| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
ردّنہم : اقول : نافریت کی گندم پہلے کاٹ چکے ہیں اور بفرضِ باطل ہو بھی تو یہ قرار داد ہے کہ وہ بقدر جاذبیت بڑھتی ہے اور چال بقدر نافریت (نمبر۷) تو واجب تھا کہ جب سیارے گرد قمر متفرق ہوتے اس کی چال کم ہوتی کہ ان کی جاذبیت باہم معارض ہو کر قمر پر اثر کم پڑرہا ہے اور جب سیارے قمر سے ایک طرف ہوتے اس کی چال ہمیشہ سے بہت زائد ہوجاتی کہ اسے مجموع جا ذبیتوں کا مقابلہ کرنا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ
والقمر قدّرنٰہ منازل ۔ ۱ ؎
( اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کیں۔ ت) کے زبردست محکم انتظام نے اسے جس روش پر ڈال دیا ہے ہمیشہ اسی پر رہتا ہے وہ سیاروں کے اجتماع کی پرواہ کرتا ہے نہ تفر ق کی، تو قطعاً ثابت ہوا کہ جاذبیت محض وہمی گھڑت ہے۔
(۱القرآن الکریم ۳۶/ ۳۹)
رَدِّ دہم : اقول : ان سب سے بڑھ کر بطلان جاذبیت پر شہادت بحراوقیانوس کا مدوجزر ہے، ہر روز دوبار پانی گزوں حتی کہ ۷۰ فٹ تک اونچا اٹھتا اور پھر بیٹھ جاتا ہے اسے جاذبیت قمر کے سر ڈھالنا جاذبیت ارض کو سلام کرنا ہے اگر قمر کو اس کے بعد (عہ۲) اقرب ۲۲۵۷۱۹ میل پر رکھئے اور زمین کی جاذبیت اس کے مرکز سے لیجئے کہ پانی کو اس سے ۵ء ۳۹۵۶ میل بعد ہو تو حسب قاعدہ نیوٹن اگر زمین و قمر میں قوت جذب برابر ہوتی پانی پر دونوں کے جذب کی نسبت یہ ہوئی جذب قمر : جذب ارض ::(۵ء۳۹۵۶)۲ = (۳۵۵۷۱۹)۲ ثانی کو ایک فرض کریں تو سوم =چہارم = جذب قمر ہوتا یعنی
۲۵ء۱۵۶۵۳۸۹۲
۵۰۹۴۹۰۶۶۹۶۱ = ۰۰۰۳۰۷۲۴۵۹ء۰
لیکن قمر میں قوتِ جذب قوتِ زمین کی ۱۵ (عہ۳ ) ہے لہذا اسے ۰۵ء میں ضرب دیا حاصل ۰۰۰۰۴۶ء۰ یعنی پانی پر جذب قمر اگر ۲۳ ہے تو جذب زمین پانچ لاکھ یا قمر اگر ایک قوت سے جذب کرتا ہے توز مین ۲۱۷۳۹ قوتوں سے پھر کیونکر ممکن پانی بال برابر بھی اٹھنے پائے، ہم نے نمبر ۱۷ کے اعمال ح وص کے لحاظ سے پانی کا بعد مرکز زمین سے لیا ورنہ زمین سے تو اسے اصلا بُعد نہیں اور ہم ثابت کرآئے کہ جذب اگر ہے تو ہر گز خاص بمرکز نہیں تمام کُرہ جاذب ہے________________________________________________________ہاں انتہائے جذب جانب مرکز ہے تو جب تک جسم واصل مرکز نہ ہو زیر جذب رہے گا ولہذا زمین پر رکھا ہو پتھر بھی بھاری ہے اور وزن نہیں ہوتا مگر جذب سے تو ثابت ہوا کہ زمین میں جذب ہے تو ضرور ثقیل متصل کو بھی جذب کرتی ہے بلکہ سب سے اقوی کہ جاذبیت قرب سے بڑھتی ہے۔