| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
رَدِّ بست و دوم : اقول: دونوں ہیأتوں کے اتفاق سے اعتدالین کی مغرب کو حرکت منتظمہ ہے اور ہم نمبر ۲۲ میں دلائل قاطعہ سے روشن کرچکے کہ وہ جاذبیت سے بن سکنا درکنار جاذبیت ہو تو ہر گز منتظمہ نہ رہے گی۔ رَدِّ بست وسوم : اقول: میل کلی ہر سال منتظم روش پر رُوبکمی ہے اسے بھی جاذبیت مختل کردے گی۔(۲۳) رَدِّبست و چہارم : اقول: جاذبیت ہو تو زمین کے چھلوں کا نظام مختل ہوجائے اور ہر سال قطبین پر زمین زیادہ خالی ہوتی جائے۔ رَدّ بست وپنجم : اقول: تقاطع اعتدالین کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر اونچا ہوجائے ۔
ردّبست و ششم : اقول: ہر سال قطر استوائی بڑھے۔ ردبست و ہفتم : اقول : زمین کی یہ شکل ہوجائے
یہ سب مطالب نمبر ۲۲ میں واضح ہوئے۔
دلائل نیوٹن ساز جاذبیت گداز :
ردّبست وہشتم : جب ترک اجسام اجزائے ثقیلہ بالطبع سے ہے اور اس کی تصریح خود نیوٹن ساز نے کی (۸) تو قطعاً جسم ثقیل بلاجذب جاذب خود اپنی ذات میں ثقیل ہے اور ثقیل نہیں مگر وہ کہ جانب ثقل جھکنا چاہے دو چیزوں میں جو زیادہ جھکے اسے دوسری سے ثقیل تر کہیں گے ۔ تو ثابت ہوا کہ یہ اجسام بذات خود بے جذب جاذب ثقل ہے۔ اس سے زیادہ میل طبعی کا ثبوت اور جاذبیت کا بطلان کیا درکار ہے جس کا خود مخترع جاذبیت نیوٹن کو اقرار ہے۔ ردّبست و نہم : اقول: ظاہر ہے کہ جذبِ زمین اگر ہو تو وہ نہیں مگر ایک تحریک قسری اور ہر جسم میں قوتِ ماسکہ ہے جسے حرکت سے ابا ہے اور اس کا منشا جسم کا ثقل وزن ہے ۔(نمبر۳) تو زمین جسے جذب کرے گی اس کا وزن جذب کی مقاومت کرے گا تو ضرور وزن ذات جسم میں ہے اور وزن ہی وہ شے ہے جس سے پلڑا جھکتا ہے تو میل ثقل طبیعت کا مقتضٰی ہے تو جذب لغو و بے معنی ہے، و بعبارۃ اخری بداہۃً معلوم کہ اجسام اپنے جذب کو مختلف قوت چاہتے ہیں، پہاڑ اس قوت سے نہیں کھینچ سکتا جس سے رائی کا دانہ، یہ اختلاف ان کی ثقل کا ہے جسم جتنا بھاری ہے اس کے جذب کو اتنی ہی قوت درکار ہے۔(۱۱) کہ ثقل خود جسم میں ہے قوتِ جذب سے پیدا نہیں بلکہ قوتِ جذب کا اختلاف اس پر متفرع ہے ، یہی میل طبعی ہے۔
دلائل بربنائے اتحاد و اثر جذب
نمبر ۱۲ میں گزرا کہ چھوٹے بڑے ، ہلکے بھاری تمام اقسام اجسام پر اثر جذب یکساں ہے، اگر موافقت ہوا نہ ہوتی تو سب جسم ایک ہی رفتار سے اُترتے اور ہیت جدیدہ کو اس پر اتنا وثوق ہے کہ اسے مشاہدہ سے ثابت بتاتی ہے۔ مشاہدہ سے زیادہ اور کیا چاہیے۔ یہ دلائل اسی نمبر کی بناء پر ہیں۔
رَدِّ سیم : اقول: اجسام کا نیچے آنا جذب سے ہوا اور اس کا اثر سب پر یکساں ہو، اور وزن اسی سے پیدا ہوتا ہے ۔(۱۵) تو لازم ہے کہ تمام اجسام کا وزن برابر ہو، رائی اور پہاڑ ہم وزن ہوں کانٹے، ترازو ، باٹ سب آلاتِ وزن چھوٹے ہوجائیں، بازاروں کا نظام درہم برہم ہوجائے اگر کہیے وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے اور جذب بحسب مادہ مجذوب ہے۔(۱۱) تو جس میں مادہ زیادہ اس پر جذب زیادہ اور جس پر جذب زیادہ اس کا وزن زیادہ ۔
