| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دلیل ۹۶ : جو(عہ۱) پرند ہم سے جنوب یا شمال کی طرف ہوا میں ہو تیر سے شکار نہ ہوسکے (مفتاح) اقول جنوب وشمال کی تخصیص بیکارہے بلکہ مشرق پر اعتراض اظہر ہے اور استحالے میں یہ زائد کرنا چاہئے یاوہ پرند کہ ہم سے دس گز کے فاصلے پر تھا صدہا گز کے فاصلے پرگرے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ تیر وکمان اٹھانا، تیر جوڑنا، کمان کھینچنا،تیر چھوڑنا اگر دو ہی سیکنڈ میں ہو جائے اور آدمی پرند کو اپنے سےدس گز کے فاصلے پر دیکھ کر یہ افعال کرے تو خود حرکت زمین کے سبب اتنی دیر میں وہاں سےایک ہزار تیرہ گز کے فصل پر ہو جائے گااب اگر اسی محاذات پر تیر چھوڑا جیساکہ یہی ہوتا ہے تو تیر سیدھا شمال کو گیااور جانور شمالی غربی ہے یا سیدھا جنوب کو اور جانور جنوبی غربی یامشرق کو اور جانور مغرب میں ہو گیا۔ ان تینوں صورتوں میں تیر جانور کی سمت ہی پر نہ گیا اور مشرق میں سب سے بڑھ کر حماقت اور مغرب میں اگرچہ سمت وہی رہی جانور ۱۰۲۳ گز کے فاصلے پر ہو گیا یونہی اوراگر ان تینوں جہات میں تیر چھوڑتے وقت محاذات بدل لی تو اگر جانور مشرق میں تھا اب ہزار گز سے زیادہ مغرب ہو گیا، اور اگر جنوب یا شمال میں تھاتو ایک ہزار تیرہ گز سے کچھ کم فاصلے پر ہو گاکہ ۸۴ء۱۰۲۵۸۶۳ ۲ کا جذر ہے بہر حال اب تیر اس تک کہاں پہنچتا ہے، اور اگر فرض کر لیجئےکہ دس گز کے فصل پر آنے سے پہلے یہ سب کام ہوئے تھے یعنی پہلے سے کسی اور وجہ سےتیر کمان میں جوڑا ہو اور کمان کھینچی ہوئی تھی کہ اس جانور کیلئےہزار گز فاصلے سے ایسا کرنانہیں خیر کسی طرح یہ سب کام تیارتھاکہ تیر عین اسی وقت چھوٹا کہ جانور دس گز کے فاصلے پر محاذات میں تھاتو تیر تو ضرور اس کے لگ جائے گا کہ جانور کی طرح تیر بھی چھوٹ کر حرکت زمین کاتابع نہ رہا مگر تیر اس تک اگر دو ہی سیکنڈ میں پہنچے تو ہم اتنی دیر میں ایک ہزار تیرہ گز مشرق کو چلے جائیں گے اور وہی فاصلے جو صورت دوم میں تیر کو جانور سے تھے ہم کو اس سے ہو جائیں گے۔ تو اب ہمیں ہزار گز سے زائدپلٹنا چاہئے کہ گرے ہوئے جانور کو پائیں ۔ یہ تمام صورتیں لاکھوں بار کے مشاہدہ سے باطل ہیں ، لہذا حرکت زمین باطل۔
( عہ ۱: یہ اور اس کے بعد کی دلیل مفتاح الرصد میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ) ( عہ ۲ : اُس وقت فاصلہ ۱۰ گز تھا اور زمین ۸ء۱۰۱۲ گز ہٹی ،یہ دونوں ضلع قائمہ ہوئیں اور اب کہ فاصلہ اُ س کا وتر ہے۔۱۲ منہ غفرلہ)
