| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دلیل ۷۸ : اقول، بفرض غلط مساوات بھی لے لو مثلاً خو د اپنی ہیئت جدیدہ کے اقرارات و تصریحات وعملیات سب پر خاک ڈال کر یہیں کا یہیں مدار زمین کے برابر ایک دائرہ موازی خطِ استوا لے کر اس کا نام معدل رکھ لو ،اور اب میل کا حساب راست آئے گا۔ تمام عقلائے عالم ہیئتِ جدیدہ کا اجماع ہے کہ میل کلی ہزاروں برس سے ۲۳ ،۲۴ درجے کے اندر ہے ،(۲۹ ، ۲۳) لیکن زمین دورہ کرتی ہے تو اب میل کلی پورا ۶۰ درجے آئے گا اور متساوی دائرے کہ ہر ایک دوسرے کے مرکز پر گزرا ہو(مقدمہ۱) اُن کا بعد ہمیشہ ان کے نصف قطر کے برابر ہوگا۔
27_31_1.jpg
ا ح ب مرکزہ پر اور ح ا ب مرکز ر پر تو ح ہ یا ر ء بعد ہے کہ ہر ایک نصف قطرہے ،یہ سطح مستوی میں تھا جس میں نصف قطر یعنی ۶۰ درجہ قطریہ کی قیمت درجات محیطیہ سے ۷۵ ردجے ، ۱۷ دقیقے ، ثانیے ، ۴۸ ثالثے، اور ۱۵ رابعے ہیں ، لیکن کُرے پر بُعد دائرے سے لیا جاتا ہے تو ان کا مساوی دائرہ میلیہ کا نقطتین ح ہ یا ر ءؔ پرگزرے گا یہ نصف قطر اس کا وتر ہوگا تو دائرۃ البروج کا میل ۲۳ ،۲۴ کی جگہ کامل ۶۰ درجے آئے گا اور یہ سب کے نزدیک باطل ،تو دورہ زمین قطعاً وہم باطل۔
دلیل ۷۹: اقول ، جتنے مسائل کرہ سماوی پر بذریعہ علم مثلث کروی حل کیے جاتے ہیں جن کے مثلث میں ایک قوس دائرۃ البروج کی ہو ،خصوصاً جب کہ دوسری قوس معدل کی ہو ،جیسے کو کب (عہ۱) ۔ کے میل و مطالع قمر سے اس کے عرض و تقویم کا استخراج منطقہ کو مدارِ زمین ماننے سے سب باطل ہوگئے کہ اس کا مبنٰی کُرہ سماوی پر منطقہ کا عظیمہ ہوگا ہے۔ بالخصوص اس کا منبٰی یہ ہے کہ منطقہ و معدل دونوں مساوی دائرہ ہیں اور دونوں کامرکز ایک ہو اور دونوں کا تقاطع تناصف پر ہو منجملہ دونوں ایک کُرہ کے عظیمہ ہو ،اور ہم ثابت کرچکے کہ منطقہ مدارِ زمین ہو کر یہ سب محال ،لاجرم دورہ زمین باطل خیال۔
عہ ۱: خاص اس مسئلہ میں ہمارا ایک رسالہ ہے البرھان القویم علی الارض والتقویم ،جس میں اٹھارہ صورتیں قائم کرکے اُنہیں ۶ کی طرف راجع کیا ،پھر ہر ایک میں جتنی شقیں متحمل ہیں جن کا مجموعہ ۳۵ ہے سب کو سب کی اور اُن پر تو امرات بیان کیے کہ ہر صورت میں کیونکر میل الطالع سے تقویم و عرض نکالیں دونوں کے جدا جدا نکالنے کے بھی طریقے بتائیے پھر تقویم سے عرض اور عرض سے تقویم معلوم کرنے کے پھر جملہ طاق پر براہین ہندسیہ شکل شمس وظلی سے قائم کیں۔یہ سب بیان تو اس رسالہ پر محمول۔
اصول علم الہیئت ۹۷ میں بھی چند سطر کے اس توامر کے ذکر میں لکھیں جن میں عجب خطائے فاحش کی شکل یہ بنائی۔
27_31_2.jpg