(۱۰) اور یہ نہایت قرب سے اب تو جذب قمر کو جذب زمین سے کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی ہے اور اگر اس سے بھی در گزر کرکے تسلیم کرلیں کہ جذب کے لیے فصل ضرور ہے تو ایک فصل معتدبہ مثلاً ایک انگل رکھئے بفرض غلط قبول کرلیں کہ قمر نے ایک انگل پانی زمین سے جدا کرلیا اب محال ہے کہ بال کا ہزاروں حصہ اور بڑھےنہ کہ ۷۰ فٹ تک قمر کا بعد (عہ۱) اوسط ۲۳۸۸۲۳ میل ہے، ہر میل ۱۷۶۰ گز، ہر گز اڑتالیس انگل، تو بعد قمر ۱۸۴۰ء۲۰۱۷۶۶۱ بیس ارب انگل مع زیادات ہوا۔ ایک انگل کا مربع ایک کہ جذب قمر ہو اور اس بعد کا مربع ۲۸۱۸۵۶۰۰ ۴۰۷۰۹۵۶۶۵۳۴۲۰ کو جذب ارض ہوتا اگر قوت جذب دونوں کروں میں مساوی ہوتی لیکن قمر میں ۱۵ء ہے تو اس عدد کو ۱۵ء پر تقسیم کیا جذبِ ارض۔______________ ۲۷۱۳۹۷۱۱۰۲۲۸۰۱۸۷۹۰۴۰۰۰ ہوا یعنی پانی پر جذب قمر کی ایک قوت ہے تو جذب زمین کی دو سو اکہتر مہاسنکھ سے بھی سنکھوں زائد ہے تو مدمحال قطعی ہوتا ہے لیکن واقع ہے تو یقیناً زمین میں جاذبیت نہیں اگر کہے ہیأتِ جدیدہ والے تو یہ کہتے ہیں کہ چاند سارے کرہ زمین کو گزوں اونچا اٹھالیتا ہے تو پانی کا ستر فٹ اٹھالینا کیا دشوا رہے۔عہ۲: اصول ہردوصفحہ مذکور ہ عہ۳: اصول ص ۲۶۷۔ ۱۲۔ عہ۱: اصول ہر دو صفحہ مذکورہ ہوا۔ عہ۲: ص ۱۲۰۰۔ ۱۲
اقول: چاند کا زمین کو اونچا اٹھالینا نِرا ہذیان ہے زمین کا وزن ،_____________۱۶۹۹۳۲۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ سولہ ہزار نو سو ترانوے مہاسنکھ من اور بیس سنکھ من ہے وہ قمر (عہ۳) سے انچاس حصے بڑی ہے بلکہ اس کاجرم (عہ۴) جرم قمر کا وزن میں ۵ء۸۱ مثل ہے ،کیا چٹھنکی ڈیڑھ چھٹانک پانچ سیر پختہ وزن پر غالب آکر اسے کھینچ لے گی یا قمر کو جر ثقیل کی کوئی کل دی گئی ہے اس کے پاس ایک کل ہوگی تو زمین کے پاس انچاس کہ قبل اس کے کہ وہ اسے بال بھر اٹھا سکے یہ اسے کھینچ کر گرالے گی، اور اگر بالفرض قمر زمین کو اٹھا بھی لے تو زمین چاہے سو گز نہیں سومیل کھنچ جائے پانی کا ذرہ بھر اٹھنا ممکن نہیں زمین کے اس طرف چاند کے خلاف کوئی دوسرا حامل اقوی نہ تھا جس سے چاند اسے نہ چھین سکتا اور پانی کو زمین مہا سنکھوں زیادہ زور سے کھینچ رہی ہیں چاند اسے کیونکر کھینچ سکے گا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ مثلاً سیر بھر وزن کے ایک گولے میں لوہے کا پتر نہایت مضبوط کیلوں سے جڑا ہوا ہے تم اس گولے کو ہاتھ سے کھینچ سکتے ہو لیکن اس پتر کو گولے سے جدا نہیں کرسکتے جب تک و ہ کیلیں نہ نکالو یہاں پانی پر وہ کیلیں صد ہا مہاسنکھوں طاقت سے جذب ہے جب تک یہ معدوم نہ ہو پانی ہزاروں چاندوں کے ہلائے ہل نہیں سکتا لیکن ہلتا کیا گزوں اٹھتا ہے تو ضرور جذب زمین معدوم ہے۔ وھوالمقصود اگر کہیے ضرور اس سے زمین کی جاذبیت تو باطل ہوگئی لیکن قمر کی تو مسلم رہی۔
