Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
9 - 212
اب باقی رہی منزل چہارم، اور تُو نے کیا جانا کیا ہے منزل چہارم سخت ترین منازل دشوار ترین مراحل، جس کے سائرنہیں مگر اقل قلائل، اس کی قدر کون جانے۔ ؎
گدائے خاک(ف) نشینی تو حافظامخروش 	کہ نظمِ مملکت  خویش خسرواں دانند۔۱؂
(اے حافظ! تو خاک نشین گدا گر ہے شور مت مچا، کیونکہ اپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ ہی جانتے ہیں۔ت)
ف : دستیاب دیوان حافظ کی نسخہ میں اس شعر کے الفاظ یہ ہیں۔
رموزِ مصلحت ملک خسرواں دانند	گدائے گوشہ نشینی تو حافطا مخروش
( ۱ ؎  دیوان حافظ   ردیف شین معجمہ  سب رنگ کتاب گھر دہلی  ص ۳۵۸ )
اس کے لیے واجب ہے کہ جمیع لغاتِ عرب و فنونِ ادب ووجوہِ تخاطب و طرق تفاہم و اقسامِ نظم و صنوف معنٰے وادراک علل و تنقیح مناط و استخراجِ جامع وعرفانِ مانع و موارد تعدیہ و مواضع قصر و دلائل حکم آیات و احادیث ، واقاویل صحابہ و ائمہ فقہ قدیم و حدیث و مواقع تعارض، و اسبابِ ترجیح ، و مناہج توفیق و مدارج دلیل و معارک تاویل مسالک تخصیص  ، مناسک تقیید، ومشارع قیود، و شوارع مقصود وغیرہ ذلک پر اطلاع تام ووقوفِ عام و نظرغائر و ذہن رفیع، وبصیرتِ ناقدہ و بصر منیع رکھتا ہو، جس کا ایک ادنٰی اجمال امام شیخ الاسلام زکریا انصاری قدس سرہ الباری نے فرمایا کہ:
  ایاکم ان تبادرواالی الانکار علی قول مجتہد اوتخطئتہ الابعد احاطتکم بِاَدِلَّۃ الشریعۃ کلّھا و معرفتکم بجمیع لغات العرب التی احتوت علیھا الشریعۃ و معرفتکم بمعانیھا وطرقھا۔
خبردار مجتہد کے کسی قول پر انکاریا اُسے خطا کی طرف نسبت نہ کرنا، جب تک شریعت مطہرہ کی تمام دلیلوں پر احاطہ نہ کرلو، جب تک تمام لغتِ عرب جن پر شریعت مشتمل ہے پہچان نہ لو، جب تک ان کے معانی اُن کے راستے جان نہ لو۔
اور ساتھ ہی فرمادیا
  واَنّٰی لکم بذٰلک
بھلا کہاں تم اور کہاں یہ
احاطہ نقلہ الامام العارف باﷲ عبدالوہاب الشعرانی فی المیزان ۔۲؂
 ( اس کو خدا شناس امام عبدالوہاب شعرانی نے میزان میں نقل فرمایا ۔ت)
( ۲ ؎   میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فان ادعی احد من العلماء ذوق ھٰذہ المیزان دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۹)
ردالمحتار جس کی عبارت سوال میں نقل کی خود اُسی ردالمحتار میں اسی عبارت کے متصل اس کے معنے فرمادیئے تھے کہ وہ سائل نے نقل نہ کیے، فرماتے ہیں:
ولا یخفی ان ذلک لمن کان اھلاً للنظر فی النصوص و معرفۃ محکمھا من منسوخھا فاذانظر اھل المذہب فی الدلیل وعملوابہ صح نسبتہ الی المذاہب ۔۱؂
یعنی ظاہر ہے کہ امام کا یہ ارشاد اُس شخص کے حق میں ہے جو نصوصِ شرع میں نظر اور ان کے محکم و منسوخ کو پہچاننے کی لیاقت رکھتا ہو۔ تو جب اصحابِ مذہب دلیل میں نظر فرما کر اُس پر عمل کریں، اس وقت اس کی نسبت مذہب کی طرف صحیح ہے۔
 ( ۱ ؎   ردالمحتار   مقدمۃ الکتاب   داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱/ ۴۶ )
