Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
88 - 212
ردّچہل وششم: اقول: تیسری لکڑی کا نصف عمق سے آگے نہ بڑھنا کیوں ؟ زمین جس قوت سے اُسے کھینچ کر لائی تھی اب بھی اسی قوت سے کھینچ رہی ہے کہ ہنوز منتہٰی تک وصول نہ ہوا ملا آب کی مقاومت ردّ سیم میں باطل ہوچکی اور ہو بھی تو وہ سطح آب سے ملتے ہی تھی۔ جب جاذب واحد مقاوم واحد بلکہ اب جذب اقوٰی ہے کہ زمین سے قرب بڑھ گیا اور مقاومت کم ہے کہ ملاء آب آدھا رہ گیا تو آگے شق نہ کرنا کیا معنٰی، اگر کہئے اس کا پانی کے اندر جانا جذب زمین سے نہ تھا بلکہ اس صدمہ کا اثر جو اسکے گرنے سے پانی کو پہنچا پہلی لکڑی نے پانی کو اتنا صدمہ نہ دیا کہ اسے شق کرتی۔ دوسرے نے پورا صدمہ دیا اور تہ تک پہنچی۔ تیسری متوسط تھی متوسط رہی۔

اقول اولاً : جذب مان کرجانب اسفل حرکت کو جذب سے نہ ماننا سخت عجب ہے صدمہ اس حرکت ہی نے تو دیا کہ زمین اسے بقوت کھینچ کر لائی تھی اسی قوت نے نصف پانی شق کیا آگے کیوں تھک رہی ۔ اگر زمین میں یہیں تک لانے کی قوت تھی تو دوسری لکڑی کو کیسے تہ تک لے گئی۔

ثانیاً صدمہ کے لیے دو چیزیں درکار، شدت ثقل متصادم اور اس کی قوتِ رفتار، پتے کو کتنی ہی قوت سے زمین پر مارو یا کیسے ہی بھاری گولے کو زمین پر آہستہ سے رکھ دو صدمہ نہ دے گا لیکن اگر گولے کو قوت سے زمین پر پٹکوصدمہ پہنچائے گا اور اس میں قوتِ رفتار کو شدتِ ثقل سے زیادہ دخل ہے بندوق کی گولی جو کام دے گی اس سے دس گنا سیسا ہاتھ سے پھینک کر مارو وہ کام نہیں دے سکتا۔

صورتِ مذکور ہ میں جاذبیت کی بدنصیبی سے قوتِ رفتار و شدتِ ثقل دونوں میل طبعی کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں۔ جب اجسام اپنی ذات میں ثقل رکھتے اور اپنی قوت سے نیچے آتے ہیں اور وہ مختلف ہیں تو جس میں ثقل زائد اس میں میل زائد، اُسی کی رفتار تیز، اسی کا صدمہ قوی، اور کم میں کم،اوسط میں اوسط، اور بربنائے جاذبیت حق حقیقت لیجئے تو پہلی میں مادہ سب سے کم تو اس پر جذب سب سے زائد، تو اسی کی رفتار قوی، اور وہی زیادہ بھاری ، تو اس سے صدمہ سب سے پہلے اقوٰی پہنچا تھا اور دوسری میں مادہ سب سے زائد تو جذب سب سے کم تو رفتار سب سے ضعیف اور وزن سب سے ہلکا تو اُسی سے صدمہ نہ پہنچنا تھا اور اس فرض باطل پر سب پر اثر برابر پھر اختلافِ صدمہ یعنی چہ۔
ردّچہل و ہفتم: اقول:  تو اس تیسری لکڑی کا ڈوب کر اچھلنا کیوں؟ اس میں خود اوپر آنے کی میل نہیں(۲) ورنہ لکڑیاں اڑتی پھرتیں نہ یہ زمین کا دفع ہے کہ وہ تو جذب کررہی ہے نہ کسی  کوکب کا جذب کہ وہ ہوتا تو جب اس سے قریب اور زمین سے دور تھی اور اس وقت گرنے نہ دیتا نہ کہ اسی وقت خاموش بیٹھا رہا جب زمین کھینچ کر اسے نصف آب تک لے گئی اور جاذبیت ارض بوجہ قرب زیادہ ہوگئی اس وقت جاگا اور اپنی مغلوب جاذبیت سے اوپر لے گیا اور ایسا ہی تھا تو پہلی لکڑی اوپرکیوں نہیں اٹھالیتا۔پانی کے چیرنے سے ہوا کا چیرناآسان ہے، غرض کہ کوئی صورت نہیں سوا اس کے کہ پانی نے اسے اچھالا اور اپنے محل سے واقع کرکے اوپر لاڈالا۔ پانی نہ ہوتا تو زمین تینوں کو کھینچ کر اپنے سے ملالیتی ۔ اب سوال یہ ہے کہ پانی بھی تو زمین ہی کا جز ہے (۱۸) تو وہ بھی جاذب ہوتا نہ کہ دافع ، اگر کہئے یہ دافع صدمہ کا جواب ہے ،جسم کا قاعدہ ہے کہ دوسرا جسم جب اس سے مقاومت کرتا ہے یہ اس کو اتنی ہی طاقت سے دفع کرتا ہے جتنے زور کا صدمہ تھا۔ یہ دفع زمین میں بھی ہے۔ گیند جتنے زور سے اُس پر مارو اتنے ہی زور سے اوپر اٹھے گی۔

