| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول : اولاً تضعیف جواب بے وجہ ہے۔ ثانیاً یہ زیادت زائد و ناموجہ ہے۔ ملازمت مقعر کیا مفید مشایعت ہے ،ورنہ افلاک تک مشایع ہوں اور اگر یہ مقصود کہ ہوا میں یہ علاقہ منشاء شبہہ ہے بھی ،حجر میں تو اتنا بھی نہیں۔ اقول : وہاں تو ایک سطح سے مس ہے اور یہاں جملہ اطراف سے احاطہ ،دو بڑے چھوٹے پتھروں پر اثر کا فرق تو تجربہ سے کھلے اور وہ یہاں متعذر کہ بڑا پتھر اوپر پھینکا جائے گا اور چھوٹا اپنی حرکت میں ہوا کے سبب پریشان ہوجائے گا۔ علامہ نے کہا مثلاً سیر بھر کا پتھر ہواسے مشوش نہ ہوگا اور تین سیر کا اوپر پھینک سکتا ہے۔ اقول : وہ جواب ہی فراہمل ہے اولاً اوپر سے تو گراسکتے ہیں ثانیاً خود فرق کیا کہ چھوٹا ہوا سے مشوش ہوگا نہ بڑا یہی تو منشاء دفع تھا کہ ان پر اثر یکسا ں نہ ہوگا۔ ثالثاً قبول اثر تحریک میں صغیر و کبیر کا تفاوت حکم عقل ہے محتاج تجربہ نہیں۔ (۳) بڑے چھوٹے پر اثر کا فرق حرکت قسریہ میں ہے ،عرضیہ میں سب برابر رہتے ہیں کشتی میں ہاتھی اور بلی برابر راستہ قطع کریں گے۔ علامہ نے کہا مصرح ہوچکا ہے کہ ایک کی حرکت سے دوسرے کی حرکت عرضیہ صرف اس وقت ہے کہ یہ اس کا مثل جز ہو ،یا وہ اس کا مکان طبعی حجر کو ہوا سے دونوں تعلق نہیں تو ہوا کی حرکت اگرچہ عرضیہ ہو پتھر کو قسراً ہی حرکت دے گی اور یہ ممتنع نہیں ،جیسے جالس سفینہ کا کسی شے کو قسر متحرک بالعرض دوسرے کو اور حرکت قسریہ دے سکتا ہے اور اسی حرکت عرضیہ سے بھی قسر کرسکتا ہے جب کہ اینیہ ہو ،جیسے جالس سفینہ کی محاذات میں کسی درخت کی شاخ آئیں اس کے صدمے سے ہٹ جائیں گی ہر حرکت اینیہ میں دفع ہے لیکن حرکتِ و ضعیہ میں دفع نہیں ،جس کی تحقیق ہم زیادات فضلیہ میں کریں گے ،تو قیاس مع الفارق ہے ،ہدیہ سعیدیہ میں اس سوم پر یوم رَدّ کیا کہ عرضیہ میں بھی تساوی مسلّم نہیں ۔ بہتے دریا میں لٹھا اور چھوٹی لکڑی ڈال دو لکڑی زیادہ بہے گی۔
اقول : یہاں نری عرضیہ نہیں ،قسریہ بھی ہے کہ پیچھے سے آنے والی موجیں آگے کو دفع کرتی ہیں جیسے لکڑی لٹھے سے زیادہ قبول کرتی ہے۔
دفع پنجم : دوم کا رَد سوم اشیاء کی ہوا میں چسپاں ہونا بدیہی ورنہ کوئی پرند اُڑ نہ سکتا ابر آگے بڑھ نہ سکتا اور جب چسپاں نہیں تو کیا محال ہے کہ ہوا انہیں چھوڑ جائے اوپر پھینکا ہوا پتھر مغرب کو گرے وغیرہ استحالات (تحریر مجسطی) یہ جواب ضعیف ہے۔ محال نہ ہونے سے وقوع لازم نہیں فلک الافلاک کی حرکت بھی تو بے حرکت دیگر افلاک محال نہیں مگر کبھی بے ان کے واقع نہیں ہوتی۔(شرح مجسطی) اقول : افلاک کی حرکت عرضیہ ہونے کا رَدّ اوپر گزرا۔ طوسی اتنا سفیہ نہ تھا کہ سوال پر سوال جواز کے مقابل جواز پیش کرتا۔ مقصود یہ ہے کہ امورِ عادیہ کا خلاف بلاوجہ وجیہ محض شاید ولیکن سے نہیں مانا جاتا۔ عادت یہ ہے کہ جو شے دوسری سے ضعیف علاقہ رکھتی ہو حرکت میں ہمیشہ اس کی ملازم نہیں رہتی بلکہ غالب چھوٹ جانا ہی ہے۔ تنکوں کو دیکھتے ہیں کہ ہوا انہیں اڑاتی ہے کچھ دور چل کر گر جاتے ہیں ،پھرپتھروں کا کیا ذکر ،لیکن کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا۔ جب سے عالم آباد ہے کبھی نہ سنا گیا کہ پتھر پھینکا اوپر ہوا اور گرا ہو ہزاروں گز مغرب میں ،اسی طرح باقی استحالے اب کبھی ہوا تو تاریخیں اس سے بھری ہوتی ۔ یہ ہر خلاف عادت دوام محض امکان کی بنا پر نہیں ہوسکتا اگر وجوب نہیں تو ضرور بحکم عادت اس کا خلاف بھی تھا بلکہ وہی اکثر ہوتا اوراگر وجوب ہے تو وہ یوں ہی مقصود کہ پتھر ہوا میں چسپاں ہو اور اس کا بطلان بدیہی۔ یہ اس تقریر کی غایت توجیہ ہے۔ اور اگر چسپاں ہونے سے ہوا میں استقرار مراد لیا جائے تو بے شک صحیح ہے مگر اس وقت وہی دفع سوم ہے۔
دفع ششم : سوم کا رَد کہ ہوا نہایت نرم و لطیف ہے ،ادنٰی اثر سے اس کے اجزاء متفرق ہوجاتے ہیں۔ تو اگر وہ حرکت عرضیہ کرے بھی تو ضرور نہیں کہ زمین کے ساتھ ہی رہے تو جو اس وقت ہوا میں کسی موضع زمین کے محاذی ہے کچھ دیر کے بعد کیونکر اس موضع کا محاذ ہی رہے گا۔ اقول : سوم کی طرح یہ دفع بھی صحیح ہے ۔ فقط ۔ اولاً حرکت سے عرضیہ کی قید ترک کرنی چاہیے کہ اعتراض نہ ہو کہ ان سے نزدیک ہوا کی یہ حرکت ذاتیہ ہے۔ ثانیاً ضرور نہیں کہ جگہ یہ کہنا چاہیے کہ ساتھ نہ رہے گی کہ وہ مستدل و مانع کی بحث پیش نہ آئے اور خود آخر میں کہا کیونکہ محاذی رہے گا۔ نہ یہ کہ محاذی رہنا ضرور نہ ہوگا۔ اگر کہیے ساتھ نہ رہے گی۔کیا ثبوت۔ اقول : عقلِ سلیم و مشاہد دونوں شاہد اور خود(عہ۱) ہیئت جدیدہ کو تسلیم ہے کہ کثیف منجمد کے اجزاء حرکت میں برقرار رہتے ہیں جب تک اتنی قوی ہو کہ تفریق اتصال کردے اور لطیف سیال کے اجزاء ادنٰی حرکت معتد بہا سے متفرق ہوجاتے ہیں ہر گز اس نظام پر نہیں رہتے تو اتنی سخت قوی حرکت سے ہوا و آب کا منتشر ہوجانا لازم تھا نہ یہ کہ ہر جزء جس جزاء ارض کا محاذی تھا اس کے ساتھ رہے گویا وہ نہایت سخت جسم ہے جسے دوسرے سخت میں مضبوط میخوں سے جڑ دیا ہے ،
عہ ۱ : ص ۱۱۵۔ اگر تم کسی جسم سیال کو ہلاؤ تو اس کی ہمواری میں خلل انداز ہوگےقاعدہ کلیہ ہے اور تین میں جزئیات کی تصریحیں آتی ہیں ،۱۲ غفرلہ
اِن بیانوں (عہ۱) سے ظاہر ہوا کہ وہ حرکت عرضیہ اشیاء باتباع آب و ہوا کا عذرجس پر ہیئت جدیدہ کے اس گھروندے کی بناء ہے دو وجہ صحیح سے پادر ہوا ہے۔
عہ ۱ : یہ فصل سوم تمام و کمال لکھ لینے کے بعد جب کہ فصل چہارم شروع کرنے کا ارادہ تھا ولد ا عز مولوی حسنین رضا خان سلمہ ،کے پاس سے شرح حکمۃ العین ملی اس میں د و دفع اور نظر آئے کہ دونوں رَدِّ اول ہیں۔صاحبِ کتاب نے انہیں نقل کرکے رَد کیا وہ یہ ہیں۔
