Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
84 - 212
رَدِّہیزدہم : اقول:  شے واحد پر بعد واحد سے جاذب واحد کا جذب مختلف ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

تنبیہ : بعد (۱۱) تھرمامیٹر کا پارہ ہوائے معتدل میں ایک جگہ پر قائم ہے اس پر جذب زمین کی ایک مقدار معین محدود ہے جو ان کے مادوں اور اس کے بعد معین کا تقاضا ہے اب اگر ہوا گرم ہوئی پارہ اوپر چڑھے گا کیا جذب زمین کم پڑے گا۔ کیوں کم ہوا۔ اس وقت بھی تو زمین و زیبق انہیں مادوں پر تھی وہی بعد تھا۔ گرمی نے زمین یا پارے میں سے کچھ کترنہ لیا یہاں آکر پارہ ٹھہرے گا جب تک اسی گرمی پر ہے، اب ہوا سرد پڑی پارہ نیچے اُترے گا اور خطِ اعتدال پر بھی نہ ٹھہرے گا۔ کیا جذبِ زمین بڑھے گا۔ کیوں، اب بھی تو ارض و سیماب کے وہی مادے وہی بعد تھا سردی نے زمین یا پارے میں کوئی پیوند جوڑ نہ دیا، یہ اختلاف ہوا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا کہ پارہ ہوا سے ہمیشہ اثقل ہے۔گرمی ہوا نے اگر اس میں کچھ خفت پیدا کی تو اس سے پہلے ہوا میں اس سے زیادہ پیدا ہوچکی بلکہ لطافت وکثافت ہوا کا عکس ہے۔ لاجرم جذب غلط ہے بلکہ برودت موجب ثقل ہے، اور ثقل طالبِ سفل اور حرارت موجبِ خفت ہے ، اور خفت طالبِ علو۔

رَدِّ نوز دہم : اقول:  بخارات پیدا ہوتے ہی اوپر جاتے ہیں ان کا مرکب اجزائے مائیہ وہوائیہ سے ہے اور ان کے نزدیک ہوا بھی ثقیل ہے۔(نمبر۱۸) اور پانی اثقل کہ ہوا سے سات ( عہ۱) سو ستر یا آٹھ سو ( عہ۲) گنا یا آٹھ ( عہ۳) سو انیس مثل بھاری ہے اور ظاہر ہے کہ جو ثقیل و اثقل سے ایسا (عہ۴) مرکب ہو وہ اس ثقیل سے اثقل ہوگا تو بخار ہوا سے بھاری ہے تو یہاں وہ عذر نہیں چلتا جو پانی کے تیل کو پھینکنے میں ہوتا کہ بھاری چیز ہلکی کوپھینکتی ہے کہ ہلکی بھاری کو، پھر ان کے جانے کی کیا وجہ ہے، زمین اگر انہیں جذب کرتی تو کوئی چیز انہیں زمین سے چھین کر اوپر لے جاتی، کیا کوئی سیارہ تو شب کا وہ وقت لیجئے کہ کوئی سیارہ نصف النہار بلکہ افق پر اصلاً نہ ہو جیسے وہ زمانہ کہ سیّارات و قمر نور سے سنبلہ تک ہوں اور طالع راس الحمل یا ثوابت تو مہاسنکھوں میل دور سے اجزائے زمین کو خاص اس کی گود سے اچک لیتے، تو چاہیے کہ تمام دنیا کے ریگستانوں میں ریت کا ٹیلہ نہ رہا ہوتا سب کو ثوابت اڑالے گئے ہوتے زمین کہ ان کو جذب کررہی ہے محال ہے کہ وہی دفع کرتی کہ دو ضدین مقتضائے طبع نہیں ہوسکتیں، تو ثابت ہوا کہ جذبِ زمین غلط ہے بلکہ ہوا خفیف ہے اور انمیں جو اجزائے ہوائیہ میں گرمی کے سبب اور لطیف ہوگئے اور اجزائے مائیہ کہ ان میں محبوس ہیں ان میں بوجہ حرارت خفت آگئی جوش دینے میں پانی کے اجزا اوپر اٹھتے ہیں لہذا اجزائے ہوائیہ انہیں اڑا لے گئے کہ حقیقت طالب علو ہے تو بالضرورۃ ثقیل طالب سفل ہے کہ الضد بالضد یہی میل طبعی ہے تو جاذبیت مہمل ، یہ اسی دلیل میں دوسری وجہ سے ردجاذبیت ہوا، اگر کہیے اس حقیقت نے ہمیں کیوں نہ فائدہ دیا۔ حرارت نے اجزائے آب و ہوا کو ہلکاکیا لہذا ان پر جذب کم ہوا اور برابر کی ہوا نے جس جذب زائد سے ان کو اوپر پھینکا جیسے پانی نے تیل کو۔
عہ۱:  تعریبات شافیہ جزثانی ص ۴۰،۱۲     