ی ق خط استوا یعنی (معدل الہنار فؔ) اس کا قطب ،ی سؔ دائرۃ البروج ،ر ا س کا قطب ،ص موضع کوکب ،ف ص یعنی ( میلیہ ) اور رص یعنی (عرضیہ) بنائے ف ص پر ب ص عمود گرایا۔ ف ص تمام میل ہے اور رف یعنی مابین القطبین۔ یہ یؔ یؔ میل کلی کہ اؔ راس الحمل ،زاویہ ص ف قؔ تمام مطالع ،زاویہ صؔ ر سؔ تمام تقویم ،ر صؔ تمام عرض ہے یہاں تک مستدیر تھی آگے مثلث فؔ صؔ بؔ قائم الزاویہ سے فؔ بؔ پھر اس سے میل کلی رفؔ ملا کر ربؔ معلوم کیا اور اس سے زاویہ ر کو تمام تقویم ہے۔ یوں تقویم معلوم ہوئی ،اب عرض معلوم کرنے کو مثلث رؔ صؔ بؔ قائم الزاویہ لیا جس کی ر ب زاویہ ر معلوم ہوئے ہیں ان سے رصؔ تمام عرض جان کر عرض معلوم کیا یہ بدایتہً باطل ہے جب فؔ صؔ بؔ قائمہ ہے ر صؔ بؔ کیونکر قائم ہوسکتا ہے ،جزوکل برابر ،خیر ہمیں اس سے غرض نہیں واقفِ فن جانتا ہے کہ اسی شکل میں کتنی جگہ سے منطقہ کا مدار زمین ہونا باطل ہوا۔ ۱۲ منہ غفرلہ۔
دلیل ۸۰ : اقول ، یہاں چند مقدمات نافعہ ہیں ،دوشیئ میں اضافی ،متقابل ،متضاد نسبتیں کہ شے واحد میں دوسری کے لحاظ سے با اعتبار واحد جمع نہ ہوسکیں ،دو قسمیں ہیں۔ اوّل : اعتباری محض جس کے لیے کوئی منشا واقع میں متعین نہیں ،لحاظ و اعتبار سے تعین ہوتا ہے تو ہر شیئ اُسی دوسری کے اعبتار سے اُن دونوں ضدوں سے متصف ہوسکتی ہے ،جیسے اشیاء کی گنتی میں اِدھر سے گِنوں تو یہ اوّل وہ دوم ہے ،اُدھر سے گِنوں تو عکس ہے کہ اُن کے اول و ثانی ہونے کے لیے واقع میں کوئی منشاء متعین نہیں تمہارے لحاظ کا تابع ہے جدھر سے گنتی شروع کرو وہی اول ہے۔ دوم : واقعی جس کے لیے نفس الامر میں منشاء متعین یہاں دو شے میں ایک کے لیے ایک ضد متعین ہوگی دوسری کے لیے دوسری ،ہم کسی دوسرے لحاظ سے اُن میں تبدیل نہیں کرسکتے کہ اُن کا منشاء ہمارے لحاظ کا تابع نہیں ،جیسے تقدم وتاخر زمانی مثلاً ۱ ھ یقیناً ۲ ھ سے پہلے ہے۔ اسی طرح نہیں کہہ سکتے کہ ۲ ھ پہلے ہوا بعد ایک آیا۔ (۲) ان واقعات میں شیئ واحد کو دو کے لحاظ سے دونوں ضدیں عارض ہوسکتی ہیں ،یہ تغیرنسبت نہ ہوا بلکہ تغیر منتسبین مگر ایک ہی شے کے لحاظ سے ممکن نہیں کہ تغیر نسبت ہے مثلاً ۲ ھ /۳ ھ سے پہلے ہے ۱ ھ سے بعد ،لیکن اُن میں ایک کی نظر سے دونوں نہیں ہوسکتے ،زید بن عمرو بن بکر میں عمرو بیٹا بھی ہے اور باپ بھی مگر دو شخص کے لیے عمرو کا ایک باپ ہواور اسی کا بیٹا بھی ،یہ محال ہے۔ (۳) ان واقعی نسبتوں میں بعض وہ ہیں کہ شَے کو بالعرض بھی عارض ہوتی ہے اگر چہ بالعرض میں بنظر ذات ایک ہی شیئ کے اعتبار سے دونوں ضدوں کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ اس میں بھی محال ہے کہ وقتِ واحد میں دو اعتبار مختلف سے دونوں ضدیں مان سکیں ورنہ نسبت اعتبار یہ مثلاً زید ا ء میں پیدا ہو ا عمر و سے کہ ۲ ء میں ہوا عمر میں بڑا ہے۔ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی دوسرے اعتبار سے عمر و زید سے عمر میں بڑا ہی اگرچہ ان کی ذات کی نظر سے یہ محال نہ تھا کہ عمرو ا ء میں پیدا ہوتا اور زید ۲ء میں۔ عمر میں بڑا چھوٹا ہونا منعکس ہوجاتا۔ (۴) فوق و تخت اُن ہی نسبت واقعیہ سے ہیں۔ چھت اوپر ہے اور صحن نیچے ،تو جب زمین پر کھڑے ہو تمہارا سر اوپر ہے اور پاؤں نیچے ،کوئی عاقل ہرگز نہ کہے کہ یہ زیر و بالا واقعی نہیں نرا اعتباری ہے۔ کسی دوسرے لحاظ سے چھت نیچے ہے اور حن اوپر ،تمہارا سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ،یعنی واقع میں نہ چھت اور سراوپر ہیں اور نہ پاؤں اور صحن نیچے ،بلکہ عندیہ کی طرح ہمارے اعتبار کے تابع ہیں ،ہم چاہیں تو سر اور چھت کو اونچا سمجھ لیں چاہے پاؤں اور صحن کو کیا مجنوں کے سوا کوئی ایسا کہہ دے گا۔ (۵)جب یہ نسبت واقعیہ ہے تو اس کے لیے نفس الامر میں ضرور کوئی منشاء متعین ہے جو کسی کے لحاظ وا عتبار کا تابع نہیں ،وہ فوق کے لیے تمہارا سر یا چھت خواہ تحت کے لیے تمہارے پاؤں یا صحن نہیں اگر تمہیں الٹا کھڑا کیا جائے تو سر نیچا ہوجائے گا اور پاؤں اوپر۔ یوں ہی اگر شہر لوطیاں کی طرح معاذ اﷲ مکان اُلٹ جائے تو صحن اوپر ہوگا۔ چھت نیچے ،تو معلوم ہوا کہ ان کو یہ نسبتیں بالذات عارض نہیں بلکہ بالعرض و منشاء کچھ اور ہے جسے ان کا عرض بالذات ہے اور اس کے واسطے سے چھٹ اور سر کو۔ (۶) نسب متقابلہ واقعیہ میں کبھی دونوں جانب تحدید یعنی حد بندی ہوتی ہے۔ مثلاً زید کا ولد اول وولد اخیر نہ اول سے پہلے اس کا کوئی ولد ہوسکتا ہے ورنہ یہ اول نہ ہوگا نہ آخر کے بعد ورنہ آخر نہ ہوگا۔ اور کبھی صرف ایک تحدید ہوتی ہے ،دوسری جانب اس کے مقابلے پر غیر محدود مرسل رہتی ہے ،جیسے کسی شے سے اتصال و انفصال ،اتصال محدود ہے اس میں کمی و بیشی کی راہ محدود مگر انفصال کے لیے کوئی حد نہیں ،جتنا بھی فاصلہ ہوگا انفصال ہی رہے گا ،ہاں نسبت اعتباریہ میں کسی طرف تحدید ضرور نہیں کہ وہ تابع اعتبار ہیں۔ فوق و تحت نسبت واقعیہ سے ہیں تو ضرور ان میں تو ایک جانب تحدید ضرور ہے ورنہ اعتبار محض رہ جائیں گے ہر تحت سے تحت اور ہر فوق سے فوق متصور ،تو کسی کا کوئی منشا ء متعین نہیں ،جسے چاہو تحت فرض کرلو ،تو مابقی سب فوق ٹھہریں گے پھر فوق کو تخت فرض کرو تو یہ سب فوق ہوجائے گا اور وہ فوق تحت لاجرم ان کی تحدید میں تین صورتوں سے ایک لازم یا تو دو متقابل چیزیں یا بالذات فوق وتحت ہوں کہ نہ فوق بالذات سے اوپر ممکن ہے نہ تحت بالذات سے نیچے ،باقی اشیا کہ اُن کے اندر ہیں ،جو فوق سے قریب ہو فوق بالعرض ہے جو تحت سے قریب ہو۔ تحت بالعرض ہے ،اور ان میں ہر شے دو چیز اقرب وابعد کے لحاظ سے فوق و تحت دونوں ،یہ صورت دونوں طرف تحدید کی ہوگی یا فوق بالذات متعین ہو کہ اس سے تفوق محال اور اس کے مقابل غیر محدود جتنے چلے جاؤ سب تحت ہے اور ہر اسفل سے اسفل تک ممکن یا تحت بالذات متعین ہو کہ اس سے تفسل ممتنع اور اس سے محاذی یا متنائی جتنے بڑھوسب فوق ہے اور ہر بالا سے بالا تر متصور تینوں صورتیں اپنی ذات میں تحت وفوق کے نسبت واقعہ ہونے کو بس ہیں۔ (۷) اب تمام عقلائے عالم کے اتفاق سے تحت محدود ہے ،فوق کی تحدید کہ ہر ایک شے پر جا کر فوقیت منتہی ہوجائے اور اس سے فوق ناممکن ہو ،بالضرورت واقعیت ہو نہیں سکتی کہ وہ تو حاصل ہوچکی اور خارج سے اس پر کوئی دلیل نہیں۔ تو اس کا ماننا جزاف ہے۔
