Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
97 - 212
اقول :  ملازمت جسم للجسم ملازمت وضع للوضع کو مستلزم نہیں اور غالباً حاوی کی قید فلکیات میں مزعوم فلاسفہ یونان کے تحفظ کو ہو کہ کب تدویر کا تابع ہے۔ تدویر حامل کی حامل ممثل کا ممثل فلک الافلاک کا ہر ایک دوسرے کی حرکت سے متحرک بالعرض ہے اور خود اپنی حرکت ذاتیہ جدا رکھتا ہے۔

اقول :  ہمارے نزدیک تو افلاک متحرک ہی نہیں جیسا کہ بعونہ تعالٰی کاتمہ میں مذکور ہوگا نہ برخلاف خود اصول فلسفہ مثل یساطت ،فلک تداویر و حوام جاننے کی حاجت اور ہو تو عندالتحقیق یہ حرکت ہر گز عرضیہ نہیں۔ حرکتِ عرضیہ میں متحرک بالغرض خود ساکن ہوتا ہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسے جالس سفینہ بلکہ بند گاڑی میں بھرا غلہ  ،اور یہاں یہ افلاک و اجزاء خود اسی حرکت یومیہ سے متحرک ہیں اگرچہ انکے تحرک کا باعث فلک الافلاک کا تحرک ہو۔ فلک البروج اگر منتقل نہ ہوں تو کواکب و درجات بروج کا طلوع و غروب کیونکر ہوتا تو یقیناً انتقال  ان (عہ۱)کے ساتھ بھی قائم ہے اگر چہ اس کے حصول میں دوسرا واسطہ ہوتا تو یہ حرکت ذاتیہ بذریعہ واسطہ ہوئی  ،جیسے ہاتھ کی جنبش سے کنجی کی گردش ،نہ کہ عرضیہ جس میں(عہ۲) انتقا ل اس کے ساتھ قائم ہی نہیں دوسرے کے علاقہ سے اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
عہ ۱ :  خود ہدیہ سعیدیہ میں ہے : وفی الحرکۃ الوضعیۃ کا لکرۃ المحویۃ الملتصقۃ بکرۃ حاویۃ متحرکۃ علی الاستدارۃ اذا کان بین الکرتین علاقۃ التصاق تو جب حرکۃ احدٰھما بحرکۃ الاخرٰی ومن ھٰذا القبیل اتصاف الافلاک المحویۃ بالحرکۃ الیومیۃ التی ھی حرکۃ الفلک الاطلس بالذات ۱ ؎۔ ا ھ ۱۲۔
حرکت عرضیہ کی پہلی قسم کی مثال حرکت وضعیہ میں یوں سمجھیں کہ ایک کرہ محوی ہو اور ایک کرہ حاوی ہو ،اور حاوی کرُہ حرکتِ مستدیرہ کررہا ہو ،ان کے درمیان ایسا کنکشن ہو کہ ایک حرکت کرے تو دوسرا لازماً حرکت کرے۔ (دوسرے کُرہ کی حرکت عرضیہ ہوگی) جن افلاک کا احاطہ کیا گیا ان کا حرکت یومیہ کے ساتھ متصف ہونا اسی قبیلے سے ہے  ،حرکتِ یومیہ وہ فلک اطلس کی حرکت بالذات ہے ا ھ ۱۲ (ت)
 (۱ ؎  الہدیۃ السعیدیۃ   فصل الحرکۃ اما ذاتیۃ او عرضیۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱ )
عہ ۲ : خود ہدیہ سعیدہ میں ہے : مایوصف بالحرکۃ اما ان یکون الانتقال قائما بغیرہ وینسب الیہ لاجل علاقۃ لہ مع ذلک الغیر فحرکۃ عرضیۃ ۲؂ اھ ۔
جو چیز حرکت کے ساتھ موصوف ہے ( اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ) انتقال کسی دوسری چیز کے ساتھ قائم ہے لیکن انتقال کی نسبت پہلی چیز کی طرف اس لیے کی جاتی ہے کہ اس کا تعلق اس غیر کے ساتھ ہے تو یہ حرکت عرضیہ ہے۔
(۲ ؎  الہدیۃ السعیدیۃ   فصل الحرکۃ اما ذاتیۃ او عرضیۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱ )
اقول :  من ھٰھنا ظھر ان فی قول الھدیۃ السعیدیۃ فی بیان انحاء الحرکۃ العرضیۃ لکن لایتحرک ھو بنفسہ و مثلہ بما مرمن الافلاک ان کان النفی منصبا علی القید کان حرکۃ المفتاح بحرکۃ الید وکل حرکۃ قسریۃ بل وارادیۃ داخلۃ فی الحرکۃ العرضیۃ وھو کما ترٰی وان انصب علٰی نفس المقید لاقید نفسہ صح ولم یصح جعل حرکۃ الا فلاک منہ بل ھی ان کانت فقسریۃ وھم انما یھربون عنھا الی ادعاء العرضیۃ لا نہ لا قاسر عندھم فی الافلاک ۱۲ منہ۔
میں کہتا ہوں : اس جگہ سے ظاہر ہوگیا کہ حرکت عرضیہ کی قسمیں بیان کرتے ہوئے ہدیہ سعیدیہ (ص ۵۱) میں جو کہا ہے: لکن لایتحرک ھو بنفسہ( کسی مقولے میں حرکت عرضیہ کا موصوف اس لائق ہے کہ اس مقولے میں حرکت سے متصف ہو لیکن وہ خود متحرک نہیں ہوتا) اور اس سے پہلے اس کی مثال افلاک سے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نفی کسی پر وارد ہے؟(۱) اگر قیدپروارد ہے( تو معنی یہ ہو کہ وہ موصوف حرکت تو کرتا ہے ،لیکن بنفسہ حرکت نہیں کرتا) تو ہاتھ کی حرکت سے چابی کی حرکت اور ہر قسری حرکت بلکہ حرکت ارادیہ بھی حرکت عرضیہ میں داخل ہوگی اور یہ باطل ہے جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں اور اگر (۲) نفی مقید پرواد ہے نہ کہ فی نفسہ کی قید پر تو یہ صحیح ہے  ،لیکن افلاک کی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفہ اسی حرکت کو اس قبیلے سے قرار دینا صحیح نہیں ہوگا بلکہ اگر یہ حرکت موجود ہوئی تو قسری ہوگی اور فلاسفر اسی حرکت قسریہ سے بھاگتے ہیں اور حرکت کے عرضی ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک افلاک میں کوئی قاسر نہیں ہے۔(ترجمہ ) محمد عبدالحکیم شرف قادری)
وثانیاً  اقول :  وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) ہماری رائے میں حق یہ ہے کہ حرکتِ وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر پایہ ثبوت تک نہ پہنچی۔ جب تک مابا العرض مابالذات کے ثخن میں ایسا نہ ہو کہ اس کی حرکتِ وضعیہ سے اس کا این موہوم بدلے  ،این موہوم سے یہاں ہماری مراد وہ فضا ہے کہ مابالذات کو محیط ہے۔ ظاہر ہے کہ حامل کو جو فضا حاوی ہے تصویر کے ثخن حامل میں ہے  ،اس فضا کے ایک حصے میں ہے جب حامل حرکت و ضعیہ کرے گا ضرار تدویر اُس حصہ فضا سے دوسرے حصے میں آئے گی تو اگرچہ خود ساکن محض ہو ضرور اس کی حرکت وضعیہ سے اس کی وضع بدلے گی کہ این موہوم بدلا اگرچہ این محقق برقرار ہے بخلاف حامل یا خارج المرکز کہ اگر دونوں متمم کو ایک جسم مانیں تو یہ اس کے ثخن میں ضرار ہے مگر ان کی گردش سے اس کا این موہوم نہ بدلے گا تو ان کی حرکت سے یہ متحرک بالغرض نہ ہوگا۔