 عہ۲: ط ص ۱۳۴۔۱۲       

عہ۳: ح ص ۲۱۰۔۱۲ 

عہ۴:  یعنی جس میں مزاج و استحکام ترکیب نہیں ورنہ نسبت اجزاء کا تحفظ ضرور نہ رہے گا جیسے سوناکہ زیبق وکبریت سے مرکب ہے۱۲ منہ غفرلہ
اقول: اولاً کیا بخار اسی وقت اٹھتا ہے جب مثلاً پانی جہاں گرم ہوا تھا وہاں سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ لے جاؤ جہاں کہ ہوا کو اثر گرمی نہ پہنچا حاشا بلکہ وہ پیدا ہوتے ہی معاً اٹھتا وہ حرارت کہ اس ہوا کو گرم کرے گی اس کے برابر والی کو گرم نہ کرے گی خصوصاً تیزیِ شمس کے پانی سے بخار اٹھنا کہ آفتاب نے قطعی برابر والی کو بھی اتنا ہی گرم کیا جتنا اسے پھر اس میں اجزائے مائیہ ہونے سے وزن زائد،

ثانیاً بالکل الٹی کہی تمہارے نزدیک تو جتنا جذب کم اتنا وزن کم (نمبر۱۵) تو خفت قلتِ جذب سے ہوتی ہے نہ کہ قلتِ جذب خفت سے۔

ثالثاً وہی جو اوپر گزرا کہ مادہ بدستور بعد بدستور، پھر حرارت سے جذب میں کیوں فتور، کیا سبب ہوا کو گرمی نے ہلکا کردیا۔ اگر کہیے کہ حرارت بالطبع طالبِ علو ہے ، ولہذا نارو ہوا اوپر جاتی ہیں اور برودت بالطبع طالب سفل ہے ولہذا آب و خاک نیچے جھکتے ہیں تو ضرور حرارت سے خفت پیدا ہوگی مگر یہ میل طبعی کا قرار اور جاذبیت پر تلوار ہوگا۔

رَدِّبستم : جو نمبر۱۸ کے رابعہ میں گزرا کہ جذبِ زمین ہے تو اندر کی ہوا کا اوپر کا ابھارنا کیا معنی اور وہ اس قوت سے کہ صدہا من کے بوجھ کو سہارا دے نہیں نہیں فنا کردے کہ محسوس ہی نہ ہو۔

ردِّ بست ویکم : اقول:  ہر عاقل جانتا ہے کہ رائی کا دانہ پہاڑ کے کروڑویں حصے کے بھی ہم وزن نہیں ہوسکتا نہ کہ سارے پہاڑ سے کانٹے کی تول برابر، مگر مسئلہ جاذبیت صحیح ہے تو یہ ہو کر رہے گا، بلکہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا، ظاہر ہے کہ پلے کا جھکنا اثر جذب ہے جس پر جذب زائد ہوگا اس کا پلہ جھکے گا اور برابر ہوں پلے برابر رہیں گے۔ (نمبر۱۵) اب دو کُرے ایسے لیجئے جن میں قوت جذب برابر ہے ، ان میں بعد مساوی پر جذب مساوی ہوگا یا سہی مختلف قوت کے لیجئے جیسے قمرزمین، رائی اور پہاڑ کو قمر سے اتنا قریب فرض کرلیجئے کہ زیادتِ قرب سے قوتِ جذب قمر اس کے ضعف جاذبیت کی تلافی کردے ، جسے اصول علم الہیأت نمبر۳۲۲ میں قطر زمین کا ۹ء۳ کہا اگرچہ ہمارے حساب(عہ۱) سے تقریباً ۱ء۳ ہے۔
عہ۱:  اصول علم الہیأۃ میں مادہ زمین کا ۱/۷۵ لیا اور زمین سے بعد قمر قطر زمین کا ۳۰ مثل اور ہیأت جدیدہ میں مقرر ہے کہ جاذبیت بحسب مادہ بالاستقامت بدلتی ہے اور بحسب مربع بعد بالقلب تو جسم پر جذب قمر و ارض مساوی ہونے کے لیے زمین سے ایسے بعد پر ہونا چاہیے کہ اس کا مربع قمر سے بعد جسم کے مربع کے ۵۷ مثل ہو۔ 

