Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
79 - 212
رَدِّ چہارم: اقول:  جاذبیت کے بطلان پر پہلاشاہد عدل آفتاب ہے اس کے مدار میں جسے وہ مدار زمین سمجھتے ہیں ایک نقطہ مرکز زمین سے غایت بعد پر ہے جسے ہم اوج کہتے ہیں اور دوسرا نہایت قرب پر جسے حضیض ان کا مشاہدہ ہر سال ہوتا ہے تقریباً سوم جولائی کو آفتاب زمین سے اپنے کمال بعُد پر ہوتا ہے اور سوم جنوری کو نہایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے تفتیش جدیدہ میں شمس کا بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا اور ہم نے حساب کیا مابین المرکزین دو درجے ۴۵ ثانیے یعنی ۵۲۱۲ء ۲ ہے تو بعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶ میل ہوا اور بعد اقرب ۹۱۳۴۱۹۷۴ میل تفاوت ۳۱۱۶۰۵۲ میل اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدار بیضی پر گھومتی ہے جس کے فوکز اسفل میں شمس ہے جیسا کہ ہیأت جدیدہ کا زعم ہے تو اول ان کی سمجھ کے لائق یہی سوال ہے کہ زمین اتنے قوی عظیم شدیدہ ممتدید ہزار ہا سال کے متواتر جذب سے کھینچ کیوں نہ گئی۔ہیأت (عہ۲) جدیدہ میں آفتاب ۱۲ لاکھ ۳۵ ہزار ۱۳۰ زمینوں کے برابر اور بعض (عہ۳ ) نے دس ۱۰ لاکھ بعض ( عہ۴ ) نے چودہ لاکھ دس ہزار لکھا اور ہم نے مقررات (عہ۵ ) جدیدہ پر بربنائے اصل کروی حساب کیا تو تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر آیا۔
عہ۲: ص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلمی نسخہ میں پھٹا ہے (پھر) ۱۳۰ ہی کہا، ۱۲۵۹۷۔ ص ۲۶۶ غائب، ۳۶۱ء۱۳۴۵۱۲۶ یہ اس کی عادت ہے۔کہ ہر جگہ مختلف کہے ۱۲ منہ۔

عہ۳: سوالنامہ ہیأت ص ۱۸۔۱۲ ۔     عہ۴:  نظارہ عالم ص ۷۔۱۲

عہ۵:  وہ مقررات تازہ یہ ہیں قطر مدار شمس ۱۸ کروڑ ۵۸ لاکھ میل قطر معدل زمین ۰۸۶ء ۷۹۱۳ میل قطر اوسط شمس دقائق محیطیہ سے ۳۲ دقیقے ۴ ثانیے پس اس قاعدے پر کہ ہم نے ایجاداوراپنے فتاوٰی میں جلد اول رسالہ الھنئی المنیر فی الماء المستدیر میں ایراد کیا۔ ۶۹۰۴۵۷ء لوامیال قطر مدار + ۴۹۷۱۴۹۹ء۔ ۸۷۷۶۶۱۹۵۶ لو امیال محیط اC=۳۳۴۴۵۳۸ء۴ء لودقائق محیط = ۴۳۱۷۴۱۸ء۴ لودقیقہ محیطیہ ما + ۵۶۰۵۳۹ء الودقائق قطر شمس = ۹۳۷۷۹۵۷ء۵ لو امیال قطر شمس =۸۹۸۳۴۵۹ء۳ لوامیال قطرزمین = ۰۹۴۴۹۸ء۲ لو نسبت قطرین ما x۳ کہ کرہ : کرہ قطر : قطر مثلثۃ بالتکریر = ۱۱۸۳۴۹۴ء۶ لونسبت کہ تین عدد ۱۳۱۳۲۵۶ وھو المقصود یعنی محیط فلک شمس ۵۸ کروڑ ۳۷ لاکھ ۸ ہزار میل ہے۔ اور ایک دقیقہ محیطیہ ۵ء۲۷۰۲۳ میل اور قطر شمس ۳ء۸۶۶۵۵۴ میل اور وہ قطر زمین کے ۵۰۹ء۱۰۹مثل ہے اور جرم شمس تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر اور علم حق اس کے خالق عزوجل کو ۱۲ منہ ۔
بہرحال وہ جرم کہ اس کے ۱۲ لاکھ حصوں میں سے ایک کے بھی برابر نہیں اس کی کیا مقاومت کرسکتا ہے تو گرد دورہ کرنا نہ تھا بلکہ پہلے ہی دن کھینچ کر اس میں مل جانا کیا ۱۲ لاکھ اشخاص مل کرایک کو کھینچیں اور وہ دوری چاہے تو بارہ لاکھ سے کھنچ نہ سکے گا بلکہ ان کے گرد گھومے گا اور کامل علمی رَدیہ ہے کہ کسی قوت کا قوی پڑ کر ضعیف ہوجانا محتاجِ علت ہے اگرچہ اسی قدر کہ زوال علت قوت جب کہ نصف دورے می جاذبیت شمس غالب آکر ۳۱ لاکھ میل سے زائد زمین کو قریب کھینچ لائی تو نصف دوم میں اسے کس نے ضعیف کردیاکہ زمین پھر ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ دور بھاگ گئی حالانکہ قرب موجب قوت اثر جذب ہے(۱۰) تو حضیض پر لاکر جاذبیت شمس کا اثر اور قوی تر ہونا اور زمین کا وقتاً فوقتاً قریب تر ہوتا جانا لازم تھا نہ کہ نہایت قرب پر آکر اس کی قوت سست پڑے اور زمین اس کے نیچے سے چھوٹ کر پھر اتنی ہی دور ہوجائے شاید جولائی سے جنوری تک آفتاب کو راتب زیادہ ملتا ہے قوت تیز ہوتی ہے اور جنوری سے جولائی تک بھوکا رہتا ہے کمزور پڑ جاتا ہے۔ دو جسم اگر برابر کے ہوتے تو یہ کہنا ایک ظاہری لگتی ہوئی بات ہوتی کہ نصف دورے میں یہ غالب رہتا ہے نصف میں وہ نہ کہ وہ جرم کہ زمین کے ۱۲ لاکھ امثال سے بڑا ہے اسے کھینچ کر ۳۱ لاکھ میل سے زیادہ قریب کرے اور عین شباب اثر جذب کے وقت سست پڑ جائے اور ادھر ایک ادھر ۱۲ لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف انقسام پائے اس پر یہ (عہ۱ ) مہمل عذر پیش ہوتا ہے کہ نقطہ حضیض پر نافریت بہت بڑھ جاتی ہے وہ زمین کوآفتاب کے نیچے سے چھڑا کر پھر دور لے جاتی ہے۔
عہ۱:  ط ص ۶۰ ، ۱۲۔
اقول: یہ ہارے کا حیلہ محض بے سروپا ہے۔ اولاً جاذبیت و نافریت کا گھٹنا بڑھنا متلازم ہے نافریت اتنی ہی بڑھے گی جتنی جاذبیت اور بہرحال مساوی رہیں گی۔ ۱۶۔۱۲۔۱۴ یہاں اگر نافریت بدرجہ غایت ہے کہ چال سب سے زیادہ تیز ہے تو جاذبیت بھی بحد کمال ہے کہ قرب شمس سب جگہ سے زائد ہے نافریت جاذبیت سے چھینے تو جب کہ اس پر غالب آئے برابر سے چھین لینا کیا معنی!

