Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
93 - 212
دلیل ۸۴: اقول ، زمین ی حرکت یومیہ یعنی اپنے محور پر گھومنے کاسبب ہر جز کا طالب نور و حرارت ہونا ہے یا جذب شمس سے نافریت (نمبر ۳۳) بہرحال تقاضائے طبع ہے اور اس کے لیے متعدد راستے تھے اگر زمین مشرق سے مغرب کوجاتی جب بھی دونوں مطلب بعینہ ایسے ہی حاصل تھے جیسے مغرب سے مشرق کو جانے میں ،پھر ایک کی تخصیص کیوں ہوئی ،یہ ترجیح بلا مرجح ہے جو قوتِ غیر شاعرہ سے نامکن  ،لہذا زمین کی حرکت باطل۔

دلیل ۸۵: اقول ، یہ دونوں وجہ پر واجب تھا کہ خطِ استوا دائرۃ البروج کی سطح میں ہو۔
27_32.jpg
 ی ک  ل م  شمس ہے ،اور ا ح ب ء زمین۔ ی ا ،ل ب دونوں کو مماس ہیں تو زمین کا قطعہ اح ب نصف (عہ۱)سے بڑا شمس کے مقابل اور اس سے مستنیر ہے اور قطعہ ا ء ب نصف سے چھوٹا تاریک اور اس سے مستنیر ہ ہے اور ح ء سطح دائرۃ البروج اور ہ ر خطِ استواح ط قطبین میں ہے اور مرکز شمس یعنی سہ پر گزرتا ہے اور مرکز شمس ملازم دائرۃ البروج ہے۔ ح ہ ، ر ء میل کلی ہیں اور ظاہر ہے کہ قطعہ ی م ل میں ارفع نقاط م ہے اور قطعہ ا ح ب کو م ح کو اقصر خطوط واصلہ ہے تو زمین شمس سے قریب تر نقطہ ح ہے پھر ہر طرف ء و ب تک بعد بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ ان کے بعد مقابلہ استثناء اصلاً تر تو سب سے زیادہ جذب ح پر ہے اور جاذبیت و نافریت مساوی ہیں۔(نمبر۶) تو واجب کہ سب سے زیادہ نافریت بھی یہیں ہوا اور کرہ متحرکہ میں سب سے زیادہ نافریت منطقہ یہ ہے کہ وہی دائرہ سب سے بڑا ہے پھر قطبین تک اُس کے موازی چھوٹے ہوتے گئے ہیں یہاں تک کہ قطبین پر حرکت ہی نہ رہی۔ تو واجب تھا کہ ح ط حرکت محوری زمین کا منطقہ یعنی خطِ استوا ہوتا لیکن ایسا نہیں بلکہ منطقہ ہ رہے تو جہاں جاذبیت کم ہے وہاں نافریت زائد ہے اور جہاں زائد ہے وہاں کم ،اور یہ باطل ہے ،لاجرم حرکتِ زمین باطل ہے ،یوں ہی طلب نورو حرارت کے لیے ا ب  کے نیچے جو اجزاء ہیں وہ آگے بڑھتے اور اپنے اگلے اجزاء کو بڑھاتے اور حرکتِ منطقہ ح ء   پر پیدا ہوتی نہ ح ط ؔ کے نیچے جو اجزاء نور و حرارت پارہے ہیں وہ آگے بڑھتی اور حرکت منطقہ ہ ر  پر ہوتی۔
عہ۱ : ہیأت جدیدہ کو تسلیم کہ اس نے اپنی تحریر ات ریاضی میں براہیں ہندسیہ سے ثابت  یہاں چھوٹا کرہ جب بڑے کے محاذی ہو تو بڑے کا چھوٹا قطعہ چھوٹے کے بڑے قطعے سے مقابل ہوگا ۔ خطوط مماسہ بڑاے کرے سے اس کے قطر کے ادھر وتر ی ل سے نکلیں گے اور چھوٹے کرے کے قطرسے ادھر وتر ا ب کے کناروں پر مس کرینگے ولہٰذا شمس سے زمین کے استنارے میں نصف شمس سے کم منیر اور نصف ارض  سے زیادہ مستنیر ہوتاہے اور قمر سے زمین کے استنارے میں بالعکس ۱۲ منہ غفرلہ۔
دلیل ۸۶ : اقول ، حرکت و ضعیہ میں قطب سے قطب تک تمام اجزاء محور ساکن ہوتے ہیں اور ہم نمبر ۳۳ میں ثابت کر آئے ہیں کہ زمین کی یہ حرکت اگر ہے تو ہر گز تمام کُرے کی حرکت واحد نہیں ،جس کے لیے قطبین و محور ہوں جب کہ ہر جز کی جدا حرکت اینیہ ہے کہ ہر جز میں نافریت اور طلبِ نور و حرارت ہے تو اجزاء محورکا سکون بے معنی نہ کہ وہ بھی خط ح طؔ  پر جہاں جاذبیت ہے نہ قوت اور اس کے بعد تک مقابلہ باقی ہے تو بُطلان حرکت زمین میں کوئی شبہ نہیں۔