اقول : تو یہاں سے دو مساواتیں ملیں۔ قمر سے بعد کوئی فرض کیجئے اور زمین سے  لا :۰ لا =۷۵ ی۲ ، لا+ی = ۳۰:۰ لا۲/ ۷۵ = (۳۰۔ لا۲) = ۹۰۰۔ ۶۰ لا +لا۲ :۰ لا = ۶۷۵۰۰۔۴۵۰۰ لا +۷۵ لا۲ :۰ ۰ = ۶۷۵۰۰ ۔ ۴۵۰۰ لا + ۷۴ لا۲بلکہ ۷۴ لا۲ ۔ ۴۵۰۰لا =۶۷۵۰۰ :۰ لا۲ ۔ ۵۰۰/۷۴ ۔ ۶۷۵۰۰/۷۴ :۰  تکمل مجذور لا۲۔ ۴۵۰۰لا /۷۴ + ۵۰۶۲۵۰۰/۵۴۷۶ = ۔ ۶۷۵۰۰ /۷۴ + ۵۰۶۲۵۰۰/۵۴۷۶ =  ۔  ۵۴۷۶/ ۴۹۹۵۰۰۰ + ۵۴۷۶/ ۴۹۹۵۰۰۰  = ۷۶۵۰۰/۵۴۷۶ :۰ لا ۔ ۲۲۵۰/۷۴ = ۷۴/ ۸۱ء ۲۵۹ یہ جذر یہاں منفی ہے:۰  لا = ۲۲۵۰/۷۰ = ۷۴/ ۸۱ء ۲۵۹  =  ۷۴/۱۹ء۱۹۹۰ = ۸۹۴ء۲۶ :۰  ی = ۱۰۶ ء ۳ وبوجہ دیگر مساوات درجہ اول سے اگرچہ جملہ قوت دوم پر مشتمل ہے، مساوات اولٰی کا جذر لیا :۰  لا ۷۵ ی = ۶۶۰۳ء۸ ی :۰ لا = ۶۶۰۳ ء ۸ (۳۰۔ لا) = ۸۰۹ء۲۵۹۔۶۶۰۳ء۸ لا :۰  ۶۶۰۳ء۹ لا= ۸۰۹ء ۲۵۹:۰  لا = ۸۰۹ء۲۵۹۔۔۔۔۔۔۶۶۰۳ء۹ = ۸۹۵ء ۲۶ ی = ۱۰۵ء۳ پھر اس کتاب کی عام عادت ہے کہ کچھ کہے گی دوسری جگہ کچھ ، مادوں میں ۱/۷۵ کی نسبت لی اور اوپر گزرا کہ جاذبیت قمر کو جاذبیت ۱۵ء بتایا ہے، اس تقدیر پر مساوات یہ ہوگی : ۳لا۲، = ۲۰ ی ، لا+ ی = ۳۰ :۰ ۳لا=۲۰ (۹۰۰۔۶۰لا + لا۲) = ۱۸۰۰۰ ۔ ۱۲۰۰ لا + ۲۰ لا ۲ :۰ ۱۷لا۲ ۔ ۱۲۰۰ لا= ۔ ۱۸۰۰۰ بلکہ  لا ۔ ۱۲۰۰لا/۱۷ = ۱۸۰۰۰ /۱۷ :۰ لا۲ ۔ ۱۲۰۰لا/۱۷ +۳۶۰۰۰۰/۱۸۹ ۔ ۳۰۶۰۰۰۰ /۱۸۹ ۔ ۳۰۶۰۰۰۰/۱۸۹ =  ۵۴۰۰۰/۱۸۹ :۰  لا ۔ ۶۰۰/۱۷ = ۱۷/۳۷۹ء۳۲ یہ جذر منفی ہے :۰  لا = ۶۲۱ء۳۶۷/ ۱۷ = ۶۲۵ء۲۱ :۰ ی =۳۷۵ء۸  یا ۳لا = ۲۰۵ (۳۰۔ لا ) :۰  ۷۳۲۰۵ء ۱ لا = ۴۷۲۱۳۶ء۴ :۰ (۳۰۔لا) = ۱۶۴۰۸۰ء۴ ۱۳ ۔ ۴۷۲۱۳۶ء لا :۰ ۲۰۴۱۸۶ء۶لا = ۱۶۴۰۸۰ء۱۳۴ :۰ لا = ۱۶۴۰۸۰ ء۱۳۴/۲۰۴۱۸۶ء ۶= ۶۳۵ء۲۱ :۰ ی = ۳۷۵ء۸ کس قدر فرق ہے کہاں تین مثل قطر کہاں آٹھ مثل ، ڈھائی لاکھ میل سے کم بعد میں چالیس  ہزار میل کا تفاوت ، جاذبیت، قمر اگر ۱۵ ء تھی واجب کہ مادہ قمر بھی اتنا ہوتا نہ کہ ۱/۷۵ اور مادہ ۱/۷۵ تھا تو واجب کہ جاذبیت بھی اسی قدر ہوتی نہ کہ ۱۵ء کہ جاذبیت بحسب  مادہ ہے، اگر کہیے ۱/۷۵، فقط مثال کے لیے فر ض کرلیا ہے۔ اقول : ہر گز نہیں ص۲۶۶ پر جو جدول دی ہے اس میں مادہ قمر مادہ زمین کا ۰۱۲۸ء بتایا ہے کہ تقریباً یہی ۱/۷۵ ہوتا ہے۔ ۱/۷۵ =۰۱۳ء۰ رفع سے ۱۲۸ ۰ء ۰ بھی ۰۱۳ء۰ ہے اور بفرض غلط اگر فرض غلط تھا تو واقعیت معلوم ہوتے ہوئے غلط فرض کیا معنی کیا واقع سے مثال نہ ہوسکتی مگر ہے یہ کہ واقعی نہ یہ نہ وہ ، ان لوگوں کی خیال بندیاں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
