بالجملہ موافق مخالف کوئی ذی عقل اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ مجرد صحتِ اثری صحت عملی کو مستلزم نہیں بلکہ محال ہے کہ مستلزم ہو۔ ورنہ ہنگامِ صحت متعارضین قول بالمتنافیین لازم آئے اور وہ عقلاً ناممکن تو بالیقین اقوال مذکورہ سوال اور ان کے امثال میں صحتِ حدیث سے صحتِ عملی، اور خبر سے وہی خبرواجب العمل عندالمجتہد مراد پھر نہایت اعلٰی بدیہات سے ہے کہ اگر کوئی حدیث مجتہد نے پائی اور براہِ تاویل خواہ دیگر وجوہ سے اُس پر عمل نہ کیا تو وہ حدیث اس کا مذہب نہیں ہوسکتی، ورنہ وہی استحالہ عقلی سامنے آئے کہ وہ صراحۃً اس کا خلاف فرماچکا تو آفتاب سے روشن تروجہ پر ظاہر ہوا کہ کوئی حدیث بزعم خود مذہب امام کے خلاف پا کر بحکم اقوال مذکورہ امام دعوٰی کردینا کہ مذہبِ امام اس کے مطابق ہے، دوا امرپر موقوف۔
اوّلاً: یقینا ثابت ہو کہ یہ حدیث امام کو نہ پہنچی تھی کہ بحال اطلا ع مذہب اس کے خلاف ہے نہ اس کے موافق۔
لاجرم علامہ زرقانی نے شرح موطا شریف میں تصریح فرمائی:
قد علم ان کون الحدیث مذھبہ محلہ اذا علم انہ لم یطلع علیہ اما اذا احتمل اطلاعہ علیہ وانہ حملہ علی محمل فلایکون مذہبہ ۔۱
یعنی ثابت ہوچکا ہے کہ کسی حدیث کا مذہب مجتہد ہونا صرف اُس صورت میں ہے جب کہ یقین ہو کہ یہ حدیث مجتہد کو نہ پہنچی تھی ورنہ اگر احتمال ہو کہ اس نے اطلاع پائی اور کسی دوسرے محل پر حمل کی، تو یہ اس کا مذہب نہ ہوگی۔
( ۱ ؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک )
ثانیا : یہ حکم کرنے والا احکام رجال و متون وطرق احتجاج ووجوہ استنباط او ر ان کے متعلقات اصولِ مذہب پر احاطہ تامہ رکھتا ہو۔ یہاں اُسے چار منزلیں سخت دشوار گزار پیش آئیں گی۔ جن میں ہر ایک دوسری سے سخت تر ہے۔
منزل اوّل: نقدر جال کہ اُن کے مراتب ثقہ وصدق و حفظ وضبط اور اُن کے بارے میں ائمہ شان کے اقوال ووجوہ طعن و مراتب توثیق ، ومواضع تقدیم جرح وتعدیل وحوامل طعن و مناشی توثیق ومواضع تحامل و تساہل و تحقیق پر مطلع ہو، استخراج مرتبہ اتقان راوی بنقد روایات وضبط مخالفات واوہام وخطیات وغیرہا پر قادر ہو، اُن کے اسامی و القاب و کنی و انساب ووجوہِ مختلفہ تعبیر رواۃ خصوصاً اصحابہ تدلیس شیوخ و تعیین مبہمات و متفق و متفرق و مختلف مؤتلف سے ماہر ہو۔ ان کے موالیدو وفیات و بلدان ورحلات و لقاء و سماعات و اساتذہ و تلامذہ و طرق تحمل ووجوہ ادا وتدلیس و تسویہ و تغیر و اختلاط آخذین من قبل و آخذین من بعد و سامعین حالین وغیرہما تمام امور ضروریہ کا حال اس پر ظاہر ہو۔ اُن سب کے بعد صرف سند حدیث کی نسبت اتنا کہہ سکتا ہے صحیح یا حسن یا صالح یا ساقط یا باطل یا معضل یا مقطوع یا مرسل یا متصل ہے۔
منزل دو م: صحاح و سُنن و مسانید و جوامع ومعاجیم واجزاء وغیرہا کتب حدیث میں اس کے طرقِ مختلفہ والفاظ متنوعہ پر نظرِ تام کرے کہ حدیث کہ تواتر یا شہرت یا فردیت نسبیہ یا غرابت مطلقہ یا شذو ذ یا نکارت و اختلافاتِ رفع ووقف و قطع ووصل و مزید فی متصل الاسانید و اضطراباتِ سند ومتن وغیرہا پر اطلاع پائے نیز اس جمع طرق و احاطہ الفاظ سے رفع ابہام و دفعِ اوہام وایضاح خفی و اظہار مشکل و ابانت مجمل و تعیین محتمل ہاتھ آئے۔ ولہذا امام ابوحاتم رازی فرماتے ہم جب تک حدیث کو ساتھ (۶۰) وجہ سے نہ لکھتے اس کی معرفت نہ پاتے۔ اس کے بعد اتنا حکم کرسکتا ہے کہ حدیث شاذ یا منکر، معروف یا محفوظ، مرفوع یا موقوف ، فرد یا مشہور کس مرتبہ کی ہے۔