اقول اولاً : صدمہ کا خاتمہ اُوپر ہوچکا کہ حق حقیقت پر بالعکس ہونا تھا اور فرض باطل پہ مساوی، اور یہ کہ اس کا ماننا میل طبعی پر ایمان لانا اور جاذبیت کو رخصت کرنا ہے اور جب صدمہ نہیں جواب کا ہے کا۔

ثانیاً دوسری لکڑی نے تو اتنا صدمہ دیا کہ تہ تک شق کرگئی اتنی ہی قوت سے اسے کیوں نہ دفع کیا۔ 

ثالثاً پانی جواباً دفع چاہتا اور زمین جذب کررہی ہے، یہ پانی اس کی کیا مزاحمت کرسکتا نہ کہ اس پر غالب آجائے اُس سے چھین کر اوپر لے جائے۔

رابعاً پانی کو صدمہ تو اس وقت پہنچا جب لکڑی اس کی سطح سے ملی اُس وقت جواب کیوں نہ دیا؟ اگر کہیے  پانی لطیف ہے اس وقت تک گرنے والی لکڑی کی طاقت باقی تھی پانی شق کرتا مگر جب اس کی طاقت پوری ہوئی اس وقت پانی نے جواب دیا۔

اقول:  لکڑی کی طاقت جذبِ زمین سے ہوتی تو نصف پانی تک جا کر تھک نہ رہتی ضرور جذب نہیں بلکہ لکڑی اپنی طاقت سے آئی جو اس کی ہستی ہے پھر نصف پانی چیر سکی پھر پانی نے پلٹا دیا۔ بالجملہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں سوا اس کے کہ یہ لکڑی پہلی لکڑی سے بھاری ہے۔ اس نے اپنی متوسط قوت سے نصف آب تک مداخلت کی مگر پانی سے ہلکی ہے اور ہر بھاری چیز اسفل سے اپنا اتصال چاہتی ہے۔، اس سے ہلکی چیز اگر پہلے پہنچی ہوتی ہے اور یہ قدرت پائے تو اُسے اوپر پھینک کر خود وہاں مستقر ہوتی ہے جیسے گلاس کے تیل اور پانی کی مثال میں گزرا۔ لہذا دوسری لکڑی کو نہ پھینکا کہ وہ پانی سے بھاری تھی اسفل اسی کا محل ہے تو ثابت ہوا کہ ثقیل طالب سفل ہے ، اور اثقل طالبِ اسفل، اُسی کا نام میل طبعی ہے، تو جاذبیت باطل و مہمل، یہ دونوں باتوں سے ردجا ذبیت ہوا، ایک تو یہی ، دوسری یہ کہ ان میں خود وزن ہے جو جانبِ اسفل جھکاتا ہے، جس پر اس اختلاف کی بناء ہے پھر جاذبیت کے لیے اختصار اً قصر مسافت کیجئے تو وہی جملہ کافی ہے کہ بداہۃً معلوم کہ پہلے کا اوپر ٹھہرنا اور تیسری کا نصف آب تک جا کر پلٹنا دونوں باتیں قطعاً خلاف اصل مقتضی ہیں اور یہ نہیں مگر مزاحمت آب سے پانی نہ ہوتا تو یقیناً تینوں لکڑیاں تہ تک پہنچیں اور بلاشبہ اس سے ہزار حصے زائد پانی فصلِ زمین کا مزاحم نہ ہوسکتا تھا تو قطعاً یہ اقتضائے زمین نہیں بلکہ خود ان لکڑیوں کی مختلف قوت، تو جاذبیت باطل و مہمل اور میل طبعی مسجل ،
والحمد ﷲ العلی العظیم الاجل فضل اﷲ تعالٰی سیدنا مولینٰا محمداً واٰلہ وصحبہ وسلم وبجل اٰمین۔
دلائل قدیمہ
بفضلہ تعالٰی ردّنافریت میں وہ بارہ اور ردجاذبیت میں سینتالیس فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہیں۔ نافریت پر تو کسی کتاب میں بحث اصلاً نظر سے نہ گزری۔ 

جاذبیت پر بعض کلام دیکھا گیا وہ صرف ایک دلیل جس کی ہم توجیہ بھی کریں اور طرز بیان سے ایک کو تین کردیں۔
ردّ چہل و ہشتم : زمین میں جذب نہ ہو تو چاہیے کہ زمین کا کوئی جز اس سے جدا نہ کرسکیں کہ قوت زمین کا مقابلہ کون کرے( مفتاح الرصد)