ثانیاً اگر مساوی قوت دوسری پر غالب آسکتی ہے تو یہاں خاص نافریت کیوں غالب آئی جاذبیت بھی تو مساوی تھی وہ کیوں نہ غالب ہوئی یہ ترجیح بلا مرجح ہے۔

ثالثاً اگر نافریت ہی میں کوئی ایسا طرہ ہے کہ بحال مساوات وہی غالب آئے تو اسے مساوات تو روز اول سے تھی اور نقطوں پر کیوں نہ غالب آئی اسی نقطے کی تعین کیوں ہوئی۔

رابعاً ہمیشہ اسی کا التزام کیوں ہوا۔

خامساً مساوات تو تم بگھار رہے ہو ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ نقطہ اوج سے نقطہ حضیض تک برابر جاذبیت غالب آرہی ہے۔ قوت کا غلبہ اس کے اثر سے ظاہر ہوتا ہے جاذبیت قرب کرنا چاہتی ہے اور نافریت دور پھینکنا مگر وہاں سے یہاں تک برابر شمس سے قرب ہی بڑھتا جاتا ہے نافریت اگرچہ بیچارے برابری کے درجے پر متواتر چال تیز کررہی ہے لیکن اس کی ایک نہیں چلتی اور جاذبیت ہی کا اثر علی الاتصال غالب آرہا ہے پھر کیا معنٰی کہ عین شباب غلبہ پر دفعۃً مغلوب ہوجائے ۔

سادساً نافریت اگر بڑھی ہے تو خاص نقطہ حضیض پر، یا تو اس نے زمین کو آفتاب سے بال بھر بھی نہ چھینا کہ غایت قرب پر ہے چھینے گی۔ آگے بڑھ کر اس نقطے سے چل کر شمس سے بعد بڑھتا جائے گا،مگر اس نقطے سے سرکتے ہی نافریت بھی تیزی پر رہے گی ہر آن ضعیف ہوتی جائے گی کہ قدم قدم پر چال سست ہوگی۔ عجیب کہ اپنی کمال قوت پر تو نہ چھین سکی جب ضعیف پڑی چھین لی گئی۔

سابعاً طرفہ یہ کہ جتنی ضعیف ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ چھین رہی ہے کہ جس قدر چال سست ہوتی ہے اتنا ہی بعد بڑھتا ہے یہاں تک کہ ا  پر کمال سستی کے ساتھ نہایت بعد ہے کیا عقل سلیم ان معکوس باتوں کو قبول کرسکتی ہے ہر گز نہیں عاجزی سب کچھ کراتی ہے ۔ اصول علم الہیاۃ (عہ۱) نے اس پر عذر گھڑا کہ مرکز شمس کے گرد جو دائرہ ہے اوج میں زمین کا راستہ اس دائرے کے اندر ہو کر ہے لہذا شمس کی طرف آتی ہے اور حضیض میں اس دائرے سے باہر ہے لہذا نکل جاتی ہے۔
عہ۱: ص ۱۸۱  ۱۲۔
Flag Counter