فلسفہ قدیمہ کا رد بعونہ تعالٰی تدنیل جلیل میں آتا ہے۔ یہاں اس کی حاجت نہیں ،اور ہیئت جدیدہ کا اتفاق ہے کہ فوق محدود نہیں۔ مسئلہ تناہی ابعد ہم پروارد نہیں کہ ہمارے نزدیک فضائے خالی بعد موہوم ہے کہ انقطاع وہم سے منقطع ہوجائے گا جب پھر تو ہم کرو گے اور آگے بڑھے گا اور کسی حد پر منتہی نہ ہوگا کہ اس کے اوپر متوہم نہ ہوسکے تو شق ثالث متعین ہوئی یعنی تحت بالذات متعین ہے اس کے سوا کوئی تحت اس سے جو قریب ہے وہ تحت اضافی ہے ،جو بعید ہے وہ فوق تاغیر نہایت ہے۔ ۰۰۰۰۰کہ تحت کے سب اطراف یکساں ہیں ،ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں کہ ایک طرف بعد زائد دوسری طرف کم بلکہ جو سب طرف لامتناہی ہے سب طرف برابر ہے کہ دو نامنتہی کہ ایک مبدء سے شروع ہوں اور امتداد میں کم و بیش نہیں ہوسکتے ۔ ورنہ جو کم رہا متناہی ہوگیا تو لازم کہ تحت حقیقی تمام امتدادوں کی وسعت میں ایک شیئ موجود متعین ہو جس کے ہر طرف فوق ہواور تحت کا اشارہ ہر جانب سے اُسی پر منتہی ہو ،امتداد جو آگے بڑھے فوق کی طرف چلے۔ (۸) یہیں سے ظاہر ہے کہ تحت بالذات کا ایک نقطہ غیر متجزیہ ہونا لازم و رنہ جسم یا سطح یا خط میں نقاط کثیرہ فرض ہوسکتے ہیں جن کی طرف اشارہ حِسّیہ جُدا جدا ہوگا اور ایک دوسرے سے بعید تر ہوگا تو خود ان میں فوق وتحت ہوں گے اور تحت حقیقی ایک نقطہ ہی رہے گا۔ (۹)یہ نقطہ متعینہ جس کے جمیع جہات سے وسط جملہ امتدادات ہونے نے اُسے مرکز کُرہ بنایا ،ضرور ہے کہ کسی کُرہ موجود کا مرکز ہو جو بالذات تحت ہونے کے لیے متعین ہو نہ یہ کہ کسی اعتبار و اصطلاح پر ہو ورنہ نسبت واقعیہ نہ رہے گی ،فضائے خالی میں کوئی نقطہ اصلاً تمیز ہی نہیں رکھتا۔ ہمارے اعتبار سی متمیز ہوگا نہ کہ تحت ہونے کے لیے بالذات متعین۔ (۱۰)ضرور ہے کہ اِس مرکز کو حرکت اینیہ سے ممکن کہ وہ مرکز فوق کے قریب آجائے اور تحت سے بعید ہوجائے تو باوصف اپنی اپنی جگہ ثابت رہنے کے لیے فوق تحت ہوجائے اور تحت فوق اور اسے کوئی عاقل قبول نہ کرے گا۔ مثلاً ایک مکان کسی دوسرے مقام پر ہے جس کا صحن اُس تحت ذاتی سے قریب ہے اور سقف دور۔ اب وہ مرکز متحرک ہو کر اوپر آجائے تو چھت اس سے قریب ہوجائے گی اور صحن دور ،اب کہنا پڑے گا کہ بیٹھے بٹھائے سیدھے مکان کی چھت نیچے ہوگئی اور صحن اوپر ،یوں ہی وہاں جو آدمی کھڑا ہوا بیچارہ بدستور کھڑا ہے مگر سر نیچے ہوگیا اور ٹانگیں اوپر ،جب یہ مقدمات ممہد ہولیے ،اب ہم دیکھتے ہیں کہ جب تم زمین پر سیدھے کھڑے ہو تمہارے سر کی جانب جہت فوق تا دور چلی گئی ہے تو بحکم مقدمہ ششم ضرور ہے کہ پاؤں کی جانب جہت تحت کسی حد کی جانب منتہی ہوجائے اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس کُرہ زمین میں ہے یا اس کے بعد لیکن بداہۃً معلوم اور ہر عاقل کو معقول کہ جس طرح تم اس طرف زمین کے اوپر ہواور تمہارا سر اونچا پاؤں نیچے یونہی امریکہ میں یا تمام سطح زمین میں کسی جگہ کوئی کھڑا ہو اس کی بھی یہی حالت ہوگی۔ امریکہ والوں کو یہ نہ کہاجائے گا وہ زمین پر نہیں ،بلکہ زمین اوپر ہے یا ان کا سر اوپر نہیں بلکہ ٹانگیں اوپر ہیں تو روشن ہوا کہ وہ حد زمین ہی کے اندر ہے اور اس کا مرکز تحت حقیقی ہے تو بحکم مقدمہ عاشرہ کُرہ زمین ساکن ہو اور اس کی حرکت اینیہ باطل۔