اور شک نہیں کہ جو شخص اِن چاروں منازل کو طے کر جائے وہ مجتہد فی المذہب ہے، جیسے مذہب مہذب حنفی میں امام ابویوسف و امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما بلاشبہ ایسے ائمہ کو اُس حکم و دعوے کا منصب حاصل ہے اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے خارج نہ ہوئے کہ اگرچہ صورۃً اس جزئیہ میں خلاف کیا مگر معنی اذن کلی امام پر عمل فرمایا پھر وہ بھی اگرچہ ماذون بالعمل ہوں۔ یہ جزمی دعوٰی کہ اس حدیث کا مفاد خواہی نخواہی مذہب امام ہے، نہیں کرسکتے، نہایت کارظن ہے، ممکن کہ اِن کے مدارک مدارکِ عالیہ امام سے قاصر رہے ہوں۔ اگر امام پر عرض کرتے وہ قبول فرماتے تو مذہب امام ہونے پر تیقن تام وہاں بھی نہیں۔

خود اجل ائمہ مجتہدین فی المذہب قاضی الشرق و الغرب سیدنا امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جن کے مدارجِ رفیعہ حدیث کو موافقین و مخالفین مانے ہوئے ہیں۔ امام مزنی تلمیذ جلیل امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔
 ھو اتبع القوم للحدیث ۔۲؂
 ( وہ سب قوم سے بڑھ کر حدیث کے پیروکار ہیں۔ت)
( ۲ ؎  تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السادسۃ   ترجمہ ۲۷۳ ۴۲/ ۶   دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۱/ ۲۱۴)

(میزان الاعتدال ترجمہ  یعقوب بن ابراہیم ۹۷۹۴   دارالمعرفۃ بیروت  ۴/ ۴۴۷ )
امام احمد بن حنبل نے فرمایا:
منصف فی الحدیث ۔۳؂
( وہ حدیث میں منصف ہیں۔ت)
 ( ۳ ؎   تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السادسۃ ترجمہ    ۲۷۳ ۴۲ / ۶  دارالکتب العلمیہ   ۱/ ۲۱۴ )
امام یحٰیی بن معین نے بآں تشدّد شدید فرمایا:
  لیس فی اصحاب الرای اکثر حدیثاو لااثبت من ابی یوسف ۔۴؂
اصحاب رائے میں امام ابو یوسف سے بڑھ کر کوئی محدث نہیں اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مستحکم ہے۔ت)
 ( ۴ ؎   میزان الاعتدال ترجمہ  یعقوب بن ابراہیم ۹۷۹۴  دارالمعرفتہ بیروت ۴/ ۴۴۷  )

(تذکرۃ الحفاظ   الطبقۃ السادسۃ ترجمہ  ۲۷۳ ۴۲ /۶   دارالکتب العلمیہ بیروت   ۱/ ۲۱۴)
نیز فرمایا:
صاحب حدیث و صاحب سُنّۃ  ۱ ؎
وہ صاحبِ حدیث و صاحبِ سُنّت ہیں۔(ت)
 ( ۱ ؎  تذکرۃ الحفاظ   الطبقۃ السادسۃ ترجمہ ۲۷۳ ۴۲ /۲   دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱۴ )
امام ابن عدی نے کامل میں کہا:
لیس فی اصحاب الرّأی اکثر حدیثا منہ ۲؎
اصحاب رائے میں امام ابویوسف سے زیادہ بڑا کوئی محدث نہیں۔(ت)
 ( ۲ ؎ میزان الاعتدال   ترجمہ یعقوب بن ابراہیم ۹۷۹۴  دارالمعرفۃ بیروت  ۴/ ۴۴۷ )
امام عبداللہ ذہبی شافعی نے اس جناب کو حفاظِ حدیث میں شمار اور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں بعنوان
الامام العلامۃ فقیہ العراقین ۔۳؂
(امام بہت علم وا لا عراقیوں کا فقیہ ت ) ذکر کیا۔
 ( ۳ ؎   تذکرۃ الحفاظ   الطبقۃ السادسۃ ترجمہ ۲۷۳ ۴۲ /۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۱/ ۲۱۴ )
