Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
83 - 212
رد سیزدہم : اقول : ہوا تو پانی سے بھی لطیف تر ہے اور بہ نسبت آب آفتاب سے قریب بھی زیادہ تو اس پر جذب شمس اور بھی اقوی ہوتا اور روئے زمین پر ہوا کا نام  و نشان نہ رہا ہوتا یا نافریت آڑے آتی تو ہوا کو زمین سے بہت زیادہ گھماتی اب اگر ہوا بھی مثل زمین مشرق کو جاتی تو تمہارے طور پر لازم تھا کہ پتھر جو سیدھا اوپر پھینکا جاتا ہے بہت دور شرق میں جا کر گرتا ہوا کی تیزی زمین سے دو چند ہی ہوتی اور پتھر مثلاً ۲ سیکنڈ میں ۱۶ فٹ اوپر چڑھتا اور ایک سیکنڈ میں نیچے اتر تا تو اس تین سیکنڈ میں زمین ۲ء۱۵۱۹گز چلتی لیکن ہوا کہ ان سیکنڈوں میں پتھر جس کا تابع رہا ۴ء۳۰۳۸ گز جاتی تو پتھر ۱۵۱۹ گز دور جا کر اترتا ہے حالانکہ جہاں سے پھینکا تھا وہیں اترتا ہے اور اگر ہوا غرب کو جاتی تو پتھر ۴۵۵۸ گز دور غرب میں گرتا کہ تین سیکنڈ میں زمین کا وہ موضع جہاں سے پتھر پھینکا تھا ۲ء۱۵۱۹ گز مشرق کو چلا اور پتھر باتباع ہوا وہاں سے ۴ء ۳۰۳۸ گز غرب کو گیا مجموع ۴۵۵۸ گز ڈھائی میل سے زیادہ کا فاصلہ ہوگیا لیکن وہاں کا وہیں گرتا ہے تو یقیناً جذب  شمس و حرکت زمین دونوں باطل۔

 ردِ چار دہم : اقول: کتنی واضح و فیصلہ کن بات ہے کاغذ کا تختہ دو برابر حصے کرکے ایک ویسا ہی پھیلا ہوا ایک پلے میں رکھو اور دوسرا گولی بنا کر کہ پہلے سے مساحت میں دسواں حصہ رہ جائے اگر جاذبیت ہے واجب کہ اس کا وزن گولی سے دس گنا ہوجائے کہ جذب بحسب مادہ جاذب بدلے گا ،(۱۰) اور مادہ مجذوب و بعد یہاں واحد ہیں اور اول کے مقابل زمین کے دس حصے ہیں تو اس پر دس جذب ہیں اور گولی پر ایک اور وزن جذب سے پیدا ہوتا ہے۔ (۱۵) تو واجب کہ اس کا وزن گولی دہ گنا ہو حالانکہ بداہۃً باطل ہے تو جذب قطعاً باطل بلکہ ان کا جھکنا اپنے میل طبعی سے ہے اور نوع واحد میں میل بحسب مادہ ہے اور یہاں مادہ مساوی لہذا میل برابر لہذا وزن یکساں۔

فائدہ : اقول : یہاں سے ظاہر ہوا کہ وہ جو مختلف کروں پر شیئ کا وزن مختلف ہوجانا بتایا تھا (۱۵) سب محض تراشیدہ خیال باطل تھے ورنہ جیسے وہاں جذب شمس وارض میں ا و ۸ کی نسبت تھی یہاں بھی دونوں حصے زمین میں اور ۱۰ کی نسبت ہے اور ۱ء ۲۸ اور ۱ و۱۰ کی ہوسکتی ہے۔

