| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دلیل ۶۹ : اقول : تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ مبادات اعتدالین ایک بہت خفیف حرکت ہے کہ ایک سال کامل میں پورا ایک دقیقہ بھی نہیں ۲ ء ۵۰ ہے (۲۲) پچیس ہزار آٹھ سو سترہ برس میں دورہ پورا ہوتا ہے۔ (۳۲) لیکن اگر زمین منطقہ پر دائرہے تو واجب کہ ہر سال دورہ پورا ہوجایا کرے تقاطع کا نقطہ ہر سہ ماہی میں تین برج طے کرلیا کرے وہ حرکت کہ اکہتر(عہ۱) برس میں بھی ایک درجہ نہیں چل سکتی ہر روز ایک درجہ اڑے۔
( عہ۱ : کہ حاصل نسبت ۷۱۳ئ۷۱ ہے ۱۲ منہ غفرلہ )
اب جء منطقہ البروج ہے۔ مرکز نؔ پر جب زمین نقطہ آ پر تھی معدل دائرہ س ہ ہواجتنے منطقہ کو ہ راس الحمل ر راس المیزان پر قطع کیا۔
27_30.jpg
جب زمین نطقہ ب پر آئی معدل دائرہ عہؔ ہوا اور حؔ راس الحمل ،طؔ راس المیزان جب زمین ح پر آئی معدل دائرہ ف ہوا اور ی راس الحمل ک ر اس المیزان جب ء پر آئی معدل صہ ؔ ہوا اور ل راس الحمل م راس المیزان ،ان چاروں دائروں نے منطقہ کو بارہ مساوی حصوں پر تقسیم کیا۔مثلاً منطقہ کی قوس اب ربع دور ہے اور بحکم مقدمہ ثانیہ تقاطع رائرہ عہ سے قوس ا ہ ۶۰ درجے تو ب ہ ۳۰ درجے ،یوں ہی تقاطع دائرہ عہؔ سے ب ط ۶۰ درجے تو اط ۳۰ درجے لاجرم بیچ میں ہ ط بھی ۳۰ درجے ،اسی طرح ہر رابع ،میں پس بالضرورۃ چاروں بار کے راس الحمل ہ ح ی ل میں ۹۰ ،۹۰ درجے کا فاصلہ تو ہر سال راس الحمل تمام منطقہ پر دورہ کر آیا اور ہر سہ ماہی میں تین بُرج چلا ہر روز ایک درجہ بڑھ کر اس سے جہالت اور کیا ہوگی تو دورہ زمین قطعاً باطل۔
دلیل ۷۰: اقول ، تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ اس مدار پر دورہ کرنے والا (شمس ہو یا زمین) سال بھر میں تمام بروج میں ہو آتا ہے لیکن اگر یہ مدار زمین کا ہے تو ایک برج کیا ایک درجہ کیا ایک دقیق چال چلنا محال۔ جب زمین آ پر تھی راس الحمل ہ تھا تو آ کہ ۶۰ ہی درجے آگے ہے تو ضرور بٓ راس الدلو ہے ،یونہی زمین جہاں ہوگی راس الحمل اس سے ۶۰ درجے آگے رہے گا اور زمین ہمیشہ راس الدلوہی پر رہے گی تو بروج میں انتقال نہ ہونا درکنار۔ اوپر تو جاذبیت و نافریت اسباب و زن نے سکونِ زمین ثابت کیا تھا ،یہاں خود دورہ زمین نے سکونِ زمین مبرہن کردیا۔ ثابت ہوا کہ ابتدائے آفرنیش میں جہاں تھی وہیں اب بھی ہے اور جب تک باقی ہے وہیں رہے گی۔ اس سے زیادہ قاہر دلیل اور کیا ہوگی کہ دورہ ماننا ہی ساکن منوا چھوڑے۔ اہلِ ہیئت جدیدہ تقلید کوپرنیکس کے نشے میں ان عظیم خرابیوں سے غافل رہے تو رہے عجب کہ آج تک ان کے رَد کرنے والوں کو بھی یہ آفتاب سے زیادہ روشن دلائل خیال میں نہ آئے دور کی باتیں بلکہ دور از کار باتیںبھی لکھا کیے فریقین کا اس طرف خیال ہی نہ گیا کہ منطقہ کو مدار زمین مانتے ہی تمام ہیئت کا پٹا اُلٹ جائے گا۔
