Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
81 - 212
رَدِّ ششم: اقول: لُطف یہ کہ اجتماع (عہ۱)کے وقت قمر آفتاب سے قریب ہوجاتا ہے اور مقابلہ کے وقت دور تر حالانکہ قریب وقت اجتماع آفتاب کی جاذبیت کہ مجموع ہر دو جذب کی ۱۱/۱۶ ہے صرف ۳/۸ ہی عمل کرتی ہے کہ قمر شمس وارض کے درمیان ہوتا ہے زمین اپنی طرف پانچ حصے کھینچتی ہے اور شمس اپنی طرف گیارہ حصے تو بقدر فصل جذب شمس ۶/۱۶ جانب شمس کھینچا، نہیں نہیں، بلکہ بہت ہی خفیف ، جیسا کہ ابھی ردپنجم میں واضح ہوا اور قریب وقت مقابلہ جاذبیت کے سب ۱۶ حصے قمر کو جانب شمس کھینچتے ہیں کہ ارض شمس و قمر کے درمیان ہوتی ہے دونوں مل کر قمر کو ایک ہی طرف کھینچتے ہیں۔ غرض وہاں تفاضیل کا عمل تھا یہاں مجموع کا کہ اس کے سہ چند کے قریب بلکہ بدرجہائے کثیرہ زائد ہے تو واجب کہ وقت مقابلہ قمر شمس سے بہ نسبت اجتماع قریب تو آجائے حالانکہ اس کا عکس ہے تو ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل ہے۔اصول الہیأت نمبر۲۱۰ میں اس قرب و بعد کی یوں تقریر کی کہ اجتماع کے وقت زمین قمر کو شمس سے چھین لے جاتی ہے اور وہ دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ مقابل شمس آتا ہے اس وقت شمس و زمین دونوں اسے ایک طرف کھینچتے ہیں تو آفتاب سے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اجتماع میں آتا رہتا ہے۔
عہ: ۱ ؎ اصول علم الہیأۃ نمبر۲۱۰۔۱۲
اقول: کیا زمین وقت مقابلہ سے وقت اجتماع تک نیرین کے بیچ ہی میں رہتی ہے کہ وہ سلسلہ آفتاب سے قریب کرنے کا مسلسل رہتا ہے یا زمین تو مقابلے کے بعد ایک کنارے کو گئی اور جب سے اجتماع ہونے تک جہت خلاف شمس کھینچتی رہی اور اس کا جذب جذب شمس سے بدرجہا زائد ہے جیسا کہ ابھی ردپنجم میں گزرا پھر بھی چاند ہی کہ شمس ہی کی طرف کھینچتا ہے شاید مقابلہ کے خفیف ساعت میں زمین نے اس کے کان میں پھونک دیا تھا کہ چاہے میں کہیں ہوں چاہے میں کسی طرف کھینچوں اور کتنے ہی غالب زور سے کھینچوں مگر تو اسی وقت کے اثر پر رہنا آفتاب ہی سے قریب ہوتا جانا میری ایک نہ مانا کیونکہ وہ بڑا بوڑھا ہے اس کا لحاظ واجب ہے اور چاند ایسا سعادت مند کہ اسی پر کار بند جب کھینچتے وہ آفتاب کی گود کے پاس پہنچا یعنی اجتماع میں آتا ہے اس وقت زمین اپنی نصیحت پر پریشان ہوتی ہے اور بڑھ کر وہ ہاتھ لگاتی ہے کہ شمس کی گود سے اسے چھین کر آدھے دورے میں نہایت دوری  پر لے جاتی ہے یہاں آکر پھر بھول جاتی اور وہی انچھر چاند کے کان میں پھونکتی ہے ایسی پاگل زمین ہیأتِ جدیدہ میں ہوتی ہوگی، غرض دنیا بھر کے عاقلوں کے نزدیک علت کے ساتھ معلول ہوتا ہے اور وہ علت فنا ہو کر علت خلاف پیدا ہو تو فوراً خلاف ہوجاتا ہے لیکن ہیات جدیدہ کے نزدیک علت کو فنا ہوئے مدتیں گزریں اور خلاف کی علتیں برابر روزانہ ترقی پر ہیں مگر معلول اسی مردہ علت کا جاگ رہا ہے اور ان زندہ علتوں کا معلول فنا ہے یعنی ادھر تو علت معدوم اور معلول قائم اور ادھر علت موجود دو مترقی اور معلوم معدوم ۔