دفع ہفتم : ہوا اس حرکت سے متحرک ہو تو ہمیں اس کی یہ حرکت محسوس ہو ،رویہ جب ہو کہ ہم اسی حرکت سے متحرک نہ ہوں کشتی جتنی تیزی سے چلے ،قطعاً وہ ہوا کہ اس میں بھری ہے اتنی تیزی سے اس کے ساتھ جاری ہے مگر کشتی نشین کو محسوس نہیں ہوتی یعنی جب کہ ہوا ساکن ہو اپنی حرکت ذاتیہ سے متحرک نہ ہو۔ دفع ہشتم : ابرو ہوا مغرب کو حرکت کرتے محسوس نہ ہوں ،خصوصاً جب کہ چال نرم ہو بلکہ مغرب کو ان کی حرکت محال ہو کہ اتنا قوی شدید جھونکا انہیں مغرب کو پھینک رہا ہے۔ رَد ہوا کی کسی حرکت عرضیہ سے متحرک ہونا اس کے خلاف جہت میں ہے جسم کی نرم حرکت ذاتیہ اس شخص کا مانع نہیں ہوتا ورنہ سوار کشتی جہت کشتی کے خلاف نہ چل سکے کہ اندر کی ہوا سے حرکت میں بہت تیز ہے نہ وہ اس نرم حرکت کے احساس کو منع کرتا ہے اور نہ پتھر کہ کشتی کی ہوا میں خلافِ جہت پھینکیں چلتا نہ معلوم ہو نہ پنکھے کی ہوا محسوس جب کہ جہت خلاف کو جھلیں۔
اقول : یہ دونوں دفع وہی زیادات فضلیہ میں کہ عنقریب آتی ہیں جن کو ہم نے ہدیہ سعید یہ کی طبع راد خیال کیا تھا ،دفع ہفتم بعینہ دلیل ۱۰۵ ہے اور ہشتم کے دونوں حصے دلیل ۱۰۱ و ۱۰۲ ،باقی دونوں بھی انہیں پر متفرع ہیں تو وہ پانچ ہیں یا انہیں دنوں سے ماخوذ ہیں ،یا تو ارد ہوا اور ہم وہاں تحقیق کریں گے اگرچہ یہ دلیلیں جس طرح قائم کی گئیں ضرور ساقط ہیں مگر ان کی اور توجیہ وجیہ ہے جس سے شرح حکمۃ العین کے رَد مردود ،فانتظر ۱۲ منہ غفرلہ۔
واقول : اگر کچھ نہ ہوتا تو خود ہیئت جدیدہ نے اپنے دونوں منبٰی باطل ہونے کی صاف شہادتیں دیں۔ اس کے مزعوم کی بناء دوباتوں پر ہے ،آب و ہوا کی حرکت مستدیرہ کا حرکتِ زمین کے مساوی ہونا اور جو اشیاء ان میں ہوں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔ ان کا اس حرکت میں ملازم آب و ہوا رہنا دونوں کا بطلان اس نے خود ظاہر کردیا۔ اولاً تصریح کی جاتی کہ خطِ استوا کی ہوا زمین کے برابر حرکت نہیں کرسکتی ،مغرب کی طرف زمین سے پیچھے رہ جاتی ہے۔(۱۹) ثانیاً یہ کہ ہوا ئیں جو قطبین سے تعدیل کے لیے آتی ہیں خطِ استوا کے برابر نہیں چل سکتیں ،ناچار اُن کا رُخ بدل جاتا ہے۔(۱۱) ثالثاً یہ کہ جامد زمین محور پر گھومتی تو اُوپر کا پانی قطبین کو چھوڑ دیتا اور خطِ استواء پر اس کا انبار ہوجاتا ۔(۲۰) رابعاً یہ کہ زمین ابتدا میں سیال تھی لہذا حرکت سے کُرہ کی شکل پر نہ رہی۔ ،قطبین پر چپٹی اور خطِ استواء پر اُونچی ہوگئی۔(۲۱) خامساً فصل چہارم میں ہیئت جدیدہ کے شبہات حرکتِ ارض کے بیان میں آتا ہے کہ لیکن جو جنوباً شمالاً متحرک ہو اسی سطح پر حرکت کرتا رہے گا اور زمین اس کے نیچے دورہ کرے گی۔ وہ زمین کے ساتھ دائر نہ ہوگا تو ثابت ہوا کہ نہ ہوا و آب زمین کے ملازم رہتے ہیں نہ ان میں جو اجسام ہیں انکے تودونوں منبٰی باطل اور حرکت عرضیہ کا عذر زائل۔