دلیل ۷۱: اقول : جب ہ راس الحمل اور زمین طؔ راس الدلو پر ہے تو ضرور طؔ راس الحوت ہے۔ جب زمین ط ؔ پر آئی اور اس ا لحمل ہمیشہ ۶۰ درجے اس سے آگے ہوگا تو راس الحوت راس الحمل کے بیج ایک اور بُرج ہوا۔ دلیل ۷۲: جب ہؔ پر آئی کہ راس الحمل تھا تو راس لحمل سے راس الحمل ۶۰ درجے آگے ہوا۔ دلیل ۷۳: جب ب پر آئی کہ راس الثور تھا حمل کہ اُس سے ۳۰ درجے پیچھے تھا۔ ۶۰ درجے آگے ہوگیا وعلٰی ھذا القیاس ۔ دلیل ۷۴: ہر برج راس الحمل سے کبھی آگے ہوگا کبھی پیچھے کہ راس الحمل سال میں ۱۲ برج پر دورہ کرے گا تو بروج شمالی و جنوبی کی کوئی تعین نہ رہی سب شمالی اور سب جنوبی اور ہر برج ایک وقت نہ شمالی نہ جنوبی جب کہ راس الحمل اسی پر ہو۔ دلیل ۷۵ : چاروں فصلوں کو تعیین باطل ہوگئی۔ دلیل ۷۶ : جب زمین طؔ پر آئی کہ راس الحوت اور راس الحمل اس سے ۶۰ درجے آگے ہے اور شک نہیں کہ اس سے ۳۰ درجے آگے راس الحمل ہے تو دور اس الحمل ہوئے تو دور اس المیزن ہوئے تو دو دائروں تقاطع چار جگہ ہوا اور یہ محال ہے۔ دائرے دو جگہ سے زیادہ تقاطع نہیں کرسکتے۔ (اقلیدس مقالہ ۳ شکل۱۰) بالجملہ صد ہا استحالہ ہیں ،دیکھو دورہ زمین ماننے نے کیا کیا آفت جوتی تمام ہیئت دریا بردوگاؤ خورد کردی۔ دلیل ۷۷: اقول : تمام عقلائے عالم وہیئت جدیدہ کا اجتماع ہے کہ معدل سے منطقہ کا میل کلی بتانے والا دائرہ جسے دائرہ جے دائرہ میلیہ کہتے ہیں ایک متعین دائرہ ہے جس کی قوس کہ ان کے منصف محل تقاطع پر گزرتی ہے خود ایک مقدار معین رکھی ہے نہ یہ کہ چھوٹی بری قوسیں متحمل ہوں جن سے میل کی تجدید نہ ہوسکے لیکن اگر منطقہ مدار زمین ہے تو ایسا ہی ہوگا اور تحدید میل ناممکن ہوگی اس تحدید کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں دائرے برابر ہوں کہ تیسرا ان کا مساوی ان کے اقطاب پر گزارا جائے اور وہ میل بتائے اگر متقاطع دائرے چھوٹے بڑے ہوں تو میلیہ کی تعیین کہاں سے آئے گی۔ چھوٹے کے برابر تو بڑے کے برابر کیوں نہ لو۔ وبالعکس اور دونوں سے مختلف لو تو کیا وجہ ،اور پھر کتنا مختلف لو اور پھر صغر کی طرف یا کبر کی جانب کوئی تعین نہیں اور شک نہیں کہ ان سب محتمل دائرون کی قوسیں مختلف ہوگئیں اور ان میں جو ایک لو اس اس کی قوس کی قیمت چھوٹے کے لحاظ سے اور بڑے کے لحاظ سے اور ہوگی۔ غرض تحدید میل کی طرف کوئی راہ نہ رہے۔اور ہم دلیل ۵۷ میں ثابت کرچکے کہ منطقہ کو مدارِ زمین مان کر معدل و منطقہ کی مساوات محال تو تحدید میل محال مگر وہ قطعاً یعنی اجماعی ہے۔ لاجرم دورہ زمین باطل۔