| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دفع دوم : کہ اول کا رَد دوم ہے ،پانی اور وہ ہوا کہ جو زمین پر ہے کیوں اس کی متابعت کرنے لگی کہ وہ زمین سے متصل نہیں اور دریائے متحرک بالعرض سے اس کا اتصال اُسے متحرک بالعرض نہ کردے گا۔ ورنہ تمام عالم زمین کی حرکت سے متحرک بالعرض ہوجائے کہ اتصال دراتصال سب کو ہے۔ اب لازم کہ جہاز سے جو پتھر پھینکیں اوپر کو تو وہ جہاز میں لوٹ کر نہ آئے بلکہ مغرب کو گرے کہ دریا زمین کی حرکت سے متحرک بالعرض ہے ،جہاز اس کے ساتھ مغرب کو جائے گا لیکن پتھر اب جہاز پر نہیں ہوا میں ہے اور ہوا متحرک بالعرض نہیں ،تو جب تک پتھر نیچے آئے جہاز کہیں کا کہیں نکل جائے گا۔ اقول : اولاً فلک الافلاک سے متصل تو صرف فلک ثوابت ہے۔ تمہارے نزدیک اس کی حرکتِ عرضیہ سات زینے اتر کر فلک قمر تک کیسے گئی۔ ثانیاً وہی کہ مجموع کرہ واحدہ ہے تو سب خود متحرک ۔
دفع سوم : کہ دوم کا رَداول ہے ،جو جسم کہ دوسرے کو اُٹھا سکے اُس کا اس پر قرار ہوسکے اس کی حرکت سے اس کی حرکت بالعرض ممکن ہے ۔ اور جب (عہ۱) یہ اس پر ٹھہر ہی نہ سکے وہ اسے سنبھال ہی نہ سکے تو اس کی طبیعت اسے کب ہوئی کہ اس کی حرکت سے متحرک ہو ،یہ قطعاً بدیہی بات ہے اور اس کا انکار مکابرہ ۔
عہ ۱ : بے شک معقول بات ہے اسے ہدیہ سعیدیہ سے پہلے مفتاح الرصد نے لیا مگر شطرنج میں بغلہ اور طنبور میں نغمہ زائد کیا جس نے اسے فاسد کردیا کہتا ہے : تحریک ہوا مرا جِسام را بر سبیل عرضیت اصلاً ممکن نیست زیرا کہ حرکت متصورنمی شودمگر وقتے کہ جسم متحرک العرض درجسم متحرک بالذات طبعاً یاقسراً مستقرشود ومشتغل بحرکت طبعی نباشد وہرگاہ بحرکت طبعی مشتغل باشد چگونہ حرکت عرضی صورت بندد اھ۔
ہوا کا اجسام کو بطورِ عرضیت حرکت دینا بالکل ممکن نہیں کیونکہ حرکت اُس وقت تک متصور نہیں ہوتی جب تک جسم متحرک بالعرض جسم متحرک بالذات میں طبعاً یا قسراً مستقر نہ ہوجائے اور حرکت طبعی کے ساتھ بھی مشتغل نہ ہواور جب حرکت طبعی کے ساتھ مشتغل ہوگا تو حرکت عرضی کی صورت کیونکر اختیار کرے گا۔اھ(ت)
اقول : اولاً اس چگونہ کا حال اُس پانی سے واضح ہوگیا جسے چلتی کشتی کے اندر کسی ڈھال پر ڈالا۔ ثانیاً ہوا جن اجسام کو اٹھاسکتی ہے جیسے بخارو دخانِ بخار ،حرکت ہوا سے ان کی حرکت مستنکر نہیں تو سلب کُلی بے جا ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ۔
دفع چھارم : کہ دوم کا رَد دوم ہے ،جسے علامہ قطب الدین شیرازی نے تحفہ شاہیہ میں ذکر فرمایا کہ ہوااگر حرکت مستدیرہ ارض سے بالعرض متحرک ہو جب بھی چھوٹے پتھر پر بڑے سے اثر زائد ہو گا کہ جسم جتنا بھاری ہو گا دوسرے کی تحریک کا اثر کم قبول کرے گا تو ان ساتوں(یعنی۱۱) دلائل میں ہم ایک بار ہلکے ایک بار بھاری اجسام دکھائیں گے ان میں تو فرق ہونا چاہئے مثلا پر اور ایک پتھر اوپر پھینکیں تو چاہئے۔کہ پَر تو وہیں آکر گرے کہ ہوا کی حرکتِ عرضیہ کا پورا اثر لے گا اور پتھر وہاں نہ آئے مغرب کو گرے کہ ہوا پورا ساتھ نہ دے گا حالانکہ اس کا عکس ہے ،پتھر وہیں آتا ہے اور پَر بدل بھی جاتا ہے۔
