| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
ہم نمبر ۔۱۰ و ۱۱ میں روشن کر آئے کہ جاذبِ طبعی پر مجذوب کو اپنی پوری قوت سے جذب کرتا ہے اور یہ کہ قوت غیر شاعرہ کا جذب بحسب زیادت کافی کہ مجذوب زائد ہونا محض جہالت سفسطہ ہے اور ہیأت جدیدہ کے نزدیک ہر جسم میں اس کے مادے کے لائق ماسکہ ہے جس کو حرکت سے ابا ہے وہ اسی قدر محرک کی مزاحمت کرتا ہے۔ دلائل آئندہ کی انہیں روشن مقدمات پر بنا ہے اور وہیں ان کی آسانی کو تسلیم کرلیا ہے کہ ہر شیئ کو کُل کُرہ جاذب نہیں بلکہ مرکز تک اُس کا جتنا حصّہ سطح مجذوب کے مقابل ہو کہ ساری زمین اپنی پوری قوت سے ہر شے کو جذب کرے تو اُن پر اور بھی مشکل ہو، ولہذا التساوی قوت جذب کے لیے مجذوبات کی سطح مواجہ زمین کی مساوات لی۔
ردّسی وہفتم : اقول: بداہۃً معلوم اور ہیأتِ جدیدہ کو بھی اقرار کہ ہوا اور پانی اُن میں اُترنے والی چیزوں کی ان کے لائق مزاحمت کرتے ہیں، پَر اور کاغذ کی زائد اورلوہے اور پتھر کی کم۔ یہ دلیل قاطع ہے کہ ان کا اترنا اپنا فعل ہے یعنی میل طبعی سے نہ فعل زمین کے اس کے جذب سے، اس لیے کسی فعل میں مزاحمت جس پر فعل ہورہا ہے اس کی مخالفت نہیں، بلکہ جو فعل کررہا ہے اس کے مقابلہ ہے۔ اب چار صورتیں ہیں۔ مزاحم اگرفاعل سے قوی ہو اور فعل خلاف چاہے فعل واقع کرے گا اور صرف روک چاہے یا فاعل سے قوت میں مساوی ہوا تو فعل ہونے نہ دے گا اور خفیف ہوا مگر معتدبہ تو دیر لگائے گا یعنی فعل تو حسب خواہش فاعل ہو مگر بدیر، اور معتدبہ کو اصلاً اثر مزاحمت ظاہر نہ ہوگا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ زمین سے گزبھر اونچی ہوا آدھا گز بلکہ انگل بھر ہی اونچا پانی اجسام کی مزاحمت کرتے ہیں۔ کہاں ان کی ہستی اور کہاں ان کے مقابل چار ہزار میل تک زمین جس کا ایک ٹکڑا کہ ان کے برابر کا ہو ان سے کثافت وطاقت میں درجوں زائد ہے نہ کہ وہ پورا حصہ، یقیناً یہ اس کے سامنے محض کالعدم ہیں۔ ہرگز اس کے فعل میں نام کو مزاحم نہیں ہوسکتے۔تو روشن ہوا کہ اجسام کا اترنا زمین کا فعل نہیں بلکہ خود اُن کا جن کی نسبت سے ہوا اور پانی چاروں قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ردّسی و ہشتم : اقول: مقناطیس کی ذرا سی بٹیا اور کہر باء کا چھوٹا سا دانہ لوہے اورتنکے کو کھینچ لیتے ہیں اگر جذب زمین ہوتی تو ان سے مقابل چار ہزار میل پر جو حصہ زمین ہے یہ خود ان جاذبوں کو اور ان سے ہزاروں حصے زائد کو یہ نہایت آسانی سے کھینچ لے جائے۔ اس کے سامنے ان کی کیا حقیقت تھی کہ یہ اس سے چھین کر اپنے سے ملالیتے۔ لاجرم قطعاً یہ زمین سے اتصال لوہے اور تنکے کا اپنا فعل تھا جس پر مقناطیس وکہرباء کی قوت غالب آگئی۔
ردّ سی و نہم : اقول: پکا سیب ٹپک پڑتا ہے ، اور کچا اگرچہ حجم میں اس سے زائد ہو نہیں گرتا اور شک نہیں کہ لوہے کا ستون جس کی سطح مواجہ اس سیب کے برابر ہو اگرچہ دس ہزار من کا ہو، زمین اُسے کھینچ لے گی، یہاں جس طاقت سے دس ہزار من لوہے کا ستون باآسانی کھنچ آئے گا۔ کچے سیب کا شاخ سے تعلق نہ چھوٹ سکے گا تو واجب کہ کچے پکے پھل سب یکساں ٹوٹ پڑیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا تو یقیناً جذبِ زمین باطل، بلکہ سب اپنے میل سے آتا ہے۔ پکے کا میل اس کے ضعیف تعلق پر غالب آیا ٹوٹ پڑاکچے کا اس کے قوی تعلق پر غالب نہ آسکا آویزاں رہا۔ ردّچہلم : اقول: آدمی کے پاؤں کی اتنی سطح ہے اس مسافت کا ستون آہنی دس ہزار گزارتقاع کا آدمی کیا۔ ہاتھی کی قوت سے بھی نہ ہل سکے گا اور بوجہ مساوات سطح مواجہ آدمی پر بھی جذب زمین اتنا ہی قوی ہے تو واجب کہ انسان کو قدم اٹھانا محال ہو دوڑنا تو بڑی بات ہے۔ یونہی ہر جانور کا چلنا، پرندکا اڑنا سب ناممکن ہوا لیکن واقع ہیں تو جذب باطل۔