رَدِّ ہفتم : اقول: پھر وہ پانچ وگیارہ کی نسبت تو مزعوم ہیأت جدیدہ تھی جس میں خود قاعدہ نیوٹن سے کہ جاذبیت بحسب مربع بعد بالقلب بدلتی ہے عدل تھا۔ اس کا ردّ نمبر ۱۴ میں گزرا، یہ قاعدہ نیوٹن اگر صحیح ہے تو قمر پر جاذبیت شمس بہ نسبت جاذبیت ارض ۱ /۵۰۰۰ ہوگی یہ بھی بہت نادر، اکثر اوقات اس سے بھی کم زمین سے قمر کا بعد ابعد (عہ۱) ۹۴۷ء ۲۵۱ میل ہے شمس سے زمین کا بعد (عہ۲ ) اقرب ۹۱۳۴۱۹۷۴ میل فرض کیجئے شمس اپنے بعد اقرب پر ہے اور قمر اجتماع میں اپنے بعد ابعد پر کہ شمس و ارض سے فاصلہ قمر میں سب سے کم تفاوت کی صورت ہے باقی سب صورتوں میں اس سے زیادہ فرق ہوگا جو جاذبیت شمس کو اور چھوٹا کرے گا اس نادر صورت پر شمس سے قمر کا بعد۹۱۰۹۰۰۲۷ میل میں ہوگا۔ اب اگر شمس و ارض میں قوت جذب برابر ہوتی تو نسبت یہ ہوتی جذب الارض للقمر جذب الشمس للقمر :: (۹۱۰۹۰۰۲۷)۲ (۲۵۱۹۴۷)۲ اول کو ایک فرض کریں تو چہارم ÷ سوم = دوم یعنی
27_28.jpg
جذب الشمس للقمر یعنی قمر کو جذب ارض اگر دس کروڑ ہے تو جذب شمس صرف ۷۶۵ یعنی تقریباً ایک لاکھ تینتس ہزار تین سو تینتس حصوں سے ایک حصہ لیکن شمس میں قوتِ جذوب باعتبار قوت زمین ۲ء۲۷(عہ۳ ) ہے یا ۲۸ (عہ۴) تو حاصل کو اس میں ضرب دیئے سے ۰۰۰۲ء ۰ حاصل رہا یعنی شمس اگر قمر کو اپنی طرف ایک میل کھینچتا ہے تو زمین اپنی طرف پانچہزار میل اور تقریر رد پنجم شامل کیے سے تو جذب زمین کے مقابل جذب شمس گویا صفر محض رہ جائے گا اور زمین کا جذب المعارض و مزاحم کام فرمائے گا اور شک نہیں کہ یہ جذب ہزاروں برس سے جاری ہے اور وجہ کیا ہے کہ قمر اب تک زمین پر نہ گر پڑا اگر جاذبیت صحیح ہوتی ضرور کب کا گر چکا ہوتا تو جاذبیت محض مہمل خیال ہے۔
عہ۱: اصول علم الہیاۃ ص ۱۱۳ و ص ۲۶۴ ۔۱۲ ۔  	   عہ۲:  اس کا بیان ابھی جاذبیت کے ردچہارم میں گزرا۔

عہ۳:  اصول علم الہیأۃ ص ۲۶۷ ۔۱۲     	 	عہ۴:  اصول علم الہیاۃ ص ۸۳ ، ۱۲
رَدِّ ہشتم : اقول: قمر کو جذب شمس وارض میں کچھ بھی نسبت ہو یہ تو اجتماع نیرین میں دیکھی جائے گی کہ شمس ایک طرف کھنچے گا اور ارض دوسری طرف ، مقابلہ میں تو شمس و ارض دونوں ایک طرف ہوتے ہیں اصول الہیأت مضمون مذکور ردششم میں یہ خوب کہی کہ اس کے سبب قمر شمس سے قریب ہوتا ہے۔بہت خوب زمین بھی شمس ہی کے لیے کھینچی ہوگی عقلمند بیچ میں زمین ہے تو اس وقت دونوں اپنی مجموعی طاقت سےقمر کو زمین ہی کی طرف کھینچتے ہیں اب کیوں نہیں گرتا اگر کہیے اور سیارے ادھر کو کھینچتے ہیں۔

اقول: ہزاروں بار ہوتا ہے کہ سب سیارے مع زمین ایک طرف ہوتے ہیں اور تنہا قمر دوسری جانب اور ثوابت کا اثر جذب نہ مانا گیا ہے نہ ماننے کے قابل ہے کہ وہ سب طرف محیط ہیں تو داب یکساں ہو کر اثر صفر رہا۔ اب قمر کیوں نہیں گرتا۔ یہ تمام عظیم ہاتھی جمع ہو کر اپنی پوری طاقت سے اس چھوٹی سی چڑیا کو کھینچتے کھینچتے ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور چڑیا ہے کہ بال بھر نہیں سرکتی اس کی تیوری پر میل تک نہیں آتا یہ کیسی جاذبیت ہے لاجرم جاذبیت محض غلط ہے۔
Flag Counter