عہ ۲ : پھر میرک بخاری نے شرح حکمۃ العین میں ان کا اتباع کیا ۱۲
مخالف کی طرف سے علامہ عبدالعلی نے شرح مجسطی میں اس کے تین جوابات نقل کیے۔ (۱) مشایعت فرض کرکے مشایعت سے انکار عجیب ہے : مشایعت(عہ۱) ہوا کی فرض کی ہے نہ کہ پتھر کی ،اعتراض عجیب ہے۔(۲) شرح مجسطی میں کہا یوں جواب ہوسکتا ہے۔ مقصود تحفہ انکار مشایعت حجر ہے بلکہ وہ متحرک ہوگا تو قسر ہوا سے کہ ہوا تو یوں مشایع زمین ہوئی کہ اسکا مقعر ملازم ارض ہے ،حجر کو ہوا سے ایسا علاقہ نہیں۔
عہ ۱ : فی شرح حکمۃ العین لا مشایعۃ ھٰھنا والا لما وقع الحجران ۱ الخ ،
شرح حکمۃ العین میں ہے کہ یہاں کوئی مشایعت نہیں ورنہ دونوں پتھر نہ گرتے الخ۔
(۱شرح الحکمۃ العین)
وفی شرح المجسطی قال صاحب التحفۃ لو تحرک الھواء بمثل تلک الحرکۃ الزم ان لایقع الحجران ۲ الخ ۔
شرح مجسطی میں ہے صاحبِ تحفہ نے کہا کہ اگر ہوا اس کی حرکت کی مثل حرکت کرتی تو لازم آتا کہ دونوں پتھر نہ گریں الخ ۔
(۲شرح المجسطی)
اقول : وھذا الکلام یحتمل ان یکون ابطالا لمشایعۃ الھواء للارض انہ لویشا یعھا لزم الخلف وح یرد علیہ ا لا یراد الاول لاشک ویحتمل ان یکون انکاراً لمشایعۃ الحجرللھوا ء بعد تسلیم مشایعۃ الہواء ای لئن شایعھا الھواء لایشایعہ الحجر وح لاورودلہ وعلی الاول حملہ العلامۃ الخضری حیث قال ما قال صاحب التحفۃ فی ابطال مشایعۃ الھواء للارض انہ لوکان مشایعتھا لھا لما دقع الحجران ۳ الخ ۔ وحملہ علی الثانی وھو الصواب فان اختلاف الاثر فی الحجرین انما بقدح فی مشایعتہا للھواء۔
میں کہتا ہوں یہ کلام زمین کے لیے ہوا کی مشایعت کے ابطال کا احتمال رکھتا ہے کہ اگر ہوا اس کی مشایع ہوتی تو خلف لازم آتا۔ اس صورت میں اس پر بلاشک اعتراض اوّل وارد ہوگا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کلام مشایعت ہوا کوتسلیم کرنے کے بعد ہوا کے لیے پتھر کی مشایعت کے انکار کے لیے ہو یعنی اگر ہوا زمین کے مشایع ہے تو پتھر ہوا کے مشائع نہ ہوگا ۔ اس صورت میں کوئی اعتراض وارد نہ ہوگا۔ علامہ خضری نے اس کو احتمالِ اول پر محمول کیا کیونکہ اس نے فرمایا : صاحبِ تحفہ نے زمین کے لیے مشایعتِ ہوا کے ابطال سے متعلق جو کہا ہے کہ اگر ہوا زمین کے مشائع ہوتی تو دونوں پتھر نہ گرتے۔ الخ اور اس نے اسے احتمال ثانی پر محمول کیا ہے اور یہی درست ہے کیونکہ دونوں پتھروں میں اختلاف اثر ہوا کے لیے ان دونوں کی مشایعت میں قدح کی وجہ سے ہے۔(ت) یہ جواب فاضل خضری نے شرح تذکرہ میں دیا ہے اور جو نپوری نے اسے برقرار رکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔
(۳ شرح التذکرۃ النصیریۃ للخضری )