حیز وہی ہے کہ یہاں اس کی تحقیق سے غرض نہیں، تو حاصل یہ ٹھہرا کہ جب رائی اور پہاڑ دونوں قمر و ارض سے ایسے فاصلے پر ہوں کہ قمر کی طرف قطر ارض کا ۹ء۳ ہو اور زمین کی طرف اء۲۶ کہ ارض و قمر میں بعد قطر زمین کا تیس گناہ ہے۔ اس وقت ان دونوں پر قمر و ارض دونوں کی جاذبیت مساوی ہوگی تو دونوں اسی خط پر رہیں گے، نہ کوئی قمر کی طرف جاسکے گا نہ زمین کی طرف جھکے گا تو واجب ہے کہ اگر یہ کسی ترازو کے پلڑوں میں ہوں تو دونوں پلڑے کانٹے کی تول برابر رہیں۔ اور اگر رائی کا پلڑا ایک خفیف مقدار پر اس خط مساوات سے زمین کی طرف مائل ہو اور پہاڑ کا اسی خط پر تو پہاڑ وہیں قائم رہے گا اور رائی کا پلڑا اور جھکے گا کہ جذب زمین بقدر قرب بڑھے گا، پہاڑ کا پلڑا ایک خفیف مقدار جانبِ قمر مائل ہو اور رائی کا اسی خط پر تو رائی یہیں قائم رہے گی اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہوگا کہ اس پر جذب قمر بڑھے گا اور اگر رائی کا پلڑا خط سے اس طرف اور پہاڑ کا اس طرف ہوا جب تو رائی کا پلڑا جھکنے اور پہاڑ کا پلڑا اونچا ہونے کی کوئی حد ہی نہ ہوگی۔ زیادت کی ان اصورتوں میں اگر کوئی عذر ہو تو رائی اور پہاڑ کے ہم وزن ہونے میں تو کلام کی گنجاش ہی نہیں کیا عقلِ سلیم اسے قبول کرسکتی ہے؟ اگر کہیے جذب مساوی رہی پہاڑ خود وزنی ہے لہذا اسی کا پلڑا جھکے گا۔
اقول : اولاً دیکھو پھر بولے تمہارے یہاں وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔(۱۵) جب دونوں طر ف جذب مساوی ہو کر اثر جذب کچھ نہ رہا، ٭ پہاڑ میں وزن کہاں سے آیا۔
٭ اقول:  وغیرہ پر جو نمبر یعنی ہندسہ ہے وہ یہاں سے ختم ہے قلمی نسخہ میں اس طرح نہیں ہے، عبدالنعیم عزیزی ۔
ثانیاً اگر پہاڑ خوردوزنی ہے تو کیا ، اس کا اور رائی کے دانے کا اتنا ہی فرق ہے کہ اس کا پلڑا جھکے نہیں ، نہیں وہ یقیناً اپنے وزن ہی سے زمین پر پہنچے گا، اور جس طرح وہاں جھکنے میں جذب کا محتاج نہ تھا زمین تک آنے بھی جذب کا محتاج نہ ہوگا۔ بلکہ اس کے اپنےذاتی وزن کی نسبت ہے، اسے زمین پر لائے گی تو ثابت ہوا کہ جذب باطل ہے ورنہ رائی کا دانہ پہاڑ سے بھاری ہوا، یہ جاذبیت کی خوبی ہے اور میل لیجئے تو چاہے رائی اور پہاڑ کو آسمانِ ہفتم پر رکھ دیجئے ہمیشہ ان میں وہی نسبت رہے گی جو زمین پر ہے کہ ان کا میل ذاتی نہ بدلے گا۔
Flag Counter