| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دلیل ۹۹ (عہ۱) : اقول ، زمین اگر اوج کو جارہی ہے تو امریکہ والے یا حضیض کو آرہی ہے تو ہندوستان والے اپنے سر کی طرف ایک پتھر ۱۶ فٹ تک پھینکیں تو وہ قیامت تک زمین پر نہ اُترے کہ زمین کے خلاف جہت پھینکا ہے ،جذب زمین ۱۶ فٹ سے ایک سیکنڈ میں اُسے زمین تک لاتا لیکن زمین اتنی دیر میں ۱۹ میل ہٹ جائے گی اور ا ب ایک سیکنڈ میں ۱۶ فٹ سے بھی کم کھینچ سکے گی کہ زیادت بعد موجب قلت جذب ہے اور اس کی اپنی چال وہی ۱۹ میل ہت جائے گی اور اب ایک سیکنڈ میں ۱۶ فٹ سے بھی کم کھنچ سکے گی کہ زیادت بعد موجب قلت جذب ہے اور اس کی اپنی چال وہی ۱۹ میل رہے گی تو پھر کبھی زمین پر نہیں آسکتا۔
عہ ۱ : یہ دلیل ہماری دلیل ۹۹ کا عکس ہے اس کے ساتھ اس کا ذہن میں آنا لازم تھا۔ اگلے میں بعض اس کے قائل تھے کہ زمین ہمیشہ اوپر چڑھتی ہے ،بعض اس کے ہمیشہ نیچے اترتی ہے اور دونوں میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ تنہا زمین ،دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ آسمان بھی چڑھتا یا اترتا ہے ،ان مہمل اقوال کی بحث پر ہم نے نظر نہ کی تھی کہ ہمارے مقصود سے خارج تھے پھر شرح مجسطی میں دیکھا کہ بطلمیوس نے قول دوم پر دو رد کیے ایک تو ضعیف کہ ایسا ہوتا تو آسمان سے جاملتی بلکہ اسے چیر کر نکل جاتی۔ دوسرے میں استحالہ یہی قائم کیا جو ہماری دلیل ۱۰۰ میں ہے کہ ڈھیلا زمین پر نہ اُتر سکتا تھا مگر اسے یوں بیان کیا کہ بڑے جسم کا میل زیادہ تو حرکت زیادہ ،اور اس پر رد ہوا کہ نیچے اُترنا صرف بربنائے ثقل نہیں بلکہ جنس کی طرف میل زائد ہے تو ممکن کہ ڈھیلا پیچھے نہ رہے۔ اس پر علامہ قطب شیرازی نے جواب دیا کہ نہ سہی اتنا تو ہوتا کہ پھینکے ہوئے ڈھیلے کی مسافت چڑھنے میں کم ہوتی اور اترنے میں زیادہ کہ جتنی دور چڑھا اتنا اترے اور اتنی دیر میں زمین جتنی نیچے اتر گئی اور اترے۔ شرح قطبی میں اس پر رد کیا کہ ممکن کہ اتنی دیر میں زمین کا اترنا بہت قلیل ہو کہ فرق محسوس نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس ہر دو بات کو ہمارے محبث سے کچھ علاقہ نہیں۔ یہ دلیل باتباع مجسطی کتاب جو نپوری میں بھی مذکور ہوئی جس سے ابطال پر ہماری دلیل ۹۹ تھی۔ بطلمیوس نے تو اسے ابطال ہبوط پر چھوڑا کہ جب اترنا ہم باطل کرچکے تو چڑھنا بھی باطل کہ ایک طرف سے چڑھنا دوسری طرف سے اترنا ہے اور جونپوری نے اس پر ایک اور دلیل دور ازکار دی کہ زمین اوپر چڑھتی تو ڈھیلے بھی ۔ اس لیے کہ طبیعت ایک ہے ، ہدیہ سعیدیہ نے ایک اور اضافہ کیا کہ بڑا ڈھیلا چھوٹے سے سہل تر اوپر پھینکا جاسکتا ہے کہ خود اس میں اوپر کا میل زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ میل طبعی پر مبنی ہیں جسے مخالف نہیں مانتا۔ہمارے دلائل مستحکم و صاف و ناقابل خلاف ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
ان گیارہ دلائل سے کہ سات اگلوں کی رہیں اور اسی سوال پر چار ہم نے بڑھائے ،ہیئت جدیدہ کی طرف سے دو جواب ہوئے۔
