Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
92 - 212
دلیل ۸۱: اقول :  وہ کُرہ موجود جس کا مرکز تحت حقیقی ہے ،فلک ہے یا شمس ،یا ارض  ،یا اور کوئی سیاہ یا ثابتہ یا قمر۔

اول :تو ہیئت جدیدمان نہیں سکتی کہ وہ وجود افلاک ہی کے قائل نہیں۔

دوم : ضرور اُس کا مدعا ہے کہ شمس کو ساکن فی الوسط مانتی ہے ،ضرور کہ اہلِ ہیئت جدیدہ جب دوپہر کو زمین پر سیدھے کھڑے ہوں تو سَر نیچے ہو اور ٹانگیں اوپر ،اس لیے کہ سر تخت حقیقی سے قریب ہے اور پاؤں دور ،جب زمین کی حرکت مستدیر قریب غروب اس حالت پرلائے کہ سر اور پاؤں کا فعل مرکز شمس سے برابر رہ جائے تو اب نہ سر اوپر نہ پاؤں ،ہاں آدھی رات کوآدمیت پر آئیں کہ سر اوپر ہوجائے کہ تحت سے بعید ہے اورپاؤں نیچے کہ قریب ہیں ،جب بعد طلوع پھر وہی حالت تساوی ہو سر اور پاؤں دوبارہ برابر ہوجائیں ،جب دوپہر ہو پھر سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوجائیں۔ ہمیشہ بے جنبش کیے یونہی قلابازیاں کھائیں ،یہی حال ہر روز صحن وسقف کا ہو کہ کبھی صحن اوپر اور چھت نیچے کبھی بالعکس ،یہی حال زمین میں قائم درختوں کا کہ آدھی رات کو جڑ نیچے ہے اور شاخیں اوپر۔ دوپہر ہوتے ہی پیڑ بدستور رہے مگر شاکیں نیچے ہوگئیں اور جڑ اوپر ،دوپہر کے وقت جو بخار یا دھواں اُٹھے کہو کہ نیچے گرا ،جو پتھر گرے کہو کہ اوپر اڑا۔ یوں ہی بے شمار استحالے ہیں۔ دیگر سیارہ و اقمار و ثوابت کا بھی یہی حال ہے کہ اُن میں جس کسی کا بھی مرکز لو گے ایسے ہی استحالے ہوں گے۔ لاجرم مرکز زمین ہی وہ مرکز ساکن ہے اور زمین کی حرکت اینیہ باطل۔
دلیل ۸۳ : اقول ، ہر عاقل جانتا ہے کہ حرکت موجبِ سخونت و حرارت ہے ،عاقل درکنار ہر جاہل بلکہ ہر مجنون کی طبیعت غیر شاعرہ اس مسئلہ سے واقف ہے ،لہذا جاڑے میں بدن بشدت کانپنے لگتا ہے ،کہ حرکت سے حرکت پیدا کرے بھیگے ہوئے کپڑوں کو ہلاتے ہیں کہ خشک ہوجائیں ،یہ خود بدیہی ہونے کے علاوہ ہیئت جدیدہ (عہ۱)کو بھی تسلیم  ،
عہ۱ : ح صفحہ نمبر ۲۴۱
بعض اوقات آسمان سے کچھ سخت اجسام نہایت سوزون و مشتعل گرتے ہیں  ،جن کا حدوث بعض کے نزدیک یوں ہے کہ قمر پتھر کے آتشی پہاڑوں سے آتے ہیں کہ شدت اشتعال کے سبب جاذبیت قمر کے قابو سے نکل کر جاذبیت ارض کے دائرے میں آکر گر جاتے ہیں ،اس پر اعتراض ہوا کہ زمین پر گرنے کے بعد تھوڑی ہی دیر میں سرد ہوجاتے ہیں ،یہ لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنے میں کیوں نہ ٹھنڈے ہوگئے؟ اس کا جواب یہی دیا جاتا ہے کہ اگر و ہ نرے سرد ہی چلتے یا راہ میں سرد ہوجاتی جب بھی اس تیز حرکت کے سبب آ گ ہوجاتے کہ حرکت موجب حرارت اور اس کا افراط باعث اشتعال ہے۔ اب حرکت زمین کی شدت اور اس کے اشتعال وحدت کا اندازہ کیجئے۔ یہ مدار جس کا قطر اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل ہے اور اس کا دورہ ہر سال تقریباً تین سو پینسٹھ ۳۶۵ دن پانچ گھنٹے اڑتالیس منٹ میں تمام ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ حرکت حرکتِ زمین ہوتی یعنی ہر گھنٹے میں اڑسٹھ ہزار میل کہ کوئی تیز سے تیز ریل اس کے ہزارویں حصے کو نہیں پہنچتی پھر یہ سخت قاہر حرکت نہ ایک دن نہ ایک سال نہ سو برس بلکہ ہزار ہا سال سے لگاتار بے فتور دائمہ مستمر ہے تو اس عظیم حدت و حرارت کا کون اندازہ کرسکتا ہے جو زمین کو پہنچتی  ،واجب تھا کہ اس کا پانی کب کا خشک ہوگیا ہوتا اس کی ہوا آگ ہوگئی ہوتی ،زمین دہکتا انگارہ بن جاتی جس پر کوئی جاندار سانس نہ لے سکتا پاؤں رکھنا تو بڑی بات ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ زمین ٹھنڈی ہے ،اس کا مزاج بھی سرد ہے ،اس کا پانی اس سے زیادہ خنک ہے ،اس کی ہوا خوشگوار ہے ،تو واجب کہ یہ حرکت اس کی نہ ہو بلکہ اس آگ کے پہاڑ کی جسے آفتاب کہتے ہیں جسے اس حرکت کی بدولت آگ ہونا ہی تھا۔ یہی واضح دلیل حرکتِ یومیہ جس سے طلوع اور غروب کواکب ہے زمین کی طرف نسبت کرنے سے مانع ہے کہ اُس میں زمین ہر گھنٹے میں ہزار میل سے زیادہ گھومے گی۔ یہ سخت دورہ کیا کم ہے  ،اگر کہے یہی استحالہ قمر میں ہے کہ اگرچہ اس کا مدار چھوٹا ہے مگر مدت بارھویں حصے سے کم ہے کہ گھنٹے میں تقریباً سوا دو ہزار میل چلتا ہے۔اس شدید صریح حرکت نے اسے کیوں نہ گرم کیا۔
اقول :  یہ بھی ہیئت جدیدہ پر وارد ہے جس میں آسمان نہ مانے گئے ،فضائے خالی میں جنبش ہے تو ضرور چاند کا آگ اور چاند کا سخت دھوپ ساگرم ہوجانا تھا لیکن ہمارے نزدیک
 کل فی فلک یسبحون ۱؂
ہر ایک ایک گھیرے میں پیرتا ہے۔
(۱؂القرآن الکریم    ۳۶ /۴۰)
ممکن کہ فلک قمر یا اس کا وہ حص جتنے میں قمر شناوری کرتا ہے خالق عظیم عزجلالہ ،نے ایسا سرد بنایا ہو کہ اس حرارت حرکت کی تعدیل کرتا اور قمر کو گرم ہونے دیتا ہو جس طرح آفتاب کے لیے حدیث میں ہے کہ اُسے روزانہ برف سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ ورنہ جس چیز پر گرتا جلا دیتا۔
رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامہ رضی اللہ تعالٰی عن صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم۔
Flag Counter