رَدِّ پانزدہم : اقول:  واجب کہ وہ تختہ اور گولی دونوں ایک مسافت سے ایک وقت میں زمین پر اتریں کہ اگر تختہ پر ہوا کی مزاحمت دہ چند ہے تو اس پر زمین کا جذب بھی تو دہ چند ہے بہرحال مانع ومقتضی کی نسبت دونوں جگہ برابر ہے تو اترنے میں مساوات لازم حالانکہ قطعاً تختہ دیر میں اترے گا تو ثابت ہوا کہ مقتضی جذب نہیں بلکہ ان کا طبعی میل کہ دونوں میں برابر ہے تو مقتضی مساوی ایک پر مانع دہ چند لاجرم دیر کرے گا۔
رَدِّ شانزدہم: اقول : ملا جتناکثیف تر جاذبیت بیشتر(نمبر۱۰) تو وزن اکثر (۱۵) توپانی میں بہ نسبت ہوا وزن بڑھنا چاہیے حالانکہ عکس ہے استاذ ابو ریحان بیرونی نے سو مثقال سونا ہوا میں تول کر سونے کا پلہ پانی میں رکھا اور باٹ کا ہوا میں ، ۴/۳۔۹۴ مثقال رہ گیا۔بیسیوں حصے سے زیادہ گھٹ گیا۔ ہم نے سونے کے کڑے کہ ہوا میں ایک چھٹانک چار روپے ایک چونی ڈیڑھ ماشے بھر سونا تھے پانی میں تولے سونے کا پلہ سطح آب سے ملتے ہی ہلکا پڑا وزن کا پلہ ہوا میں جھکا جب سونے کا پلہ پانی کے اندر پہنچا وزن صرف ایک چھٹانک تین روپے بھر رہ گیادسویں حصے سے زیادہ گھٹ گیا۔ یہ کمی اختلافِ آب و ہوا و موسم سے بدلے گی۔ ابو ریحان نے جیحون کا پانی لیا اور خوار زم میں فصل خریف میں تولا اور ہم نے کنویں کاپانی اپنے شہر میں موسم سرمامیں میل طبعی پر، اس کی وجہ ظاہر ہے میل بقدر روزن جھکاتا ہے اور جس ملا میں حجم ہے وہ بقدر  کثافت مزاحمت کرتا ہے وزن دونوں پلوں کا برابر ہے ہوا میں دونوں کا مزاحم بھی برابر تھا برابر رہے جب ایک پانی سے ملا جھکنے کا مقتضی کہ میل ہے اب بھی بدستور برابر ہے مگر جھکنے کا مزاحم اس پلے پر بہت قوی ہے کہ پانی ہوا سے بدرجہاکثیف تر ہے لاجرم یہ کم جھکا اور ہوا کا پلہ زیادہ ، فافہم وتامل لیکن بربنائے جاذبیت یہ اصلاً نہ بن سکے گا کہ جس کی کثافتِ آب نے مزاحمت بڑھائی ہے اسی کثافت نے اسی نسبت پر وزن بھی بڑھایا ہے تو مانع و مقتضی برابر ہو کر حالت بدستور رہنی لازم تھی اور ایسا نہیں تو ضرور جاذبیت باطل ہے ، اصول (عہ۱ ) طبعی میں کہا سبب اس کا یہ ہے کہ پانی اوپر کی طرف زور کرتا ہے لہذا سونے کو سہارا دے کر وزن کم کرتا ہے۔
عہ۱: ص ۱۱۵۔۱۲۔
اقول: اولاً اگر اس سے صرف نیچے جانے کی مزاحمت مراد تو ضرور صحیح ہے اور اس کا جواب بھی سُن چکے اور اگر یہ مقصود کہ پانی سونے کو اوپر پھینکتا ہے جیسا کہ اوپر کی طرف زور کرنے سے ظاہرتو عجیب جہل شدید ہے پانی اپنے سے ہلکی چیز کو اوپر پھینکتا ہے کہ خود اس سے زیادہ اسفل کو چاہتا ہے اپنے سے بھاری کو سہارا دے تو لوہا بلکہ کوئی چیز پانی میں نہ ڈوبے۔