دلیل ۹۷ : جو جسم ہوا میں ساکن ہو ہمیں بہت تیزی سے مغرب کی طرف اُڑتا نظر آتا ہے۔(مفتاح) اقول : طبعیات (عہ۳) جدیدہ میں قرار پاچکا ہے کہ ہوا اوپر اٹھنے کی مقاومت کرتی ہے ۔ پرند اپنی بازو مار کر اس مقاومت کو دفع کرتے ہیں ،یہ زور اگر اس کے وزن اجسام سے زائد ہے اوپر بلند ہوں گے کم ہے نیچے اتریں گے برابر ہے ساکن رہیں گے اور اس کی مثال چنڈول سے دی گئی ہے کہ بارہا پر کھول کر ہوا میں ساکن محض رہتا ہے۔ اس صورت میں سیدھاجلد گھونسلے میں پہنچتا ہے۔ فرض کیجئے کہ وہ چھ سیکنڈ ٹھہرا اور ہے نیچا اور ہوا بالکل ساکن تو اتنی دیر میں ہم تین ہزار گز سے زیادہ مشرق کو چلے جائیں گے اور وہی تمہارا کہنا کہ ہم اپنی حرکت سے آگاہ نہیں ، لہذا اُسے جانیں گے کہ تین ہزار گز مغرب کو اڑ گیا جیسے تیز چلتی ریل میں بیٹھنے والا درختوں کو اپنے خلافِ جہت چلتا دیکھتا ہے لیکن یہ باطل ہے ہم یقیناً ساکن کو ساکن ہی دیکھتے ہیں تو حرکتِ زمین باطل ہے۔
(عہ ۳ : ۔ ط ص ۲۳ ۔۱۲)
دلیل۹۸ (عہ۱) : پرند کہ اپنے آشیانے سے گز بھر فاصلے پر جانب غرب کسی ستون پر بیٹھا ہے قیامت تک اُڑ کر آشیانے کے پاس نہ آسکے کہ وہ ہر سیکنڈ میں ۵۰۶ گز مشرق کو جارہا ہے ،پرند زمین کی نا آ۰۰۰۰۰۰۰٭۰۰۰۰۰۰ چھوڑ کر اڑان کہاں سے لائے گا۔
عہ ۱: یہ دلیل اُسی عنوان پر ہم نے اضافہ کی تھی پھر بعض رسائل کی تصانیف میں نظر آئی پھر اسی حکمت العین میں اسی طور پر دیکھا کہ مشرقی شہر کی طرف اُڑنے والا پرند اسے نہ پہنچے نیز یونہی اس شرح میں اُس سے پہلےلکھا، جس کو ہم نے اپنی تقریر سے رد کردیا اس کے بعد شرح حکمت العین میں دلیل یوں نظرآئی کہ ابریا پرند کہ ساکن ہو ، ساکن نظر نہ آئے ۱۲ منہ غفرلہ۔ ٭ : اصل میں اسی طرح تحریر ہے ۔ عبدالنعیم عزیزی
یہ سات دلائل کتب میں ابطال حرکت وضعیہ زمین پر ہیں ،اسی قبیل ابطال حرکت اینیہ پر بھی ہوسکتی ہیں مثلاً اگر زمین گرد شمس گھومتی ہو۔
27_33.jpg
فرض کیجئے کہ ا او ج ہے اور ب حضیض اور ہ شمس اور ج ء زمین ،مثلاً ج کی طرف ہندوستان ہے اور ء کی طرف امریکہ ،اب اگر زمین اوج کی طرف جارہی ہے تو ہندوستان والے یا حضیض کی طرف آرہی ہے تو امریکہ والے کیسی ہی قوی توپ کو سیدھا جانب آسمان کرکے گولا چھوڑیں توپ کے منہ سے بال برابر نہ بڑھ سکے کو گولا جس سمت جاتا اسی کی طرف اس کے پیچھے زمین آرہی ہے اور کیسی آرہی ہے ہر سیکنڈ میں ۱۹ میل اُڑتی ہوئی تو گولا کیونکر اس سے آگے نکل سکتا ہے۔