اقول: اولاً : ۱۱ ۔ مردود محض ہے کما تقدم۔ ثانیاً واھی وزنوں سے کام نہیں چلتا۔ وزن زیادہ ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ نیچے زیادہ جھکے جو زیادہ نہ جھکے جسم میں کتنا ہی بڑا ہو وزن میں زیادہ نہیں ہوسکتا، جیسے لوہے کا پنسیر اور پان سیررُوئی کے گالے، اور زیادہ جھکنا تیزی رفتار کو مستلزم ۔ ظاہر ہے کہ مثلاً دس گز مسافت سے نیچے اترنے والی دو چیزوں میں جو زیادہ جھکے گی اس مسافت کو زیادہ طے کرے گی کہ یہ مسافت جھکنے ہی سے قطع ہوتی ہے۔ جس کا جھکنا زیادہ اس کا قطع زیادہ، تو اسی کی رفتار زیادہ اور ہیئت جدیدہ کہہ چکی کہ جذب پر چھوٹے بڑے ہلکے بھاری میں مساوی رفتار پیدا کرتا ہے کہ خارج سے روک نہ ہو تو باقتضائے جذب سب برابر اتریں تو جذب سب کو یکساں جھکاتا ہے، اور یہی حامل وزن تھا روشن ہوا کہ جذب سب میں یکساں وزن پیدا کرتا ہے اور وزن نہیں مگر جذب سے، تو قطعاً تمام اجسام رائی اور پہاڑ ہم وزن ہوئے اس سے بڑھ کر اور کیا سفسطہ ہے، لاجرم جذب باطل بلکہ اجسام میں خود وزن ہے اور وہ اپنے میل سے آتے ہیں، جو بڑے ہیں چھوٹے سے زائد، لہذا اس کی رفتار زائد۔
رَدّ سی ویکم : اقول: ہر عاقل جانتا ہے کہ نیچے اترنے والے جسم کا ہوا کو زیادہ چیرنا زیادہ جھکنے کی بناء پر ہوگا، اگر اصلاً نہ جھکے اصلاً نہ چیرے گا کہ جھکے کم شق کرے گا زیادہ تو زیادہ لیکن ثابت ہوچکا کہ جذب سب اجسام کو برابر جھکاتا ہے تو سب ہوا کو برابر شق کریں گے پھر ہوا سے اختلاف کرنا دھوکا ہے تو واجب کہ رائی اور پہاڑ ایک ہی چال سے اتریں، اور یہ جنون ہے، ہلکا بھاری کہنا محض مغالطہ ہے، بھاری وہ زیادہ جھکے ، جب کوئی آپ نہیں جھکتا سب کو جذب جھکاتا ہے او ر وہ سب کو برابر جھکاتا ہے ، تو نہ کوئی ہلکا ہے کہ ہوا پر کم دباؤ ڈالے نہ بھاری کہ زیادہ۔ رَدّ سی ودوم : ہر عاقل جانتا ہے کہ مزاحمت طلب خلاف سے ہوتی ہے جو چیز نیچے جھکنا چاہے اور تم اسے اوپر اٹھاؤ کہ مزاحمت کرے گی اور جو جتنا زیادہ جھکے گی زیادہ مزاحم ہوگی۔ اور دو چیزیں کہ برابر جھکیں مزاحمت میں بھی برابر ہوں گی کہ مخالف مساوی ہے اور ابھی ثابت ہوچکا کہ نیچے جھکنے میں تمام اجسام برابر ہیں تو کسی میں دوسرے سے زائد مزاحمت نہیں تو جس طاقت سے تم ایک پنیسرا اٹھا لیتے ہو اسی خفیف رازسے پہاڑ کیوں نہ اٹھالو، اور اگر پہاڑ نہیں اٹھتا تو کنکری کیسے اٹھا لیتے ہو؟ اس پر بھی تو جذب زمین کا ویسا ہی اثر ہے جیسا پہاڑ پر، یہاں تو ہوا کی روک کا بھی کوئی جھگڑا نہیں اور وزن کی گند اوپر کٹ چکی کہ اس میں وزن کے سوا کچھ باقی نہیں۔ ردّسی وسوم : اقول: گلاس میں تیل ، ہوا اور پانی ڈالو۔ تیل کیوں اوپر آتا ہے اور جذب کا اثر تو دونوں پر ایک سا ہے اگر دھارکے صدمہ سے ایسا ہوتا ہے تو پانی پر تیل ڈالنے سے پانی کیوں نہیں اوپر آجاتا۔ رَدّسی و چہارم : اقول: کنکری ڈوبتی ہے، لکڑی تیرتی ہے، یہ کس لیے ؟اثر تو یکساں ہے۔ رَدّ سی وپنجم : اقول: اب بخارجاذبیت سے بخار نکالے گا اور دھواں اس کے دھوئیں بکھیر ے گا یہ اوپر کیوں اٹھتے ہیں، ہوا انہیں دباتی ہے یہ ہوا کو کیوں نہیں دباتے ، اثر تو سب پر برابر ہے، واجب کہ بخار و دخان زمین سے لپٹے رہیں بال بھر نہ اٹھیں۔
ردّسی و ششم : اقول: پہاڑ گرے تو دور تک زمین کو توڑتا اس کے اندر گھس جائے گا۔ یہ پہاڑ کی نہ اپنی طاقت ہے کہ اس میں میل نہیں نہ اپنا وزن کہ وزن تو جذب سے ہوا، جذب کا اثر جیسا اس پر ویسا ہی تم پر ، تم اوپر سے گر کر زمین میں کیوں نہیں دھنس جاتے۔ اگر کہے اس کا سبب صدمہ ہے کہ پہاڑ سے زیادہ پہنچتا ہے۔ اقول: صدمہ کو دو چیزیں درکار، شدتِ ثقل وقوتِ رفتار، اثر جذب کی مساوات دونوں کو اس میں برابر کرچکی کما عرفت ( جیسا کہ تُو جان چکا ہے۔ت) پھر تفاوت کیا معنی ! بالجملہ ہزاروں استحالے ہیں۔ یہ ہیں تحقیقاتِ جدیدہ اور ان کے مشاہدات چشم دیدہ،
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