ثانیاً : ایسا ہو تو یہ جذب زمین پر تازہ رَد ہوگا جب پانی اپنے سے ہلکی بھاری ہر چیز کو پھینکتا ہے تو  معلوم ہوا کہ اس کی طبیعت میں وضع ہے اور دفع ضد جذب ہے تو اس کی طبیعت میں جذب نہیں اور وہ زمین ہی کا جزء  ہے تو زمین میں نہیں تو شمس میں کس دلیل سے آئے گا، اور حرکت زمین کا انتظام کدھر جائے گا۔
رَدِّہفدہم : اقول:  ایک بڑی مشک اور ایک مشکیزہ ہوا سے خوب بھر کر منہ باندھ کر پانی میں بٹھانا چاہو تو مشک زیادہ طاقت مانگے گی اور دیر میں بیٹھے گی اور بٹھا کر چھوڑ دو تو مشکیزہ سے جلد اوپر آئے گی اور ایک بڑا پتھر اور ایک چھوٹا اوپرحد واحد تک پھینکو تو بڑا زیادہ طاقت چاہے گا اور دیر میں جائے گا اور چھوٹے سے جلد اتر آئے گا، پانی کا دباؤ اگر مشکوں کو اٹھاتا اور زمین کا جذب پتھروں کو گراتاتو قسراقوی پر ضعف ہوتا ہے اور اضعف پر اقوی چھوٹا پتھر اور مشکیزہ جلد آتا ہے اور بڑا پتھر اور مشک دیر میں۔ ہاں ہاں یہ کہئے کہ بڑے کا دافع بڑا ہے زیادہ دفع کرے گا تو وہ مدفوع بھی تو بڑا ہے کم دفع ہوگا تو غایت یہ کہ نسبت برابر رہے دونوں برابر اٹھیں مشک پر زیادہ کیوں، یونہی جذب میں اگر کہے مشک اور بڑے پتھر نے یوں جلدی کی کہ بیچ میں جو ملا حائل ہے بڑی چیز، اس کے چیرنے پر زیادہ قادر ہے تو اولا بڑے حائل بھی بڑا ہے تو نسبت برابر رہی۔ یہ وجہ کہ بڑی چیز اثر قسر کم قبول کرتی ہے تو پانی کے دباؤ سے مشک کیوں جلد اٹھی اور زمین کے جذب سے بڑا پتھر کیوں جلد آیا، اگر کہیے جذب بحسب مادہ ہے بڑے پتھر میں مادہ زائد تھا اس پر جذب زمین زیادہ تھا لہذا دیر میں اُوپر گیا اور جلد نیچے آیا۔

اقول: اولاً  یہ مردود ہے دیکھو ۔۱۱

ثانیاً خود اس قول کو تفاوت اثر سے انکار ہے(۱۲)

ثالثاً  یہ وہی بات ہے کہ جاذبیت کا تھل بیڑا لگا رکھے گی تمہارے یہاں وہی اجزائے دیمقرا طیسیہ ثقیل با لطبع ہیں ( نمبر۸۔۹) تو جذب کیوں ہو وہ اپنی طبیعت سے طالب سفل ہوں گے۔

رابعاً بڑی مشک کی ہوا میں بھی مادہ زیادہ ہے اور ہیأتِ جدیدہ میں ہوا بھی ثقیل مانی گئی ہے۔( ۱۸) تو بلاشبہہ بڑی مشک پر جذب زمین زائدہ ہے پھر یہ دیر میں نیچی کیوں بیٹھی اور جلد اوپر کیوں آئی، اگر کہیے پانی اس سے زیادہ ثقیل ہے لہذا زمین اسے زیادہ جذب کرتی ہے اس لیے یہ اوپر مندفع ہوتی ہے۔

اقول : اولاً یہ وہی قول مردود ہے کہ جذب بحسب مجذوب ہے۔

ثانیاً دفع بحسب نسبت ثقل ہوگا پانی اس مشک سے اثقل ہے اور مشک یہ مشکیزہ سے تو مشک پر جذب زمینی مشکیزہ سے زائدہوا اور دفع مشکیزہ سے کم تو واجب کہ مشک جلد بیٹھے اور مشکیزہ جلد اٹھے حالانکہ امربالعکس ہے یا بدستور بلحاظ نسبت تساوی رہے، غرض کوئی کل ٹھیک نہیں بیٹھتی اور اگر جذب کو چھوڑ کر میل طبعی مانو تو سب موجہ ہیں ہوا کا میل فوق اور حجر کا تحت ہے مشک پر باد کا بیٹھنا اور پتھر کا اوپر جانا خلافِ طبع تھا، اس لیے اکبر نے زیادہ مقاومت کی اور دیر ہوئی اور مشک کا اٹھنا اور پتھر کا گرنا مقتضائے طبع تھا لہذا اکبر نے جلدی کی۔
Flag Counter