اقول: اسی جذب کلی پر مبنی ہے کہ برتقدیر جذب وہی قرینہ عقل تھا اور ہماری تقریرات سابقہ سے واضح کہ جتنا پارہ زمین لیا جائے اس میں اتنی قوت جذب ہے جس کا انسان مقابلہ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنے مقابل کو اگرچہ ہزاروں من کا ہو بے تکلف کھینچ لے گا اور وہ پوری طاقت پر مقابل پر مصروف ہے تو نہ صرف جزو زمین بلکہ کسی پتے کا زمین سے اٹھانا ناممکن ہے قلت مادہ کے سبب وزن نہ رہے تو جذب کی قوت تو ہے تو دیکھو جس کا مقابلہ کرنا ہوگا ٹین کی ہلکی طشتری کو دو برس کا بچہ سہل سے اٹھا سکتا ہے لیکن اگر کوئی پہلوان دونوں ہاتھ سے اسے مضبوط تھامے اپنے سینے سے ملائے ہے اب بچہ کیا کمزور مرد بھی ہر گز اسے نہیں ہلاسکتا۔

ردّچہل ونہم : زمین میں جذب ہو تو اس کے اجزاء میں بھی ہو کہ طبیعت متحد ہے تو چاہیے کہ بڑے ڈھیلے کے نیچے چھوٹا ملادیں اس سے چھٹ جائے بلکہ بڑا خود ہی چھوٹے کو کھینچ لے (مفتاح الرصد) 

اقول: اس کا ظاہر جواب یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا اگر زمین اسے نہ کھینچتی۔ جذب زمین کے مقابل بڑے ڈھیلے کا جذب کیا ظاہر ہو مگر مقناطیس و کہرباء اس جواب کو قائم نہ رکھے گا۔ جذب زمین کے مقابل اس کا جذب کیسے ظاہر ہوتا ہے، یوں ہی بڑے ڈھیلے کا ظاہر ہوتا اگر اس میں جذب ہوتا لیکن وہ ہر گز جذب نہیں کرتا تو زمین بھی جذب نہیں کرتی کہ طبیعت متحد ہے۔ فافھم۔

ردپنجا ہم : زمین نافریت کرکے بچ جاتی ہے۔ یہ حقیر چیزیں تو نہ بچ سکتیں۔ اگر کہیے آفتاب ضرور ان کو جذب کرتا ہے مگر زمین بھی تو کھینچتی ہے اور یہ اس سے متصل اور آفتاب سے کروڑوں میل دور، لہذا جذب زمین غالب آتا اور آفتاب انہیں نہیں اٹھا سکتا۔ ہم کہیں گے زمین کا اپنے اجزاء کو جذب ثابت ہے دیکھو ابھی دو دلیل سابق ( مفتاح الرصد) ۔

تذییل : کلام  قدماء میں ایک اور دلیل مذکور کہ جذب (عہ۱ ) ہوتا تو چھوٹا پتھر جلدآتا ( شرح تذکرہ  بطوسی للعلامہ الخضری ) یعنی ظاہر ہے کہ جاذب کاجذب اضعف پر اقوی ہوگا تو چھوٹا پتھر جلد کھینچے حالانکہ عکس ہے اس سے ظاہر کہ وہ اپنی میل طبعی سے گرتے ہیں جو بڑے میں زائد ہیں۔

اقول: اضعف پر اقوٰی ہونا مساوی قوتو ں میں ہے اور یہاں چھوٹے کا جاذب بھی چھوٹا ہے تو اتنے ضمیمہ کی حاجت ہے کہ دونوں کی سطح مواجہہ زمین مساوی ہو۔ اب حق حقیقت پر یہ بعینہ رد چوالیس ۴۴ ہوگا۔ اور اس فرض باطل پر اتنا بھی کافی نہ ہوگا کہ چھوٹا اب بھی جلد نہ آئے گا بلکہ برابر، کمامر، اب یہ صورت لینی ہوگی کہ بڑا ارتفاع ہیں ہزار گنا اور سطح مواجہہ میں مثلاً آدھا ہے۔ اب یہ اعتراض پورا ہوگا کہ چھوٹے کا جاذب ہے۔ فرض کرو بڑے میں دس حصے مادہ ہے اور چھوٹے میں ایک حصہ، اگر سطح مواجہہ برابر ہوتی دونوں دس دس سیر وزن ہوتا جس کی تقریر گزری، لیکن چھوٹے کی سطح مواجہہ دو چند ہے تو بڑے میں دس سیر وزن ہوگا اور چھوٹے میں بیس سیر، لہذا اسی کا جلد آنا لازم، حالانکہ قطعاً اس کا نصف ہے تو جاذبیت باطل و جزاف ہے اور میل طبعی کا میدان ہموار صاف ہے، واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
عہ۱:  یہ نو ٹ الرضا نمبر سے لکھا جائے جس میں ایک نواب صاحب سے مکالمہ ہے الرضا کا یہ مقالہ مل نہ سکا۔ عبدالنعیم عزیزی۔
Flag Counter