جونپوری کے شمس بازغہ میں زعم۱؂کہ اگر یہ اس کے ساتھ نہ پھرے تو اُسے حرکت سے روک دے گا۔دو وجہ  سے محض بے معنی ہے۔

(۱) نہ یہ اس کی راہ میں واقع ہے نہ اس میں جڑا ہوا ہے کہ بے اپنے اُسے نہ چلنے دے۔

(۲) اور اگر بالفرض راہ روکے ہوئے ہے تو گھومنے سے کھول دے گا۔
حرکتِ وضیعہ سے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی اگر یہ ان میں چسپاں بھی ہو تو ان کے گھومنے سے ضرور گھومے گا۔ مگر یہ انتقال بالذات اسے بھی عارض ہوگا اگرچہ د وسرے کے علاقے سے ہو۔ عرضی نہ ہوگا بلکہ ذاتی عرضی صورت کے سوا وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر ثابت نہیں
ومن ادعٰی فعلیہ البیان
( جو دعوٰی کرے بیان کرنا اسی کے ذمہ ہے۔ ت) افلاک میں فلاسفہ کا محض ادعٰی ہے اس لیے کہ ان میں قاصر سے بھاگتے ہیں۔ مشایعت میں ساتھ ساتھ چلنا ہے نہ یہ کہ ایک ساکن محض رہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہے۔

چکروں کا بیان ابھی گزرا تو عرضیہ میں فریقین کی بحث خارج از محل ہے۔ ابن سینا پھر جونپوری ۱؂ مذکور نے زعم کیا کہ فلک کی مشایعت میں کُرہ نار کی حرکت عرضیہ اس لیے ہے کہ ہر جزء نار نے اپنی محاذی کے جزء فلک کو گویا اپنا مکان طبعی سمجھ رکھا ہے اور بے شعوری کے باعث یہ خبر نہیں کہ اگر اسے چھوڑے تو اسے دوسرا جز بھی ایسا ہی اقرب و محاذی مل جائے گا ،نا چار بالطبع اس کا ملازم ہوگیا ہے۔ لہذا جب وہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتا ہے کہ اس کا ساتھ نہ چھوٹے اور اس پر اعتراض ہوا کہ فلک ثوابت فلک اطلس کے سبب کیوں متحرک بالعرض ہے؟ اس کے اجزاء نے تو اس سے اجزاء کو نہیں پکڑا کہ خود جدا حرکت رکھتا ہے۔ اس کا جواب دیا کہ اس کے اقطاب نے اپنے محاذی اجزاء کی ملازمت کرلی ہے اور وہ اسکے اقطاب پر نہیں ،لہذا ان اجزاء کی حرکت سے اس کے قطب گھومتے ہیں ،لاجرم سارا کُرہ گھوم جاتا ہے۔
 (۱؂ ص ۱۵۸۔۱۲) (۱؂ ص۱۵۸۔ ۱۲)
اقول :  یہ شیخ چلی کی سی کہانیاں اگر مسلم بھی مان لیں تو عاقل بننے والوں نے اتنا نہ سوچا کہ جب نارو فلک البروج کی یہ حرکت اپنے اُس مکان کی حفاطت کو ہے تو اس کی اپنی ذاتی حرکت ہوئی یا عرضیہ۔

وثالثاً مخالف کو یہاں عرضیہ ماننے کی حاجت ہی نہیں اس کے نزدیک آب وہوا و خاک سب کُرہ واحدہ ہیں اور حرکتِ واحدہ سے متحرک ۔
Flag Counter