Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
80 - 212
اقول: اوّلا کون سا دائرہ یہاں ایک دائرہ معدل المسیر لیا جاتا ہے کہ مرکز شمس کے گرد نہیں مرکز بیضی کے گرد ہے اور دونوں نقطہ اوج و حضیض پر یکساں گزرا ہوا ہے اس شکل سے ، ا ہ ر ب ، مدار بیضی ہے مرکز طؔ شمس اس کے نیچے نقطہ ح  پر ا و ج ب حضیض مرکز طؔ پر بعد اطؔ یا ط بؔ سے کہ مساوی ہیں دائرہ ا ب ح ء  معدل المسیر ہے اور اگر یہ مراد کہ مرکز شمس پر اوج کی دوری سے دائرہ کھینچیں ظاہر ہے کہ زمین اوج میں اس دائرے پر آئے گی اور حضیض میں اس سے باہر ہوگی یعنی اس پر نہ ہوگی اس کے اندر ہوگی تو اس کے تعین کی کیا علت ، کیوں نہ مرکز شمس پر حضیض کی دوری سے دائرہ کھینچے کہ زمین حضیض میں اس پر ہو اور اوج میں نہ اس پر نہ اندر حقیقۃً باہر معتبر و ملحوظ دائرہ معدل المسیرہی کیوں نہیں لیا جاتا کہ دونوں میں اس  پر گزرے۔
27_26_1.jpg
ثانیاً اس دائرے پر آنے کو شمس کی طرف لائے اور اس سے جدائی کو شمس سے لے جانے میں کیا دخل ہے لانا جذب ہے اور بحسب قرب ہے تو دور سے لانا اور قریب بھگانا الٹی منطق ہے شاید نقطہ اوج میں لاسا لگا ہے کہ طائر زمین کو پھانس لاتا ہے نقطہ حضیض پر کھٹکھٹا بندھا ہے کہ بھگا دیتا ہے۔
ثالثاً اس دائرے ہی میں کچھ وصف ہے تو زمین صرف حلول نقطہ اوجی ہی کے وقت وہ ایک آن کے لیے اس پر ہوگی یہ آدھے سال آنا اور آدھے سال بھاگنا کیوں ، غرض یہ کہ بنائے نہیں بنتی ظاہر ہوا کہ حیلے بہانے محض اسکولی لڑکوں کو بہلانے کے لیے مغالطے ہیں جاذبیت و نافریت کے ہاتھوں ہر گز مداربن نہیں سکتا۔ بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب اس کے گرد ایک ایسے دائرے پر متحرک جس کا مرکز مرکز عالم سے اکتیس لاکھ سولہ ہزار باون میل باہر ہے اگر مرکز متحد ہوتا زمین سے آفتاب کا بعد ہمیشہ یکساں رہتا مگر بوجہ خروج مرکز جب آفتاب نقطہ ا پر ہوگا مرکز زمین سے اس کا فصل ا ح ہوگا یعنی بقدر اب  نصف قطر مدار شمس ب حؔ مابین المرکزین اور جب نطقہ ء پر ہوگا اس کا فصل ح ءؔ ہوگا یعنی بقدر ب ءؔ نصف قطر مدار شمس مابین المرکزین دونوں فصلوں میں دو چند مابین المرکزین فرق ہوگا۔ یہ اصل کروی پر ب حؔ ہے لیکن وہ بعد اوسط پر لیا گیا ہے۔ ہ مرکز مدار شمس بؔ فوکز اعلٰی حؔ فوکز اسفل جس پر زمین ہے اس میں شمس اس مابین المرکز ین ب حؔ مابین الفو کزین جانتے ہیں اور مابین المرکزین ہ حؔ اس کا نصف کہ بعد اوسط اجؔ متصف مابین الفوکزین پر ہے۔
27_26_2.jpg
تو بعد اوسط نصف مابین الفوکزین = بعد ابعد، نصف مذکور بعد اقرب لاجرم شمس بقدر مابین الفوکزین و ضعف مابین المرکزین جدید فرق ہوگا اور یہی نقطے اس قرب و بعد کے لیے خود ہی متعین رہیں گے۔ کتنی صاف بات ہے جس میں نہ جاذبیت کا جھگڑا نہ نافریت کا بکھیڑا۔
27_27.jpg
رَدّ پنجم : جاذبیت کے بطلان پر دوسرا شاہد عادل قمر ہے، اصول علم الہیأۃ ص ۲۰۹ میں خود ہیأۃ جدیدہ پر ایک سوال قائم کیا جس کی توضیح یہ کہ اگرچہ زمین قمر کو قرب سے کھینچتی ہے اور آفتاب دور سے مگر جرم شمس لاکھوں درجے زمین سے بڑا ہونے کے باعث اس کی جاذبیت قمر پر زمین کی جاذیبت سے ۱۱/ ۵ ہے یعنی زمین اگر چاند کو پانچ میل کھینچتی ہے تو آفتاب گیارہ میل اور شک نہیں کہ یہ زیادت ہزاروں برس سے مستمر ہے تو کیا وجہ ہے کہ چاند زمین کو چھوڑ کر اب تک آفتاب سے نہ جا ملا، تو معلوم ہوا کہ جاذبیت باطل و مہمل خیال ہے اور اس کا یہ جواب دیا کہ آفتاب زمین کو بھی تو کھینچتا ہے کبھی قمر سے کم کبھی زیادہ جیسا ان کا بعد آفتاب سے ہو تو شمس جتنا قمر کو کھینچتا ہے زمین اپنا چاند بچانے کو اس سے پوری جاذبیت کا مقابلہ کرنے کی محتاج نہیں بلکہ صرف اتنی کا جس قدر جاذبیت مذکورہ زمین کو جاذبیت شمس سے زائد ہے اور یہ اس جاذبیت سے کم ہے جتنی زمین کو قمر پر ہے لہذا قمر آفتاب سے نہیں ملتا۔

اقول : توضیح  جواب یہ ہے کہ قمر کا شمس سے جا ملنا اس جذب پر ہے جو قمر کو زمین سے جدا کرے۔ جذبِ شمسی زمین و قمر دونوں پر ہے ، تو جہاں تک وہ مساوی ہیں اس جذب کا اثر زمین سے جدائی قمر نہ ہوگی کہ وہ بھی ساتھ ساتھ بنی ہے ،۔ ہاں قمر پر جتنا جذب زمین پر جذب سے زائد ہوگا وہ موجب جدائی قمر ہوتا لیکن زمین اس قدر سے زیادہ اسے جذب کررہی ہے تو جدائی نہ ہوگی فرض کرو شمس قمر کو ۹۹ گز کھنیچتا ہے اور زمین سے ا سے ۴۵ گز کہ جذبِ شمس سے ۵/ ۱۱ ہے اور آفتاب زمین کو ۹۰ گز کھینچے تو ۹۰ گز تک تو زمین و قمر مساوی ہیں قمر پر ۹ ہی گز جذب شمس زائد ہے لیکن زمین کا جذب اس پر ۴۵ گز ہے تو جذب  شمس سے پچگنا ہے لہذا شمس سے ملنے نہیں پاتا۔

اقول: خوب جواب دیا کہ قمر کو بڑے سفر سے بچالیا، چھوٹا ہی سفر کرنا پڑا۔ اب کہ جذبِ زمین اس پر زیادہ ہے زمین پر کیوں نہیں آگرتا ۔ سوال کا منشا تو جذبوں کا تفاوت تھا وہ اب کیا مٹا قمر شمس پر نہ گرا زمین پر سہی۔
Flag Counter