منزل سوم : اب علل خفیہ و غوامض دقیقہ پر نظر کرے جس پر صدہا سال سے کوئی قادر نہیں۔ اگر بعد احاطہ وجوہ اعلال تمام علل سے منزہ پائے تو یہ تین منزلیں طے کرکے طرف صحت حدیث بمعنی مصطلح اثر پر حکم لگاسکتا ہے۔ تمام حفاظِ حدیث و اجلہ نقاد ناو اصلان ذروہ شامخہ اجتہاد کی رسائی صرف اس منزل تک ہے۔ اور خدا انصاف دے تو مدعی اجتہاد و ہمسری ائمہ امجاد کو اِن منازل کے طے میں اصحابِ صحاح یا مصنفانِ اسماء الرجل کی تقلید جامد سخت بے حیائی نری بے غیرتی ہے بلکہ ان کے طور پر شرکِ جلی ہے۔ کس آیت و حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ بخاری یا ترمذی بلکہ امام احمد و ابن المدینی جس حدیث کی تصحیح یا تجریح کردیں وہ واقع میں ویسی ہی ہے۔ کون سا نص آیا کہ نقدر جال میں ذہبی وعسقلانی بلکہ نسائی و ابن عدی و دارقطنی بلکہ یحیٰی قطان ویحیی بن معین وشعبہ و ابن مہدی جو کچھ کہہ دیں وہی حقِ جلی ہے۔ جب خود احکام الہٰیہ کے پہچاننے میں ان اکابر کی تقلید نہ ٹھہری جو ان سے بدرجہا ارفع واعلٰی واعلم واعظم تھے۔ جن کے یہ حضرات اور ان کے امثال مقلد و متبع ہوتے جن کے درجاتِ رفیعہ امامت انہیں مسلم تھے تو ان سے کم درجہ امور میں اُن اکابر سے نہایت پست مرتبہ اشخاص کی ٹھیٹ تقلید یعنی چہ جرح وتعدیل وغیرہ جملہ امور مذکورہ جن جن میں گنجائش رائے زنی ہے محض اپنے اجتہاد سے پایہ ثبوت کو پہچائیے، اور این وآن وفلان و بہمان کا نام زبان پر نہ لائیے۔ ابھی ابھی تو کھلا جاتا ہے کہ کس برتے پہ تتّا پانی ؎
مااذا اخاضک یامغرورفی الخطر حتّی ھلکت فلیت النمل لم تطر۔۱
(اے مغرور ! تجھے کس شے نے خطرے میں ڈالا یہاں تک کہ تُو ہلاک ہوگیا، کاش ! چیونٹی نہ اڑتی۔ت)
خیر کسی مسخرہ شیطان کے منہ کیا لگیں۔برادران باانصاف انہیں منازل کی دشواری دیکھیں جس میں ابو عبداللہ حاکم جیسے محدث جلیل القدر پر کتنے عظیم شدید مواخذے ہوئے، امام ابن حبان جیسے ناقد بصیر تساہل کی طرف نسبت کیے گئے۔ اِن دونوں سے بڑھ کر امام اجل ابوعیسٰی ترمذی تصحیح و تحسین میں متساہل ٹھہرے، امام مسلم جیسے جبل رفیع نے بخاری و ابوذرعہ کے لوہے مانے ۔
کما اوضحنافی رسالتنا مدارج طبقات ۱۳۳۳ھ الحدیث
( جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ ت ) پھر چوتھی منزل تو فلکِ چہارم کی بلندی ہے جس پر نورِ اجتہاد سے آفتاب منیر ہی ہو کر رسائی ہے۔ امام ائمۃ المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری سے زیادہ ان میں کون منازل ثلثہ کے منتہٰی کو پہنچا۔ پھر جب مقام احکام و نقص و ابرام میں آتے ہین وہاں صحیح بخاری و عمدۃ القاری وغیرہا بنظر انصاف دیکھا چاہیے۔ بکری کے دودھ کا قصہ معروف مشہور ہے۔ امام عیسٰی بن ابان کے اشتغال الحدیث پھر ایک مسئلہ میں دو جگہ خطا کرنے اور تلامذہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے ملازم خدمت بننے کی روایت معلوم وماثور ہے۔ ولہذا امام اجل سفین بن عیینہ کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وا مام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے استاد اور امام بخاری وہ امام مسلم کے استاذ الاستاذ اور اجلہ ائمہ محدثین و فقہائے مجتہدین و تبع تابعین سے ہیں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین ارشاد فرماتے ہیں:
الحدیث مضلّۃ الاّ للفقھاء ۲۔
حدیث سخت گمراہ کرنے والی ہے مگر مجتہدوں کو۔
( ۲ ؎ المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر النعوت دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۲۲)
علامہ ابن الحاج مکّی مدخل میں فرماتے ہیں:
یرید انّ غیر ھم قدیحمل الشیئ علی ظاھرہ ولد تاویل من حدیث غیرہ اودلیل یخفی علیہ اومتروک اوجب ترکہ غیر شیئ مما لایقوم بہ الا من ستبحروتفقہ۔
یعنی امام سفیان کی مراد یہ ہے کہ غیر مجتہد کبھی ظاہر حدیث سے جو معنے سمجھ میں آتے ہیں اُن پر جم جاتا ہی حالانکہ دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں مراد کچھ اور ہے۔، یا وہاں کوئی اور دلیل ہے جس پر اس شخص کو اطلاع نہیں، یا متعدد اسباب ایسے ہیں۔