دلیل ۸۷ : اقول :  ہماری تقریر ۳۳ سے واضہ کہ اجزاء زمین میں تدافع ہے۔

اولاً : اجزاء کی حرکت اینیہ میں اور ہر اینیہ میں قوت دفع ہے کہ وہ مکان بدلتی ہے جو اس کی راہ میں پڑے اُسے ہٹاتی ہے۔

ثانیاً : یہاں اسی قدر نہیں بلکہ اجزاء کی چال مضطرب ہے تو تدافع نہیں تلاطم ہے۔ حرکت محوری اگرجاذبیت و نافریت سے ہو جس طرح ہم نے نمبر ۳۳ میں تقریر کی جب تو ظاہر کہ قرب مختلف تو جذب مختلف تو نافریت مختلف تو چال مختلف تو اضطراب حاصل ورنہ اس کی کوئی بھی وجہ ہو۔بہرحال اصول ہیئت جدیدہ پر یہ احکام یقیناً ثابت کہ : 

(۱) بعض اجزاء ارض کا مقابل شمس اور بعض کا حجاب میں ہونا قطعی۔

(۲) مقابلہ زمین قُرب و بعُد اور خطوط واصلہ کا عمود منحرف ہونے کا اختلاف یقینی۔

(۳) ان اختلافات سے جاذبیت میں اختلاف ضروری۔

(۴) اس کے اختلاف سے نافر یت میں کمی بیشی لازمی۔

(۵) اُس کی کمی بیشی سے چال میں تفاوت حتمی۔

(۶) اس تفاوت سے اجزاء میں تلاطم و اضطراب ان میں سے کسی مقدمہ کا انکار ممکن نہیں تو حکم متیقن تو واجب کہ معاذ اﷲ زمین میں ہر وقت حالت زلزلہ رہے ،ہر شخص اپنے پاؤں کے نیچے اجزاء زمین کو سرکتا تلاطم کرتا پائے اور آدمی کا زمین کے ساتھ حرکت عرضیہ کرنا اس احساس کا مانع نہیں ،جیسے ریل میں بیٹھنے سے حال محسوس ہوتی ہے خصوصاً پرانی گاڑی میں لیکن بحمد اﷲ تعالٰی ایسا نہیں تو حرکت محوری یقیناً باطل ،مقامِ شکر ہے کہ خود ہیئت جدیدہ کا اقرار ا س کا آزار۔

کسی نے کہا تھا کہ زمین چلتی تو ہم کو چلتی معلوم ہوتی۔ اس کا جواب(ص ۱۶۷)  یہی دیا کہ زمین کی حرکت اگر مختلف ہوتی یا اس کے اجزاء جدا جدا حرکت کرتے ضرور محسوس ہوتی۔ مجموع کرہ کو ایک حرکت ہموار لاحق ہے ، لہذا حِس میں نہیں آتی ،جیسے کشتی کی حرکت کشتی نشیں کو محسوس نہیں ہوتی یعنی جب تک جھکے گا نہیں۔

الحمدﷲ ہم نے دونوں باتیں ثابت کردیں کہ زمین کو اگر حرکت ہوتی تو ضرور اجزاء کو جدا جدا ہوتی اور ضرور ناہموار و مضطرب ہی ہوتی جب ایک بات پر محسوس ہونا لازم تھا کہ اب کہ دونوں جمع ہیں بدرجہ اولٰی احساس واجب لیکن اصلاً نہیں ،تو زمین یقیناً ساکن محض ہے۔
دلیل ۸۸: اقول ، پانی زمین سے بھی کہیں لطیف تر ہے تُو اس کے اجزاء میں تلاطم واضطراب اشد ہوتا اور سمندر میں ہر طرف طوفان رہتا۔

دلیل ۸۹: اقول ،  پھر ہوا کی لطافت کا کیا کہنا ، واجب تھا کہ آٹھ پہر عرب سے شرق تک تحت سے فوق تک ہوا کی ٹکڑیاں باہم ٹکراتیں ،ایک دوسرے سے تپانچے کھاتیں اور ہر وقت سخت آندھی لاتیں ،لیکن ایسا نہیں تو بلاشبہہ زمین کی حرکت محور باطل اور اُس کا ثبوت و سکون ثابت ومحکم  ،وﷲ الحمد وصلی اللہ علٰی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم امین!
Flag Counter