یہ امام ابویوسف بایں جلالتِ شان حضور سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت فرماتے ہیں:
ماخالفتہ فی شیئ قطّ فتدبرتہ الا رأیت مذھبہ الذی ذھب الیہ انجی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الٰی الحدیث فکان ھو ابصربا الحدیث الصحیح منّی۔۴؂
کبھی ایسا نہ ہوا کہ میں نے کسی مسئلہ میں امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا خلاف کرکے غور کیا ہو، مگر یہ کہ انہیں کے مذہب کو آخرت میں زیادہ وجہ نجات پایا، اور بارہا ہوتا کہ میں حدیث کی طرف جھکتا پھر تحقیق کرتا تو امام مجھ سے زیادہ حدیث صحیح کی نگاہ رکھتے تھے۔
 ( ۴ ؎   الخیرات الحسان  الفصل الثلاثون   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ص ۱۴۳ )
نیز فرمایا: امام جب کسی قوم پر جزم فرماتے میں کوفہ کے محدثین پر دورہ کرتا کہ دیکھوں اُن کی تقویت قول میں کوئی حدیث یا اثر پاتا ہوں۔ بارہا دو تین حدیثیں میں امام کے پاس لے کر حاضر ہوتا اُن میں سے کسی کو فرماتے صحیح نہیں کسی کو فرماتے معروف نہیں۔ میں عرض کرتا حضور کو اس کی کیا خبر حالانکہ یہ تو قولِ حضور کے موافق ہیں۔ فرماتے : میں اہل کوفہ کا عالم ہوں۔
  ذکر کلّہ الامام ابن الحجرفی الخیرات ۵ ؎ الحسان
( یہ سب کچھ امام ابن حجر نے الخیرات الحسان میں ذکر فرمایا ہے۔ت)
 ( ۵ ؎   الخیرات الحسان  الفصل الثلاثون   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ص ۱۴۳ )
بالجملہ نابالغان رتبہ اجتہاد نہ اصلاً اس کے اہل ، نہ ہرگز یہاں مراد، نہ کہ آج کل کے مدعیان خامکار جاہلان بے وقار کہ من و تو کا کلام سمجھنے کی لیاقت نہ رکھیں۔ اور اساطین دین الہی کے اجتہاد پر کھیں۔ اسی ردالمحتار کو دیکھا ہوتا کہ انہیں امام ابن الشحنہ و علامہ محمد بن محمد البہنسی استاد علامہ نور الدین علی قادری باقانی وعلماہ عمر بن نجیم مصری صاحبِ نہرالفائق و علامہ محمد بن علی دمشقی حصکفی صاحبِ ردمختار وغیرہم کیسے کیسے اکابر کی نسبت صریح کی کہ مخالفت مذہب درکنار، روایات مذہب میں ایک راحج بتانے کے اہل نہیں۔
کتاب الشہادات باب القبول میں علامہ سائحانی سے ہے:
  ابن الشحنۃ لم یکن من اھل الاختیار ۱ ؎
  ابن شحنہ اہل اختیار میں سے نہیں تھا۔ (ت)
 ( ۱ ؎  ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ  داراحیاء التراث العربی بیروت  ۴/ ۳۸۳ )
کتاب الزکوۃ صدقہ فطر میں ہے:
البھنسی لیس من اصحاب التصحیح ۲ ؎
  البہنسی اصحابِ تصحیح میں سے نہیں(ت)
( ۲؎   ردالمحتار   کتاب الزکوۃ   باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/ ۷۶)
کتاب الطلاق باب الحضانہ میں ہے:
صاحب النھرلیس من اھل الترجیح ۳ ؎
صاحبِ نہر الفائق اہل ترجیح میں سے نہیں ْ(ت)
( ۳؎   ردالمحتار   کتاب الطلاق   باب الحضانۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/ ۶۳۷)
