| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
یہاں ہم نے زیادہ توجہ گردشمس دورئہ زمین کے ابطال پر رکھی ،فصل اول میں رَدّ اول عام کے سوا باقی گیارہ اور فصل سوم میں سات اخیر کے سوا باقی بیس سب اسی کے ابطال میں ہیں ، اگلوں نے ساری ہمت گرد محو حرکت زمین کے ابطال پر صرف کی ہم اُن میں سے وہ انتخاب کریں جن سے اگرچہ جواب دیا گیا بلکہ بہت کو خود مستدلین نے رَد کردیا لیکن ہم ان کی تشہید و تائید کریں گے اور خود ہیئت جدیدہ کے اقراروں سے اُن کا تام و کامل ہونا ثابت کردیں گے پھر زیادات میں وہ جن کی اور طرح توجیہہ کرکے تصحیح کریں گے پھر تذییل میں اگلوں سے وہ دلائل جن پر اگرچہ انہوں نے اعتماد کیا مگر ہمارے نزدیک باطل و ناتمام ہیں، وباﷲ التوفیق۔
دلیل ۹۰ : بھاری پتھر(عہ۱) اوپر پھینکیں سیدھا وہیں گرتا ہے ،اگر زمین مشرق کو متحرک ہوئی تو مغرب میں گرتا کہ جتنی دیر وہ اوپر گیا اور آیا اس میں زمین کی وہ جگہ جہاں سے پتھر پھینکا تھا۔ حرکت زمین کے سبب کنارہ مشرق کو ہٹا گئی۔
عہ ۱: یہ اور اس کے بعد کی دلیل تذکرہ طوسی و شرح حکمت العین و ہدیہ سعدیہ تک اکثر کتب میں ہے۔
اقول : زمین کی محوری چال ہر سیکنڈ ۴ء ۵۰۶ گز ہے اگر پتھر کے جانے آنے میں ۵سیکنڈ صرف ہوں تو وہ جگہ ۲۵۳۲ گز سرک گئی پتھر تقریباً ڈیڑھ میل مغرب کو گرنا چاہیے حالانکہ وہیں آتا ہے۔
دلیل ۹۱: دو پتھر(عہ۲) ایک قوت سے مشرق و مغرب کو پھینکیں تو چاہیے کہ مغربی پتھر بہت تیز جاتا معلوم اور مشرق سست ،نہیں نہیں بلکہ مشرقی بھی الٹا مغرب ہی میں گرے۔ اقول : یا پھینکنے والے کے ماتھے پر گرے۔ مثلاً وہ پتھر اتنی قوت سے پھینکے تھے کہ دونوں طرف تین سیکنڈ میں ۱۹ گز پر جاکرگرتے۔ سنگ غربی موضع رمی سے جب تک ۱۹ گز مغرب کو ہٹاہے اتنی دیر موضع رمی ۱۵۱۹ گز مشرق کو ہٹ گیا تو یہ پتھر موضع رمی سے ۱۵۳۸ گز کے فاصلے پر گرے گا اور سنگ مشرق وہاں سے انگل بھی نہ سرکنے پائے گا کہ موضع رمی زمین کی حرکت سے اُسے جالے گا۔ اب اگر پھینکنے والے نے اپنے محاذات سے بچا کر پھینکا تھا تو یہ پتھر تین سیکنڈ میں ۱۹ گز مشرق کو چل کر گرجائے گا اور اتنی دور میں موضع رمی ۱۵۱۹ گز تک پہنچے گا یہ موضع رمی سے۱۵۰۰ گز مغرب میں گرے گا اور اگر محاذات پر پھینکا تھاتو معا زمین کی حرکت سے پھینکنے والا پتھر سے ٹکرائے گا۔ اور پتھر اس کے لگ کر و ہیں کا وہیں گرجائے گا لیکن ان میں سے کچھ نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ حرکت زمین باطل ہے۔
عہ ۲ : شرح خضری سے ہدیہ سعیدیہ اسی دلیل سے یوں بھی ثابت کرتے ہیں کہ تیر و طائر و ابر مشرق کو چلتے معلوم ہوں (شرح حکمت العین) اسی سے یوں کہ مشرق کو جاتا مغرب کو چلتا نظر آئے۔(خضری) اقول : بلکہ مشرق کوجانا مغرب کوجانا ہو کہ اب تک پرند کی جگہ جو پتھر مشرق کو سر کے یہ جگہ سیکڑوں جگہ نکل جائے گی تو یہ اس جگہ سے تجاوز کرنے درکنار ہمیشہ اس سے پیچھے ہی رہے گا۔۱۲ منہ غفرلہ۔