رَدّ چہل ویکم: پانی اور تیل ہم وزن لے کر گلاس میں تیل ڈالو اوپر سے پانی کی دھار، پانی نیچے آجائے گا خود ہی ہیئات جدیدہ ( ط ص ۱۱۴۔۱۲) کو مسلم کہ اس کی وجہ پانی کا وزن ہونا ہے۔ یہ کلمہ حق ہے کہ بے سمجھے کہہ دیا اور جاذبیت کا خاتمہ کرلیا ، بربنائے جاذبیت ہر گز یہ پانی تیل سے وزنی نہیں۔ وزن جذب سے ہوتا ہے تو وزن جس پر جذب زیادہ ہو وہ اس پانی پر کم ہے کہ ایک کو وہ نسبت روغن زمین سے دور جسے تم نے نمبر ۱۶ میں کہا تھا کہ ادھر کا پانی اگرچہ زمین سے متصل ہے نسبت زمین قمر سے دور ہے دوسری دھار کی مساحت اس گلاس میں پھیلے ہوئے تیل سے کم تو اس کا جاذب چھوٹا کثرت مادہ سے وزنی بتاتے اس کا علاج ہموزن لینے نے کردیا۔ بلکہ وہ پورا پانی پڑنے سے بھی نہ پائے گا تو تیل کو اچھال دے گا تو ہر طرح پانی ہی کم وزنی ہے۔ اور تیل پہلے پہنچا تو اس پر واجب تا کہ پانی اوپر ہی رہتا۔ مگر جاذبیت ابطال کو نیچے ہی جاتا ہے۔ اب کوئی سبیل نہ رہی کہ سوا اس کے کہ اپنے مزعوم نمبر ۸ یعنی اتحاد ثقل ووزن کو استعفٰے دو اور کہو کہ اگرچہ پانی ہم وزن بلکہ کم وزن ہو ثقل طبعی میں تیل سے زائد ہے۔ لہذا اس سے اسفل کا طالب ہے اور اسے اعلٰی کی طرف دافع، اب ٹھکانے سے آگئے اور ثابت ہوا کہ جاذب باطل و مہمل اور میل طبعی مسجّل۔ ردّچہل و دوم : اقول: جذب زمین ہو تو واجب کہ جسم میں جتنا مادہ کم ہو اسی قدر روزن زائد ہو اور جتنا زائد اسی قدر کم مثلاً گز بھر مربع کا غذ کے تختے سے گز بھر مکعب لوہے کی سل بہت ہلکی ہو اور وہ سل جس کی سطح مواجہ ایک گز مربع اور ارتفاع سو گز ہے اور زیادہ خفیف ہو اور جتنا ارتفاع زائد اور لوہا کثیر ہوتا جائے اتنا ہی وزن ہلکا ہوتا جائے یہاں تک کہ کاغذ کا تختہ اگر تولہ بھرکا تھا تو وہ عظیم لوہے کی سل رتی بھر بھی نہ ہو نہ رتی کا ہزاروں لاکھوں حصہ ہو، وجہ سنئے جسم میں جتنا مادہ زیادہ ماسکہ زیادہ اور جتنی ماسکہ زیادہ جاذب کی مزاحمت زیادہ اور جتنی مزاحمت زیادہ اتنا ہی جذب کم اتنا ہی وزن کم کہ وزن تو جذب ہی سے پیدا ہوتا ہے جو کم کھینچے گا کم جھکے گا اور کم جھکنا ہی وزن میں کمی ہونا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جتنا مادہ زیادہ اتنا ہی وزن کم۔ بالجملہ ہر عاقل جانتا ہے کہ قوی پر اثر ضعیف ہوتا ہے اور ضعیف پر قوی جب دو چیزوں کے جاذب مساوی ہوں ان کی قوتیں مادی ہوں گی اور مساوی قوتوں کا اثر اختلاف مادہ مجذوب سے بالقلب بدلے گا یعنی مجذوب میں جتنا مادہ زائد اتنا اس پر جذب کم ہوگا لاجرم اتنا ہی وزن کم ہوگا اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ درکار ہے، بقیہ کلام ردّ چوالیس میں آتا ہے۔ ردّچہل وسوم : اقول: جذب جس طرح اوپر سے نیچے لانے کا سبب ہوتا ہے، نیچے سے اوپر اٹھانے کا مزاحم ہوتا ہے کہ جاذب کے خلاف پر حرکت دینا ہے۔ پہلوان اور لڑکے کی مثال ردّ اڑتالیس میں آتی ہے اور ثابت ہوچکا کہ جتنا مادہ کم اتنا ہی جذب قوی تو واجب کہ ہزار گز ارتفاع والی لوہے کی سِل ایک چٹکی سے اٹھ آئے، جیسے کاغذ کا تختہ، اور کاغذ کا تختہ سو پہلوانوں کے ہلائے نہ ہلے۔ جیسے وہ لوہے کی سِل غرض جاذبیت سلامت ہے تو زمین و آسمان تہ و بالا ہو کر رہیں گے، تمام نظامِ عالم منقلب ہوجائے گا۔