Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
89 - 212
فصل سوم :

حرکتِ زمین کے ابطال پر اور ۴۳ دلائل
بارہ۱۲  ردِّ نافریت او رپچاس ۵۰جاذبیت پر ،سب حرکتِ زمین کے رد تھے کہ اُ س کی گاڑی بے ان دو پہیوں کے نہیں چل سکتی تو یہاں تک ۶۲ دلیلیں مذکور ہوئیں۔
دلیل ۶۳ : اقول، تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل النہار و منطقۃ البروج دونوں مساوی دائرے ہیں۔ نتیجہ (نمبر۳۰) جتنے سماوی وارضی کرے ہیئت قدیمہ وجدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاید ہیں لیکن منطقہ کو مدار زمین مان کر یہ ہر گز ممکن نہیں۔ معدل تو بالا اجماع مقعر سماوی پر ہے۔ (نمبر ۲۸) اگر منطقہ نفس مدار پر رکھو جیسا اصول الہیئت کا زعم ہے۔ (نمبر ۲۹) جب تو ظاہر کہاں یہ صرف انیس کروڑ میل کا ذرا سا قطر اور کہاں مقعر سماوی کا قطر اربوں میل سے زائد جو آج تک اندازہ ہی نہیں ہو سکا اور اگر حسب بیان حدائق مدار کو مقعر سماوی پر لے جاؤ یعنی اس کا موازی وہاں بناکر اس کا نام منطقہ رکھو جب بھی تساوی محال کہ اس مقعر کا مرکز مرکز زمین ہے (نمبر۲۷) اور یہی مرکز معدل (نمبر۲۸) تو معدل عظیم ہے لیکن مرکز مدار  کا مرکز زمین سے اتحاد محال تو منطقہ ضرورۃ دائرہ صغیرہ ہے کہ عظیم ہوتا  تو اس کا مرکز مرکز مقعر ہوتا۔(فائدہ ۳۰) اور صغیرہ عظیمہ کی مساوات محال تو منطقہ کو مدار زمین ماننا قطعاً باطل خیال۔

دلیل۶۴ : تمام علقائے عالم اور ہیئتِ جدیدہ کا اجماع ہےکہ معدل و منطقہ کا مرکز ایک ہے ۔ (نتیجہ نمبر۳۰) جتنے سماوی وارضی کُرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن مدار پر دور زمین مان کر یہ ہدایۃً محال کہ مرکزِ و محیط کا انطباق کیسا جہل شدید ہے۔

دلیل ۶۵ اقول :  تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل و منطقہ کا تقاطع تنا صف پر ہے۔(نمبر ۳۰) جتنے سماوی وارضی کُرہ ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن زمین دائرہ ہو تو تنا صف محال کہ مرکز ایک نہ رہے گا۔ لاجرم دائرہ زمین باطل۔

دلیل ۶۶ : اقول : ان (عہ۱) سب سے خاص تر عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ معدل و منطقہ دونوں کرے سماوی حقیقی یا مقدر کے دائرہ عظیمہ میں (نمبر ۲۸ ،  ۲۹ ، ۳۰) جتنے سماوی و ارضی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں ،سب ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن دورئہ زمین پر یہ بوجوہ ناممکن کہ نہ تساوی نہ اتحاد مرکز نہ تنا صف ،تو وہ دورہ زمین قطعاً باطل۔
عہ ۱ : اقول ، تساوی و اتحاد مرکز میں عموم و خصوص من وجہ ہے مدارین متساوی ہیں اور اتحاد مرکز نہیں اور سطح معدل و خط استوا متحدہ المرکز ہیں اور تساوی نہیں ہر کرہ کے عظمتیں متساوی بھی نہیں اور متحدہ المرکز بھی اور یہ دونوں تناصف سے عام مطلقاً ہیں۔ جب تنا صف ہوگا تساوی و اتحاد مرکز ضرور ہوں گے کہ چھوٹے بڑی یا مختلف المرکز دائرے متنا صف نہیں ہوسکتے اور تساوی یا اتحاد مرکز ہو تو تناصف درکنار ،تقاطع بھی ضرور نہیں ،جیسے مدارین یا معدل و خطِ استوام ،ہاں تساوی و اتحاد مرکز کا اجتماع دائرہ کرہ میں تناصف کا متساوی ہے جب مساوی دائرے مرکز واحد ہر ہوں گے ضرور متناصف ہوں گے وبالعکس یہ تینوں  ایک کرہ کے دوائر عظام ہونے سے عام مطلقاً ہیں ۔ ایک کُر ہ کے دو عظیمے قطعاً متساوی بھی ہوں گے اور متحدالمرکز بھی اور متناصف بھی اور ثخن کرہ میں مرکز واحد پر دو متساوی دائرے متناصف ہوں گے اور عظیم نہیں۔ ان دلائل میں عام سے خاص کی طرف ترقی ہے کہ ہیئت جدیدہ نے بھی معدل و منطقہ کی تساوی مانی ہے اور اس سے دورہ زمین باطل بلکہ اس سے بھی من وجہ خاص تر اتحاد مرکز مانا ہے بلکہ ان سے بھی خاص تر تنا صف بلکہ سب سے خاص تر عظام ہونا ۱۲ منہ غفرلہ ۔
دلیل ۶۷: اقول، تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے  کہ معدل ومنطقہ دائرہ شخصیہ ہے (نمبر۳۱)جتنے سماوی وارضی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن زمین دائر ہو تو ان میں کوئی شخص نہ رہے گا (دیکھو ۳۱ ، ۳۲ ) تو زمین کا دورہ باطل۔