ثم اقول : بلکہ اولٰی یہ کہ یہ دلیل بایں تفصیل قائم کریں جس سے دو دلیل ہونے کی جگہ تین دلیلیں قائم ہوجائیں کہ جہاں شقوق واقع ایک ہی ہوسکے وہ ایک ہی دلیل ہوگی اگرچہ شقیں سو ہوں اور جہاں ہر شق واقع ہوسکے ایک پر استحالہ ہو وہ ہر شق جدا دلیل ہے ،درخت کی ایک شاخ سے دو پرند مساوی پرواز کے مساوی مدت تک مثلاً ایک گھنٹہ اُڑے ،ایک مغرب دوسرا مشرق کو ،اگر اُن کی پرواز رفتار زمین کے مساوی ہے ۔گھنٹے میں ایک ہزار چھتیس میل تو غربی اس شاخ سے دو ہزار بہتر میل پر پہنچا کہ جتنا وہ مغرب کو چلا اسی قدر یہ شاخ زمین کے ساتھ مشرق کو گئی اور مشرق بال بھر بھی شاخ سے جدا نہ ہوا کہ جتنا اُڑتا ہے زمین بھی اتنی ہی رفتار سے شاخ کو اس کے ساتھ ساتھ لارہی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مساوی پر واز والے مساوی فصل پاتے ہیں۔
دلیل ۹۲ : اگر ان کی پرواز رفتارِ زمین سے زائد ہے مثلاً گھنٹے میں ۱۰۳۷ میل تو غربی ۲۰۷۳ میل مغرب میں پہنچے گا اور اس کی مساوی پرواز والا مشرقی ۱۰۳۷ میل اڑکر صرف ایک ہی میل مشرق کو طے کرسکے گا یہ بھی بداہۃً باطل وخلاف مشاہدہ ہے ۔ دلیل ۹۳ : اگر ان کی پرواز رفتارِ زمین سے کم ہے مثلاً گھنٹے میں ۱۰۳۵ میل تو غربی ۲۰۷۱میل پر ہوجائے گا۔ اور اس کا ہم پرواز مشرقی جس نے گھنٹہ بھر محنت کرکے ۱۰۳۵ میل مشرق کو طے کیے۔ نتیجہ یہ پائے گا کہ الٹا اس شاخ سے اک میل مغرب میں گرے گا۔ اڑا تو مشرق کو اور پہنچا مغرب میں ،یہ سب سے بڑھ کر باطل اورخلافِ مشاہدہ ہے۔ دلیل ۹۴: جتنی مسافت قطع کریں اس سے صد ہا گنا فاصلہ ہوجائے۔ (خضری) یعنی ہر عاقل جانتا ہے کہ مثلاً طائر جس مقام سے جتنا اڑے وہاں سے اسے اتنا ہی فاصلہ ہوگا لیکن یہاں اڑے صرف ایک میل اور فاصلہ ہزار میل سے زائد ہوجاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ میں اگر طائروں کی پرواز گھنٹے میں ایک میل ہے تو شرقی ۱۰۳۵ میل مغرب میں پڑے گا اور غربی ۱۰۳۷ میل۔
دلیل ۹۵ : موضع انفصال اُس شاخ سے مثلاً شاخِ مذکور سے دونوں کے فاصلے کا مجموعہ اتنی دیر میں حرکتِ زمین کا دو چند یا زائد یا زائد کچھ خفیف کم ہو،(خضری)۔ اقول : اول : اُس حالت میں ہے کہ دونوں پرندوں کی پرواز باہم متساوی ہو۔ اور دوم جب کہ غربی کی پرواز شرقی سے زائد ہو ،اور سوم جب کہ عکس ہو۔ اور خفیف اس لیے کہ تیر یا طائر یا گولا عادۃً کوئی زمین کا دسواں حصہ بھی نہیں چلتا اور دونوں طائروں کی پرواز ایک میل ہے تو شرقی ۱۰۳۵ میل مغرب میں پڑے گا اور غربی ۱۰۳۷ میل پر گریں گے ۔ جب کہ ابھی گزرا مجموعہ ۲۰۷۲ کہ گھنٹے میں رفتار زمین کا دو چند ہے اور غربی ایک ساعت میں دو میل اڑے اور شرقی ایک میل تو وہ ۱۰۳۸ میل پر ہوگا اور یہ ۱۰۳۵ پر مجموعہ ۲۰۷۳ میل کہ ضعف سیر زمین کے دو چند سے بھی ایک میل زائد ہے اور شرقی دو میل غربی ایک میل تو وہ ۱۰۳۴ میل پر ہوگا اور یہ ۱۰۳۷پر مجموعہ ۲۰۱۷میل کہ ضعف سیر زمین سے ایک ہی میل کم ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان پروازوں پر مجموع فاصلہ ہر گز دو تین میل سے زائد نہیں ہوتا ،تو ضرور حرکت زمین باطل۔