو توہین مرتضی کو روارکھتا ہے ۔ مفضلہ (فرقہ تفضیلیہ) نے گمان کیا ہے کہ محبت مرتضی کا تقاضا آپ کو شیخین پر  فضیلت دینا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ آپ کی محبت کا ثمرہ آپ کے ساتھ موافقت ہے نہ کہ مخالفت ۔ جب حضرت مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے شیخین اور ذوالنورین کو اپنے آپ سے افضل قرار دیا ، ان کی اقتداء کی اور ان کے عہد خلافت کے احکام کو تسلیم کیا تو ان کی محبت کی شرط یہ ہے کہ ان کی راہ روش کے ساتھ موافقت کی جائے نہ کہ مخالفت ۔(ت)
 (۱؂سبع سنابل سنبلہ اول درعقائد ومذاہب مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۷)
حضرت میر قدس سرہ ال منیر نے یہ بحث پانچ ورق سے زائد میں افادہ فرمائی ہے
من طلب الزیادۃ فلیرجع الیہ
(جو زیادہ تفصیل چاہتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرے ، ت) یہ عقیدہ ہے اہل سنت وجماعت اور ہم غلامان دو دمان زید شہیدکا ۔ واللہ تعالی اعلم ( اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے ۔ت)
28-12.jpg
رسالہ 

 غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق

ختم ہوا
Flag Counter