کتاب الرھن میں ایک بحث علامہ شارح کی نسبت ہے:
لاحاجۃ الٰی اثباتہ بالبحث والیقاس الذی لسنا اھلا لہ ۴؂
اس کو بحث و قیاس کے ساتھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں جس کے ہم اہل نہیں ہیں۔(ت)
 ( ۴؎   ردالمحتار   کتاب الرھن   باب الحضانۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵/ ۳۱۳)
ان کی بھی کیا گنتی خود اکابر اراکین مذہب اعاظم اجلّہ رفیع الرتب مثل امام کبیر خصاف وامام اجل ابوجعفر طحاوی و امام ابو الحسن کرخی و امام شمس الائمہ حلوانی و امام شمس الائمہ سرخسی وامام فخر الاسلام بزدوی و امام فقیہ النفس قاضیخاں دامام ابوبکر رازی و امام ابوالحسن قدوری و امام برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ وغیرہم اعاظم کرام  ادخلھم اﷲ تعالٰی فی دارالسلام۔

( اﷲ تعالٰی ان کو سلامتی والے گھر میں داخل فرمائے۔ (ت) کی نسبت علامہ ابن کمال باشا رحمۃ اللہ تعالٰی سے تصریح نقل کی۔
انھم لایقدرون علٰی شیئ من المخالفۃ لا فی الاصول ولا فی الفروع ۱ ؎
  وہ اصلاً مخالفت امام پر قدرت نہیں رکھتے، نہ اصول میں نہ فروغ میں۔
 ( ۱ ؎ ردالمحتار  مقدمۃ الکتاب   داراحیاء الثرات  العربی بیروت ۱/ ۵۳ )
ﷲ انصاف !اللہ عزوجل کے حضور جانا اور اسے منہ دکھانا ہے ایک ذرا دیر منہ زوری، ہما ہمی ڈھٹائی، ہٹ دھرمی کی نہیں سہی، آدمی اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور ان کا برائمہ عظام کے حضور اپنی لیاقت قابلیت کو دیکھے بھالے تو کہیں تحت الثرٰی تک بھی پتا چلتا ہے۔ ایمان نہ نگلے تو ان کے ادنٰی شاگردانِ شاگرد کی شاگردی و کفش برادری کی لیاقت نہ نکلے ۔ خدارا جو شکار ان شیرانِ شرزہ کی جست سے باہر ہو لومڑیاں، گیڈر اس پر ہُمکنا چاہیں۔ ہاں اس کا ذکر نہیں جسے ابلیس مَرید اپنا مرید بنائے۔ اور اپنی تقلید سے تمام ائمہ امت کے مقابل
اَنا خَیرمِّنْہُ
( میں اس سے بہتر ہوں(ت) سکھائے۔
جان برادر ! دین سنبھلانا ہے یا بات پالنا۔ چند منٹ تک خفگی، جھنجھلاہٹ ، شوخی تلملاہٹ کی نہیں بدی، ذرالیاقتی دعووں کے آثار تو ملاحظہ ہوں۔ تمام غیر مقلدان زمانہ کے سروسرگروہ سب سے اونچی چوٹی کے کوہ پر شکوہ سب سے بڑے محدث متوحد سب میں چھنٹے امام متفرد علامۃ الدہر مجتہد الدہر العصر جناب میاں نذیر حسین صاحب دہلوی ہداہ اﷲ تعالٰی الی الصراط السوی ہیں۔ انہیں کی لیاقت وقابلیت کا اندازہ کیجئے۔ فقیر نے بضرورت سوالِ سائلین جو اسی ماہ رواں میں صرف ایک مسئلہ جمع بین الصلوتین کے متعلق حضرت کی حدیث دانی کھولی۔ ماشاء اﷲ وہ وہ نزاکتیں پائیں کہ بایں گردش و کہن سالی آج تک پیر فلک کو بھی نظر نہ آئیں۔ تفصیل درکار ہو تو فقیر کا رسالہ مذکورہ  حاجزالبحرین (عہ) ملاحظہ ہو۔
عہ:  رسالہ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین فتاوٰی رضویہ جلد پنجم ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ، اندرون لوہاری دروازہ، لاہور میں صفحہ ۱۵۹ پر ملاحظہ ہو۔
Flag Counter