دلیل ۶۸: اقول،تمام عقلائے عالم اور ہیئت جدیدہ کا اجماع ہے کہ بارہ برج متساوی ہیں ہر برج تیس درجے (۲۹) جتنے سماوی کرے ہیئت قدیمہ و جدیدہ میں بنتے ہیں سب اس پر شاہد ہیں لیکن منطقہ کو مدار زمین مان کر ۶ برج ۴۰۔۴۰ درجے کے ہوجائیں گے اور ۶ صرف ۲۰ ،۲۰ کے رہیں گے اس کا بیان دو مقدموں میں واضح ہے۔
مقدمہ ۱: اقول ،دو متساوی دائروں میں جب ایک دوسرے کے مرکز پر گزرا ہو واجب کہ وہ دوسرا بھی اس کے مرکز پر گزرے۔
27_29_1.jpg
ا ب ح کے اب ء کے مرکز ہ  پر گزرا ہے ضرو راس کا مرکز ر ہے جس پر اء ب گزرا ہے ورنہ اگر ط ہو تو اس کا نصف قطر ط ہ یا ح ہو تو ح نصف قطر اء ب یعنی رح کے مساوی ہو۔ بہرحال جُز و کل برابر ہوں۔
مقدمہ ۲ : اقول :  جب متساوی دائرے ایک دوسرے کے مرکز پر گزرے ہوں ان کاتقاطع تثلیث ہوگا ،یعنی ہر ایک کی قوس کہ دوسرے کے اندر پڑے گی ثلث دائرہ ہوگی اور جتنی باہر رہے گی۔
27_29_2.jpg
 دو ثلت مرکزین ہ  ، ر  نقطتین تقاطع ۱ ب تک خطوط ملائیے کہ سب نصف قطر اور ۴ مساوی قوتوں ا ہ  ،ہ ب  ،ا ر ،رب کہ اگر ۲۴۰  لاجرم ہر قوس ۶۰ درجے رہے کہ نصف قطر وتر نہیں مگر سدس درجہ کا تو ا ہ ب  ،ا ر ب ہر ایک ۱۲۰ درجے ہے اور ا ح ب ا ء ب ہر ایک ۲۴۰ درجے ہے۔ یہاں پہلا دائرہ معد ہے دوسرا منطقہ راس الحمل ب راس المیزان ء سرطان ہ جدی تو حمل سے سنبلہ تک ۶ برج کہ قوس اء ب میں ہے ۴۰۔۴۰ درجے کے ہوئے اور میزان سے حوت تک ۶ برج کہ قوس ا ہ ب میں ہیں۔ ۔۲۰ ۔ ۲۰ درجے کے اس کا قائل نہ ہوگا مگر مجنون  ،تو دورہ زمین ثمرہ جنون ،کوپرنیکس کی تقلیدسے مان بیٹھے اور آگاہ پیجھا کچھ نہ دیکھا کہ وہ تمام ہیئت کا دفتر الٹ دے گا۔
Flag Counter