جن کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔ ان باتوں پر قدرت نہیں پاتا مگر وہ جو علم کا دریا بنا اور منصبِ اجتہاد تک پہنچا۔
خود حضور پُرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اخرجہ امام الشافعی والامام احمد ۔۲؎ والدارمی وابوداؤد و الترمذی وصححہ وابن ماجۃ والضیاء فی المختارۃ والبیھقی فی المدخل عن زید بن ثابت والدارمی عن جبیر ین مطعم ونحوہ احمد والترمذی و ابن حبان بسند صحیح عن ابن مسعود والدارمی عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہم اجعمین۔
اللہ تعالٰی اس بندے کو سرسبز کرے جس نے میری حدیث سن کر یاد کی اور اسے دل میں جگہ دی، اور ٹھیک ٹھیک اوروں کو پہنچادی کہ بہتریوں کو حدیث یاد ہوتی ہے مگر اس کے فہم و فقہ کی لیاقت نہیں رکھتے۔ اور بہتیرے اگرچہ لیاقت رکھتے ہیں۔ دوسرے ان سے زیادہ فہیم و فقیہ ہوتے ہیں۔( امام شافعی، امام احمد، دارمی، ابوداؤد اور ترمذی نے اس کی تخریج کی اور اس کو صحیح قرار دیا ، نیز اس کی تخرین کی ابن ماجہ، ضیاء نے مختارہ میں اور بہیقی نے مدخل میں ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، اور دارمی و احمد نے جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اورترمذی و ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، اور دارمی نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ، اللہ تعالٰی ان سب پر راضی ہو ۔ت)
( ۱ ؎ المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر النعوت دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۲۲ و ۱۲۳ )
( ۲ ؎ مسند احمد بن حنبل حدیث جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۸۲ )
(سنن الدارمی باب الافتداء بالعلماء حدیث ۲۳۴ دارالمحاسن قاہرہ ۱/ ۶۵)
(سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل نشر العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۹)
(جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجافی الحث علی تبلیغ السماع امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۰)
(جامع سنن ابن ماجہ باب من بلغ علماء ایچ ایم سعید کمپنی دہلی ص ۲۱)
(مشکوۃ المصابیح کتاب العلم الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص ۳۵)
فقط حدیث معلوم ہوجانا فہمِ حکم کے لیے کافی ہوتا تو اس ارشادِ اقدس کے کیا معنی تھے۔
امام ابن حجر مکی شافعی کتاب الخیرا ت الحسان میں فرماتے ہیں امام محدثین سلیمان اعمش تابعی جلیل القدر سے کہ اجلہ ائمہ تابعین و شاگردانِ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہیں کسی نے کچھ مسائل پوچھے، اس وقت ہمارے امام اعظم سیدنا ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی حاضر مجلس تھے، امام اعمش رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام سے پوچھے۔ امام نے فوراً جواب دیا۔ امام اعمش نے کہا: یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیے؟ فرمایا ۔ اُن حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں۔ اور وہ حدیثیں مع سندِ روایت فرمادیں۔ امام اعمش رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا۔
بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سودن میں آپ کو سنائیں آپ گھڑی بھر میں مجھے سنائے دیتے ہیں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کردیتے ہیں۔ اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور محدث لوگ عطار ہیں، یعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریق استعمال تم مجتہدین جانتے ہو۔ اور اے ابوحنیفہ ! تم نے تو فقہ و حدیث دونوں کنارے لیے۔
اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالٰی عظیم فضل والا ہے۔ت)