جواب اوّل : ہوا و دریا زمین کے ساتھ ساتھ اور جو کچھ ان میں ہوں ان کی طبیعت سے سب ایسے ہی متحرک ہیں۔ لہذا پتھر کو اوپر پھینکا جائے تو موضع رمی کی محاذات نہیں چھوڑتا۔ دو پرند کہ مشرق و مغرب کو اڑیں شاخ سے صرف اپنی حرکتِ ذاتیہ سے جدا ہوں گے زمین کی حرکت اُن میں فرق نہ ڈالے گی کہ ہوا ان کو زمین کے ساتھ ساتھ لارہی ہے تو نہ مشرقی ساکن رہے گا نہ مغربی زیادہ اڑے گا۔ نہ مشرقی مغرب کو گرے گا۔ نہ پرواز سے زائد فاصلہ ہوگا ،نہ فاصلوں کا مجموعہ اُن کی ذاتی حرکتوں سے زیادہ ہوگا۔ اقول : اور مغربی کا اپنی چال سے مغرب کو اور زمین و ہوا کے اتباع سے مشرق کو جانا کچھ بعید نہیں کہ اول حرکت قسر یہ ہے اور دوسری عرضیہ جیسے کشتی مشرق کو جاتی ہو اور اس میں کسی ڈھال پر کہ مغرب کی طرف ہو پانی ڈالو اپنی چال سے غرب کو جائے گا اور شک نہیں کہ اسی حالت میں کشتی اسے مشرق کی طرف لیے جاتی ہوگی۔ مثلاً فرض کرو کنارے پر کسی درخت کے محاذ پر پانی بہایا کہ گز بھر مغرب کو بہا اور اتنی دیر میں کشتی چار گز مشرق کو بڑھی تو پانی محاذاتِ شجر سے تین گز دور ہوگا اور کشتی ساکن رہتی یہ پیڑ سے گز بھر مغرب کو ہوجاتا یہ ساکن رہتا اور کشتی چلتی تو چار گز مشرق کو ہوتا مگر یہ گز بھر مغرب کو ہٹا اور کشتی چار گز مشرق کو ،لہذا یہ تین ہی گز مشرق کو ہوا۔ یونہی پرند کو ہوا زمین کے ساتھ چلا رہی ہے تو اس پہلی محاذات اور اسی دس گز کے فاصلے پر رہے گا اگر خود کسی کی طرف حرکت نہ کرے جو ہوا میں ساکن ہے یوں ساکن ہے کہ اپنی ذاتی حرکت نہیں رکھتا ہوا کے ساتھ حرکت عرضیہ سے زمین کے برابر جارہا ہے جیسے جالس سفینہ ساکن ہے اور کشتی کے ساتھ متحرک ، پرندے آشیانہ اسی ہاتھ بھر کے فاصلہ پر ہوگا کہ اُسے درخت اور اسے ہوا زمین کے ساتھ لیے جاتے ہیں۔ زمین گولے کو نہ پکڑے گی کہ جس ہوا میں گولا ہے وہ اسے بھی زمین کے آگے آگے اسی ایک سیکنڈ میں ۱۹ میل کی چال سے لیے جاتی ہے تو اس میں زمین کے مساوی ہوا اور قوتِ دفع سے جتنا دور جانا تھا گیا۔ پتھر سے زمین اپنی چال سے دور نہ ہوگی کہ اسی چال سے اسی طرف اسے ہوا لیے جاتی ہے تو ۱۶ہی فٹ کے فاصلے پر رہے گا اور جذب زمین سے ایک سیکنڈ میں زمین سے ملے گا۔ اس کا دفع ۵(۱ ؎) وجہ سے لیا گیا جن میں سے ہمارے نزدیک دو صحیح ہیں۔
( ۱ ؎ الہدیۃ السعیدیۃ الفن الثالث فی العنصریات ابطال المذہب الثالث فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۹۴ و ۹۸)
مبناء بیان تین باتیں خیال کی گئیں۔ (۱) آب و ہوا کا باتباع زمین حرکت عرضیہ کرنا۔ (۲) ہوا و آب میں جو کچھ ہو اُس کا ان کی طبیعت سے متحرک بالعرض ہونا۔ (۳) ان حرکات کا زمین کی حرکت ذاتیہ کے مساوی رہنا جس کے سبب اشیاء میں فاصلہ و مقابلہ بحال رہے۔ ظاہر ہے کہ جواز جتنی باتوں پر مبنی ہو اُن میں سے ہر ایک کا بطلان اس کے بطلان کو بس ہے نہ کہ جب سب باطل ہوں ،لہذا ان تینوں مبنٰی کے لحاظ سے اس پر رد کیے گئے۔ دفع اول :کہ دفع اول ہے ،آب و ہوا زمین کو حاوی ہیں اور خود بارہا مستقل حرکت مختلف جہات کو کرتے ہیں تو ملازم ارض نہیں اور جو حاوی ملازم محوی نہ ہو اس کی حرکت سے اس کی حرکت بالعرض لازم نہیں۔ اقول : اولاً : نہ یہاں حاوی و محوی سے تفرقہ نہ دوسری مستقل حرکت سے خلل ،مدار کار اس تعلق پر ہے جس کے سبب ایک کی حرکت دوسری کی طرف منسوب ہو۔ کپڑے انسان کو حاوی نہیں اور ہوا سے دامن ہلتے ہیں یہ اُن کی مستقل حرکت ہے بعینہ بلاشبہہ وہ انسان کی حرکت سے متحرک بالعرض ہے۔ اور ہم (عہ۱) مستدل ہیں ہمیں عدمِ لزوم کافی نہیں لزومِ عدم چاہیے ۔ مخالف(عہ۲) کو جواز بس ہے مگر یہ کہیں کہ حقیقتاً مخالف مدعی حرکت ارض ہے اور ہم مانع اور یہ کہ صورت دلائل میں پیش کیا منع کی سند میں۔