عہ۳: ص ۱۹۷۔ ۱۲ عہ۴: ص ۲۱۰۔ ۱۲ ۔
اقول: اوّل مقصود ابطال حرکت زمین ہے وہ جاذبیت شمس پر مبنی اور اوپر گزرا کہ زمین ہی میں جاذبیت گمان کرکے شمس کو اس پر بلادلیل قیاس کیا ہے جب یہی باطل ہوگئی قیاس کا دریا ہی جل گیا شمس میں کہاں سے آئے گی یا یوں کہیے کہ ہیأت جدیدہ کا وہ کلیہ کہ ہرجسم میں بقدر مادہ جاذبیت ہے جس کی بنا ء پر شمس میں اس کے لائق جاذبیت اور اس کے سبب زمین کی حرکت مانی تھی باطل ہوگیا اور جب معلوم ہوگیا کہ بعض اجسام میں جذب ہے بعض میں نہیں تو جذب شمس پر دلیل نہ رہی ممکن کہ شمس انہیں اجسام سے ہو جن میں جذب نہیں۔
ثانیاً مد کا جذب قمر سے ہونا بھی بوجوہ کثیرہ مخدوش ہے جن کا بیان نمبر ۱۶ میں گزرا۔
رَدِّ یاز دہم : اقول: جو دوسری طرف کی مد کی توجیہ کی کہ زمین اٹھتی ہے اور ادھر کے پانی کو چھوڑ آتی ہے۔ جاذبیت ارض کی نفی پر دلیل روشن ہے سمت مواجہ کے پانی پر تو ارض و قمر کا تجاذب تھا یہ غلط مان لیا کہ قمر غالب آیا، سمت دیگر کے پانی کو تو دونوں جانب زمین ہی کھینچ رہی ہے اسے زمین نے کیونکر چھوڑا قمر کا جذب اس پر کم تو زمین کاجذب تو بقوت اتم ہے اور یہاں اس کا معارض نہیں پھر چھوڑ دینے کے کیا معنی ٰ! رَدِّ دوازدہم : اقول: یہ جو ہیاتِ جدیدہ نے اقرار کیا کہ جذب قمر میں پانی زمین کا ملازم نہیں رہتا قمر کی جانب مواجہ میں بوجہ لطافت و قرب آب پانی زمین سے زیادہ اٹھتا ہے اور دوسری طرف بوجہ بعد آب زمین پانی سے زیادہ اٹھتی ہے۔ یہ بڑے کام کی بات ہے اس نے زمین پر جاذبیت شمس کا قطعی خاتمہ کردیا اگر وہ صحیح ہوتی تو جب جذب قمر سے یہ حالت ہے جو انتہا درجہ صر ف ۷۰ ہی فٹ اٹھا سکتا ہے تو جذب شمس کہ زمین کو ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ کھینچ لاتا ہے۔ واجب تھا کہ پانی پر اسی ۷۰ فٹ اور ۳۱ لاکھ ۱۶ ہزار باون میل کی نسبت سے اشد واقوی ہوتا سامنے کے پانی زمین کو چھوڑ کر لاکھوں میل چلے جاتے زمین نری سوکھی رہ جاتی یا قوت جذب کے سبب قوت نافریت پانی کو زمین سے بہت زیادہ جلد تر گھماتی یا تو ساری زمین پانی میں ڈوب جاتی اگر پانی پھیلتا یا ہر سال سارے جنگل اور شہر غرقاب ہو کر سمندر ہوجاتے اور تمام سمندر چٹیل زمین ہوجایا کرتے اگر پانی اتنی ہی مساحت پر رہتا۔