| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
رَدّ چہل و چہارم : اقول: واجب کہ وہ کاغذ کا تختہ اُس ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سِل سے بہت جلد اترے کہ جتنا مادہ کم اتنا ہی جذب زائد اتنا ہی جھکنا زائد ، اور جتنا جھکنا زائد اُتنا ہی اترنا جلد حالانکہ قطعاً اس کا عکس ہے تو واضح ہوا کہ اترنا جذب سے نہیں بلکہ ان کی اپنی طاقت سے جس میں مادہ زائد میل زائد تو جھکنا زائد تو اترنا جلد، رہا مزاحمت ہوا کا عذر (۱۲) اقول اولاً ابھی ہم ثابت کرچکے کہ ہوا میں اصلاً تابِ مزاحمت نہیں۔ ثانیاً بالفرض ہو تو وہ باعتبار سطح مقابل ہوگی جس کا ہیأت ( عہ۱) جدیدہ کو اعتراف ہے اور سطح مقابل مساوی دونوں پر مزاحمتِ ہوا یکساں اور کاغذ پر جذب اُس سل سے ہزاروں حصے زائد تو اس کا جلد اترنا واجب، اگر کہیے جذب سے وزن بحسبِ مادہ پیدا ہوتا ہے جس میں جتنا مادہ زائد اُسی قدر اس میں وزن زیادہ پیدا ہوگا اُسی قدر زیادہ جھکے گا کہ وزن موجبِ تسفل ہوگا۔ یہاں سے نمبر۴۲ تا ۴۴ کا جواب ہوگیا۔
عہ۱: ط ص ۱۲ ۔ ہوا اجسام کواترتے وقت موافق انداز سے ان کی مقدار کامقابلہ کرتی ہے نہ کہ موافق ان کے وزن کے مزاحمت ایک قد کی گیند چمڑے کی یا لوہے کی ہوبرابر ہوگی ۔اھ۱۲۔
اقول: یہ محض ہوس خام ہے، اولاً کہ وزن جذب سے پیدا ہوگا اس کی خفیف نہیں ،مگر جھکنا،کہ بلاواسطہ جذب کا اثر ہے، نہ یہ کہ جذب مادہ میں کوئی صفت جدید پیدا کرے جس کا نام وزن ہواور حسب مادہ پیدا ہو اور اب وہ صفت جھکنے کا اقتضا کرے، وہاں صرف چار چیزیں ہیں مادہ اور اس کے ماسکہ اور اس کے موافق مزاحمت اور چوتھی چیز مطاوعت یعنی اثر جذب سے متاثر ہو کر جھکنا۔ پہلی تین چیزیں جذب سے نہیں صرف یہ چہارم اثر جذب ہے اور بلاشبہ خود جذب ہی کا اثر ہے، نہ کہ جذب نے تو نہ جھکایا۔ بلکہ اس سے کوئی اور پانچویں چیز پیدا ہوئی وہ جھکنے کی مقتدی ہوئی ایسا ہوتا اور وہ پانچویں جسے اب وزن کہتے ہو اثر جذب سے بحسبِ مادہ پیدا ہوتی تو یہاں دو سلسلے قائم ہوتے۔ اوّل جتنا مادّہ زائد ماسکہ زائد تو مقاومت زائد تو اثر جذب کم ان میں کوئی جملہ ایسا نہیں جس میں کسی عاقل کو تامل ہوسکے، اور اب یہ ٹھہرا جتنا مادہ زائد وزن زائد تو جھکنا زائد۔ دوم جتنا مادہ کم ماسکہ کم تو مقاومت کم تو اثر جذب زائداور اب یہ ہوا کہ جتنا مادہ کم وزن کم تو جھکناکم۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا مادہ زائد اثر جذب کم اور جھکنا زیادہ اور جتنامادہ کم اثر جذب زائد اور جھکنا کم۔تو جھکنا اثر ِ جذب کا مخالف ہوا کہ اس کے گھٹنی سے بڑھتا اور بڑھنے سے گھٹتا ہے۔ کوئی عاقل اسے قبول کرسکتا ہے، اثر جذب جھکنے کے سوا اور کس جانور کا نام تھا اس کا اثر شیئ کو اپنی طرف لانا اور قریب کرنا ہے تو زیادت قرب اس کی زیادت ہے۔، اور کمی کمی اور جب مجذوب اوپر ہو تو قُرب نہ ہوگا مگر جھکنے سے تو زیادہ جھکنا ہی اس کی زیادت ہے۔ اور کم جھکنا بھی اس کی کمی نہ کہ عکس کہ بداہۃً باطل ہے۔ ثانیاً بفرض غلط ایسی بدیہی بات باطل مان لی جائے تو اب بھی ان تینوں نمبروں سے رہائی نہیں، اب نمبر ۴۲ کی یہ تقریر ہوگی کہ کاغذ کا تختہ اور وہ دس ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سل، (تول کانٹے کی) ہموزن ہوں۔ اقول: وجہ یہ کہ جذب اختلاف مادہ مجذوب سے بالقلب بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد جذب کم، کما تقدم، اور وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۵) اور مادہ جسم سے بالا ستقامت بدلے گا یعنی جتنا مادہ زائد وزن زائد، جذب وزن کا سبب ہے۔ سبب جتنا ضعیف ہوگا مسبب کم اور مادہ وزن کا محل ہے۔ محل جتنا وسیع ہوگا حال زیادہ ۔ تو بحال اتحاد جاذب پر دو جسم میں وزن برابر رہے گا اگرچہ مادے کتنے ہی مختلف ہوں۔ لوہے کی سِل میں بتقاضائے کثرت مادّہ جتنا وزن بڑھنا چاہیے بتقاضائے ضعف جذب اتنا ہی گھٹنا لازم اور کاغذ کے تختے میں بوجہ قلت مادہ جتنا وزن گھٹنا چاہیے بوجہ قوتِ جذب اتنا ہی بڑھنا لازم ہے کہ یہ ضعف وقوت اور وہ کثرت و قلت دونوں بحسب مادہ ہیں۔ اسے دو رنگتوں سے سمجھو کہ ایک دوسرے سے دس گناہ گہری ہے گہری میں ایک گز کپڑا ڈبویا اس پر دس گنا رنگ آیا ہلکی میں دس گز کپڑا ڈالا اس پر گہرا رنگ آیا لیکن ہر گز پر ایک حصہ ہے۔ تو مجموع پر دس حصے ہوا کہ اول کے برابر ہے۔ یونہی فرض کرو ایک حصہ جذب سے ایک حصہ مادہ میں ایک اس پر وزن پیدا ہوتا ہے تو دس حصے جذب سے ایک حصہ مادہ میں دس سیرہوگا اور ایک حصہ جذب سے اور دس حصے مادہ میں بھی دس سیر کہ حصہ جذب سے ہر حصہ مادہ میں ایک سیر ہے تو ایک حصہ مادہ میں دس جذب اور دس حصے مادہ میں ایک جذب سے حاصل دونوں میں دس سیر وزن ہوگا اور نمبر ۴۳ میں یہ کہا جائے گا کہ جس آسانی سے کاغذ کے تختے کو زمین سے اٹھالیتے ہو اس ہزاروں گز ارتفاع والی آہنی سِل کو بھی اسی آسانی سے اٹھا سکو جس طرح وہ سِل ہزار آدمیوں سے ہل بھی نہیں سکتی کاغذ کاتختہ بھی جنبش نہ کھاسکے گا۔ کہ دونوں کا وزن برابر ہے اور نمبر ۴۴ میں یہ کہ کاغذ اور وہ آہنی سل دونوں برابر اتریں اور لوازم سب باطل ہیں۔ لہذا جاذبیت باطل، غرض یہاں دو نظریے ہوئے ایک حقیقت بربنائے جاذبیت کہ جسم میں جتنامادہ زائد اتنا ہی وزن کم۔ دوسرے اس باطل کے فرض پر یہ کہ جب جاذب مساوی ہوں تو سب چھوٹے بڑے اجسام ہموزن ہوں گے اور دونوں صریح باطل ہیں تو جاذبیت باطل،
رَدچہل و پنجم: اقول: مساوی سطح کی تین لکڑیاں بلندی سے تالاب میں گرتی ہیں، ایک روئے آب پررہ جاتی ہے۔ دوسری جیسے عود غرقی تہ نشین ہوتی ہے۔تیسری پانی کے نصف عمق تک ڈوب کر پھر اوپر آتی اور تیرتی رہتی ہے۔یہ اختلاف کیوں؟ ا س کاجواب کچھ نہ ہوگا، مگر یہ کہ ان کے مادوں کا اختلاف جس میں مادّہ سب سے زائد تھا تہ نشین ہوئی، جس میں سب سے کم تھا روئے آب پر رہی، اور متوسط متوسط، مگر بربنائے جاذبیت اس جواب کی طرف راہ نہیں، حق خفیف پر تو عکس لازم تھا کہ جس میں مادہ زائد اس پر جذب کم اور اسی کا وزن کم تو اس کو روئے آب پر رہنا چاہیے تھا اور جس میں مادہ سب سے کم اس کا تہ نشین ہونا اور اس فرض باطل پر کہا جائے گاکہ مختلف مادوں پر مساوی جذب مساوی پیداکرے گا پھر اختلاف کیوں؟