عہ ۱ : قال فی الھدیۃ السعیدیۃ بعد ذکر مزعوم الفرنج من حرکت الارض بالاستدارۃ ھٰذا الرأی ایضا باطل بوجوہ ۱ ؎۔۱۲ منہ
ہدیۃ السعیدیہ میں فرنج کے اس زعم کو ذکر کرنے کے بعد کہ زمین کی حرکت مستدیرہ ہے ،کہا یہ رائے بھی کئی وجوہ سے باطل ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
(۱ ؎ الہدیۃ السعیدیۃ ابطال المذھب الثانی فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۸۴)
عہ ۲ : خود ہدیہ سعیدیہ میں مخالف کی طرف سے تقریر جواب میں ہے :
یجوزان یکون مایتصل بالارض من الھواء یشایعھا ۲ ؎۔
ممکن ہے کہ زمین سے متصل جوہوا ہے وہ اسے ساتھ ساتھ لے جاتی ہو۔(ت)
(۲ ؎ الہدیۃ السعیدیۃ ابطال المذھب الثانی فی حرکت الارض قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۸۴)
شرح تذکرہ طوسی للعلامۃ الخضری میں ہے کہ :
لاینفع المستدل لان تجویز مشایعۃ الہواء الارض کافیۃ لتزییف الدلیلین۳ ؎۔
یہ مستدل کو نفع نہیں دیتا کیونکہ زمین کے لیے ہوا کی مشایعت کو جائز قرار دینا دونوں دلیلوں کی کھوٹ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔(ت)
(۳ شرح تذکرۃ النصیریۃ للخضری )
حکمۃ العین میں ہے :
الملازمۃ ممنوعۃ لجواز عن الھواء یشایعا کالارض للفلک ۱۔
ملازمہ ممنوع ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ہوا اس کی مشایعت کررہی ہو جیسے زمین فلک کے لیے (ت)
(۱ حکمت العین )
شرح مجسطی للعلامۃ عبدالعلی میں ہے :
لم لایجوز ان یتحرک الھواء بمثل حرکۃ الارض۲ ۱۲ منہ غفرلہ۔
کیوں جائز نہیں کہ ہوا زمین کی حرکت کی مثل حرکت کرے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲ شرح مجسطی للعلامۃ عبد العلی )
اقول : اس میں نظر ہے یہ ملازمتیں(عہ۱) کہ زمین متحرک ہوتی تو یہ یہ امور واقع ہوتے ان میں ضرور ہم مدعی ہیں یہ کیا کہنے کی بات ہوسکتی ہے کہ زمین متحرک ہوتی تو ممکن تھا کہ پتھر مغرب کو گرتا ،ہاں ممکن تھا ، پھر کیا ہوا اور اگر اس سے قطع نظر بھی ہو تو حاوی وغیر ملازم کی قیدیں اب بھی بے وجہ ہے۔ اگر محوی مطلقاً اور حاوی ملازم کوحرکت رفیق سے متحرک بالعرض لازم ہوتا تو ان قیود کی حاجت ہوتی مگر ہرگز انہیں بھی لازم نہیں۔ دو چکر ایک دوسرے کے اندر ہوں اگر ان میں ایسا تعلق نہیں کہ ایک کی حرکت دوسرے کو دفع کرے تو جسے گھمائیے صرف وہی گھومے گا اگرچہ ان میں کوئی دوسری حرکت مستقلہ نہ رکھتا ہو دولاب یا چرخی کی حرکت سے ان کے اندر کا لوہا یا لکڑی جس پر وہ گھومتے ہیں نہیں گھومتے۔ شاید غیر ملازم کی قید اس لحاظ سے ہو کہ جب ملازم ہو آپ ہی اس کی حرکت سے محترک ہوگا۔
عہ ۱ : اس کی غایت توجیہ دفع پنجم میں آتی ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